وہ خط جو میرے نام تھا

یہ 14 فروری کا دن تھا، میں آج خوب اچھے سے تیار ہوا ، اپنا فیورٹ پرفیوم لگا کر اپنے بال سیٹ کرنے لگا تھا کہ مجھے آذان کی آواز سنائ دی۔ میں نے آذان سنی مگر نظر انداز کر دیا۔ ویسے میں نماز تو پڑھتا تھا مگر بس جمعہ جمعہ یا پھر جب اللہ سے کوئ خاص چیز مانگنی ہوتی تو میں نماز پڑھ لیتا۔ سو آج میرا دل نہیں تھا نماز پڑھنے کا، نہیں پڑھی اور مجھے اس سے کوئ خاص فرق نہیں پڑتا تھا اور نہ ہی کبھی یہ سوچنے کی توفیق ہوئ کہ میں نماز چھوڑ کر گناہ کبیرہ کر رہا ہوں۔ میں اکلوتا بیٹا تھا اور تھا بھی کافی امیر خاندان سے پس اس لیے مجھ پہ کوئ خاص روک ٹوک نہیں تھی۔ ابا نے کالج کے دنوں میں ہی مجھے اپنی گاڑی لے کے دی تھی سو دوستوں کے بھی مزے تھے بلکہ وہ تھے ہی مجھ سے فائدہ اٹھانے والے دوست لیکن میں کچھ زیادہ پرواہ نہیں کرتا تھا ان باتوں کی۔  ہم ایف سیکس میں رہتے تھے سو میں تیار ہو کر سیدھا جناح سپر کے سامنے فلاور مارکیٹ گیا۔ آج ویلنٹائن ڈے تھا جس کی تاریخ جانے بغیر ہم سب پیار کا دن کہتے ہیں اور ہر جگہ سرخ و سفید غباروں سے، سجی ہوتی ہے۔ چاکلیٹ، بئیرز اور پھولوں اور کیک والوں کا بزنس اس دن خوب چلتا ہے۔ میں بھی ان لیبرل لوگوں میں سے تھا جو اس طرح کی چیزوں پر اچھا خاصا خرچ کر لیتے ہیں۔انھی کی طرح میں بھی وہاں سرخ گلابوں کا بکے لینے گیا تھا۔ میں بہت پرفیکشنسٹ تھا اس لیے میں وہ لڑکا تو تھا نہیں کہ جس کا ہر لڑکی پر ہی دل اجائے بلکہ میری ایگو کے ساتھ ساتھ میں کلاس کا ٹاپر بھی تھا اور اللہ نے حسن بھی دیا تھا اس لیے بھی میں زیادہ کسی کو لفٹ نہیں کراتا تھا۔ اسلام آباد کی لڑکیاں خود مجھ سے بنانے کی کوشش کرتیں مگر میں بہت فارمل تھا۔ اس لیے نہیں کہ میں بہت کوئ نیک یا اچھا لڑکا تھا بلکہ مجھے اپنے سٹینڈرد کی لڑکی چاہیے تھی۔ میں چاہتا تھا کوئ ایسا ہو جو مجھ سے میری دولت کی بجائے میری پرسنالٹی اور عادات سے محبت کرے جو اگر میرے پاس کچھ بھی نہ ہو تب بھی نبھانے والی ہو اور اسلام آباد میں ایسی لڑکی ملنا مشکل تھی( میں تضحیک نہیں کر رہا بس میرا یہ ماننا تھا) ۔ وہ سب ہائ فائ تو تھیں لیکن مادیت پرست۔ میں اچھی طرح جانتا تھا کہ میں جس لڑکی سے کہوں گا وہ مجھ سے ریلیشن بنانے کے لیے راضی ہوگی لیکن میں فلرٹ نہیں  کرنا چاہتا تھا کیونکہ مجھے اگلے سال جرمنی جانا ہے سو میں چاہتا تھا کسی سے نکاح کر لوں. ابا کی خواہش تھی کہ میں نکاح کر کے جرمنی جاؤں اور میں خود کسی کو پسند کروں کہ میں ارینج شادی پر یقین نہیں کرتا تھا۔ خیر چھوڑیں میں یہ بتا رہا تھا کہ میں پھول مارکیٹ کس لیے گیا تھا ۔۔جی ہاں میں بھی پھول لینے گیا تھا جس کا اوپر ذکر کر چکا ہوں۔ لیکن کس کے لیے؟؟ آپ بھی سوچ رہے ہونگے کہ ابھی تک تو اپنی تعریفیں جھاڑی اور اب پھول خرید لیے؟؟؟ ہاں جی ایسا ہی ہے ۔ میں نے زویا ناصر کے لیے پھول خریدے تھے ۔ میں آج محبت کا مفہوم پانے کی کوشش کر رہا تھا ۔وہ محبت جس کو جاننے کی جستجو نے مجھے اپنے اصل سے بھی شاید کافی دور کر دیا تھا اور میں بس نام کا مسلمان رہ گیا تھا۔ویسے زویا میری جونئیر تھی اور کلاس کی ٹاپر بھی۔
زویا کی مجھ سے اچھی سلام دعا بھی تھی۔ وہ اکثر فنانشل انالیسز (financial analysis)  کے سوال میرے سے ہی کرتی تھی۔ میری فائنانس میں سب سے اچھی گریپ تھی اور شاید اسی بات نے مجھے یونیورسٹی میں بھی اچھا خاصا مشہور کیا تھا۔ مجھے زویا میں کافی انٹرسٹ تھا اور اس کی وجہ یہ تھی کہ وہ بہت رزرو طبیعت والی تھی۔ وہ ہر کسی کے ساتھ ہنسنے والی اور بات کرنے والی نہیں تھی۔ اس کا ڈریسنگ سینس بہت اچھا تھا. مجھے معلوم نہیں تھا وہ میری پرپوزل پر کیسے ری ایکٹ کریگی مگر باقی ہماری اچھی دوستی تھی۔ اور میں نے اس کو کبھی بولا نہیں تھا کہ وہ مجھے اچھی لگتی ہے کیونکہ میں ابھی اس کو جج کرنا چاہ رہا تھا کہ کہیں اسے کوئ پسند یا کمیٹڈ نہ ہو۔ خیر اس نے آج تک ایسا کچھ نہیں کہا تھا اور ہم نے کبھی ایسی بے باک گفتگو نہیں کی تھی کیونکہ میں بھی اس کی اتنی ہی عزت کرتا جتنی وہ میری کرتی تھی اور میں بھی اس کا اعتبار نہیں توڑنا چاہتا تھا کیونکہ وہ باقی لڑکوں کی بجائے میرے پاس ہی آتی تھی۔ اوہووووو یہ میں پھر کس طرف آگیا ہوں ۔۔اچھا بابا سوری اصل بات کی طرف آتے ہیں میں نے پھول لیے پھر کیا ہوا چلیں اب بتاتا ہوں۔۔۔معذرت بات دوسری طرف چلی گئ تھی۔ میں نے پھول لیے تو گاڑی میں لا کر رکھ دیے پھر میں صفا گولڈ گیا میں نے  وہاں سے اچھی چاکلیٹ کا ایک پیکٹ اور چیسٹیٹی پرفیوم لیا۔ اب یہ سب لے کر میں نے جہاں گاڑی پارک کی تھی وہیں بس گاڑی میں گانے سننے لگا۔۔ میں نے زویا سے کہا تھا کہ آج شام کو میری طرف سے ڈنر ہے لیکن وہ یہ نہیں جانتی تھی کہ میں اسے پروپوز کرنے والا ہوں۔ ویسے میں بہت کانفیڈنٹ تھا لیکن آج تھوڑا اس بات سے میں گھبرا رہا تھا کہ ایسا نہ ہو اس کے انکار سے میری ایگو ہرٹ ہو جائے یا پھر اسکا اعتبار ٹوٹ جائے اور یہ دونوں میں نہیں چاہتا تھا کیونکہ میری یہی سوچ تھی کہ چھپ کر چاہنے اور غلط طریقے سے اپروچ کرنے کی بجائے ڈائریکٹ بتا دینا چاہیے پھر اگر ہاں ہو تو بھی ٹھیک اور نہ ہو تو بھی ٹھیک۔ لیکن پھر بھی مجھے آج تھوڑی سی نروسنس ہو رہی تھی مجھے سمجھ نہیں آرہی تھی کہ زویا کو آج کے دن بتانا مناسب ہے کہ نہیں۔ پھر خیال آیا کہ شاید وہ خود یہی امید کر رہی ہو کیونکہ اس سے پہلے بھی ہم نے اکٹھے دوستوں کے ساتھ ڈنر تو کیا تھا پر یوں ویلنٹائن ڈے پر نہیں کیا تھا۔ ابھی 8 بج چکے تھے اور اسلام آباد میں رہتے ہوئے بھی زویا کو 10 سے زیادہ لیٹ کسی صورت میں باہر جانے کی اجازت نہ تھی۔ یعنی ابھی دو گھنٹے باقی تھے ہم نے ڈنر بھی کرنا تھا اور پھر زویا کو ڈراپ بھی کرنا تھا۔ جانے کیا وجہ تھی کہ میرا موڈ سونگ ہونے لگا اور میں نے زویا کو پروپوز کرنے کا پلان کینسل کر دیا. خیر وہ آئ اور ہم نے بلکل نارمل ڈنر کیا وہی ہلکی پلکی سٹڈیز کی باتیں اور پھر میں نے اسے ڈراپ کر دیا۔ میں گھر واپس آگیا ۔ امی لوگ اپنے کمرے میں تھے میں بس یوں ہی خود دروازہ کھولا اور گاڑی سے پھول وغیرہ اٹھا کر کمرے میں لے آیا۔مجھے موڈ سوینگز کا مسئلہ تو تھا ہی لیکن آج کچھ زیادہ ہی دل بوجھل ہونے لگا تھا۔۔
جیسے کچھ مسنگ ہو۔۔ جیسے زندگی میں کوئ کمی ہو ۔ لیکن کیا کمی ہے؟ گاڑی ہے، اچھی یونیورسٹی ہے ، اچھا گھر ہے۔پاکٹ منی بھی مل جاتی ہے۔ گھر میں کوئ روک ٹوک بھی نہی  پھر کیا ہے ؟ سٹڈیز میں بھی بہت اچھا ہوں، چاہنے والے بھی ہیں تو پھر کیا ہے جو مسنگ ہے؟ میں دل میں شاید خود سے ہی پوچھ رہا تھا۔ “محبت! جسے دنیا محبت کہتی ہے وہ مسنگ ہے” میں بڑبڑایا۔ لیکن وہ محبت تو مجھے سیٹسفائ نہیں کر سکتی تھی میں تو نہ کسی کو قید کر سکتا تھا جو فقط میرے اشاروں پہ چلے اور نہ میں ایسا تھا کہ جو ایک دفعہ میرا ہو اسے کھو دوں۔ میں اپنی ہر چیز کو بہت خاص سمجھتا تھا، لیکن میں سوچتا تھا کہ اگر میں ریلیشن بنا کر اسے یہ نہ سمجھا پایا تو پھر کیا ہوگا؟؟ مجھے ہونے سے پہلے  کھونے کا ڈر تھا۔ تو پھر یہ کیسی محبت ہوئ؟؟ محبت تو ولایت ہوتی ہے۔ یہ تو قوت عطا کرتی ہے۔ تو پھر اس میں کھونے کا ڈر کیسا؟ یہ کیسا مفہوم_ محںت ہوا پھر؟؟ میں بس ذہن میں خود سے ہی محو گفتگو تھا۔
میں نے چیزیں بیڈ پر پھینک دیں اور موبائیل وغیرہ سب سائیڈ ٹیبل پر رکھ دئیے ۔ چینج کر کے خود بھی بیڈ پر ڈھے سا گیا مگر دل کی بیچینی بڑھتی جارہی تھی۔  ایک خلا تھا جو آج مزید وسیع ہوا جا رہا تھا۔ آج میں محبت کے جذبے کی تکمیل چاہتا تھا لیکن سوچا تو مجھے محبت کا مفہوم ہی معلوم نہ تھا ۔میرے جیسے ذہن والے بندے کے لیے فقط پھول دینا، پروپوز کرنا، تارے تھوڑ لانے جیسے بے معنی دعوے کرنا یا پھر ایجاب و قبول کر کے کسی پسند کی لڑکی سے شادی کر لینا ہر گز محبت کی تشریح نہیں ہو سکتی تھی۔
میں نے سونے کی کوشش کی پر آج نیند نے بھی نہیں آنا تھا نہیں آئ۔ لیکن آج اس دن کے برسوں بعد  جب میں اپنی کہانی لکھ رہا ہوں تو اس ساری بیچینی، نیند کا اڑ جانا دل کا بوجھل ہو جانا وغیرہ کی سمجھ آگئ ہے۔ مجھے اب لگتا  ہے کہ ہر انسان کی ہدایت کے لیے کوئ خاص دن، کوئ خاص شخص، کوئ خاص واقعہ یا حادثہ یا پھر کوئ خاص قرآن کی سورۃ یا آیت مقرر ہوتی ہے جو اس کی آنکھیں کھول دیتی ہے۔ جس کے بعد انسان کا ظاہر و باطن دونوں بدل جاتے ہیں ۔یہ وہ لوگ ہوتے ہیں جو چن لیے جاتے ہیں۔ جو بہت خوشنصیب ہوتے ہیں جنھیں اللہ باقی عام لوگوں جیسا نہیں دیکھنا چاہتا۔ جنھیں اللہ اپنا رنگ دینا چاہتے ہیں۔ جنھیں اس جھوٹی دنیا کی سرخ رنگوں سے نکال کر صبغۃ اللہ یعنی اللہ کا رنگ چڑھا دیا جاتا ہے  پس میرے لیے شاید یہی دن مقرر تھا جسے دنیا ویلنٹائن جیسے غلیظ تہوار کے نام سے جانتی ہے مگر اس وقت میں بھی اس ویلنٹائن نامی چیز کو کچھ ذیادہ برا نہیں سمجھتا تھا۔ خیر اس دن مجھے نیند تو نہ آئ لیکن دل کے نہاں خانے اور تحت الشعور میں جو سوالات شاید ایک عرصے سے پڑے تھے وہ اب ابھر ابھر کر میرے دل و دماغ پر جیسے ہتھوڑے برسا رہے تھے۔ ہر گزرتے لمحے کے ساتھ ان کے جاننے کی جستجو بڑھتی جا رہی تھی۔ کچھ عجیب عجیب وسوسے بھی آ رہے تھے زویا کے بارے میں۔ پھر سوچا زویا کو کال کر لوں شاید دھیان بھٹک جائے حالنکہ میں  نے کبھی اسے اتنی لیٹ کال نہیں کی۔ میں نے کال نہیں کی کیونکہ میری انا اور عزت نفس یہ گوارا نہیں کرتی تھی۔
پھر میں نے موبائیل میں واٹس ایپ کھولا اور یوں ہی اوپر نیچھے چیٹ دیکھنے لگا۔ میری نظر ایک چیٹ پر پڑی یا شاید یہ اللہ نے طے کر دیا تھا کہ میں ایسے لمحوں میں ہی اس چیٹ کی طرف نظر کرونگا۔کہ اللہ سورۂ التکویر میں فرماتے ہیں ، ” تم چاہ بھی نہیں سکتے جب تک اللہ نہ چاہے”. جب اس کی چاہ کے بغیر کوئ پتہ تک نہیں ہل سکتا تو میں کیونکر چیٹ دیکھ سکتا تھا بھلا؟ یہ چیٹ میں نے کئ دن سے نہیں کھولا تھا، لوح محفوظ میں یہی لکھا گیا تھا کہ میں اسے آج ہی کھولونگا۔ یہ ضرارہ کی چیٹ یعنی میسجز تھے۔  ضرارہ میری ایک چھوٹی کزن ہے جو تب یونیورسٹی کے تیسرے سیمسٹر میں تھی ان کے بھائ نہیں ہیں اور مجھے وہ بھائ کہتی ہی نہیں سمجھتی بھی ہے۔ بچپن سے میرا بھی اس کے ساتھ سگے بھائ جیسا تعلق ہے۔ ویسے میں ان کا رضاعی بھائ بھی ہوں۔ ان کا میسج آیا تھا کہ بھائ آپ نے میری میم کی آڈیوز سن لی ہیں کہ نہیں؟ “وہ کسی آن لائن پلیٹ فارم پر ایک میم سے پڑھتی تھیں بلکہ ابھی تک پڑھتی ہیں جن کا نام میڈم تانیہ ہیں اور خود کو اللہ کی نائب کہتی ہیں”۔۔ضرارہ مجھے ہر وقت کہتی تھیں کہ رومان بھائ آپ کبھی میری میم کے لیکچرز سنیں آپ کبھی قرآن سے جڑ کے تو دیکھیں آپ کی لائف بڑے مزے کی ہو جائے گی۔ میں اس کی باتیں “ہاں سنوں گا کبھی” کہہ کر ٹال دیتا تھا۔اور وہ اکثر کچھ خاص موقعوں پر ضرور مجھے اپنے سیشنز کی ریکارڈنگز بھیجتی تھیں مگر سچ بتاؤں تو میں نے کبھی نہیں سنا ان کو۔ بلکہ میں تنگ ہوتا تھا ایسے کسی کو سننے سے۔ اور پھر اسلامی باتیں سننا تو میرے لیے کچھ خاص دلچسپ نہیں تھا۔نعوذباللہ۔
مگر اس دن میرا دل اتنا بیچین تھا کہ نا چاہتے ہوئے بھی میں نے آڈیوز پلے کردیں۔اس دن مجھے پہلی بار احساس ہوا کہ کچھ اتفاق  دراصل اتفاق نہیں ہوتے بلکہ اللہ نے اس لمحے آپ کو دوسرے راستے پر موڑنا ہوتا ہے۔ وہ ایک چھوٹا اتفاق، حادثہ، جملہ ، یا لفظ آپ کی زندگی کو یا تو موت سے نواز دیتا ہے یا پھر ایک نئ زندگی بخشتا ہے اور یہی میرے ساتھ ہوا۔ آج دہائیوں بعد سوچتا ہوں کہ تب مجھے چن لیا گیا تھا، آنکھوں سے آج آنسو گرتے نہیں تھمتے کہ میں اللہ کا شکر کیسے ادا کروں۔ کبھی خیال آتا ہے کہ شاید یہ میری دعا قبول ہوئ ہے جب میں کبھی کبھی جمعہ کی نماز پڑھتا تو اللہ جی سے کہتا تھا کہ اے اللہ میں گناہگار ہوں باغی نہیں ہوں میں اپنے گناہ کا اعتراف کرتا ہوں مجھے موت سے پہلے ہدایت دے دیں۔ مجھے آقا نامدار صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کا سامنا کرنے سے شرم آتی ہے۔ دوسروں کے ساتھ دھوکہ نہیں کرتا پس مجھے ہدایت دے۔
