کیا ہم آزاد ہیں؟؟؟

نیچھے تقسیم ہند کے دنوں کی تصویر ہے اور اوپر پاکستانی قوم 14 اگست مناتے ہوئے۔۔

آج چودہ اگست 2021 کو پاکستان کی 74 ویں سالگرہ کرونا وباء کے باوجود بہت جوش و خروش سے منائ گئ۔  یہ دن ہر سال بہت خوشی اور ولولے کے ساتھ، گھروں پر سبز جھنڈے لہرا کر، سڑکوں،  گلی کوچوں کو جھنڈیوں سے سجا کر، کچھ محب وطن سبز و سفید لباس پہن کر، اور ٹی وی ، ریڈیو وغیرہ پر ملی نغمے نشر کر کے منایا جاتا ہے۔ جشن آزادی کے نام پر بڑی بڑی تقریبات ہوتی ہیں اور اس دن کا آغاز اکیس توپوں کی سلامی کے ساتھ کیا جاتا ہے۔ یہ دن اگرچہ ہمیں اس دن کی یاد دلاتا ہے جب ہزاروں بلکہ لاکھوں کی تعداد میں لٹے پٹے مہا جرین کے قافلے پاکستان ، ایک آزاد ریاست کی سرزمین پر پہنچے۔ وہ لوگ اپنے گھر، کھیت کھلیان، اپنی بستیاں اور کاروبار سب کچھ چھوڑ کر پاکستان آئے۔ کیونکہ وہ اپنی آنکھوں میں ایک ایسی سرزمین کا خواب لیے ہوئے تھے جہاں انھیں عزت و سکون کے ساتھ اپنے مذہب اسلام پر عمل پیرا ہونے کی اجازت ہوگی۔ جہاں انکی ماؤں ، بہنوں اور بیٹیوں کی عفت و عزت سلامت رہے گی۔ جہاں نسلی ، صوبائ، مذ ہبی تعصب اور رنگت کی بنیاد پر نفرتوں کی بجائے ایک دین، ایک ملت اور ایک وطن میں خوشی خوشی رہنے کی اجازت ہوگی۔ جہاں لوگ، بنگالی، پنجابی، پشتون ، سندھی، بلوچی، کی بجائے مسلمان اور پاکستانی کہلائینگے ۔ وہ لٹے پٹے مہاجر قافلے کہ آج جس کی تصویریں دیکھ کر بھی دل دہل جاتا ہے، اپنے سینوں میں شہیدوں کی قربانیوں کا ثمر پا لینے کی آرزو لے کر آئے تھے۔ معلوم نہیں اس وقت کیا کیفیت ہوگی جب لوگوں نے آل انڈیا ریڈیو  لاہور سے پاکستان بن جانے کا اعلان سنا ہوگا۔ ان کی اس سرزمین تک پینچنے اور اس کی پاک مٹی کو آنکھوں سے لگانے کے لیے بیتابی کا کیا سماں ہوگا۔؟  وہ لوگ تو ہجرت کر کے آگئے۔۔ اقبال کے خواب کی تعبیر مکمل ہوگئ۔ پاکستان ( پاک لوگوں کی زمین) تو بن گیا۔ آزادی مل گئ۔ اور تب سے آج تک اس آذادی کا دن منایا جانے لگا مگر آج میرے ذہن میں بلکہ شاید کئ ایسے لوگوں کے ذہن میں جنھوں نے پاکستان کی تاریخ پڑھی ہے، یہ سوال اٹھتا ہے کہ کیا ہم واقعی آزاد ہیں؟؟؟ کیا یہ ملک اور اس کے باشندے حقیقت میں آزادی کے معنی و مطلب پر پورا اترتے ہیں یا یہ آزادی صرف لفظی یعنی کہنے کی حد تک آزادی ہے؟؟
      آزادی کا لغوی مطلب ہے خودمختاری اور حریت۔ یعنی قول، فعل اور سوچ کی خود مختاری ۔اگر ہم اس معنی کے تناظر میں جائزہ لیں تو مجھے ایسا محسوس ہوتا ہے کہ ہم آزاد نہیں ہیں ۔ کیونکہ ہمارا لباس اور ہمارے رہن سہن کے طریقے اس دین کے مطابق نہیں ہیں جس کے نام پر یہ ملک بنا۔ ہم ذہنی طور پر اب بھی غلام ہیں اور ہم اب بھی وہی روش اپنائے ہوئے ہیں جو انگریز ہمارے لیے چھوڑ کے گئے تھے ۔ ہم اب بھی اسلام پر چلنے والوں کو قدامت پسند اور مغرب کی پیروی کرنے والوں کو روشن خیال اور ترقی یافتہ تصور کرتے ہیں ۔ ہم بھول چکے ہیں کہ ہمارا راستہ اور رہنمائ کے لیے مغربی قومیں نہیں بلکہ قرآن بھیجا گیا تھا۔ خیر یہ سب چھوڑیں آئیں اس بات کا ملاحظہ کریں کہ کیا ہم جسما نی لحاظ سے آزاد ہیں؟ کیا واقعی ہمارا ملک اس خواب کی تعبیر ہے جو لٹے پٹے، خوں میں لت پت مہاجریں اپنی آنکھوں میں بچا کر لائے تھے؟؟؟ مجھے افسوس سے اس کا جواب بھی نفی میں کرنا پڑ رہا ہے۔ اور اگر کسی کو مجھ سے اعتراض ہے تو وہ زرا اخبارات اور رپورٹس اٹھا کر دیکھیں کہ اس ملک میں عورت جیسی صنف نازک کی عزتیں کتنی محفوظ ہیں؟ کہ یہاں تعصب کتنا ہے؟ یہاں کرپشن، جھوٹ، دھوکہ اور رشوت کے بازار کتنے گرم ہیں؟ تو پتہ چلے گا ہم کتنے آزاد ہیں۔ مگر اس سب میں کسی اور کا نہیں ہمارا قصور ہے ۔اور جب بھی میں کسی کو ملک کے حالات پر تنقید کرتے دیکھتی ہوں یا میں خود ایسی کوئ تحریر لکھتی ہوں تو مجھے بے ساختہ یہ شعر یاد آتا ہے، جو بحیثیت قوم ہماری اپنی نااہلی کی وجہ سے ہم پر پورا اترتا ہے ،
ع    دے رہا ہے اپنی آزادی کو مجبوری کا نام
     ظالم اپنے شعلۂ سوزاں کو خود کہتا ہے دود۔

