My Sonnet: Take one More Step

Once you start a journey
Never stop midway…
Make a little effort, completing the last..
And Take one more step…
This step will play a better role.
Helping you achieve your goal.
You might feel tired, and low..
Or feel your walk a lil hard… Wishing to get colser to your Lord
Then Urge urself to continue.. And take one more step…
While running with peers at equal pace
Take one more step to win the race..
In the middle of endless stairs …
Through a tunnel lonely and dark…
Take one more step to reach the spark…
Writing this sonnet i break the rules..
Increasing the hemistiches…
I write to you….
Do not stop…take one more step…

Aanay Ramliya

The winking killer and The Spy

“United states signed peace deal with Taliban”. Says US president Donald trump. When I read this headline I felt a sense of peace and happiness like many others who would have read it and have some love for peace and Taliban as well. But a day or two later when I sat at the table and grabbed a newspaper to read, the headlines gave me a goose bump. The newspaper read “US conducts first air strike against Taliban since peace deal.” It reminded me of a game we would use to play when we were just kids. The game was known as a winking killer. In this game there used to be few cards with “man” written on it and one card for spy and one for a killer. We would shuffle all the cards and every one would pick one card. Now the one whose card would turned out to be that of a spy would loudly ask the rest of the players, “who is the killer, I am a spy”? Nobody would answer him and they would hide their cards. Now the person holding the killer card would wink to those with “man cards” and they would immediately say, “I am dead” and would put their card on the table. But the killer would do so out of the spy’s sight as per the rules of the game. Nobody was allowed to cheat on the killer and inform the spy about him as this was considered as the violation of the game’s rules. But the spy would have to find out the killer himself before all the players would have put down their cards otherwise he would lose the game at all. And would considered as a loser spy. This game is so relevant in today’s bloody politics. Where US is acting as a winking killer and all the rest of the players of the international politics deliberately become silent and dead at its call like those men in the game though they know all the false intentions and truths behind their deals and agreements. Though the spies claim their honesty in the investigation but how could they prove the killer and those responsible for all the blood sheds and cost and loss of attacks and filthy diplomacy around the globe when all “the men” are on the side of the winking killer. International relations have turned out to that game where the wrong and worse was considered a tactic to win the game otherwise if the spy could identify the killer all the players would lost the game, and only the spy would win it. The same is the case today, no player of international political game want to lose rather they are inclined to win even if they are at the wrong pole and manifest their moral or actual death as a nation but they would never stand by the side of the spy player because of the conflict of their own interest.Take care till the next post. Your comments are highly appreciated.

Aanay Ramliya

The bars will break

The bars will break ..✓

Like a nightingale,
Locked in the cage ,
Her hands cuffed and feet shackled..
Behind the Bars of traditions and customs….
But her soul rebellious and her mind free..
Looking at rising sun every dawn…
she chanted the songs of love and freedom ..
Her eyes full of dreams…
Dreams of flying so high…
A heart filled with hope…
Determined of her destination..
She never sighed …
but smile she exchanged..
With the last rays of sun at dusk…
Informing the moon in the darkest nights….
Of the Freedom coming her way…
The blooming flowers of peace..
As She knew the bars will break….
And she would be set free..
Free to soar so high…
Towards her beloved …
To the heaven….beyond the skies….
Aanay Ramliya
8:49 pm
20june2020..