میں نے کبھی کسی عورت کا اسلامی لیکچر نہیں سنا تھا سوائے اس کے کہ میں استاذہ فرحت ہاشمی صاحبہ کو جانتا تھا کہ وہ اسلامی لیکچرز دیتی ہیں اور ان کا انداز بھی بڑا مشفق تھا۔ سو اس دن میں میم تانیہ کو پہلی دفعہ سن رہا تھا انھوں نے اس دن جو پوسٹر ڈیزائن کیا تھا کمال تھا اور میرے پاس آج تک پڑا ہے۔قارئین کے لیے کہانی کے آخر میں لگا دوں گا۔ میں ان کو سنتا گیا تو ان کا انداز بیاں بہت مختلف تھا وہ قرآن کی ہر آیت روزمرہ کی زندگی سے جوڑتی جا رہی تھی۔ مجھے ضرارہ نے بتایا تھا ان کے ہر سیشن کا اپنا ایک تھیم ہوتا تھا، سو ویلنٹائین ڈے کے سیشن کا تھیم انھوں نے کچھ ایسا رکھا تھا “سچی محبت، کیوں کہ یہ تو دل کا معاملہ ہے:  محبت کا خط: قرآن و حدیث کی نظر میں”۔ 
آڈیوز یعنی ریکارڈ شدہ کلاس میں استاذہ تانیہ نے پہلے ویلنٹائن کی مختصر تاریخ اور اس کا اسلامی تہذیب کے ساتھ موازنہ بتایا۔ سنتے ہوئے میرا سر شرم سے جھکا جا رہا تھا کہ ہم اسلام جیسی خوبصورت اور جدت پسند دین کے ہوتے ہوئے اور ہر وقت غیرت کی رٹ لگائے کس قدر بیغرتی اور ذلت والی تہذیب کو رنگین محبت کا کور چڑھا کر فقط قبول ہی نہیں بلکہ مزید ا شاعت بھی کیے جارہے ہیں۔
چونکہ آپی تانیہ ان کو اس سیشن سے پہلے سورۃ القیامہ کی تفسیر پڑھا چکی تھی سو وہ اس موضوع کو اس کے ساتھ ریلیٹ کرنے لگی کہ کیسے ہم “لیفجر امامہ” یعنی آگے آگے یا برملا گناہ میں ڈوبے جا رہے ہیں، اور پھر اس کو ایسے کھلم کھلا کرتے ہیں جیسے وہ گناہ ہی نہ ہو ۔ اگر کوئ ہمیں آخرت سے ڈراتا ہے تو بے دھڑک پوچھتے ہیں، اچھا قیامت کب آئے گی؟؟ جب کہ قیامت کا علم تو صرف اللہ کے پاس ہے۔ لیکن ہاں اس دن حالات یہ ہونگے کہ کچھ چہرے بڑے روشن ہونگے اور وہ اپنے رب کی طرف دیکھ رہے ہونگے۔ اور کچھ چہرے بد رونق ہونگے، وہ گمان کریں گے کہ اب ان کے ساتھ کمر توڑ معاملہ ہوگا ۔نعوذ باللہ۔مگر ہم بھول جاتے ہیں کہ انفرادی قیامت تو کسی بھی لمحے آسکتی ہے جس کا ذکر اسی سورۃ میں آگے تھا، یعنی انسان کے ذہن کو اللہ کتنا بہتر جانتے ہیں کہ ادھر سوال ابھرا ادھر جواب آیا۔۔سبحان اللہ اس آیت پر میں رک گیا۔ بیڈ پر بیٹھے مجھے بڑے ڈریسنگ میرر میں اپنا آپ نظر آرہا تھا۔ میرے کاٹن کے کپڑے، پرفیوم کی خوشبو اور میرے خوبصورت کٹے اور جیل سے سیٹ شدہ بال، یہ سب تو شام سے ایسے تھا یعنی میں زویا سے ملنے خود کو تو بڑا سیٹ کر کے گیا تھا۔ مگرر۔۔۔۔میری زبان رکنے لگی ۔ دل تیزی سے دھڑکا۔۔میں اپنی آنکھوں میں دیکھ کر خود سے پوچھنا چاہ رہا تھا کہ ، رومان! رومان! کیا تم اس دن روشن چہرے والے لوگوں میں شامل ہو گے یا پھر؟؟ آگے ایک بہت بڑا سوالیہ نشان تھا۔ اندھیرا ہی اندھیرا۔ میری آنکھوں میں سرخی اتر رہی تھی، غم، ندامت، اور پچھتاوے کی سرخی۔  جیسے جیسے تانیہ آپی تفسیر ریلیٹ کرتی جارہی تھی اور کہتی جاتی کہ یہاں اپنا نام لگاو میں وہاں نام لگاتا جاتا، خود سے سوال کرتا جاتا مگر وہ میں تو نہیں تھا۔ وہ تو اللہ کی آیات تھیں ۔وہ تو اللہ مجھ سے مخاطب تھا۔ میں نے یہ آیات دوبارہ پڑھیں، ” کہ اس روز کچھ چہرے روشن کچھ بدرونق ہونگے اور روشن چہرے والے اللہ کا دیدار کریں گے۔ ” میں بار بار دہراتا رہا، میں اپنے آپ کو میدان حشر میں دیکھ رہا تھا ، میرے لیے ایک لمحے کے لیے بھی سوچنا مشکل تھا کہ اگر وہاں میرا چہرا بدرونق ہو، پورے عالم کے سامنے، میرے پروردگار کے سامنے، پیارے آقا کے سامنے، وہ جو آج سے چودہ سو سال قبل میرے لیے، جی ہاں مجھ گناہ گار رومان کے لیے روتے تھے، تو کیا ہوگا؟؟ دنیا میں تو میں زرا کسی کے سامنے بغیر سٹائل کے نہیں گیا مگر وہاں؟؟؟؟ وہاں سب کے سامنے بے رونق؟ سب کے سامنے میرے گناہ۔۔؟؟ کک کیا حالت ہوگی؟؟ میرے الفاظ دم توڑتے جا رہے تھے۔  میں آڈیوز کو آگے آگے سنتا گیا، میرا دل ہی نہیں کر رہا تھا وہ تفسیر ختم ہو، جب استاذہ قیامت کا منظر بتا رہی تھی وہی جو سورۂ القیامہ میں اللہ نے مجھ سے اور تم سے بیان کیا ہے، کہ سورج بے نور ہو جائے گا، چاند کی روشنی سلب کر لی جائے گی، چاند و سورج کو ملا دیا جائے گا، میں اپنے تصور میں گویا یہ سب دیکھ رہا تھا۔ کہ اچانک سے بجلی گرجنا شروع ہوئ آسمان پر بجلی چمکنے لگی تھی، میرے کمرے کی کھڑکیاں بولنے لگیں تھیں۔ باہر یہ منظر اور تصور میں قیامت کا منظر ، سب کچھ بے نور، کالا اندھیرا، بے بسی، بد رونق چہرے، گرمی کی شدت، میں روتے ہوئے ہچکیاں لینے لگا تھا ۔”اے اللہ آج موت نہ دینا ، بس آج موت نہ دینا، میں سنبھل جاؤں گا، پلیز مجھے ہدایت دے دیں بس آخری موقعہ دیں میرے اللہ پلیز”۔ میں زندگی میں کبھی اتنا خوفزدہ نہیں ہوا جتنا اس رات ہوا تھا، مجھے لگا کہ اگر میں اس دن مر گیا تو کیا ہوگا۔ اس دن پہلی بار قیامت کا یقین ہوا تھا، تب میرے ذہن میں کتنے سالوں بعد اسلامیات کے استاد کے یہ جملے گونج رہے تھے کہ عقیدۂ آخرت انسان کو انسان بنا سکتی ہے اگر یقین کامل ہو۔ جی ہاں اس دن سمجھ آیا تھا کیوں سارے اعمال توحید و رسالت کے بعد عقیدۂ آخرت سے بدل سکتے ہیں۔ یوں لگ رہا تھا کسی نے میری آنکھوں سے پردہ ہٹایا ہو اور میں جتنا آگے جا رہا تھا یعنی میں استاذہ کی آڈیوز سنتا جا رہا تھا وہ اگے آگے ہر ایت کو ویلنٹائن ڈے کے ساتھ اور ہماری زندگی کے ساتھ کنیکٹ کرتی جا رہی تھیں میرے سامنے کچھ پرت در پرت کھل رہا تھا جی وہی تو راز_حق تھا جو عیاں ہو کر بھی مجھ سے نہاں تھا ۔میں وہ سب یہاں نہیں لکھ سکتا، کہ قرآن کی یہ مختصر سورۃ کتنی وسیع ہے یا میرے اس وقت کیا جذبات تھے وہ سب لکھنے سے میں قاصر ہوں ورنہ جانے کتنے دن لگ جائیں صرف اسے لکھنے میں۔میں آج بھی سوچتا ہوں کہ انسان کی ہدایت کے لیے تو سورۂ القیامۃ جیسی ایک سورت ہی کافی ہے چہ جائیکہ پورا قرآن۔یہ پورا قرآن تو واقعی بہت بھاری ہے مگر انسان سچ میں احمق ہے، جسے اٹھانے کی پہاڑوں نے زمہ داری نہیں اٹھائ، جس کا وزن پہاڑوں سے نہ اٹھایا جا سکا اس کو انسان نے اٹھانے کی زمہ داری لے لی۔ خیر اب آپی اس سورۃ کو اس دن کے تھیم کے مطابق سمجھانے لگی تھی، کہ جب اللہ جی ساری چیزیں بتا کر بڑے پیار سے شکوہ کرتے ہیں، “فلا صدق ولا صلی” ولکن کذب و تولی، ثم ذھب الی اھله یتمطی ” اولی لک فاولی ۔
پھر اس نے نہ تصدیق کی، نہ نماز پڑھی، بلکہ اس نے جھٹلایا اور منہ پھیر دیا، اور پھر اپنوں کے پاس اکڑ کر چل دیا. وائے (افسوس) ہے تجھ پر اور پھر افسوس۔۔
یا رب یہ کیا ہو رہا ہے؟  جی میں نے ہی تو آج نماز چھوڑی تھی، میں ہی تو آذان کو نظر انداز کر کے گیا تھا، میں ہی اللہ جی کو چھوڑ کر زویا سے ملنے گیا تھا، محبتوں کی تعبیر ڈھونڈنے لیکن۔
یا ربی کیا آپ واقعی مجھ سے ہی بول رہے ہیں؟ میرا کلیجہ منہ کو آرہا تھا، میری رونے کی آواز چیخنے میں بدل گئ تھی میں بیڈ سے اتر کر زمین پر بے اختیار ہو کے آ بیٹھا تھا۔ استاذہ تانیہ اس دل کے ساتھ، وفا کے مفہوم کے ساتھ، محبت کے اس عظیم انداز کے ساتھ، لاڈ اٹھانے والے رب کے اس سوہنے انداز _ شکوہ کے ساتھ بتا رہی تھیں کہ اللہ جی نے تو تمھیں پیدا کر کے تمھارا دل بنایا تھا، پھر تمھیں ہدایت اور گمراہی دونوں راستوں کے انجام سمجھائے تھے ، اور دیکھو رومان! آج تم نے جو کیا اور تمھارے دل میں جو سوال تھے اللہ اسی کو لے کر تم سے مخاطب ہے ۔ وہ اب بھی تمھارا انتظار کر کے اتنی محبت سے شکوہ کر رہے ہیں کہ رومان تم نے پھر بھی نماز چھوڑ دی ؟ کتنا افسوس ہے تم پر۔ کاش میں یہاں وہ ساری تفسیر لکھ سکتا، وہ تو کئ مہینوں کی تفسیر تھی لیکن میں تو مسلسل جانے کتنے گھنٹے سنتا رہا تھا ۔میری نیندیں اڑ گئ تھیں۔ استاذہ جب کہہ رہی تھیں کہ اپنا نام لکھ کے خود سے پوچھو! بلکہ سوچو اللہ تم سے ہی پوچھ رہا ہے کہ اے رومان! میں نے تیرا دل بنایا، تمھیں ایک حقیر پانی کے قطرے سے تخلیق کیا اتنی خوبصورت شکل کے ساتھ اور پھر تمھیں اپنا خط بھیجا، وہ خط جو ایک سو چودہ عنوانات پر مشتمل تھا، ایسا خط جو زندہ تھا جس میں تمھاری ہر حالت کے مطابق تیرے دل کے ہر احساس کے مطابق میں نے تجھے مخاطب کیا تھا، مگر تم نے اس خط کو کھولا تک نہیں۔ کیا کوئ ایسے کرتا ہے اپنے محبوب کے خط کے ساتھ؟؟ کیا میرا بنایا ہوا دل تم نے غیر کی محبت سے بھر دیا اور میری جگہ تم نے اسے دے دی؟ کیا میں نے نہیں تمھارے دل میں خوبصورت احساسات پیدا کیے تھے؟ کیا محبتوں کا تمھیں یہی مفہوم سمجھ آیا کہ دوسروں کی پیار سے دی ہوئ چیز ، وہ جو انھوں نے بڑے چاؤ بڑے مان سے بنائ ہو وہ تم کسی اور کو دے آو؟ تمھیں وہ دل میں نے سونپا تھا جی تمھارے رب نے۔ اور رب کونسا؟ تیرا خالق، تیرا مالک، تیرا مدبر۔ بھلا یہ تین صفات کسی بھی انسان میں ہو سکتی ہیں کیا؟؟ جی رومان میں یہ تو نہیں کہہ رہا تم دنیا چھوڑ دو کہ وہ تو میں نے تیری ہی خدمت کے لیے بنائ تھی مگر یہ کیا کہ تم اپنے اصل کو ہی بھول بیٹھے ہو۔ تم اپنی تہذیب بھول کر ویلنٹائن اور پتہ نہیں کہاں کہاں محبت ڈھونڈ رہے ہو۔ کیا تم بھول گئے ہو کہ کالی کملی والے خوض کوثر پر تیرا انتظار کریں گے، وہ مجھے سے ہر لاالاہ الاللہ کہنے والے کی سفارش کریں گے، وہ جو قیامت میں بھی امتی امتی پکار رہے ہونگے کیا تمھیں اس سے ذیادہ محبت چاہیے ہے؟؟
باہر ہوا کے جھکڑ مزید تیز ہونے لگے تھے، مجھے یوں لگ رہا تھا گھر کی چھت گر جائے گی، اور میرے اندر خوف و ندامت کے طوفان برپا تھے ۔ اندر باہر ایک ہولناک سماں تھا۔ باہر بارش برس رہی تھی اور اندر میں آنسو میں بھیگ رہا تھا۔ فجر کا وقت قریب تھا اور میں تھا کہ سورۃ القیامۃ کی تفسیر بند ہی نہیں کر پا رہا تھا۔ میں پھر کہتا ہوں کاش میں وہ سب لکھ سکتا جو میرے ساتھ ہوا۔ جیسے اس رات قرآن میرے دل پہ اترا تھا۔ جیسے اس رات مجھے سمجھ آئ تھی کہ قرآن پڑھا نہیں جاتا صرف، اس کا دل پر نزول ہوتا ہے جب تک نزول نہ ہو قرآن بس ایک آسمانی کتاب ہی لگتی ہے۔ اس رات مجھے پہلی دفعہ سر خرم کے بولے ہوئ علامہ اقبال کے اس شعر کی تشریح سمجھ آئ تھی،
تیرے ضمیر پر جب تک نہ ہو نزول کتاب
گرہ کشا ہے نہ رازی نہ صاحب کشاف۔۔۔
لیکن میرے نصیب میں اس سب کے لیے وہی رات ، وہی وقت مقرر تھا۔ اس سے پہلے میں پڑھتا بھی تو وہ مجھے نہ سمجھ آتے۔ میرا اب یہ ایمان ہے کہ اللہ آپ کو جو چیز جس وقت جس طرح سنوانا چاہتے ہیں آپ ویسے ہی سنتے ہیں تبھی تو یہ دعا مانگنی سکھائ گئ ہے کہ،
“الھم ارنا الحق حقا وارزقنا اتباعه و ارنا الباطل باطلا وارزقنا اجتنابه۔”
اے اللہ ہمیں حق کو حق دیکھا اور اس کی پیروی کی توفیق دے اور باطل کو باطل دیکھا اور اس سے اجتناب کی توفیق بخش۔
اسی لیے تو سائیکالوجی میں پرسیپشن  ایک بہت بڑا مضمون ہے، جس کا خلاصہ یہ ہے کہ انسان چیز کو جو دیکھ یا سمجھ رہا ہوتا ہے ضروری نہیں  وہ وہی ہو۔ اسی طرح اس رات اللہ نے میری کایا پلٹنی تھی سو میں اسے دوسرے اور گہرے انداز سے سمجھ رہا تھا۔
خیر میری آنکھیں سوجھ چکی تھی ، میں نے اٹھ کر اپنا مصحف اٹھایا جو شاید آخری بار میں نے رمضان میں یعنی اس دن سے تقریبا دس مہینے پہلے اٹھایا تھا اور پھر کبھی کھولنے کی زحمت نہ کی تھی۔ مصحف کو سینے سے لگایا، میرے ہیڈفونز ابھی بھی لگے ہوئے تھے، تانیہ استاذہ کہہ رہی تھیں قرآن اللہ کا خط ہے، اس میں اللہ نے میرے اور اپ کے لیے ایک سو چودہ پیغام بھیجے ہیں ” یہ سن کے میں نے زور سے بھینچا اپنے مصحف کو جیسے کوئ اپنے بہت عزیز پرانے دوست کو سینے سے بھینچتا ہے۔  جب آپی کہہ رہی تھی، ” کلا بل تحبون العاجلہ ” بلکہ اللہ جب یہ کہہ رہے تھے کہ رومان تمھیں تو عاجلہ یعنی جلدی ملنے والی (دنیا ) سے محبت ہے  تو میرے ہاتھ کانپ رہے تھے۔ میں صوفے پر بیٹھا جیسے اللہ کی محبت اور خوف سے لرز رہا تھا۔ اللہ جی جیسے میرا دل و ذہن  پڑھ رہے تھے اور مجھے جواب پر جواب تانیہ میم کی آواز میں دیے جا رہے تھے۔ اس دن مجھے احساس ہو چکا تھا کہ میرے دل میں اتنی بڑی خلا کیوں تھی، وہ خلا نہیں بلکہ روح کی تشنگی تھی جسے آسمانی پانی ہی بجھا سکتی تھی۔