کیونکہ بجائے اپنی آزادی کو اصل روپ دینے کے، بجائے اپنی ملک کو ترقی کی راہ پر گامزن کرنے کے،بجائے اس مٹی کا حق اور شہیدوں کی لہو کا حق اتارنے کے ہم ایک دوسرے کو مورد الزام ٹھہراتے ہیں اور خود کو مجبور ثابت کرتے ہیں جو کہ یقینا غلط قدم ہے۔
آخر میں عرض ہے کہ امید کا دامن نہیں چھوڑنا چاہیے ابھی بھی وقت ہے اور ایک عظیم شخص اور قوم وہی ہے جو اپنی غلطیاں دہرانے کی بجائے اس سے سیکھے اور مستقبل میں اس کی اصلاح کی کوشش کرے ۔ ہم آج بھی اگر مل کر اس قوم و ملک کی خدمت کریں تو ہمارا ملک آج بھی دنیا کے نقشے پر ایک عظیم و ترقی یافتہ ملک کی حیثیت سے ابھر سکتا ہے ۔کیونکہ اس ملک میں صلا حیتوں کی کمی نہیں ہے بس کوشش اور محنت اور اس صلاحیتوں کو پہچاننے اور آگے لانے کی دیر ہے ۔۔

اقبال کا کہنا بجا تھا،
ع      نہیں ہے ناامید اقبال اپنی کشت ویراں سے۔۔
        زرا نم ہو تو یہ مٹی بڑی زرخیز ہے ساقی۔۔۔
        میری دعا ہے کہ یہ ملک تا قیامت سلامت و آباد رہے۔ کہ اے وطن ہم تو مٹ جائینگے لیکن تم کو۔۔۔
        زندہ رہنا ہے قیامت کی سحر ہونے تک۔۔۔
        پاکستان زندہ باد۔۔۔
بقلم آمنہ شکیل۔۔ بروز 14 اگست 2021

عظیم مصور کا عظیم شاہکار (صنف نازک)