سجدۂ نامکمل : 6 ستمبر یوم دفاع کے نام

آج 6ستمبر 2020 (یعنی یوم دفاع)  کو جب گھر کے قریبی مسجد سے اذان گونجی تب میں تخیل کے وسیع میدان میں کھڑا تھا۔ میں نے فرط جذبات سے ارد گرد دیکھا۔ تو میرے  چاروں طرف خوبصورت بلند و بالا پہاڑ تھے، برف سے ڈھکی ہوئ شمالی پہاڑوں کی چوٹیاں تھیں ، کشمیر ، چترال، رزمک جیسی جنت نظیر وادیاں، فضاؤں میں ترنم بکھیرتی آبشاریں تھیں اور مغرور موج در موج بہتے دریا تھے ۔  مجھے جہاں ایک طرف اس ملک کی بے پناہ خوبصورتی نے اپنی طرف متوجہ کیا وہاں دوسری طرف خاکی وردی والے جو ایک موج بے کراں کی طرح تھے، بحری فوج والے جو دریاوؤں کے سینے چیر کے نکلتے تھے اور آسمانوں کی بلندیوں کو چھونے والے عظیم پاکستانی محافظوں نے مجھے آج یوم دفاع کے دن سجدۂ شکر پر مجبور کیا۔  میں نے شکرانے کی نیت  باندھی، گھٹنے ٹیک کر ابھی میں زمین پر سجدے میں جبیں رکھنے ہی والا تھا کہ میں نے دیکھا زمیں سجدے کے قا بل نہ رہی تھی۔ جہاں میں کھڑا تھا، یہ جگہ وسط ایشیا میں ”7,96,096 مربع کلو میٹر کے رقبے پر پھیلی ہوئ تھی ۔ مگر ساری زمین آلودہ تھی ۔۔کہیں قبائلی علاقوں میں ظلم و جبر کا خون تھا۔ کہیں انصاف نہ ملنے پر روتی ہوئ ماؤں کے آنسو اور آہوں کے داغ تھے ۔ کہیں غربت سے زہر کھانے والے باپ کی مایوسی، کہیں رشوت، کرپشن، اقربا پروری، بد دیانتی کے کریہہ المنظر دھبے تھے ۔۔کہیں سیاست تو کہیں مذہب کے کارڈ پر ، کہیں رفاہی و سماجی ہمدردی کے پردے میں مجبور و کمزور عوام کی امیدوں کا خون تھا۔ عرض مجھے جگہ نہیں مل رہی تھی کہاں سجدۂ شکر کروں؟  یہ وہ پاک سر زمین تو نہیں تھی جس کا چھپہ چھپہ شہیدوں کے لہو سے سینچھا گیا تھا۔ جس کی فضاء  بزرگوں اور اسلاف کی قربانیوں اور خلوص سے معطر تھی ۔ جہاں کہیں کیپٹن شیرخان، میجر طفیل، ایم ایم عالم کی بہادری ، علمائے دین کے جذبات کی خوشبو تھی تو کہیں اقبال کے خواب کی تعبیر تھی۔  نہیں نہیں یہ وہ جگہ تو نہیں لگ رہی تھی۔ یہ تو سجدے کے قا بل نہ رہی تھی۔۔
لیکن پھر میں نے سب نظر انداز کر کے یہ سوچ کر کہ یہ ملک میرے اوپر شہیدوں کا قرض ہے میں نے دوبارہ سجدے میں سر رکھنےاور اسے مکمل کرنے کی کوشش کی مگر اب کے بار کشمیر کی دلدوز چیخوں نے میرا دامن کھینچ کر مجھے سجدہ مکمل نہیں کرنے دیا۔ میں نے مڑ کر کشمیر کی طرف دیکھا تو ایک آہ و فغاں تھی ۔ کشمیر رو رہا تھا ۔۔ چیخ رہا تھا۔ میرے سجدے پر اعتراض کر رہا تھا۔۔میں نے دل تھام کر اس کی طرف کان لگایا تو وہ مجھ سے گلہ کر رہا تھا ۔ کہہ رہا تھا ، ” تم کیسے آزادی کا شکر کرتے ہو؟ کیا تم میرے بغیر مکمل ہو؟؟ کیا اس ملک کا جسم شہہ رگ کے بغیر بھی جی سکتا ہے؟  کیا تم وعدہ بھلا بیٹھے ہو؟ کیا تم بھول گئے ہو یہ پہاڑ ، یہ دریا، یہ آبشاریں ، یہ وادیاں سب تم پر قرض ہیں شہیدوں کا؟ کیا ان کا قرض میری آزادی کے بغیر اتر جائے گا؟ کیا تم اپنا نظریہ 1965 کی ایک جنگ جیت کر بھول گئے ہو ؟ کیا تم اس جنگ کے شہداء اور جانثاروں کی یگانگی اور اتفاق بھول گئے جنھوں نے بیک زباں ہو کر تکبیر کا نعرہ لگایا تھا۔۔ کیا تم پھر بھی اپنی آزادی اور یوم۔دفاع کے شکرانے پڑو گے جبکہ میں لٹ رہا ہوں، میرے وجود کا ایک ایک عضو زخمی ہے ۔کبھی بہنوں کی عصمت دری، کبھی جوان بہنوں کی بیوگی، کبھی چھوٹے بچوں اور ماؤں کے سامنے جوانوں کی شہادتیں۔۔۔اے پاکستانی میں اور کیا فریاد کروں تجھ سے؟ میں تمھیں کونسا زخم دیکھاؤں ؟؟؟ میں دیر تک کشمیر کا گلہ سنتا رہا۔ وہ آہیں بھر رہا تھا، اور میں بھی سر جھکائے رو رہا تھا ۔ اس نے مجھے ہنوز میرا دامن پکڑ رکھا تھا اور میں لاکھ کوشششوں کے با وجود بھی شکرانے کا سجدہ مکمل نہ کر سکا۔۔ کہ پہلے زمیں کی آلودگی نے روکا اور پھر کشمیر کی چیخوں نے سکون اور ہمت چھین لی۔ میں دیر تک تخیل کے اس میدان میں کھڑا آنسو پونچھتا رہا ، مجھے اپنے سجدۂ نامکمل کا ملال تھا ۔ مگر جن سوالوں کی طرف کشمیر نے میرے دل و دماغ کا رخ موڑا تھا انھیں سوچ کر واقعی احساس ہوا کہ میرے سجدے کا نا مکمل ہونا بنتا ہی تھا ۔۔ ابھی میرے دیس کی آزادی اور میری سر زمیں کی پاکیزگی کو  برقرار رکھنے کا عہد بھی تو  نا مکمل تھا۔ میرے سجدے کی طرح ابھی وطن کی دفاع کا جشن بھی نامکمل تھا۔
آمنہ شکیل (آنے رملیہ)
9:14 am 6:sep:2020