جس محبت اور صفات کو میں انسانوں میں ڈھونڈ رہا تھا وہ تو انسانوں میں تھیں ہی نہیں۔ وہ خط جو میرے خالق میرے مدبر میرے مالک نے میرے نام لکھ کے محمد مصطفی، حبیب کبریا، امام الانبیاء صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کے ہاتھوں بھیجا تھا وہ تو میں نے اپنی چھبیس سالہ زندگی میں کھولا ہی نہ تھا۔ وہ خط جو صرف میرے لیے تھا، جس میں میرے محبوب ، میرے اللہ نے میری زندگی کے ایک ایک لمحے کی گائیڈینس یعنی راہنمائ کی تھی۔ وہ جس میں کبھی اس نے میرے اداسیوں اور مایوسیوں کے جواب میں لکھا تھا، ” لا تقنطوا من رحمۃ اللہ” اور کبھی میرے اکیلے پن میں بچانے کے لیے کہا تھا، ” لا تحزن ان اللہ معنا”۔ کبھی میرا موڈ اچھا کرنے کے لیے خوبصورت جنتوں کے وعدے تھے تو کہیں میرے اوور کانفیڈنس اور غرور کو توڑ کر میری کریکٹر اور پرسنالٹی بلڈنگ کے لیے نصیحت و عتاب کے طور پر جہنم اور قیامت کی ہولناکی کا بیان تھا۔ وہ جو مجھے بچوں کی طرح پاس بلانے کے لیے کہہ رہا تھا، ” ففروا الی اللہ” اور کبھی مجھے پھسلتا ہوا دیکھ کے بڑے مان سے پوچھا تھا، رومان! ” فاین تذھبون؟”. میری کمپلیکسٹی کا علم بھی اسے کتنا خوب تھا کہ مجھے اسنے لکھ کے بھیجا تھا، رومان! ” ما غرک بربک الکریم؟ الذی خلقک فسواک فعدلک۔ فی ایی صورۃ ماشآء رکبک” اور کبھی میرے غصے کو ٹھنڈا کرنے کے لیے کہا تھا، “فاصبر صبرا جمیلا” ۔۔
لیکن میں تو ویلنٹائن کے انتظار میں تھا۔ میں تو سرخ پھولوں چاکلیٹس، بھالو اور دل والے غباروں کے پیچھے پڑا تھا۔ میں نے تو محبت کی اس عظمت اس ولایت کو کبھی محسوس ہی نہ کیا تھا۔ میں تو سی ایف اے کر کے جانے خود کو کیا سمجھ بیٹھا تھا۔ خیر میری دنیا بدل چکی تھی میں نے اس دن دوبارہ کلمہ پڑھا تھا، جی ہاں اس دن دل سے پڑھا تھا پہلے تو بس قسمت میں ہی مسلمان پیدا ہونا لکھا تھا نا۔ ایمان تو میں 15 فروری کی شب  لایا تھا۔ فجر کی اذانیں ہو رہی تھیں اور استاذہ سورۃ القیامۃ کی آخری آیت پڑھ رہی تھی کہ جب اللہ جی انسان کی تخلیق اور اوقات بتا کر پوچھتے ہیں کہ ” الیس ذالک بقدر علی ان یحیی الموتی؟” کیا اللہ اس پر قادر نہیں ہے کہ وہ مردہ کو زندہ کرے؟؟ آپی کے کہنے سے پہلے ہی میں بے اختیار کہہ اٹھا تھا سبحانک فبلی۔۔(تو پاک ہے پس کیوں نہیں)۔۔ کیونکہ میں نے تو اپنی ذات کا مشاہدہ کیا تھا۔ میرے مردہ دل کو بھی تو آج اللہ نے پھر سے زندہ کیا تھا نا۔ میری روح کی مردہ محبت کو آج اسی نے جلا بخشی تھی۔ اٹھ کے میں نے نم آنکھوں سے فجر پڑھی تھی۔ میں مسجد میں کافی دیر تک اپنی بہنا ضرارہ کے لیے دعائیں شکریہ کے طور پہ کرتا رہا تھا کہ اللہ نے اسے میری ہدایت کا زریعہ بنایا تھا۔ میں استاذہ تانیہ کا شکریہ تو شاید کبھی بھی ادا نہ کرسکوں کہ اللہ نے ان کو زریعہ بنا کر مجھے روشنی، محبت، وفا، اور حق کے اصل معنی سے روشناس کرایا تھا۔ وہ خط جو میرے نام تھا ان کے زریعے مجھ تک پہنچ گیا تھا اور میں اصل معنوں میں گویا اس دن ہی پیدا ہوا تھا۔ میں نے جو پھول زویا کے لیے لیے تھے اس کے خوبصورت چند پتوں کو میں نے مصحف میں رکھ دیا تھا ، اور مصحف کے غلاف پر وہی پرفیوم چھڑکا تھا جو زویا کے لیے لیا تھا اور میرے مصحف سے زیادہ خوشبو کا حقدار کون ہو سکتا تھا۔
خیر یہاں میں اپنی کہانی روک دیتا ہوں اور یہاں سے آگے آپ اپنی محبت کی کہانی لکھیں گے۔ میں نے آپ کو پتہ بتا دیا ہےکہ جیسے میرے نام خط آیا تھا مگر میں نے اسے دنیا کی رنگینیوں میں مگن ہو کے کھو دیا تھا اور میں نے اسے کھولنے میں شاید دیر کر دی تھی۔ کہیں ایسا تو نہیں کہ آپ نے بھی ابھی تک اپنے نام کا خط وصول نہ کیا ہو، اسے نہ پڑھا ہو اور آپ اسے ڈھونڈتے ہوئے بھٹک رہے ہوں؟ کہیں آپ بھی “کل دیکھوں گا/دیکھوں گی” کے دھوکے میں پڑ کر دیر تو نہیں کر رہے؟ جی ذندگی تو فقط ایک دفعہ ملتی ہے ، یہی تو مہلت ہے پھر موت کے بعد تو کوئ مہلت نہیں ہے وہاں تو حساب ہے، ملن ہے، جزا ہے،ملاقات ہے پھر۔ کہیں آپ نے بھی اپنا اہم میسج بھلا نہ دیا ہو۔ کہیں آپ بھی میری طرح محبت کے معنی و تعبیر کے لامتناہی سرابوں کے پیچھے تو نہیں بھاگ رہے؟
کیا آپ کے اندر بھی میری طرح کی اکڑ، خلا یا پھر تشنگی ہے؟ اگر آپ کا جواب ہاں ہے تو پھر یہیں سے اپنی کہانی لکھیں، جائیے اپنے گھر کے کسی طاق میں ڈھونڈیے وہ خط شاید وہیں پڑا ہو۔ کھول کے پڑھئیے، مجھے یقین ہے آپ کے عزیز از جان خالق و مالک نے آپ کو بھی آپ کے نام ایک سو چودہ میسجز پر مشتمل ایک خط ضرور بھیجا ہے۔
ہوسکتا ہے میری کہانی پڑھنے کے بعد آپ کو تجسس ہو کہ میرا کیا بنا تو میں اس کا بھی جواب دے دیتا ہوں کہ جب میری زندگی بدلی تو لوگوں کے عام تصور اور خیال کے مطابق مجھے ابینڈنڈ نہیں کیا گیا، بلکہ میرے غیور رب نے مجھے مزید نعمتوں سے نوازا تھا۔ جی میں جرمنی چلا گیا تھا، ایک سال بعد میری شادی زویا ہی سے ہوئ تھی مگر یہ پرپوزل یہ رشتہ کسی ویلنٹائن کا محتاج نہ رہا تھا، آج میرے دو بچے ہالہ اور شریم قرآن کو آدھا حفظ کر چکے ہیں میں نے جرمنی میں فنانشل انالسٹ کے طور پر بہت نامور فرم میں جاب کی ہے اور آج کل میں پاکستان آیا ہوا ہوں۔ میں نے اپنی کہانی پاکستان آکر ہی لکھی ہے کہ میرے وطن سے میری ہر یاد جڑی ہے خصوصا وہ رات جب میں ایمان لایا تھا۔اور میں جرمنی میں تبلیغی مرکز میں جرمنی آنے والوں کا ایک طرح سے مہتمم بھی ہوں۔ مجھے اپنے بیوی بچوں سے بہت محبت ہے مگر یہ محبت میرے محبوب کی محبت سے کبھی بڑی نہیں ہو سکتی، مجھے اللہ نے وہ سب دیا جو ایک انسان کی چاہ ہوتی ہے مگر اپنے وقت پر اور میرے بھٹکنے اور سیدھی راہ پر آنے کے بعد، محبت کی تعبیر و مفہوم سمجھنے کے سفر کے بعد۔ کچھ آزمائشوں میں بار بار مجھ پر مہربان ہونے کے بعد۔ اور یہ میں صرف اس لیے بتا رہا ہوں کہ کہیں آپ مایوس نہ ہو جائیں اسلئے کہ  شیطان ایک یہ بھی چال چلتا ہے، وہ آپ کو ڈرا دیتا ہے کہ اگر دین پر آؤگے تو بہت کچھ چوٹ جائے گا، نہیں ایسا کچھ نہیں ہوتا، اس ہجرت میں اگرچہ چیزیں چوٹتی ضرور ہیں مگر وہ بھی فائدے کے لیے، اس ہجرت الی اللہ میں فقط نفع ہی نفع ہے۔۔
والسلام از  رومان سیٹھی۔۔