صنف نازک کے ادوار زندگی

یہ عام کہانیوں جیسی کہانی نہیں ہے بلکہ یہ ایک مختلف داستان ہے ۔۔ ایک عظیم مصور کے ایسے شاہکار کی داستان جو ساٹ پینسٹھ سال پر محیط ہے۔ مصور کا کمال دیکھئے کہ با وجود یہ کہ یہ رنگین تصویر اسکی باقی بنائ ہوئ بنی نوع انسانوں کی تصویروں جیسی دکھتی تھی مگر پھر بھی یہ ان سے  حد درجے مختلف تھی اور ہے۔
آئیے ہم بزبان قلم آپکو اس خوبصورت شاہکار کے خدوخال بیان کرتے ہیں۔20جولائ 1956 کی شام ، جب چاند پوری آب و تاب سے چمکا، جب گرمی کے اس موسم میں سمندروں کی لہروں میں چاند کے قوت کشش سے ارتعاش پیدا ہوا۔ اور اس چاندنی رات میں جب چاند کی تابناک کرنوں نے زمین کے گال چھوئے تو مصور،_دو جہاں کو یہ لمحے اپنے فن کے مظاہرے کے لئے بڑے موزوں لگے تھے ۔ پس اس نے اکیسویں صدی کے کینوس پر اس تصویر کی تخلیق شروع کی۔۔
مصور زوالجلال نے پہلے درد کے کالے بادل بنائے مگر یہ بادل امید کا اشارہ بھی دے رہے تھے ۔ ایک بات یہاں یاد رکھنے کی ہے کہ کوئ بھی فنکار ، خاص طور پر شاعر اور مصور ہمیشہ اپنے فن کا مظاہرہ کچھ اس انداز سے کرتے ہیں کہ اسے خود انکی طرح کوئ اور نہیں سمجھ سکتا بلکہ ہر شخص اس سے اپنا ہی مطلب اخذ کرتا ہے۔۔اسی طرح اس مصور کی تخلیق میں یہ بادل بھی پر اسرار تھے۔ بادلوں کے دوسرے پار کچھ عرصہ کے بعد مصور نے ایک مسکراتی ماں اور اس کی گود میں کھیلتی معصوم سی بچی کی تصویر بنائ۔۔
اس نے ماں کی تصویر میں رحم, شفقت، ممتا اور غیر مشروط لازوال محبت کے رنگ بھر دیئے۔۔
اب بچی کی تصویر میں رنگ بھرنے کی باری تھی۔۔ مصور اسے پینٹ کرتے ہوئے جیسے فرط محبت سے مسکرا رہا تھا۔ کیونکہ وہ جانتا تھا کہ یہ تصویر اس کی رحمت کا عکس ہے ۔  سب سے پہلے اس نے ماں باپ کی محبت کی پانیوں میں گھولے ہوئے بچپنے کے  معصوم شرارتوں کی رنگوں سے اس بچی کی فراک میں رنگ بھرے ۔۔پھر اس کے بعد کئ برس تک مصور نے وہ پینٹنگ وہیں وقت کی دھوپ تلے رکھ دی ۔کہ جب وہ رنگ ماند پڑنے لگینگے پھر وہ اس میں مزید رنگ آرائ کرے گا۔
مگر یہ کیا، پینٹنگ دیکھتے ہی معاشرہ نامی گاؤں کے لوگوں نے وہاں سے گزرتے ہوئے ناگواری سے منہ بنایا، کچھ نے کہا کہ ہونہہ! کیا یہی لڑکیوں کی تصویر سوجھی تھی اس مصور کو۔ کیا وہ لڑکا نہیں بنا سکتا تھا جو والدین کے ٹاٹ باٹ اور ان کی طاقت بننے کی ترجمانی کرتا۔ ان احمق لوگوں کی خام خیالی تھی کہ بچی کی نسوانی تصویر کسی عورت کی کمزوری کی ترجمانی کرتی ہے۔ ان کو تو یہ ایک بہت معمولی پینٹنگ لگتی تھی مگر انھیں کیا معلوم تھا کہ مصور۔ دو عالم کے ہاں ایسی پینٹگز کتنی قیمتی ہوا کرتی ہے کہ کوئ بھی مصور اپنے ہی کام میں فرق نہیں کرتا اسے اپنی ہر تخلیق سے محبت ہوتی ہے ۔ اب پانچ، چھ سال بعد مصور نے وہاں اسی کے سامنے اسی بچی کی تصویر کا نیا رخ بنایا ۔ اس تصویر میں وہی بچی بالوں میں شوخی کے پھول سجائے، ہونٹوں پر مسکان کی لالی لگائے، اور مستی، بے نیازی، محبتوں کے موتی جڑے ایک لمبا فراک پہنے  زندگی کے ایک خوبصورت نو عمری کے باغ میں خوابوں کی رنگ برنگی تتلیاں پکڑ رہی تھیں۔
اب کیا تھا اس گاؤں میں واویلا مچ گیا تھا۔ ہر طرف اعتراض ہی اعتراض تھا۔ کسی کو نسوانی پینٹنگ پر، کسی کو شوخ رنگوں پر، کسی کو تتلیوں پر ، کسی کو اس شاہکار کے سبق پر ۔عرض جتنے منہ اتنی باتیں تھیں۔اس گاؤں کے ہر مرد کو اگرچہ اس شوخی جھلکنے والی تصویر پر تو اعتراض تھا مگر ساتھ ہی وہ آنکھوں میں اپنا جنسی میلا پن لیے اسے دیکھتا تھا۔ ہر مرد اس تصویر  میں اپنی خواہش کی انگڑائ محسوس کرتا تھا مگر وہ ساتھ والوں پر کبھی یہ ظاہر نہ ہونے دیتا اور ایسا تقریبا ہر نکتہ چیں کر رہا تھا۔
مگر مصور دو جہاں..! وہ خاموش تھا ۔ وہ جانتا تھا اس شاہکار کی قیمت کیا ہے ۔ کیونکہ سونے کی قیمت تو سنارہی جانتا ہے وہ تو پھر مصور دو جہاں تھا۔