چائے

مجھے چائے سے محبت رسما نہیں ہے۔ نہ ہی اس لیے کہ ہمارے علاقے کے لوگ چائے کے شوقین ہیں۔ میں تو پہلے کسی کے گھر مہمان ہو کر بھی نہیں پیتا تھا۔ اور اب چائے سے بڑھ کر کچھ اچھا ہی نہیں لگتا۔ میری اور چائے کی بس اپنی رام کہانی ہے۔ یہ میرے نئے سفر کی رفیق ہے ۔ہم دونوں نے ایک ساتھ سفر کی شروعات کی تھیں۔ جب یہ سوال پیدا ہوا کہ میرا دکھ سکھ میں ساتھ کون دے گا؟ تو اس چائے کی پیالی نے ہی گرمجوشی سے میرے لبوں کو چھو کر ہاں بھری تھی۔ ہماری دوستی اب بڑی پرانی ہے ۔میں تو اپنے راز، اپنی کہانیاں اسے سنانے کا عادی ہو چکا ہوں ۔ دسمبر کی یخ بستہ شاموں اور جنوری کی ٹھٹھرتی راتوں میں جب میں چائے کے کپ کے قریب منہ لا کر سرگوشی کرنے لگتا تھا تو اس میں پڑی چائے کہ اوپر جمی تہہ میں پہلے ایک ارتعاش پیدا ہوتا تھا۔ ایسے جیسے کسی انسان کے رونگھٹے کھڑے ہوتے ہیں۔ اور پھر جب چائے خاموشی سے میری بپتا سنتی تو آہ بھرتی اور یوں اسکی آہ دھویں کی شکل اختیار کرتی۔ یہی چائے میری رازدار بھی ہے کہ جب میں ڈائری میں کچھ باتیں قلمبند کرتا تھا تو چائے دیر تک خاموشی سے بس میرا انتظار کرتی تھی، چپکے سے میری تحریر بھی شاید پڑھ رہی ہوتی۔ اور جب میں اسے ہاتھ لگاتا تو اس کا وجود بے جان جسم کی طرح ٹھنڈا پڑ چکا ہوتا تھا۔  اب اکثر کسی ہجوم میں ، یا کسی خاص موقعے پر چائے کے کپ کو بڑے خلوص سے تھام کر اپنے سامنے رکھتا ہوں، ایسے جیسے کوئ اپنے کسی عزیز سے دونوں ہاتھوں سے مصافحہ کرتا ہے ۔۔تو لوگ بڑی عجیب نظروں سے گھورتے ہیں۔ وہ تو چائے سے اڑتے بھاپ کو فقط گرم دھواں سمجھتے ہیں مگر وہ کیا جانے میری اور چائے کی رفاقت۔۔ انھیں کیا خبر کہ چائے کو بتائ ہوئ کتنی کہانیاں، خوشیاں اور جانے کتنی یادیں اس چائے کی نکلتی آہوں میں دھواں بن کر رقص کرتی ہیں۔۔

بقلم : آنے رملیہ
بمورخہ 5ستمبر 2020

We do not die, but depart

We do not die, but depart
From the world of material
To the heavenly abode…
We do not die..
But from the cage of body..
Our soul is exiled….
From the prison of pain and fears..
The soul is set free..
It soars high from the planet earth…
To Land on  the skies…
The skies so vast
We do not really die…
But abondon the  transient joy…
For the life of eternity ..
Leaving the belongings..
That have taken a room in our heart..
When the bubble of life bursts up..
We feel like time has fleeted so fast…
We do not die ..
But death vanishes the wait..
The dark night of sadness ends
And we meet our beloved…
The Exalted One…
The Almighty Lord..
Infact death is for those..
Whose reason to live is lost…
With No belief in hereafter
Or  return  to their God..
We do not die…but depart..
For the place called heaven..
The beautiful eternal abode….