یہ وہ پوسٹر ہے جو استاذہ تانیہ نے اس دن ڈیزائن کیا تھا۔

بقلم خامہ: آنے رملیہ
1:31 am
16 june 2022

RAWEEN:A white Flower

Raween: A White flower
On a hot summer day…
Under the shade of green tree..
I sat on a bench and opened my book
I found a white beautiful flower…
A flower with a fragrance of Raween
but with a texture of Rose..
Though i always wanted to be
a rose to someone in distress
So my fragrance can cure him
and make him special for having me
But It seems
like i have become a gardner
since the day i Found that Flower
under the shade of green tree..
I love to watch it bloom day by day
from a tightly packed beautiful bud
to a splendorous white rose…
As it opens petal after petal
I discover a new print, a new feeling
I wish to see this flower fresh…
standing tall in the garden of my heart
For i will water it with water of my love
So it never withers away…
and will never pluck it …
but will sit beside and talk to it
and kiss the dew drops on it…
For its a Raween made to be smelled
and inhaled in breaths, fresh and lovely
or To be decorated in hairs, long and silky
or to be worn in a garlend around the neck
But it’s a delicate beautiful flower
That need to be handled with care
so it never withers away..
Its a RAIHAN, a heaven’s flower
A heaven’s flower…
A white flower…
Aanay Ramliya
30 May 2022

اے کشمیر تجھ سے شرمندہ ہوں

اے وادئ کشمیر
اے وادئ کشمیر۔۔۔
اے وادئ جنت نظیر۔۔۔
میں تجھ سے لاکھ اظہار یکجہتی کروں
میں تجھ سے لاکھ تیری آزادی کا عہد کروں
لیکن میں تجھ سے شرمندہ ہوں۔۔۔
میں اپنی قوم کی طرف سے
تجھ سے معذرت خواہ ہوں
اے کشمیر، اے وادئ جنت نظیر
میں تجھے آزاد نہیں کر سکتا
میں تیرے دریاؤں کے پانیوں سے
تیرے عظیم جوانوں کے خون کی لالی
تیری ماؤں کے آنسوؤں کی بے بسی
کو مٹا تو نہیں سکتا نا
تیرے پہاڑوں پر جمی برف سے
میں اپنے لوگوں کی بے وفائ
اور ظالموں کے ظلم و بربریت
کے داغ بھی نہیں مٹا سکتا
میں شرمندہ ہوں تجھ سے
اے کشمیر، وادئ جنت نظیر۔۔
میں تیری آہیں سنتا ہوں
تیری بیٹیوں کی عزتوں کی
پامالی بھی دیکھتا ہوں۔۔
تیرے جوانوں کی کٹتی لاشیں
بکھرتی، خوں سے رنگ دیکھتا ہوں
تیرے بچوں کو یتیم ہوتا ہوا
ماؤں کو روتا ہوا
باپوں کو بیٹوں کے جنازے پڑھتا
اور اٹھاتا ہوا دیکھتا ہوں
لیکن میں خاموش رہنا پسند کرتا ہوں
کیونکہ یہ سب میرے ساتھ نہیں ہو رہا
کیونکہ میرے جیب سے کچھ نہیں جاتا
کیونکہ مجھے خوف ہے کہ اگر تمھاری
مدد کی تو میرا دوست
میری مدد بند کر دیگا
میرے وٹ کے لیے میرا کوئ نعرہ
میرے پاس نہیں بچے گا۔۔۔
پھر میں یو این میں تقریر کر کے
یا پھر ہر سال یکجہتی کا اظہار کر کے
اپنے لوگوں سے واہ واہ کیسے وصول کرونگا
اے وادئ کشمیر مجھے تیرا احساس ہے
لیکن میں خود مجبور ہوں۔۔۔
میں تمھیں آزاد نہیں کر سکتا
میں اپنے دوست کو خفا نہیں کر سکتا
کہ پھر ان کا اصلحے کا کاروبار ٹپ پڑ جائے گا
پھر ہماری فوج بھلا کیوں
کسی جنگ کی تیاری کرے گی
اگر تم آزاد ہو جاؤ تو کئ ملکوں کی سیاست
کا دھندہ رک جائے گا ۔۔۔
اے میرے کشمیر، وادئ جنت نظیر۔۔
میں تجھ سے شرمندہ ہوں۔۔
اور اس احساس کی تلافی کے لیے
میں تجھ سے آج یکجہتی کا اظہار کرتا ہوں
ہاں میں کہتا ہوں میں تیرے ساتھ کھڑا ہوں
تیرے شانہ بشانہ کھڑا ہوں ۔۔
مگر احمق نہ بن جانا۔۔
اے کشمیر تو اپنی جنگ خود لڑ
میں تو یہ کام نہیں کر سکتا
تجھے آزاد نہیں کر سکتا۔۔۔
تجھے آزاد نہیں کر سکتا۔۔۔