اب وقت کافی گزر چکا تھا اور اس پینٹنگ بورڈ پر مصور نے جو جگہ چھوڑی تھی وہاں اس تصویری کہانی کا نیا موضوع پینٹ ہونا تھا ۔اب کی تصویر میں بچی سن بلوغت سے گزر چکی ہے وہ ایک جاذب نظر جوان لڑکی دیکھائ دے رہی ہے۔ بالوں کی گھنگھریالی لٹیں اس کی ٹھوڑی کو چھو رہیں تھیں۔ اور وہ ایک ہاتھ میں قلم اور کاعذ تھامے دوسرے کو ہوا میں لہرا رہی تھی معلوم ہو رہا تھا وہ کسی سٹیج پر کھڑی تقریر کر رہی تھی، ایسے جیسے وہ معاشرہ نامی گاؤں کے لوگوں کوسبق دے رہی ہو کہ بیٹی بوجھ نہیں ہوتی، بیٹی کسی کی غلام نہیں ہوتی، بیٹی صرف مردوں کے استعمال کی شے نہیں ہے بلکہ اگر اسے پڑھاؤ لکھاؤ تو یہ شاہین سے اونچا اڑ سکتی ہے، یہ ستاروں پر کمند ڈال سکتی ہے، یہ گھر کو جنت بنا سکتی ہے، یہ ذہد و عبادت میں رابعہ بصریہ، حیا میں فاطمہ رض، علم میں عائشہ رض، پاکیزگی میں اماں خدیجہ رض اور بہادری میں زینب رض، خولہ بنت ازور رض اور حضرت صفیہ رض بن سکتی ہے ۔ مگر اس بات کو سمجھنے والے کم اور اعتراض کرنے والے زیادہ تھے اور یہ مصور_ عظیم کی اس پینٹنگ میں اس انداز سے پینٹ کیا گیا تھا کہ اس لڑکی کے سامنے صرف کچھ لوگوں کا مجمع تھا اور جہاں وہ لڑکی اور وہ مجمع تھا اس کے ارد گرد روایات، رسومات، قبائلی غیرت اور اعتراضات کی آہنی سلاخوں اور تاروں کے جال کو پینٹ کیا گیا تھا جس کے دوسری طرف کھوٹی سوچ کے لوگ کھڑے ہاتھوں میں گندی نگاہوں، گالیوں، تہمت، جنسی خواہش، ظلم، آوارگی، ناخواندگی، نالائقی کے پتھر اٹھائے اس لڑکی پر پھینک رہے تھے۔ اب پینٹنگ کا تقریبا ستر فیصد مکمل ہو چکا تھا اور رنگ وقت کی دھوپ میں پڑے پڑے ماند پڑنے لگے تھے۔ اب راہگیروں کے جملے بھی کم ہونے لگے تھے اور اس کی طرف اٹھنے والی نگاہیں بھی کم ہو گئ تھیں۔ مگر اب مصور اس شاہکار کا آخری حصہ پینٹ کرنا چاہتا تھا۔ جوانی ڈھلنے کے بعد کا حصہ۔ مردوں کے لیے بے لذت ہو جانے کا حصہ۔ بڑھتی ہوئ عمر کا حصہ۔ جھریوں سے بھرے چہرے اور گھر بار، بال بچے، سسر ساس اور رشتہ داریاں اور زمہ داریاں نبھاتے نبھاتے کمر جھک جانے کا حصہ۔ خود سب کچھ دوسروں پر وار کر، اپنا سارا سکون، پیار، اور پھر زندگی اپنے بچوں، گھر والوں اور شوہر پر نچھاور کر کے خود ہر رنگ ہر شوخی سے عاری ہونے کا حصہ۔ جی ہاں! اب مصور سبحانہ و تعالی وہ حصہ پینٹ کرنا چاہتا تھا جب ایک معاشرے نامی گاؤں کے لوگوں کی نظر میں ایک تابعدار عورت  وہ ہوتی ہے جسے ساری عمر تابعداری کرنے کے بعد موت کے قریب ہو جانے کے وقت کچھ لوگ شاباش کا تمغہ پہناتے ہیں مگر اب اسے رنگینیوں اور شاباشی کا شوق نہیں رہتا ۔ بس اتنا ہوتا ہے اسکے بالوں کی چاندی دیکھ کر اکثر آوازیں خاموش ہو جاتی ہیں اور ان کی خدمت ہونے لگتی ہے اور کچھ بد نصیبوں کو اتنا بھی نصیب نہیں ہوتا۔ اب تصویر کے اس رخ میں رنگ بھرنے کی باری آ چکی تھی، صرف ہلکے، پھیکے، سرمئ رنگ۔ مصور کا شاہکار مکمل ہو گیا تھا، مگر پتہ ہے کیا؟؟ اب جب لوگ شاہکار دیکھنے آتے تھے تو سب آدھے پینٹنگ کی تعریف کرتے تھے اور آخری حصہ کسی شاذ و نادر کو ہی پسند آتا۔ مگر یہی حقیقت ہے۔ زندگی کی حقیقت۔ شاہکار کو اب مصور نے مٹی میں دفنا دیا تھا بغیر کوئ نشانی کے۔ اب ساٹ، پینسٹھ سال بعد نہ شاہکار تھا، نہ لوگوں کا ہجوم ، نہ انکی چبھتی نظریں اور نہ ہی انکے اعتراض۔ عظیم فنکار اور مصور دو جہاں کے اس خوبصورت شاہکار کی کہانی مکمل ہو چکی تھی مگر اس کو دیکھنے والوں میں سے صرف چند ہی اس پینٹنگ کو سمجھ پائے ہونگے، کہ شاعری اور شاہکار کو خود فنکار سے زیادہ کوئ نہیں سمجھ سکتا۔
میں نے جب اس پینٹنگ کی تصویر دنیا کے عجائب گھر میں دیکھی تو بے ساختہ اقبال کی یہ نظم گنگنانےلگی جو میرے خیال میں قارئین کے لیے اس فن و تصویر کا خاکہ پیش کرتی ہے

