ایک کی جیت، دوسرے کی ہار

دیہات کی شفاف فضا میں چاند خوب روشن تھا ایسے جیسے کوئ فانوس آسمان سے لٹک رہا ہو۔۔ دیہات کی راتیں بہت خوبصورت اور پرسکون ہوتی ہیں ۔آسمان پر تارے ایک کہکشاں کا نظارہ پیش کرتے ہیں اور پر جب چاندنی رات ہو تو بات ہی کچھ اور ہوتی ہے۔ آج بھی چاندنی رات تھی اور آریان بھی ایرگل کے گھر ہی رک گیا تھا۔ وہ بہت خوش تھا اور اپنے جذبات چھپا نہیں پا رہا تھا۔ بار بار مسکرا رہا تھا کہ آج جیسے صدیوں بعد کوئ ناسور جیسے زخم بھرے ہوں۔۔اسے ایسے لگ رہا تھا جیسے کوئ مسافر تھک ہار جائے اور بہت سالوں بعد اپنے منزل پہنچ کر گہری نیند سو کہ اٹھ جائے۔۔ایسے جیسے گہرے غم کے بادل پہلی دفعہ چٹ گئے ہوں۔ کیونکہ آج وہ اپنی محبت جیت گیا تھا۔اسکو سجدوں کا جواب مل گیا تھا۔اس کی دعائیں کامل ہو گئ تھیں۔سو وہ آج ایرگل سے ڈھییر ساری باتیں کرنا چاہتا تھا۔وہ پہلی دفعہ اس کے اتنا قریب بیٹھا تھا کہ اسے ایرگل کی سانس تک سنائ دے رہی تھی۔ ایر گل! اسلام علیکم۔ آریان نے دھیرے سے مزاحیہ انداز میں کہا۔ والسلام آریان! “کیسے ہیں آپ؟” ایرگل آہستہ سے بولی۔
“میں ٹھیک ہوں لیکن ایرگل میری جان! آج مجھ سے اپنے جذبات قابو نہیں ہو رہے۔۔میں اتنا خوش ہوں کہ مجھے یقین ہی نہیں آرہا ہماری شادی کی بات پکی ہو گئ ہے۔ کیا اللہ ایسے سنتے ہیں دعائیں؟؟؟؟ اب تو مجھے اللہ جی سے اور بھی محبت ہونے لگی ہے”۔ آریان بولے جا رہا تھا۔ لیکن ایرگل کیا آپ بھی میری جتنی خوش ہیں میری ساتھی بننے پر؟ بلکہ مجھے یقین ہےآپ بہت خوش ہیں۔۔ہے نا؟؟” آریان نے ایرگل کی طرف دیکھتے ہوئے پوچھا۔
“آریان! آپ بہت خوش قسمت ہیں ۔آپ کو محبت مل گئ ہے۔ اور جیسے آپ کی سوچ اور خواہش تھی بلکل ویسی۔مگر مجھے نہیں معلوم میں کتنی خوش ہوں۔۔ہاں ایک بات ہے کہ مجھے آج بہت گھبراہٹ ہو رہی ہے۔ اور پتہ ہے آج مجھے اپنا آپ کیسے محسوس ہو رہا ہے؟؟ ایرگل نے سوالیہ نظروں سے دیکھا آریان کو۔۔
جی بولیے! اس نے جوابا بڑے احترام سے کہا۔ویسے بھی وہ محبت سے زیادہ، احترام کرتا تھا ایرگل کا۔
ایرگل گویا ہوئ،”ہممم !جب ہم چھوٹے ہوتے تھے تو اکثر چڑیا کمرے میں آجاتی تھی۔ اور ہم اسے دروازہ بند کر کے پکڑنے کی کوشش کرتے تھے۔ مجھے یاد ہے ایک دفعہ ہم سارے بچے اس بڑے والے ( ما موں کے کمرے کی طرف اشارہ کر کے) کمرے میں پڑھائ کر رہے تھے کہ ایک چڑیا اندر داخل ہوئ بس پھر کیا تھا۔ ہم نے کتابیں بند کی اور اسے پکڑنے لگے ۔وہ کبھی ایک طرف اڑتی کبھی دوسری طرف_ کافی دیر تک یہ کھیل جاری رہا پھر آخر کو وہ تھک کر گر گئ جیسے اب طاقت ختم ہو چکی ہو۔ اور پھر ہم نے چادر ڈال کر اسے پکڑ لیا۔ ” آریان تب ہم بچے تھے ایسا کر کے خوش ہوتے تھے مگر آج مجھے ایسے لگ رہا ہے جیسے میں خود وہ چڑیا بن کر گر گئ ہوں۔۔میں آج تک اڑتی ہی رہی تھی ۔ مجھے خوابوں کی تکمیل کرنی تھی اور ان خوابوں کے سفر میں شادی اور تعلق کی گویا کوئ جگہ ہی نہ رکھی تھی اور میں معاشرے سے بچنے کے لیے ادھر ادھر اڑ رہی تھی ہاں میں اوپر کو بھی نہیں اڑ سکتی تھی ک چاروں طرف اقدار و روایات کی دیواریں تھی ہر دفعہ ٹکراتی تو پر زخمی ہوتے۔ اور اب وہ وقت آگیا ہے کہ میں تھک کر اسی چڑیا کی طرح خود ہی گر گئ ہوں اور ان بچوں کی طرح وہ خوش قسمت بچہ آپ ہی ہے جس نے اسے پکڑ لیا ہے۔۔”
ایرگل اب چپ ہو گئ تھی۔ وہ شاید بہت سارے ایسے پرندوں کا قصہ سنا رہی تھی اور آریان سوچ رہا تھا کہ لوگ کیوں محبت مل جانے کی دعا کرتے ہیں اگر مل کر بھی وہ اپنے آپ کو ایک قید سمجھتے ہیں تو یہ جیت نہیں شا ید دوسرے کی ہار ہوتی ہے۔
آنے رملیہ۔۔

1:00 am .
Mon 24 2021

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out /  Change )

Google photo

You are commenting using your Google account. Log Out /  Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out /  Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out /  Change )

Connecting to %s