Aanay Ramliya

5:july:2020 (11:07 pm)

میرے کو ہے۔

وہ شخص اس سے بہت مشابہ تھا۔۔

میں نے یہ مقولہ  سن رکھا تھا کہ دنیا میں ذیادہ تر سچ نشے کی حالت میں بولے جاتے ہیں۔ اور مجے ہمیشہ لگتا تھا کہ یہ صرف مقولہ ہی ہے ۔ لیکن اس دن کا واقعہ مجھے جب بھی یاد آتا ہے تو مجھے یہ بات سبق آموز حقیقت لگتی ہے۔
یہ ان دنوں کی بات ہے جب میں ہاسٹل میں نیا نیا آیا تھا۔ یہ جنوری کی ایک بہت یخبستہ شام تھی۔ صبح سے بارش بھی برس رہی تھی ۔اور اس دن میرا دل تھا کہ میں ہاسٹل میں بنی دال کے لئے باہر سے نان لے کر آؤں کہ ہاسٹل کی روٹیوں سے تو دل اکتا گیا تھا۔ ہاسٹل سے زرا فاصلے پر ایک ہوٹل تھا۔ میں چھتری لئیے باہر نکلا۔ سردی کی وجہ سے میرے دانت بج رہے تھے ۔ایک ہاتھ سے بمشکل چھتری تھامے اور دوسرا ہاتھ کوٹ کی جیب میں ڈالے میں ہوٹل پہنچا۔ کیا دیکھتا ہوں کہ ایک عمر رسیدہ پوڈری، نشے میں دھت ہاتھ میں  ڈنڈا، ایک بوتل اور ایک کاغذی پیالہ لئے وہاں کھڑا ہے اور ہوٹل کے کارندے اس کا مزاق اڑا رہیے ہیں ۔اسے دھکیل رہے ہیں ۔اور وہ منہ ہی منہ میں کچھ بڑبڑاتا ہوا  ہوٹل کے سامنے فٹ پاتھ پر بیٹھ گیا۔ مجھے اسکے مہینوں میلے، پھٹے پرانے کپڑے، گرد وغبار سے اٹی ہوئ داڑی پراگندہ بال دیکھ کر بڑا ترس آیا۔ جس کے تعفن زدہ ہونے کا اندازہ اس اندھیرے میں دکانوں کی لگی بتیوں میں بھی لگایا جا سکتا تھا۔ میں نے ایک نان الگ سے اس کو دینے کی نیت کر کے لیا۔  اس سخت سردی میں مجھے لگا کہ وہ بھی بھوکا ہوگا۔۔لیکن جب میں روٹی لیے اس کے پاس جانے لگا تو پہلے تو ڈر کے مارے اس سے زرا دور کھڑے ہو کر سوچتا رہا کہ قریب جاؤں یا ادھر سے ہی روٹی پھینک دوں ؟ کیونکی مجھے ان نشئ لوگوں سے  بچپن سے ہی بڑا ڈر لگتا ہے۔ لیکن پھر خیال آیا کہ یہ تو اس انسان اور رزق دونوں کی بے حرمتی ہوگی ۔ بہر حال میں نے ہمت کی اور اس کے سامنے اخبار میں لپٹا گرم نان پکڑتے ہوئے بولا، ” انکل جی روٹی لیجیے ۔” وہ مجھے گورنے لگا ۔ میں ڈر گیا اور زرا دور ہو کہ پھر بولا ، ” انکل جی یہ روٹی لیجئے، اسے کھا لیں” اب کی بار وہ بولا،  ” مجھے نہیں لینی میرے کو ہے”۔۔ اور ہاتھ سے جیسے وہ مجھے چلے جانے کا اشارہ کر رہا ہو۔۔میں نے پھر اصرار کیا تو وہ چیخ کے بولا نہیں چاہئے مجھے “میرے کو ہے” ۔ اب میں وہاں  سےلوگوں کی نظر بچا کر چل دیا ۔۔وہ روٹی تو میں نے ایک سبزی فروش کو دے دی تھی لیکن اس نشئ کے الفاظ رات دیر تک میرے کانوں میں گونجتے رہے۔۔ مجھے اس کی بے نیازی پر رشک بھی آیا کہ واقعی اس وقت وہ بڑا قانع تھا۔اور “میرے کو ہے” سے اسکا یہی مطلب تھا کہ میرے پاس ہے۔۔ میں دیر تک سوچتا رہا کہ اسنے نشے کی حالت میں ایک حقیقت کہہ دی تھی۔ اگر انسان غور سے سوچے تو وہ کبھی رزق کے پیچھے اتنے حرص کے ساتھ نہ بھاگے کہ اس کا دین و ایمان ہی لٹ جائے۔ ہاں مرد ہنر مند کے لئے رزق حلال کی تلاش اور حصول، عبادت کے زمرے میں داخل ہے مگر اس کے پیچھے بھاگنا سراسر ناشکری ہے۔۔اور جتنا اس کے پیچھے انسان بھاگتا ہے اتنا ہی وہ خوار ہوتا ہے۔۔رزق انسان کو موت کی طرح تلاش کرتی ہے جو قسمت میں ہوتا ہے وہ مل کے رہتا ہے اور جو قسمت میں نہ ہو وہ ہزار جتن کے باوجود نہیں ملتا۔ نجانے کیوں! ہم اکثر بھول جاتے ہیں کہ جو رازق پتھر کے اندر کیڑے کا رزق نہیں بھولتا وہ ہمیں رزق پہنچانا کیسے بھول سکتا ہے ۔وہ جو اتنا علیم ہے کہ کالے اندھیرے میں، کالے پتھر پر رینگتی ہوئ کالی چیونٹی کے دل کی بات اور قدموں کی چاپ دیکھ اور سن سکتا ہے وہ ہمارے حال اور ضروریات سے کیسے بے خبر رہ سکتا ہے؟ لیکن دراصل ہمارا اپنا ایمان و یقین ہی کمزور ہے۔ اس واقعے کو آج ڈیڑھ سال ہو چلا ہے مگر جب بھی بارش ہوتی ہے، یا دل میں ناشکری کے خیالات جنم لینے لگتے ہیں تو مجھے اس بوڑھے پوڈری کا جملہ “میرے کو ہے” بھولے ہوئے سبق کی طرح یاد آتا ہے۔۔ بے شک اگر انسان قانع بن جائے، شکر گزار بن جائے، اپنے پاس موجودہ نعمتوں کی طرف نظر کرے، تو بے اختیار کہہ اٹھتا ہے “میرے کو ہے” مزید کی لالچ نہیں۔۔یہی قناعت کی عادت ہی انسان میں خودی اور بے نیازی پیدا کرتی ہے۔۔
بقلم۔   آنے رملیہ