وجود زن سے ہے تصویر کائنات میں رنگ

اسی کے ساز سے ہے زندگی کا سوز دروں

شرف میں بڑھ کے ثریا سے مشت خاک اس کی

کہ ہر شرف ہے اسی درج کا در مکنوں

مکالمات فلاطوں نہ لکھ سکی لیکن

اسی کے شعلے سے ٹوٹا شرار افلاطوں

بقلم آنے رملیہ از پائیڈ۔

August2020-August2021

If I put On my veil…

let suppose! If i put on my veil
will they lower their gaze??
will they cease to lurk and chase??
will it decline the harrasment cases?
will they cease passing dirty phrases?
Only if i put on my veil
and wear not my makeup
will they stop to kill in honour?
will they no more feel temptation?
will they do not bully and abuse?
will they cease to be a Rapist??
Can you please assure??
if i put on my veil, cover my self
will it change them too??
i fear it will Not,
for its not the absence of my veil
that they murder, harrass, rape and rant
but the presence of a veil, A cover
On their greasy eyes, mind and heart..

Aanay Ramliya
11:55 pm
7Aug2021

The Gap or the Difference

Jane!, OO jane! wake up! Wake up! I just woke up when I heard her calling my name. What happened to you? Are you okay? She was asking me as I was sighing and breathing fast with one hand on my heart, waking up to a nightmare. I couldn’t answer her being stressed and relaxing myself to forget about the bad dream.
The large windows of our room were left open and the pitter-patter sound of the rain was even disturbing. “Oh god please stop this rain I just hate it”. “Why the hell is still raining?” “Is it just to make me sad huh?? I was complaining to God continuously. I thought I was saying this in my mind but it gave me a goose bump when my sister loudly said, “Stop whining please. It’s not the rain but “The gap” that disturbs us all.
The gap? OH what is she referring to? I rolled my eyes though she couldn’t see me in the dark. Ummmm “the gap”. I repeated it slowly and give it a thought but couldn’t figure it out to be honest. Simi! “Would you please explain it to me?” I turned my head to her, cupping my face in my hands as if I am really very interested to listen to her but actually I was curious about the term she used.
“Okay! Let me finish my task and I am going to tell you after a while” she replied gently as always, completing her assignment in the light of table lamp. Few minutes were passed and she began to talk. “When I said “the Gap” I meant that we human beings are never grateful for what we have. We always complain about the little things that happen to us but we never thank our lord for all the beautiful and many great things that we have. Just like you were whining about the rain a while ago but have you thought that there are people who wish to see and have some rain as they need it? Have you ever thank Allah for not even able to make a choice of so many dresses you have in your closet? When there are people who can’t even have a piece of it to cover themselves decently? Have you thought for a minute about those who collect scraps from the dumping sites to survive when you are selecting and wasting time on the menu at dining table? Have you ever gave your wallet full of money to the one who hold their hands sacrificing their self-respect and beg to you for a penny?? Or have you even asked God that why are you different than them? Are you better than them anyway? Have you ever looked into the eyes of “chootay” at tea or juice corners when they are serving you and longing to wear a uniform like you and to have someone caressed at their cheeks and buckle their shoes like dad does yours??? Isn’t it the Gap between you and them? Isn’t it the difference God has created among people to test them but we see it differently. We always whine for little and tiny hardships and we always compare ourselves to those better than us and lament at what we don’t have rather than thanking for the blessings we are given even when we don’t deserve them. So this is actually “the Gap” I was referring to, that make us complain about things without realizing the true subject. Hope you understand it now and will think twice about it if you encounter a problem again”. “Now go to sleep please I wish you a good night”. Saying this, she left the room taking her bag along she closed the door slowly. But all this really lasted an impact on me. And I really miss her when it rains as her kind voice echo in my head. Good bye take care till the next blog. With love and Regards Aanay Ramliya45

March 1, 2020

Spring Needs to be in the Heart

Crip-crap, Crip-crap, the soothing sound of dry leaves was quite prominent as they walked over them without talking to each other. The month of March had just begun which used to be the arrival of spring in their country. Bunnies could be seen hopping around and scampering. Birds could be heard singing but dove’s song was the most profound and beautiful sound to them to recognize that spring has actually arrived. Both of them had their memories attached to this lovely sound. Weather was getting warmer than the chilly cold of January now and days were getting longer. Daffodils, camellia and tulips’ flowers were blooming and anemones ushering in spring loud and proud with vivid blooms in colors like pink, red and burgundy. Both of them were deeply sunk in the serenity of nature each waiting for the other to speak first. “Mugheera! Which book are you reading these days?” Zakwan asked him as he couldn’t wait anymore. “Ummm! I am not reading anything these days I just can’t concentrate on books even. I am quite distracted. Everything, even my life seems dull and boring to me. I feel broken since my brother’s death as he was diagnosed with cancer. I wish I could gave him my life and he could live longer”. Mugheera responded, in sad tone as if weary and tired.
“Oh chap! Come on, that’s not a big deal, life is meant to end for all of us. Death is undeniable. All of us will die. Stop thinking about the past. Look at the beauty of the nature and how spring has decorated everything with a new dress of its kind. Haven’t you heard Sufi Shams’ quote that beauty is in the eyes of beholder. So unless you see the beauty around you and the beauty in your life, you are not going to get out of this trauma brother.” Zakwan lectured him as if he was his mentor as always.
“Yeah! Yeah! I have heard this and Sufi Shams has been absolutely right and this is why I can’t feel the serenity and the blissful beauty of the spring these days. I just can’t feel the spring because spring is not outside. Because spring lies in the heart. And as long as your heart has the beauty everything seems fragrant and joyful but when heart mourns, your world become colorless. Thus it will take me some time.” Said Mugheera raising his right eyebrow with his eyes still calm and deep. Both headed towards the end of the walking track and were about to depart now.
Mugheera’s answer left Zakwan with no answer but to agree with him, both were right at their own. The stance of Mugheera really is applicable to life in every perspective. It’s not the mind but the heart that keeps one alive. When heart dies, life become meaningless. As Meer Dard (a famous poet) puts it, “I fear the death of my heart, as my life lives by it.” Every weather becomes breezy if a person’s heart celebrates spring of joy and love otherwise even a spring outside will be autumn for a negative person. Though sadness is a part of our emotional life but holding on to it without helping yourself to change is wrong way of dealing with emotions.
As far as one’s heart is delighted his life is beautiful too. He then finds beauty in every little thing he have and every task he do. He can make others happy and care for them only if he is happy himself. And the same is in case of practicing religion. As narrated in a famous Hadith that every organ of the body performs well when the heart performs better. But if the heart is ill, impure and distracted, everything else gets wrong itself. As heart is the director and the king of all the organs. May our heart be purified by the will and love of Allah Ameen.
keep spreading love and peace and it will echo.