آنے رملیہ۔
یوم یکجہتئ کشمیر 5فروری2022

تربیت کا طعنہ دینا چھوڑ دیں

یہ  ہمارا پرانا گھر تھا۔ جس کے پچھواڑے ایک کھلی سی جگہ تھی۔ وہاں دیوار کے پاس امرود کا پیڑ تھا۔ ہم اکثر دوپہر کو کھانے کے بعد وہاں ہلکی پلکی گپ شپ کے لیے بیٹھ جاتے تھے۔ میں نے خواب میں بلکل وہی جگہ دیکھی کہ میں اور میری بہن وہاں بیٹھی باتیں کر رہی تھیں۔ کہ میں نے دیکھا سامنے سے نبی پاک صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم آرہے ہیں اور ان کے ہاتھ میں ایک موٹی سی کتاب ہے۔ قریب آکر انھوں نے سلام کیا اور جواب کے بعد ہم نے ان سے کتاب کے بارے میں پوچھا تو بتایا یہ انجیل ہے جو حضرت عیسی علیہ السلام پر نازل ہوئ تھی۔ یہ کہہ کر آپ صلی اللہ علیہ و سلم ہمارے لاؤنج کے دروازے سے اندر داخل ہو کر مصلی بچھایا اور نماز پڑھنے لگے۔ میں اور میری بہن بھی ان کے پیچھے مقتدی کی طرح نماز پڑھنے کے لیے کھڑی ہو گئیں۔ اتنے میں مجھے کن اکھیوں سے نظر آیا کے اسی سمت سے حضرت عیسی ع آرہے ہیں اور ان کے پہنچنے پر ہم دونوں بہنیں نماز ہی میں کھسک کر پیچھے ہوئیں اور حضور پاک ص کے بائیں طرف ان کے پیچھے حضرت عیسی نماز کی نیت باندھ کے کھڑے ہوئے۔ پیارے نبی صلی کی اقتداء میں جب ہم تینوں سجدے میں جانے لگے تو میں نے دیکھا نیچھے بلکل سجدے کی جگہ دو تصویریں تھی ایک حضرت محمد ص کی اور ایک حضرت عیسی ع کی ۔ یہ میری ذندگی کے خوبصورت خوابوں میں سے ایک خواب تھا۔ میری بیٹی زرنب بنت متلہ تب 11 سال کی تھی۔ ایک دن وہ سکول سے واپس لوٹی تو ابا کے پاس ان کی لائبریری میں چلی گئ۔ اور کہنے لگی ابا میری انگلش کی میم نے My Fav Dream پر مضمون لکھنے کو بولا ہے ۔ کیا میں اپنی مما کا خواب لکھ سکتی ہوں؟ مگر بابا مجھے انگریزی اتنی اچھی نہیں آتی کیا آپ میری مدد کرینگے؟؟زرنب نے اپنے بابا سے پوچھا۔ اس کے ابا بولے، “ہاں بیٹا لیکن آپ پہلے خود ٹرائ کرو۔۔ میں آپ کی غلطیاں نکال لونگا۔آپ مجھے سنا دینا میں اصلاح کر لونگا۔” میں نے زرنب کے ابا یعنی اپنے شوہر کو ہمیشہ ایسے پایا ہے کہ وہ جب بھی بچے کو کچھ سکھانا چاہتے ہیں تو ان کو کر کے نہیں دیتے بلکہ ان کی حوصلہ افزائ کر کے انھیں خود وہ کام کرنے کو کہتے ہیں۔ اسی طرح جب کوئ اچھا عمل ان سے کرانا چاہتے ہیں تو ان کو کرنے کا حکم نہیں دیتے بلکہ رات کو سٹوری ٹائم میں اس کام کی فضیلت بتاتے ہیں اور بچوں کے دل میں وہ عمل کرنے کی جستجو پیدا ہو جاتی۔ انھوں نے اپنی بچیوں سے پردہ بھی اسی انداز سے شروع کروایا تھا۔ خیر زرنب میرے پاس دوبارہ یہ خواب سننے کے لیے آئ تاکہ وہ یہ خواب مضمون کے طور پر لکھ سکے مگر میں نے اپنے خواب کی بجائے اپنے سسر کا خواب سنایا جس کی انگریزی زرنب کے لیے قدرے آسان تھی۔ میرے سسر یعنی زرنب کے دادا (جو میرے چاچو بھی ہیں اور آج کل ان کا تعلق سلسلہ نقشبندیہ اویسیہ سے ہے) کہ جب زرنب کے ابا محمد متلہ پانچ، چھ سال کے تھے تب ان کو خواب میں پیارے نبی صلی اللہ علیہ و سلم کی زیارت نصیب ہوئ اور دیکھا  آپ صلی اللہ علیہ وسلم  صحابہ رض کے ایک مجمع سے کچھ بات کر رہے ہیں یا کوئ خطبہ دے رہے ہیں۔ کہتے ہیں کہ وہ آپ صلی اللہ علیہ و سلم کے قریب گیے اور ان سے درخواست کی کہ ان کے بیٹے محمد متلہ کے لیے دعا کریں۔ آپ صلی اللہ علیہ و سلم نے محمد متلہ کے شانوں پر ہاتھ رکھ کے فرمایا تھا کہ یہ اچھا آدمی بنے گا۔ ” زرنب نے مضمون لکھ لیا تھا اور اپنے ابا کی بجائے مجھ سے ہی اصلاح کروا لی تھی کیونکہ انھیں اس خواب کا علم نہ تھا اور اگر وہ دیکھ لیتے تو زرنب کو ضرور منع کرتے۔ اگلے دن سکول سے واپسی پر زرنب نے بتایا کہ اس کی میڈم نے اسکا مضمون پوری کلاس کو ڈکٹیٹ کر کے لکھوایا ہے ۔ زرنب بہت خوش تھی اور یہ اس کی پہلی باقاعدہ تحریر تھی۔ اس سے پہلے وہ صرف ڈائری لکھا کرتی تھی مگر کسی کو دیکھاتی نہیں تھی کچھ دنوں کے بعد ہی وہ صفحے پھاڑ کر منہ میں چبا کر گرا دیا کرتی تھی۔  خیر زرنب کی بات تو یہاں ختم ہوتی ہے مگر میں ان دو خوابوں کا ذکر کر کے کچھ اور کہنا چاہ رہی تھی۔ وہ یہ کہ میں نے زرنب کے ابا کو انتہائ بہترین انسان پایا ہے۔ وہ نہ صرف ایک بہترین شوہر ہیں بلکہ ایک بہترین بھائ، فرمانبردار بیٹا اور ایک مخلص دوست بھی ہیں۔ وہ نہایت صلح رحمی والے شخص ہیں یہاں تک کہ اپنی جان کے دشمنوں سے بھی بہت اچھا سلوک کرتے ہیں۔ مجھے یاد ہے ایک دفعہ وہ ایک ایسے ہی شخص کی تیمارداری کے لیے گئے آج کے دور میں ایسے شخص کی کوئ شکل بھی نہیں دیکھتا ۔۔واپس آئے تو میں نے ان سے بات نہیں کی کیونکہ مجھے اس شخص سے نفرت تھی۔ زرا سستانے کے بعد بولے، “دیکھو ام زرنب ! مانا کہ میں آپ سے محبت کرتا ہوں لیکن اگر اس معاملے میں آپ کی بات مان کر میں وہاں نہ جاتا تو یہ قطع رحمی ہو جاتی جس کا مطلب تھا کہ اللہ اور رسول سے زیادہ میں نے آپ کی بات کا مان رکھا ” ما شاءاللہ میں ان کی تعریف اس لیے نہیں کر رہی کہ وہ میرے شوہر ہیں بلکہ ان کی عادتیں ہی ایسی ہے جو کہ یہاں بیان کرنا ممکن نہیں۔ اور یہاں ان کی تعریف بھی مقصود نہیں ہے بلکہ شاید وہ زرنب کے دادا کے خواب کی تعبیر ہے۔ میں نے یہ اتنی لمبی تحریر صرف اس لیے لکھی کہ میں نے اکثر لوگوں کو دیکھا ہے جو بچوں کو یا بڑوں کی کسی بری عادت کو دیکھ کر کہتے ہیں کہ ان کے ماں باپ بھی ایسے ہی ہونگے۔ اس لیے ان کی تربیت اچھی نہیں ہوئ۔ خدارا زرا سوچیے۔ ایسا بلکل بھی نہیں ہے اگرچہ تربیت کا بہت بڑا کردار ہے مگر یہ ضروری نہیں ہے کہ ایسا ہو۔ کسی کو اچھے اخلاق دینا اللہ کی طرف سے نعمت ہے اور برے اخلاق بھی ایک امتحان ہوتا ہے۔ میرے پاس ایسی کئ مثالیں موجود ہیں لیکن میں نے یہاں اپنی سب سے نزدیک والی مثال ضروری سمجھی۔ میرے بچے بلکل بھی زرنب کے ابا پر نہیں گئے۔ اسی طرح محمد متلہ کے بہن بھائ میں بھی کوئ ان جیسا نہیں حالانکہ سب کی تربیت ایک ہی باپ نے کی ہے بلکہ ہم بہن بھائیوں کو بھی اسی چچا نے بڑا کیا ہے مگر ہم میں سے بھی کوئ محمد متلہ جیسا نہیں ہے جسے ہر چھوٹے بڑے کام میں جتنا ہو سکے سنت کا خیال ہو۔ چاہے وہ کوئ دینی کام ہو یا دنیاوی۔ تحریر لمبی ہو جائے گی اس لیے میں اسے ایک درخواست پر ختم کرنا چاہتی ہوں کہ خدارا! کسی بھی شخص کو اس کے والدین کے عمل اور تربیت کا طعنہ مت دیں۔ اول اس لیے کہ آپ کا خدشہ یا الزام غلط بھی ہو سکتا ہے، دوسرا اس لیے کہ کہیں اللہ آپ کو خود نافرمان اولاد سے نہ آزما لے کیونکہ اولاد بھی تو ایک فتنہ ایک آزمائش ہوتی ہے، اور تیسرا یہ کہ ہر وہ شخص جو ابھی زندہ ہے اس کے مستقبل کی آپ کو کوئ خبر نہیں کہ اس کی کایا کب پلٹے اور وہ گناہگار اور فاسق انسان سے ولی بن جائے کیونکہ ہمارے سامنے ایسی بے تحاشا مثالیں موجود ہیں اور ہو سکتا ہے کہ اس طعنے پر آپ سے نادانستہ غرور ہو جائے اور مستقبل میں آپ ہی اپنا ایمان و اخلاق گنوا بیٹھیں۔۔
والسلام ۔۔۔ آپکی آنے رملیہ
9:59 pm 17 Dec 2021