“میری زندگی، میری ڈائری میں” سے اقتباس

آنے رملیہ

مورخہ : 31اگست 2020

Find God

Do not claim that you love God when you dont even know Him.. Do you know when He is sad? Do you care when God is ill? Do you really think about your love for Him when He is hungry? Don’t you think that when we love someone we take care of them. You might end up thinking that God is the ultimate power, the Almighty one. How come He become sad, hungry, or ill? My dear He dwells in hearts. Try! call him and He will respond. But He do get sad, you know how? When a mother is sad. When an oppressed is sad. In their sadness lies the sadness of God. When a needy, a poor is hungry, you will see there that God is hungry. When your neighbor brother or sister falls ill, you will find God ill , go see them…in every person around, try! look for Him and you will find Him there .He is not only in the heavens above but around us in every particle. There is no staircase to reach the exalted Lord, the Almighty Allah but He is in the hearts. Beside us, within us. Feed Him, love Him, take care of Him like He does for you.Call Him around, seek Him in his creation and find Him there, He is everywhere..
Aanay Ramliya
11:19 pm
Sun 30 aug 2020

We have to do it ourselves..

At the end, we all have to travel on our own, for ourselves. No matter how much we love them, we have to part our ways one day. We have to heal and fill the inner cracks, ourselves to let the light enter. No one else will do this for us but we, yes ourselves. They may care for us but for how long? They may take the same path as ours but how far they will go with us??? They may fly with us but how much high will they soar with us or will keep serving as wings for us? Uncertain? Yeah. A day will definitely come when the so called other half of us will be bored of us, tired of us. And then we will have to go alone, to sit alone, to think alone and to soar alone… at the end all the pain is ours alone. So why not learn to embrace ourselves, to accept ourselves for who we are? To love both ugliness and beauty of ourselves. To accept our mistakes and learn to depart. Discover our own.. embark upon the journey towards the inner selves of us.. To love our life.. To learn living by your own connecting to the highest divine source of us?

Aanay Ramliya