4march2020


Aanay Ramliya 45

ایک کی جیت، دوسرے کی ہار

دیہات کی شفاف فضا میں چاند خوب روشن تھا ایسے جیسے کوئ فانوس آسمان سے لٹک رہا ہو۔۔ دیہات کی راتیں بہت خوبصورت اور پرسکون ہوتی ہیں ۔آسمان پر تارے ایک کہکشاں کا نظارہ پیش کرتے ہیں اور پر جب چاندنی رات ہو تو بات ہی کچھ اور ہوتی ہے۔ آج بھی چاندنی رات تھی اور آریان بھی ایرگل کے گھر ہی رک گیا تھا۔ وہ بہت خوش تھا اور اپنے جذبات چھپا نہیں پا رہا تھا۔ بار بار مسکرا رہا تھا کہ آج جیسے صدیوں بعد کوئ ناسور جیسے زخم بھرے ہوں۔۔اسے ایسے لگ رہا تھا جیسے کوئ مسافر تھک ہار جائے اور بہت سالوں بعد اپنے منزل پہنچ کر گہری نیند سو کہ اٹھ جائے۔۔ایسے جیسے گہرے غم کے بادل پہلی دفعہ چٹ گئے ہوں۔ کیونکہ آج وہ اپنی محبت جیت گیا تھا۔اسکو سجدوں کا جواب مل گیا تھا۔اس کی دعائیں کامل ہو گئ تھیں۔سو وہ آج ایرگل سے ڈھییر ساری باتیں کرنا چاہتا تھا۔وہ پہلی دفعہ اس کے اتنا قریب بیٹھا تھا کہ اسے ایرگل کی سانس تک سنائ دے رہی تھی۔ ایر گل! اسلام علیکم۔ آریان نے دھیرے سے مزاحیہ انداز میں کہا۔ والسلام آریان! “کیسے ہیں آپ؟” ایرگل آہستہ سے بولی۔
“میں ٹھیک ہوں لیکن ایرگل میری جان! آج مجھ سے اپنے جذبات قابو نہیں ہو رہے۔۔میں اتنا خوش ہوں کہ مجھے یقین ہی نہیں آرہا ہماری شادی کی بات پکی ہو گئ ہے۔ کیا اللہ ایسے سنتے ہیں دعائیں؟؟؟؟ اب تو مجھے اللہ جی سے اور بھی محبت ہونے لگی ہے”۔ آریان بولے جا رہا تھا۔ لیکن ایرگل کیا آپ بھی میری جتنی خوش ہیں میری ساتھی بننے پر؟ بلکہ مجھے یقین ہےآپ بہت خوش ہیں۔۔ہے نا؟؟” آریان نے ایرگل کی طرف دیکھتے ہوئے پوچھا۔
“آریان! آپ بہت خوش قسمت ہیں ۔آپ کو محبت مل گئ ہے۔ اور جیسے آپ کی سوچ اور خواہش تھی بلکل ویسی۔مگر مجھے نہیں معلوم میں کتنی خوش ہوں۔۔ہاں ایک بات ہے کہ مجھے آج بہت گھبراہٹ ہو رہی ہے۔ اور پتہ ہے آج مجھے اپنا آپ کیسے محسوس ہو رہا ہے؟؟ ایرگل نے سوالیہ نظروں سے دیکھا آریان کو۔۔
جی بولیے! اس نے جوابا بڑے احترام سے کہا۔ویسے بھی وہ محبت سے زیادہ، احترام کرتا تھا ایرگل کا۔
ایرگل گویا ہوئ،”ہممم !جب ہم چھوٹے ہوتے تھے تو اکثر چڑیا کمرے میں آجاتی تھی۔ اور ہم اسے دروازہ بند کر کے پکڑنے کی کوشش کرتے تھے۔ مجھے یاد ہے ایک دفعہ ہم سارے بچے اس بڑے والے ( ما موں کے کمرے کی طرف اشارہ کر کے) کمرے میں پڑھائ کر رہے تھے کہ ایک چڑیا اندر داخل ہوئ بس پھر کیا تھا۔ ہم نے کتابیں بند کی اور اسے پکڑنے لگے ۔وہ کبھی ایک طرف اڑتی کبھی دوسری طرف_ کافی دیر تک یہ کھیل جاری رہا پھر آخر کو وہ تھک کر گر گئ جیسے اب طاقت ختم ہو چکی ہو۔ اور پھر ہم نے چادر ڈال کر اسے پکڑ لیا۔ ” آریان تب ہم بچے تھے ایسا کر کے خوش ہوتے تھے مگر آج مجھے ایسے لگ رہا ہے جیسے میں خود وہ چڑیا بن کر گر گئ ہوں۔۔میں آج تک اڑتی ہی رہی تھی ۔ مجھے خوابوں کی تکمیل کرنی تھی اور ان خوابوں کے سفر میں شادی اور تعلق کی گویا کوئ جگہ ہی نہ رکھی تھی اور میں معاشرے سے بچنے کے لیے ادھر ادھر اڑ رہی تھی ہاں میں اوپر کو بھی نہیں اڑ سکتی تھی ک چاروں طرف اقدار و روایات کی دیواریں تھی ہر دفعہ ٹکراتی تو پر زخمی ہوتے۔ اور اب وہ وقت آگیا ہے کہ میں تھک کر اسی چڑیا کی طرح خود ہی گر گئ ہوں اور ان بچوں کی طرح وہ خوش قسمت بچہ آپ ہی ہے جس نے اسے پکڑ لیا ہے۔۔”
ایرگل اب چپ ہو گئ تھی۔ وہ شاید بہت سارے ایسے پرندوں کا قصہ سنا رہی تھی اور آریان سوچ رہا تھا کہ لوگ کیوں محبت مل جانے کی دعا کرتے ہیں اگر مل کر بھی وہ اپنے آپ کو ایک قید سمجھتے ہیں تو یہ جیت نہیں شا ید دوسرے کی ہار ہوتی ہے۔
آنے رملیہ۔۔