مجھے زندہ رہنا ہے۔

ہلکا جامنی سوٹ ، اس کے ساتھ سرمئ رنگ کا سلک سکارف پہنے، ٹانگیں میز کے ساتھ لگائے، وہ قرآن کی تفسیر کا سبق دہرا رہی تھی جو اسنے صبح گاؤں کی بچیوں کو پڑھانا تھا۔ پچھلے چند سالوں، یعنی 2015 سے آج تک  عصر کے وقت قرآن پڑھنا، پھر وہیں لان میں بیٹھے بیٹھے کسی ایک آیت پر تدبر کرتے ہوئے سورج کو ڈھلتا ہوا دیکھنا، اریشے کا معمول بن گیا تھا ۔ یہ دسمبر کا پہلا ہفتہ تھا،  لان میں لگی بیلوں کے پتے خشک اور زرد ہو گئے تھے۔ان کے پہاڑی علاقے میں سردی اتر چکی تھی۔ وہ یہاں شوہر کی وفات  اور عباد کی شہادت کے بعد پشاور چھوڑ کے آئ تھی ۔ قرآن پڑھتے پڑھتے وہ اس آیت پر پہنچی کہ شہید زندہ ہوتے ہیں اور انھیں اللہ کی طرف سے رزق دیا جاتا ہے۔ پڑھتے ہوئے اس کی آنکھیں نم ہونے لگیں ۔ یہ آیت اسکو یوں لگتی تھی جیسے کسی نے اسکے بخار زدہ جسم پر ٹھنڈی پٹی رکھ دی ہو۔  “بیشک! میرا لاڈلا، طیب عباد بھی اللہ کے ہاں زندہ ہی ہے. وہ بھی تو شہید ہوا تھا۔بلکہ شکر ہے وہ امر ہوگیا ہے میرے عباد کو تو موت سے ڈر لگتا تھا وہ ہمیشہ کے لیے زندہ  رہنا چاہتا تھا”  اریشے نے دور سفیدوں کے جھنڈ کے پیچھے غروب ہوتے سورج کو دیکھتے ہوئے زیر لب  خود سےکہا تھا۔  ہر سال دسمبر کے خاموش خنکی بھرے موسم  میں شہید بیٹے کی یاد اذیت میں بدلنے لگتی تھی اور یوں 16 دسمبر تک وہ ایک عجیب سی اینگزائٹی کا شکار ہوتی۔مگر یہی قرآن اس کے لیے مرہم کا کام کرتا کیونکہ قرآن میں اللہ نے دلوں کی شفاء رکھی ہے۔ آج اسنے وہی آیت پڑھی تھی بلکہ اللہ نے اسے پڑھائ تھی جس کی یاد دہانی ضروری تھی جس نے اسکا غم ہلکا کیا تھا۔ جس نے اسے عباد کی قبر پر گھنٹوں رونے سے منع کر دیا تھا۔اس آیت کے زریعے اسے صبر دے دیا گیا تھا۔ ورنہ وہ پہلے کی طرح عباد کی قبر پہ جا کر کمبل ڈالتی اور حواس باختہ یہ کہتی کہ “میرے عباد کو سردی لگ رہی ہوگی، اسے کیوں مٹی کے ڈھیروں تلے اکیلے سلایا گیا ہے میرا عباد تو میرے بغیر کہیں نہیں جاتا تھا پھر وہ  قبرستان کے اس ویرانے میں اکیلے کیسے آگیا ہے ۔” اس حادثے کو آج سات برس ہو چکے تھے مگر جیسے ہی دسمبر دہلیز پہ قدم رکھتا، تو وہی پرانا 2014 کا دسمبر اس کی آنکھوں کے سامنے ایک دفعہ ضرور آتا کیونکہ ملکی عدالت میں اس حادثے کا کیس ابھی تک چل رہا تھا۔اور اس سال کی یادیں اس کے تحت الشعور میں ہمیشہ کے لیے محفوظ تھیں۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
اریشے وزیرستان کے علاقے، سام سے تعلق رکھتی تھی۔اور اسکا نام اسکے بابا نے ایران سے واپسی پر اریشے رکھا تھا یہ فارسی نام تھا۔ گاؤں کی روایات کے مطابق اس کی شادی 18 برس کی عمر ہی میں ہوگئ تھی ۔ جس کزن سے اس کی شادی ہوئ وہ ایڈوکیٹ تھے اور اسے تعلیم سے خاصا لگاؤ تھا۔ اس لیے وہ اریشے کو بھی پشاور لے آیا تھا ویسے وزیرستان میں لڑکیوں کو پڑھانے کا رواج نہیں تھا مگر وہ اس معاملے میں خوشقسمت تھی۔ وہ پہلے بھی پشاور میں ہاسٹل رہ کے پڑھتی رہی تھی۔ اس کے شوہر منیر نے عباد کی پیدائش کے چند سال بعد اریشے کا بی ایس سی میں داخلہ کرایا اور پھر ایم ایس بھی اس نے شادی کے بعد ہی کی۔ اس کے شوہر، ایڈوکیٹ منیر خان اکثر اسے کہا کرتے تھے، “اریشے تم پڑھ لینا، جاب بیشک نہ کرنا مگر کبھی میں تم سے پہلے  دنیا سےچلا گیا تو کم از کم تم کچھ کمانے کے قابل ہو گی۔” اگرچہ تب کسی کے وہم و گمان میں بھی نہ تھا کہ ایسا واقعی ہوگا مگر جب 2013 میں منیر خان کی اچانک دل کا دورہ پڑنے سے موت ہوئ تو  اب اریشے کو یہ بات اکثر یاد آتی تھی۔ویسے اریشے نے منیر خان کی زندگی میں ہی سکول میں پڑھانا شروع کیا تھا کیونکہ اللہ نے اسے صرف ایک بیٹا دیا تھا اس کے علاوہ اریشے کی کوئ اولاد نہ تھی۔ سسر، ساس وزیرستان ہی میں کھیتوں کے کام میں مصروف رہتے  اس لیے اریشے نے وقت بتانے کے لیے ٹیچنگ شروع کی تھی۔ اس نے بیٹے کا نام بہت سوچ کے طیب عباد رکھا تھا، کہ اسے ناموں کے شخصیت پر اثر ہونے کا یقین تھا۔ ہر ماں کی طرح اس کا بھی خواب تھا کہ اس کا لاڈلا بیٹا ایک بہترین انسان بنے ۔ عباد کو ایک دو سکول بدلوانے کے بعد اب اسے آرمی پبلک سکول میں ڈال دیا تھا۔ جس کی وجہ عباد کے کچھ رجحانات تھے۔ اکلوتا ہونے کی وجہ سے اس کا زیادہ وقت ماں باپ کے ساتھ ہی گزرتا تھا اس لیے عباد بھی منیر خان کی طرح تعلیم میں دلچسپی رکھتا تھا۔ وہ کافی خاموش طبع واقع ہوا تھا، اور اس کے ساتھ ساتھ وہ بہت حساس بھی تھا۔ اکثر چھوٹی سی بات پر گھنٹوں سوچتا رہتا پھر اریشے سے اس بات کی وضاحت کے لیے بات کرتا یا ابا جان جب گھر آتے تو اس سے سوالات کرنے لگتا ۔  انھی دنوں، یعنی آٹھویں کلاس کے دنوں کی بات ہے کہ ایک دن اس نے جمعے کے خطبے میں مولوی صاحب سے موت کے برحق ہونے اور عذاب قبر کے بارے میں سنا تو وہ بہت خوفزدہ ہو گیا تھا۔ گھر آکر اریشے سے پوچھنے لگا، “مما! آج مولوی صاحب نے عذاب قبر کے بارے میں بتایا ہے۔ مجھے تو موت سے ڈر لگنے لگا ہے۔۔مما کیا  کوئ ایسا طریقہ نہیں ہے کہ بندہ ہمیشہ کے لیے زندہ رہ جائے۔ اوہ ہاں! مجھے وہ سٹوری یاد ہے جو آپ نے سکندر اعظم اور خضر علیہ السلام کے بارے میں سنائ تھی جب خضر علیہ السلام سکندر اعظم کو آب حیات سے واپس تشنہ لے کر آئے تھے ورنہ اسے پی کر وہ ہمیشہ زندہ رہتا۔ تو مما! کیا میں بڑا ہو کر آب حیات نہیں ڈھونڈ سکتا؟” عباد پریشانی میں اپنی مما سے پوچھے جا رہا تھا اور اریشے اس کی باتیں سن کر مسکرا رہی تھی۔ اسے دل  ہی دل میں خوشی ہو رہی تھی کہ عباد بڑا ہوتا جا رہا تھا اور اس کے سنائے ہوئے واقعات اسے کتنی اچھی طرح یاد تھے۔
عباد کے گالوں کو پیار سے چھومتے ہوئے اریشے بولی، ” بیٹا ہم سب کو مرنا ہے اور پھر مر کر زندہ ہونا ہے۔۔ہم آب_ حیات نہیں ڈھونڈ سکتے، قدرت کا قانون ہی یہی ہے کہ ہم ایک دفعہ موت کا ذائقہ چکھ لیں اور پھر دوبارہ زندہ کیے جائیں اور دنیا میں کئے ہوئے اعمال کا حساب دیں کہ یہ زندگی امانت اور امتحان ہے۔ ورنہ سارے لوگ آب_حیات ڈھونڈنے لگ جائیں۔اسی لیے تو ہمیں پیارے نبی صلی اللہ علیہ و سلم نے اچھے عمل کرنے کا حکم دیا ہے ۔”  لیکن مما پھر تو زندگی بڑی مشکل ہے کہ ہمیں کیا پتہ ہمیں معاف کیا جائے گا یا نہیں۔۔ اماں میں تو اب نہیں مرنا چاہتا، میں بڑا ہو کر ریسرچ کروں گا کہ موت کو کیسے ٹالا جا سکتا ہے۔ آپ دیکھنامیں نہیں مروں گا میں نے زندہ رہنا ہے ہمیشہ کے لیے۔ مجھے مٹی کے نیچھے دبنے سے خوف آتا ہے ۔اور وہ جو انکل طاہر کی ڈیتھ ہوئ تھی نا؟ وہ بھی واپس نہیں آئے، بابا بھی تو واپس نہیں آئے نا  مما کتنے اکیلے ہوتے ہونگے نا؟؟؟ وہ ابھی بھی خوفزدہ تھا اور اپنی بات پر قائم تھا۔ اچھا بیٹا! ابھی آپ اپنا ہوم ورک مکمل کرو پھر ہم مل کر آب حیات ڈھونڈیں گے ڈھیر ساری ریسرچ کریں گے تاکہ تم ہمیشہ زندہ رہ جاؤ۔اس نے بیٹے کے کاندھے پہ تپکی دے کر اسے کام میں لگا دیا اور خود کچھن چلی گئ۔
بیٹے کا خوف اور پریشانی دیکھ کر اریشے کچن میں بھی اس کی بات پر سوچتی رہی  تھی کیونکہ وہ اپنے بیٹے کو ایسی الجھن  میں نہیں چھوڑ سکتی تھی۔ وہ جانتی تھی بچے کا ذہن سلیٹ کی مانند ہوتا ہے اسے جو سکھایا جائے گا وہ سیکھ جائے گا اور جب تک اسے تسلی بخش جواب نہیں ملے گا وہ یوں ہی الجھا رہے گا اس لیے وہ عباد سے بڑے خیال سے گفتگو کیا کرتی تھی اور اسکی حساس طبیعت کی  وجہ سے وہ اسے باقی ماؤں کی طرح جھوٹی کتابی کہانیاں سنانے سے  بھی گریز کرتی تھی۔ اس کے علاوہ ایک سال پہلے منیر خان کی موت نے بھی عباد پر نہایت اثر کیا تھا تبھی اسے قبر کی بات سن کر بابا یاد آئے تھے۔ سو  وہ عباد کے سامنے کمزور نہیں بن سکتی تھی، وہ اب اس کا باپ بھی تھی اور ماں بھی۔ یہی مظبوطی تو اسنے اپنے شوہر سے ورثے میں پائ تھی۔ اور تفسیر نے اسے مزید بہادر اور نڈر بنا دیا تھا۔عباد کی اس پریشانی کو سوچتے ہوئے اچانک اس کے ذہن میں قرآن کی آیت جو اسنے بڑے تفصیل سے تفسیر کلاس میں پڑھی تھی آگئ کہ “شہیدوں کو مردہ مت کہو کہ وہ مردہ نہیں زندہ ہے” اور اسے لگا اب وہ عباد کے سوال کا جواب دے سکتی تھی۔ اور یوں وقت ملنے پر اسنے عباد کو شہادت کا کانسیپٹ سمجھایا تھا کہ کس طرح شہید ہمیشہ زندہ رہتے ہیں وہ مرتے نہیں ہیں بلکہ اس دنیا سے دوسری دنیا منتقل ہو جاتے ہیں اور انھیں اللہ کے پاس سے رزق بھی دیا جاتا ہے۔اریشے جانتی تھی عباد کو واقعات جلدی  یاد ہوتے ہیں تو انھوں نے اسے حضرت حنساء کی چار بیٹوں سمیت جنگ میں شرکت و شہادت اور حضرت رافع اور حضرت ابن جندب رض عنہما کا جہاد سے محبت و شوق کا واقعہ بھی سنایا تھا،کہ وہ چھوٹی عمر میں ہی حضور ص سے جہاد کی اجازت مانگنے آئے تھے۔  بس اس دن سے عباد نے اپنے من میں یہ بات بٹھا لی تھی کہ اسے شہید ہونا ہے اور اسنے ہمیشہ کے لیے امر ہو جانا ہے۔ تب کے بعد اس  کے دل میں آرمی جانے کا بھی شوق پیدا ہوا تھا کیونکہ اس کے معصوم ذہن میں شہید ہونے کے لیے یہی ایک راستہ ہی تھا۔ وہ اکثر مما سے اپنی چھوٹی چھوٹی باتیں شیئر کرتا تو کہتا، میں اپنے ملک کا جھنڈا سر نگوں ہونے نہیں دونگا،  کتنا اچھا لگے گا نا جب آپکو شہید کی مما پکارا جائے گا؟۔اسنے اپنی ڈائری کے سر ورق پر بھی لکھا تھا کہ I will live forever mom۔۔اور عباد کے منہ سے یہ سنتے ہی اریشے اپنے آنسو دل کے اندر ہی اتار دیتی تھی۔ وہ جانتی تھی کہ عباد کے اندر یہ شوق اسی نے پروان چڑھایا تھا مگر اکلوتے بیٹے کو خود سے دور کرنا اسے مرتا دیکھنے کا دکھ بھی ایک ماں سے بڑھ کر کوئ نہیں جانتا کیونکہ اولاد کو بڑا کرنا، انھیں پالنا صرف ایک ماں جانتی ہے اور اب تو عباد ہی اس کا کل اثاثہ تھا پس وہ فی الحال ایسا نہیں سوچ سکتی تھی۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