1:00 am .
Mon 24 2021

جیو کہ زندگی خوبصورت ہے۔۔


میں نے زندگی کے کئ روپ دیکھے ۔کبھی بہار کے خوش رنگ پھولوں سے ڈھکی ہوئ۔تو کہیں خزاں کے سوکھے پتوں کی مانند بکھری ہوئ۔کہیں آبشاروں کی طرح ایک ردھم میں بہتی ہوئ۔۔تو کہیں خالی وسیع صحرا جیسی تپتی ہوئ۔کہیں ذوالفقار بن کر علی رضی اللہ کی شجاعت دیکھاتی ہوئ۔تو کہیں تپتی ہوئ ریت پر لیٹ کر بھی احد احد کا نعرہ لگاتی ہوئ۔کبھی اسے کربلا کی زمین پر تلواروں کی جھنکار میں سجدہ ریز ہوتے دیکھا تو کبھی گانے بجانے اور موسیقی کی محفلوں میں شراب پیتے ہوئے۔۔کہیں میں نے اسے دکھوں اور غموں سے چور ہو کر بھی صبر و شکر کا لبادہ اوڑھتے دیکھا ۔تو کہیں ہر آسائش کی موجودگی میں بھی تاریکیوں میں الجھی اور ناشکری کرتے ہوئے۔کہیں بڑے بڑے آزمائشوں میں  بھی خالق کو یاد کرتے ہوئے۔تو کہیں باغ و بہار اور دولت کے باوجود بھی مایوسی کے بھنور میں پھنستے ہوئے۔۔کبھی میں نے بیماری کی حالت میں آخری سانس لینے والے۔۔محاذ جنگ میں اپنوں سے بہت دور شہید ہونے والے۔اپنے وطن سے باہر کچھ کمانے کی خاطر مسافر کیطرح  زندگی گزارنے والوں کی آنکھوں میں زندگی کو امید کی صورت دیکھا تو کہیں سنگ مرمر کی محفلوں میں بھی اسے برباد اور ضائع ہوتے دیکھا۔۔غرض یہ کے میں نے ذندگی کو کئ طرح  اور مختلف طرز سے گزرتے دیکھا۔مگر میرا دل تب دہل گیا جب میں نے سنا اور دیکھا کہ زندگی خود اپنے ہی ہاتھوں خود کو موت کے حوالے کر رہی ہو۔
میں نے تب سوچاکہ گو موت ایک اٹل حقیقت ہے مگر یوں گلے میں پھندا ڈال کر۔۔اونچی عمارت سے چھلانگ لگا کر۔۔یا گولی چلا کر خود کو یوں موت کے کنوئیں میں پھینک دینا اور اپنے پسماندگان کو ازیت کا ترکہ دینا کہاں کی عقلمندی اور کہاں کا انصاف ہے؟
کیا مالک و خالق حقیقی نے اس لئے  اتنے مان سے۔فرشتوں کے سامنے فخر کر کے تجھے پیدا کیا تھا۔  کہ تو یوں بیزاری اور نا قدری سے اپنے گردن سے زندگی کو اتار پھنکے؟؟؟ کیا تمھاری زندگی صرف تمھارا حق تھی۔۔کیا اسے بنانے اور تجھے صحیح سلامت دینے والے کا اس پر کوئ حق نہ تھا۔کیا یہی زندگی جینے کا مقصد تھا۔۔کیا یہی درس دیا تھا تجھے اصلا ف و قرآن نے؟؟۔۔کیا تجھے اشرف المخلوقات کا درجہ اسی لئے عطا ہوا تھا؟۔۔کیا یہ زندگی اتنی ہی بے مول رب ذوالجلال نے بنائ تھی تیرے لیے کہ تو جب چاہے اسے پھینک دے؟؟؟
لیکن پھر خیال آیا کہ ہو سکتا ہے اس میں خود زندگی کا یعنی ابن آدم کا کوئ قصور نہ ہو۔بلکہ اسے دکھوں اور پریشانیوں نے،گھریلوں پیچیدگیوں نے، کسی محبت کے کھو جانے نے یا پھر معاشرے اور آس پاس کے لوگوں نے اسے تکلیف اور صدمہ پہنچا کر اس نہج پر لا کھڑا کر دیا ہو کہ خود زندگی کو اپنے آپ سے موت زیادہ حسین دیکھائ دی ہو۔یا موت اسے اپنے سب مسئلوں کا واحد حل سوجھا ہو۔ابھی میں کئ حیلے سوچ ہی رہی تھی کہ مجھے قرآن میں سے خدا کی آواز سنائ دی جس نے مجھے اپنی طرف نہ صرف متوجہ کیا بلکہ میرے ذہن میں فلم کی طرح چلتی ، میرے نفس کے پیش کردہ سب بے معنی حجتوں کا رد بھی کیا۔
اللہ جی کہہ رہے تھے کہ “چلو مان لیا  ابن آدم یا بنت حوا ! کہ تیرے دکھ بہت بڑے تھے۔تجھے تکلیف پہنچی تھی لیکن کیا میں نے سورہ بقرہ کے آخری حصے میں تجھ سے یہ نہیں فرمایا تھا کہ میں کسی بھی نفس کو اس کی برداشت سے بڑھ کر تکلیف نہیں دیتا۔۔۔مانا تم پر تنگی آئ۔مشکلات آئے لیکن کیا سورہ الانشراح میں تجھے میں نے خوشخبری نہیں   دی تھی کہ ہر تنگی کے ساتھ آسانیاں ہیں”
“چلو! تم دنیا والوں سے نا امید ہو گئے تھے مگر کیا میں نے تمھیں نصیحت نہیں کی تھی کہ دیکھ میرے بندے لا تقنطو من رحمتہ اللہ۔اگر تمھاری کوئ نہیں سن رھا تھا تو تمہیں کتنی بار میں نے سمجھایا کہ دیکھ میرے بندے تیرا رب سننے والا سمیع بھی ھے۔۔۔وہ دیکھنے والا بصیر بھی ہے۔وہ بے مانگے اور  بغیر مستحق ہوئے دینے والا الوھاب بھی ہے۔کیا میں نے نبی مصطفی صل اللہ علیہ وسلم کے زریعے تجھے پیغام نہیں بھیجا تھا کہ میرے بندوں سے کہو کہ میں ان کے بہت قریب ہوں اور میں پکارنے والوں کو جواب دیتا ہوں۔مگر تو بتا ! کتنی دفع تم نے مجھے پکارا جو میں نے تم سے کبھی منہ موڑا ہو؟۔چلوہو سکتا ہے کہ تمہیں لوگوں نے دکھ دیئے ھوں۔ رسوا کیا ہو ۔مگر کیا تم میرے بندے نوح ع سے ,، میری بندی مریم ع سے،میرے پیارے یوسف ع سے اور میرے محبوب نبی محمد مصطفی ص سے ذیادہ دکھی تھے۔کیا ان سے ذیادہ تمھیں زلیل کرنے کی کوشش کی گئی۔۔۔؟؟؟؟ وہ چھو ڑو سب اگر ان سے ذیادہ بھی ہو تو کیا میں نے نہیں تم سے کہا کہ میں صبر کرنے والوں کے ساتھ ہوں۔کیا میں نے تجھے نہیں بتایا تھا کہ میں پکڑ سکنے والا ہوں۔
وہ سب ایک طرف  مگر۔میں نے تو صاف صاف سورہ ملک میں یہ بھی بتلا دیا تھا کہ یہ زندگی ابدی نہیں ہےاور نہ ہی یہ دکھ سکھ  بلکہ سب ایک دن ختم ہونے والا ہے ۔۔۔ہاں مگر تجھے میں نے موت اور زندگی اس لیے دی تاکہ آزمایا جائے کہ کون اچھے عمل کرتا ہیے اور وہ  العزیز و الغفور بھی ہے۔۔
۔میں نے ایک دوسرے کے کام آنے کو کہا تھا عبادت کے لیے تو فرشتے بسیار تھے۔
اب دیکھ میرے بندے اگر تیرے پاس ان سب کا جواب نہیں تو نہ سہی میں پھر بھی تمھارے لوٹنے کا انتظار کر رہا ہوں مگر تو یہ الزام تو نہ لگا کہ تیرا کوئ نہیں۔یوں زندگی کی نا قدری تو نہ کر کہ پھر خود اپنے آپ کو موت کے حوالے کرتے ہوئے  بولے کہ موت دکھوں کی زندگی سے بہتر ہے۔نہیں میرے بندے تو کسی بے سہارے کا سہارا بن کر ۔کسی نا امید کو میرا پیغام دینے والا بن کر ،کسی کے بوجھ کو ہلکا کر دینے والا ، کسی کے آنسو پو نچنے والا بن کر..میں نے تجھے رب چاہی زندگی کے لیے پیدا کیا تھا نہ کہ من چاہی زندگی گزارنے کے لیے ۔۔۔میری طرف اپنا سفر شروع کر کے دیکھو۔زرا میرے کہنے کے مطابق جی کر تو دیکھو تو پتہ چلے کہ زندگی با مقصد ہو تو بڑی خوبصورت ہے۔
جیو کہ ذندگی خو بصورت ہے۔۔۔کیا خوب کہا کسی شاعر نے،

زندگی زندہ دلی کا ہے نام۔ مردہ دل خاک جیا کرتے ہیں
جینےاور مسکرانے کے لئے تو یہ سوچ بھی کافی ہے کہ اللہ تجھ سے محبت کرتا ہے ۔۔اور تو اس کے محبوب نبی کا امتی ہے۔۔
بقلم آمنہ شکیل ۔۔۔۔از پائیڈ اسلام آباد۔

16 june 2020

After someone’s Suicide

Aanay Ramliya 45

Love is power

Love is power
Power that leads
Leads to the truth
It is a language so sweet
That let you speak
Speak without words
It is courage
Making you brave
To sail through the storms
And see fear in the eyes
Or face the sharpest sword
It provide you with wings
Wings, to make you fly
Fly so high, beyond the sky
Like free, high soaring bird
In the garden of the heart
Love is a flower
That blooms out of a bud
Bud of a seed sown
Deep in the soil..
Soil of a loving heart
It is vibes that flow to another heart. Get reflected like a ray from the mirror… Strike back the source To ignite the fire..

Fire of love, The lover and beloved
Thus unites as one,. As a single burning flame
But if it hurts.. And give you pain
Rather than a shine
It make your eyes rain
Or let your heart ache
And destroy your brain
Then its not love
But a choice that is wrong
A choice that is wrong
Choice can mislead
And make you only weak
But love is valour
Valour of the strong
Aanay Ramliya 45

May,29,2021

The Pure Gold, The pure you

Nothing is easy..
Its not easy to move on if you have a breakup with anything or anyone you loved. Yes! its gonna be really painful but “To Move on” is worth the pain. To live is worth the pain. Its not easy to do, but there is a therapy; go away from it as far as you can. Try not to face what reminds you of the shit in the past. Discard everything which relates to the habit or person you have to break up with. I know it will make you shattered into pieces, it will bring you disaster and madness, but it will over. You need to give time,some Time to heal the wounds and remove the scars. Its Okay if you Cry, it doesn’t mean you are Weak. It doesn’t mean you are Wrong. Dear! Its a strategy, a Therapy to move on . You have to make this painful efforts to re-live  your life.. Don’t you see, how much the gold has to be burnt to make it pure..The more you burn it, the pure it becomes.You are worthy than you think and expect. God has created you with love and for a reason. You dont need to waste it for one person or one thing. Remember! One day when people will emulate your elegance, your forbearance and your Sobriety, and the way you will stand tall and firm, they won’t know the pain you have been through, the fire and flames you have gone through, to reach that Modesty, but they will only see the final pure Gold, The Pure you…

Aanay Ramliya
18 may Tuesday
12:14 am

A tender heart..

In her lean ,
not having body enough pretty..
Was imprisoned a pure soul….
In the cage of stiff ribs,
A tender heart lied….
Her feelings fragile …
As if newly made pearls in the shell…
In her eyes tears rolled as slowly..
As a boat of poor village sailor…
But She withheld the flickering candle of hope …
Stood to see the last rays of settling sun
at the horizon she always wore a smile..❤️
To stay alive.
Aanay Ramliya
7:24 pm june 18:2020.