سبز رنگ کی وجہ سے عباد کواپنا سردیوں کا یونیفارم بیحد عزیز تھا کیونکہ وہ پاکستانی جھنڈے سے مشابہ تھا اور پرچم کی حرمت ماں نے بہت اچھی سمجھائ تھی چنانچہ  اسے سردیاں شروع ہونے کا انتظار ہوتا تھا کہ کب سردیاں آئیں اور وہ سبز سویٹر اور کوٹ پہنے۔ 15 دسمبر کو یعنی، 16 دسمبر کی رات کو وہ اپنا یونیفارم پہنے کمرے میں ہی پریڈ کی ریہرسل کر رہا تھا، پھر فائرنگ کرنے کی نقالی کرتا ، بیڈ سے الماری تک بھاگ کے جاتا، فرسٹ ایڈ کٹ نکالتا، اور تکیوں کو زخمی ساتھی سمجھ کر ان کی مرہم پٹی کرتا۔ کمرے کو اس نے میدان جنگ بنا رکھا تھا کہ اریشے اندر داخل ہوئ تو عباد نے مڑ کر ، ماتھے پہ ہاتھ رکھ کر اپنی ماں کو باوردی فوجی کی طرح سلیوٹ مارا۔ اور اریشے جو اسے ڈانٹنے آئ تھی اسکی اس حرکت پہ ہنس پڑی ۔ “یہ کیا اودھم مچایا ہے عباد! کبھی فائرنگ کی آوازیں نکالتے ہو کبھی نعرۂ تکبیر، اور یہ کمرے کا کیا حشر کیا ہے؟؟” اریشے نے خفگی کا اظہار کرتے ہوئے پوچھا۔ “اوہ مما! میں صرف پریکٹس کر رہا تھا، کل بریگیڈیر سعید خان، میجر  ڈاکٹر سہیل، کیپٹن اسفند، اور باقی کچھ آرمی والے ہمارے سکول آئیں گے اور ہمیں فرسٹ ایڈ سکھائیں گے۔تو ان کے سامنے ہم نے ٹیبلیو کرنا ہے۔ آپ کو بتایا تھا نا میں ٹیبلیو میں میجر بنوں گا، زخمی ساتھیوں کی مدد کرونگا ، نعرۂ تکبیر کہہ کر فائرنگ  بھی کریں گے ہم دشمن پر اور مما میں ٹیبلیو میں شہید ہو جاؤنگا، پھر میری لاش سبز پرچم میں لپٹی جائے گی اور مجھے پروٹوکول کے ساتھ دفنایا جائے گا،  مما میں نے جھوٹ موٹ مرنے کی بھی پریکٹس کی ہے۔ اور وہ ہماری کلاس کی خولہ عاقب ہے نا؟ وہ میری مما بنیں گی ٹیبلیو میں اور، وہ جو شہیر ہے وہ چیف آف آرمی سٹاف بنیں گے اور پھر جب میں شہید ہو جاؤنگا نا مما تو میرا یونیفارم وغیرہ خولہ کو دیا جائے گا۔ ویسے مما! جو لوگ سچ میں شہید ہو جائیں وہ تو مرتے نہیں ہیں نا آپ نے بتایا تھا؟” عباد اتنا ایکسائٹڈ تھا کہ ایک ہی سانس میں سارا ٹیبلیو مما کے سامنے دہرا دیا حالانکہ وہ پہلے کئ بار بتا چکا تھا اور ساتھ وہی ہمیشہ والا سوال بھی دہرایا۔ وہ اب نویں کلاس میں ہو چکا تھا۔ دوستوں کی وجہ سے کافی سوشل بھی ہو گیا تھا ہر فنکشن میں حصہ لیتا تھا اور پھر آرمی کا ٹیبلیو کرنا تو اسکا جنون تھا کیونکہ اس کے تحت الشعور میں یہ بات نقش تھی کہ اسے شہید ہو کر ہمیشہ کے لیے امر ہونا ہے۔ اور یہ ٹیبلیو کا منظر تصور کر کے اریشے کی ممتا تڑپ اٹھی تھی آخر کو وہ ماں تھی اکلوتے اور فرمانبردار بیٹے کی ماں۔ اس نے عباد کو گلے سے لگایا اور رندھی ہوئ آواز میں کہا ، ” ہاں میرا بیٹا میجر عباد ضرور بنے گا، لیکن اتنا جلدی نہیں شہید ہونا میرے بیٹے نے۔” ” اونہوں مما! آپ تو ایموشنل ہو گئ ہیں ، ابھی کہاں، ابھی تو میں نے کیپٹن بننا ہے ، پھر ترقی کرتے کرتے میجر بنوں گا، آپ کو پاسنگ آوٹ والے دن سلیوٹ کرونگا ابھی تو بہت کچھ کرنا ہے مما۔” عباد شرارتا بولا تھا۔ اچھا چلو اب وقت پر سو جانا صبح جلدی جانا ہے تمھیں۔ یہ کہہ کر اریشے اپنے کمرے میں آگئ تھی اور اپنے وظائف و اوراد پڑھتے پڑھتے جانے کب اس کی آنکھ لگ گئ تھی۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
16 دسمبر 2014 کی صبح جب ٹیبلیو میں کچھ وقت باقی تھا، سٹیج بلکل تیار تھا، تمام بچے اور اساتذہ مہمانوں کا انتظار کرتے ہوئے بڑے پرجوش تھے۔ عباد بھی انھی میں سے ایک تھا ۔ کہ اچانک ہال میں آرمی کے یونیفارم میں ایک گروہ داخل ہوا، بچے اور سٹاف نے سمجھا کہ مہمان آگئے ہیں سو انھوں نے تالیاں بجانا شروع کیں مگر یہ کیا ان کے آتے ہی فائرنگ شروع ہوئ لاشوں پر لاشیں گرتی گئیں ،کوئی منہ کے بل گرا، کوئی کرسی سے ٹکرا کے چھکرا گیا، کوئ گولی لگتے ہی سینے پر ہاتھ رکھے دم توڑ گیا، کچھ بچے خوف سے گرے، چیخیں شروع ہوئیں۔ سکول میں جیسے جیسے شور تیز ہوتا گیا بدحواسی پھیلتی گئ، پرنسپل یا شاید کسی ٹیچر نے پولیس ہیلپ لائن پر معلومات دی، کچھ بچوں نے گھر اطلاع کی مگر ٹوٹے پھوٹے لفظوں میں۔ درندے نما دہشتگرد کلاسوں میں گھسنے لگے جو نظر آیا گولی ماری، کچھ بچے  جو خوف سے گر کر اپنی سانسیں بند کیے ہوئے تھے انھیں مردہ سمجھ کر دہشت گرد آگے دوسری کلاس کی طرف چلے جاتے۔ بچوں کے عینک، جوتے، کاپیاں اور کتابیں زمین پر بکھری ہوئ خون میں لت پت ہو رہی تھی، کچھ بچوں نے بھاگنے کی کوشش کی تو انھیں بھی گولی مار دی گئ۔ سٹاف روم کے اساتذہ کا لنچ یوں ہی رہ گیا تھا کوئ شہید ہو چکی تھی تو کوئ زخمی تڑپ رہی تھی۔ پرنسپل کو مزاحمت کرنے پر آگ لگا دی گئ تھی۔ کچھ نے صرف اتنا کیا تھا کہ اپنے چھوٹے بہن بھائ کو دیوار کی دوسری طرف پھینک دیا تھا ان کے چھوٹے ذہن میں یہی تجویز آئ ہوگی۔  پولیس اور آرمی کے پہنچنے سے پہلے وہاں قیامت بپا ہو چکی تھی، سفید شرٹس، سبز جرسیاں پہنے نو عمر بچے سب خون میں ایسے رنگے تھے گویا سفید گلاب کے پھولوں کو سرخ رنگ میں ڈبو کے بکھیر دیا گیا ہو۔ دل دہلانے والا منظر تھا۔ آرمی نے پہنچتے ہی آپریشن شروع کیا تھا مگر تب شہر میں خبر پھیل چکی تھی، ایمبولینس بار بار چھوٹے چھوٹے زخمیوں کو ہسپتال منتقل کر رہے تھے جن میں سے اکثر نے راستے میں دم توڑ دیا تھا۔ ڈاکٹر بھی رو رہے تھے۔شہر کی سڑکوں پر ٹریفک جام ہوگیا تھا راستے بند ہو گئے تھے، پورے شہر میں ایک آہ و فغاں تھی۔ سو سے بھی زائد بچے شہید ہو چکے تھے، ان کے ماں باپ تڑپ رہے تھے، رو رہے تھے، چیخ رہے تھے اپنے بچوں کو شناخت کرنے کی کوشش کر رہے تھے،قیامت کا سا عالم تھا۔ شام تک آپریشن ختم ہو چکا تھا ۔اور اب جنازوں پر جنازے پڑھے جا رہے تھے، چمن اجڑ چکا تھا، پھول وقت سے پہلے کاٹ لیے گئے تھے۔ ہر آنکھ اشک بار تھی۔ ہر دل میں درد کی ٹھیسیں اٹھ رہی تھیں۔ ایسا لگ رہا تھا پورے پشاور سے ایک آہ اوپر کو اٹھ رہی ہے۔ ان گلابوں میں ایک گلاب عباد بھی تھا۔ عباد نے صبح مما سے ملتے ہوئے مذاق میں کہا تھا کہ وہ آج میجر بنے گا اس لیے اس کے لیے کوئ فیورٹ ڈش بنائے۔ اریشے نے اس کی پسند کے کابلی چاؤل بنائے تھے۔ جب 3 بجے تک وہ نہ آیا تو اریشے کو تشویش ہوئ اس نے عباد کے کزن کو کال کی، جو پشاور میڈیکل کامپلیکس میں ڈاکٹر تھے۔ ان کو پتہ تھا عباد شہید ہو چکا ہے وہ خبر ملتے ہی ہسپتال سے سیدھا عباد کے سکول گئے تھے تاکہ لاش مل سکے۔ مگر وہاں اتنا ہجوم تھا کہ اسے ابھی تک لاش نہیں ملی تھی۔ اسنے اریشے کی کال اٹینڈ کرتے ہوئے بس اتنا کہا تھا کہ وہ انکو پک کر چکے ہیں لیکن آج وہ دیر سے آئیں گے انھیں ہاسپٹل میں تھوڑا کام ہے۔ یہ سن کر اریشے تو زرا مطمئن ہو گئ تھی مگر عباد کے کزن آنسو پونچھتے ہوئے ابھی تک عباد کو ڈھونڈ رہے تھے۔ شام 6 بجے کے قریب جب ہال والی لاشوں میں وہ عباد کو ڈھونڈ رہے تھے تو وہ ایک ایک بچے کا کارڈ چیک کر رہے تھے کیونکہ شکلوں سے شناخت ممکن نہ تھی۔جب  اسے عباد کی نعش ملی تو پہلے وہ پہچان ہی نہ سکے  مگر خون کے چھینٹوں سے رنگے کارڈ پر عباد کا نام نظر آرہا تھا اور جب اسنے کارڈ کو پلٹا کے دیکھا تو اسے یقین ہو گیا کہ یہ طیب عباد ہی ہے کیونکہ اس پر عباد نے پین سے میجر عباد اور اپنا فیورٹ جملہ لکھا تھا جو وہ ہر جگہ لکھا کرتا تھا، کہ “I will live for ever”.
اسے ایک گولی دل اور دوسری چہرے پہ لگی تھی۔ اس کے کزن (ڈاکٹر برہان) میں اریشے کو بتانے کی ہمت نہیں تھی کیونکہ خود اس کے لیے عباد اس کے چھوٹے بھائ کی طرح تھا۔ وہ میڈیکل کامپلیکس میں جاب شروع کرنے کے بعد سے اریشے ہی کے پاس رہتے تھے جبکہ اس کا اپنا خاندان ڈی آئ خان میں رہتا تھا۔ اس کے ہاتھ کانپ رہے تھے، سمجھ نہیں آرہی تھی چچی کو اس کے لاڈلے کی موت کی خبر کیسے دے۔ ادھر اریشے کو حادثے کی خبر ٹی وی پر ہیڈ لائنز سن کر   مل چکی تھی وہ مرغ بسمل کی طرح تڑپ رہی تھی ، اسے معلوم نہیں تھا اسکا لاڈلا زندہ ہے یا مر چکا ہے وہ بار بار فون کر رہی تھی برہان کو اور جب برہان نے مشکل سے فون ریسیو کیا تو وہ صرف اتنا ہی کہہ پائے، ” اریشے آپی! حوصلہ رکھیے اللہ نے آپ سے اپنی امانت واپس لے لی ہے۔ عباد شہید ہو چکے ہیں۔”  یہ سن کر اریشے نے آہستہ سے دیوار کو تھاما اور وہیں سر تھام کے بیٹھ گئیں اسکے کانوں نے جب یہ خبر سنی تو دل پر کیا بیتی یہ اس ماں سے بہتر کوئ نہیں جانتا۔ برہان نے اپنے بھائ کو کال کر کے باقی خاندان والوں کو بھی اطلاع کر دی تھی انھوں نے اسی وقت تایا کے مشورے کے مطابق وزیرستان کے لیے نکلنا تھا، ایمبولینس اڈے کے پاس روک کر برہان نے اریشے کو  گھر سے پک کیا تھا، جو بلکل ساکن تھی، صدمہ اتنا گہرا تھا کہ، اسکے الفاظ غائب ہو چکے تھےاور آنکھوں سے آنسو ایک تواتر میں بہہ رہے تھے۔ انا للہ کا ورد کرتے ہوئے بار بار کہہ رہی تھی، ” عباد امر ہو گیا ہے ۔ عباد نے تو مرنا نہیں تھا۔” ایمبولینس میں چڑھتے ہی اس  نے عباد کے چہرے سے چادر ہٹائ تو ایک بے ساختہ سی چیخ اریشے کے منہ سے نکلی اور پھر بلکل خاموش، ایسے جیسے وہ ہواس کھو بیٹھی ہو، سیٹ پر منجمد بیٹھ گئ۔برہان بار بار اسے تسلیاں دے رہے تھے مگر اسے تو سنائ ہی نہیں دے رہا تھا کچھ۔ “عباد! میرے بیٹے آپنے اپنا شوق اتنا جلدی پورا کر لیا؟ تم نے زندہ رہنا تھا نا تم زندہ ہو۔” وہ سارا راستہ دعا کے ساتھ یہ الفاظ حواس باختہ دہراتی رہی۔ وہ راستہ، وہ سفر اسنے کیسے کاٹا ہوگا یہ وہی جا نتی ہے۔  ادھر شہر پشاور کئ دنوں تک غم میں ڈوبا تھا، لوگوں نے اخبار پڑھنا چھوڑ دیا تھا، اریشے 2015 سے ہی پشاور ہمیشہ کے لیے چھوڑ گئ تھی، اسے قرآن نے صبر سکھایا تھا مگر جب عباد کو دفنایا گیا تو وہ کئ دن تک کمبل ساتھ لیجا کر کہا کرتی تھی میرے بیٹے کو درندوں نے اس سردی میں کیسے شہید کیا؟ کوئ کمبل اوڑھا دے میرے بیٹے کو ۔ اسے مرنا نہیں تھا وہ ادھر اکیلے کیسے آگیا ہے۔ یہ اس لیے نہیں کہ وہ قرآن پر عمل نہیں کرتی تھی مگر یہ حادثہ اتنا اچانک اور اتنا شدید تھا کہ وہ سوچوں میں گم ایسی باتیں کرنا شروع ہو جاتی تھی۔۔ پشاور جو پھولوں کا شہر مشہور تھا اب اریشے جیسی سب ماؤں کو پھولوں کا مقتل نظر آتا تھا، عباد جیسے کئ بچے ہمیشہ کے لیے امر ہو گئے تھے ۔ ملک کا پرچم تین دن تک سر نگوں تھا اور ان بچوں اور اساتذہ کے لہو کا قطرہ قطرہ اس ملک پر نچھاور ہو گیا تھا۔
آج کئ سال گزرنے کے باوجود جب دسمبر آتا ہے تو اریشے کو عباد کی یادیں ستاتی ہیں آخر کو وہ ایک ماں ہے مگر پھر وہ اپنا سکون قرآن اور نماز سے حاصل کرتی ہے وہ جب بھی گاؤں کے بچیوں کو قرآن کی تفسیر پڑھاتی ہے یا جب روٹین کی دہرائ میں قرآن کی اس آیت پر پہنچتی ہے کہ شہید زندہ ہوتے ہیں تو وہ زیر لب عباد کو ضرور یاد کر کے کہتی ہے کہ بیشک اللہ کا وعدہ سچا ہے عباد شہید ہے وہ زندہ ہے اور یہ آیت اریشے کو  جینے کی قوت عطا کرتی ہے۔ اس کے ذہن میں آج بھی جب عباد کی آب حیات کی ریسرچ والی بات آتی ہے تو وہ مسکرا کر تصور ہی تصور میں عباد کو گلے لگا کر کہتی ہے، “عباد آپ نے شہادت کا جام پی کر آب حیات پی لیا ہے ۔تمہاری خواہش پوری ہوگئ ہے تم ہمیشہ کے لیے امر ہو چکے ہو۔انشاء اللہ جلد ملاقات ہوگی۔ پچھلے ہفتے یعنی 2 دسمبر 2021 کو جب وہ سرمئ سلک سکارف پہنے سبق دہرا رہی تھی تو اتفاقا وہ وہی سورۃ اور وہی آیت پڑھ رہی تھی جو اسے ان دنوں پڑھنی چاہیے تھی اور غروب ہوتے سورج کو دیکھتے ہوئے اسنے وہی الفاظ دہرائے تھے۔مگر اب وہ پرسکون تھی، اسے اللہ نے صبر دے دیا تھا اور اسے اللہ کے ہر وعدے پر یقین تھا۔ چلے جانے والوں سے ملنے کا یقین۔ عباد کو حضرت حسین رض کی ٹولی کے ساتھ اٹھائے جانے کا یقین۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔
آنے رملیہ
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
12:27 am
4 Dec 2021

کیا ہم آزاد ہیں؟؟؟

نیچھے تقسیم ہند کے دنوں کی تصویر ہے اور اوپر پاکستانی قوم 14 اگست مناتے ہوئے۔۔

آج چودہ اگست 2021 کو پاکستان کی 74 ویں سالگرہ کرونا وباء کے باوجود بہت جوش و خروش سے منائ گئ۔  یہ دن ہر سال بہت خوشی اور ولولے کے ساتھ، گھروں پر سبز جھنڈے لہرا کر، سڑکوں،  گلی کوچوں کو جھنڈیوں سے سجا کر، کچھ محب وطن سبز و سفید لباس پہن کر، اور ٹی وی ، ریڈیو وغیرہ پر ملی نغمے نشر کر کے منایا جاتا ہے۔ جشن آزادی کے نام پر بڑی بڑی تقریبات ہوتی ہیں اور اس دن کا آغاز اکیس توپوں کی سلامی کے ساتھ کیا جاتا ہے۔ یہ دن اگرچہ ہمیں اس دن کی یاد دلاتا ہے جب ہزاروں بلکہ لاکھوں کی تعداد میں لٹے پٹے مہا جرین کے قافلے پاکستان ، ایک آزاد ریاست کی سرزمین پر پہنچے۔ وہ لوگ اپنے گھر، کھیت کھلیان، اپنی بستیاں اور کاروبار سب کچھ چھوڑ کر پاکستان آئے۔ کیونکہ وہ اپنی آنکھوں میں ایک ایسی سرزمین کا خواب لیے ہوئے تھے جہاں انھیں عزت و سکون کے ساتھ اپنے مذہب اسلام پر عمل پیرا ہونے کی اجازت ہوگی۔ جہاں انکی ماؤں ، بہنوں اور بیٹیوں کی عفت و عزت سلامت رہے گی۔ جہاں نسلی ، صوبائ، مذ ہبی تعصب اور رنگت کی بنیاد پر نفرتوں کی بجائے ایک دین، ایک ملت اور ایک وطن میں خوشی خوشی رہنے کی اجازت ہوگی۔ جہاں لوگ، بنگالی، پنجابی، پشتون ، سندھی، بلوچی، کی بجائے مسلمان اور پاکستانی کہلائینگے ۔ وہ لٹے پٹے مہاجر قافلے کہ آج جس کی تصویریں دیکھ کر بھی دل دہل جاتا ہے، اپنے سینوں میں شہیدوں کی قربانیوں کا ثمر پا لینے کی آرزو لے کر آئے تھے۔ معلوم نہیں اس وقت کیا کیفیت ہوگی جب لوگوں نے آل انڈیا ریڈیو  لاہور سے پاکستان بن جانے کا اعلان سنا ہوگا۔ ان کی اس سرزمین تک پینچنے اور اس کی پاک مٹی کو آنکھوں سے لگانے کے لیے بیتابی کا کیا سماں ہوگا۔؟  وہ لوگ تو ہجرت کر کے آگئے۔۔ اقبال کے خواب کی تعبیر مکمل ہوگئ۔ پاکستان ( پاک لوگوں کی زمین) تو بن گیا۔ آزادی مل گئ۔ اور تب سے آج تک اس آذادی کا دن منایا جانے لگا مگر آج میرے ذہن میں بلکہ شاید کئ ایسے لوگوں کے ذہن میں جنھوں نے پاکستان کی تاریخ پڑھی ہے، یہ سوال اٹھتا ہے کہ کیا ہم واقعی آزاد ہیں؟؟؟ کیا یہ ملک اور اس کے باشندے حقیقت میں آزادی کے معنی و مطلب پر پورا اترتے ہیں یا یہ آزادی صرف لفظی یعنی کہنے کی حد تک آزادی ہے؟؟
      آزادی کا لغوی مطلب ہے خودمختاری اور حریت۔ یعنی قول، فعل اور سوچ کی خود مختاری ۔اگر ہم اس معنی کے تناظر میں جائزہ لیں تو مجھے ایسا محسوس ہوتا ہے کہ ہم آزاد نہیں ہیں ۔ کیونکہ ہمارا لباس اور ہمارے رہن سہن کے طریقے اس دین کے مطابق نہیں ہیں جس کے نام پر یہ ملک بنا۔ ہم ذہنی طور پر اب بھی غلام ہیں اور ہم اب بھی وہی روش اپنائے ہوئے ہیں جو انگریز ہمارے لیے چھوڑ کے گئے تھے ۔ ہم اب بھی اسلام پر چلنے والوں کو قدامت پسند اور مغرب کی پیروی کرنے والوں کو روشن خیال اور ترقی یافتہ تصور کرتے ہیں ۔ ہم بھول چکے ہیں کہ ہمارا راستہ اور رہنمائ کے لیے مغربی قومیں نہیں بلکہ قرآن بھیجا گیا تھا۔ خیر یہ سب چھوڑیں آئیں اس بات کا ملاحظہ کریں کہ کیا ہم جسما نی لحاظ سے آزاد ہیں؟ کیا واقعی ہمارا ملک اس خواب کی تعبیر ہے جو لٹے پٹے، خوں میں لت پت مہاجریں اپنی آنکھوں میں بچا کر لائے تھے؟؟؟ مجھے افسوس سے اس کا جواب بھی نفی میں کرنا پڑ رہا ہے۔ اور اگر کسی کو مجھ سے اعتراض ہے تو وہ زرا اخبارات اور رپورٹس اٹھا کر دیکھیں کہ اس ملک میں عورت جیسی صنف نازک کی عزتیں کتنی محفوظ ہیں؟ کہ یہاں تعصب کتنا ہے؟ یہاں کرپشن، جھوٹ، دھوکہ اور رشوت کے بازار کتنے گرم ہیں؟ تو پتہ چلے گا ہم کتنے آزاد ہیں۔ مگر اس سب میں کسی اور کا نہیں ہمارا قصور ہے ۔اور جب بھی میں کسی کو ملک کے حالات پر تنقید کرتے دیکھتی ہوں یا میں خود ایسی کوئ تحریر لکھتی ہوں تو مجھے بے ساختہ یہ شعر یاد آتا ہے، جو بحیثیت قوم ہماری اپنی نااہلی کی وجہ سے ہم پر پورا اترتا ہے ،
ع    دے رہا ہے اپنی آزادی کو مجبوری کا نام
     ظالم اپنے شعلۂ سوزاں کو خود کہتا ہے دود۔

کیونکہ بجائے اپنی آزادی کو اصل روپ دینے کے، بجائے اپنی ملک کو ترقی کی راہ پر گامزن کرنے کے،بجائے اس مٹی کا حق اور شہیدوں کی لہو کا حق اتارنے کے ہم ایک دوسرے کو مورد الزام ٹھہراتے ہیں اور خود کو مجبور ثابت کرتے ہیں جو کہ یقینا غلط قدم ہے۔
آخر میں عرض ہے کہ امید کا دامن نہیں چھوڑنا چاہیے ابھی بھی وقت ہے اور ایک عظیم شخص اور قوم وہی ہے جو اپنی غلطیاں دہرانے کی بجائے اس سے سیکھے اور مستقبل میں اس کی اصلاح کی کوشش کرے ۔ ہم آج بھی اگر مل کر اس قوم و ملک کی خدمت کریں تو ہمارا ملک آج بھی دنیا کے نقشے پر ایک عظیم و ترقی یافتہ ملک کی حیثیت سے ابھر سکتا ہے ۔کیونکہ اس ملک میں صلا حیتوں کی کمی نہیں ہے بس کوشش اور محنت اور اس صلاحیتوں کو پہچاننے اور آگے لانے کی دیر ہے ۔۔

اقبال کا کہنا بجا تھا،
ع      نہیں ہے ناامید اقبال اپنی کشت ویراں سے۔۔
        زرا نم ہو تو یہ مٹی بڑی زرخیز ہے ساقی۔۔۔
        میری دعا ہے کہ یہ ملک تا قیامت سلامت و آباد رہے۔ کہ اے وطن ہم تو مٹ جائینگے لیکن تم کو۔۔۔
        زندہ رہنا ہے قیامت کی سحر ہونے تک۔۔۔
        پاکستان زندہ باد۔۔۔
بقلم آمنہ شکیل۔۔ بروز 14 اگست 2021

عظیم مصور کا عظیم شاہکار (صنف نازک)

صنف نازک کے ادوار زندگی

یہ عام کہانیوں جیسی کہانی نہیں ہے بلکہ یہ ایک مختلف داستان ہے ۔۔ ایک عظیم مصور کے ایسے شاہکار کی داستان جو ساٹ پینسٹھ سال پر محیط ہے۔ مصور کا کمال دیکھئے کہ با وجود یہ کہ یہ رنگین تصویر اسکی باقی بنائ ہوئ بنی نوع انسانوں کی تصویروں جیسی دکھتی تھی مگر پھر بھی یہ ان سے  حد درجے مختلف تھی اور ہے۔
آئیے ہم بزبان قلم آپکو اس خوبصورت شاہکار کے خدوخال بیان کرتے ہیں۔20جولائ 1956 کی شام ، جب چاند پوری آب و تاب سے چمکا، جب گرمی کے اس موسم میں سمندروں کی لہروں میں چاند کے قوت کشش سے ارتعاش پیدا ہوا۔ اور اس چاندنی رات میں جب چاند کی تابناک کرنوں نے زمین کے گال چھوئے تو مصور،_دو جہاں کو یہ لمحے اپنے فن کے مظاہرے کے لئے بڑے موزوں لگے تھے ۔ پس اس نے اکیسویں صدی کے کینوس پر اس تصویر کی تخلیق شروع کی۔۔
مصور زوالجلال نے پہلے درد کے کالے بادل بنائے مگر یہ بادل امید کا اشارہ بھی دے رہے تھے ۔ ایک بات یہاں یاد رکھنے کی ہے کہ کوئ بھی فنکار ، خاص طور پر شاعر اور مصور ہمیشہ اپنے فن کا مظاہرہ کچھ اس انداز سے کرتے ہیں کہ اسے خود انکی طرح کوئ اور نہیں سمجھ سکتا بلکہ ہر شخص اس سے اپنا ہی مطلب اخذ کرتا ہے۔۔اسی طرح اس مصور کی تخلیق میں یہ بادل بھی پر اسرار تھے۔ بادلوں کے دوسرے پار کچھ عرصہ کے بعد مصور نے ایک مسکراتی ماں اور اس کی گود میں کھیلتی معصوم سی بچی کی تصویر بنائ۔۔
اس نے ماں کی تصویر میں رحم, شفقت، ممتا اور غیر مشروط لازوال محبت کے رنگ بھر دیئے۔۔
اب بچی کی تصویر میں رنگ بھرنے کی باری تھی۔۔ مصور اسے پینٹ کرتے ہوئے جیسے فرط محبت سے مسکرا رہا تھا۔ کیونکہ وہ جانتا تھا کہ یہ تصویر اس کی رحمت کا عکس ہے ۔  سب سے پہلے اس نے ماں باپ کی محبت کی پانیوں میں گھولے ہوئے بچپنے کے  معصوم شرارتوں کی رنگوں سے اس بچی کی فراک میں رنگ بھرے ۔۔پھر اس کے بعد کئ برس تک مصور نے وہ پینٹنگ وہیں وقت کی دھوپ تلے رکھ دی ۔کہ جب وہ رنگ ماند پڑنے لگینگے پھر وہ اس میں مزید رنگ آرائ کرے گا۔
مگر یہ کیا، پینٹنگ دیکھتے ہی معاشرہ نامی گاؤں کے لوگوں نے وہاں سے گزرتے ہوئے ناگواری سے منہ بنایا، کچھ نے کہا کہ ہونہہ! کیا یہی لڑکیوں کی تصویر سوجھی تھی اس مصور کو۔ کیا وہ لڑکا نہیں بنا سکتا تھا جو والدین کے ٹاٹ باٹ اور ان کی طاقت بننے کی ترجمانی کرتا۔ ان احمق لوگوں کی خام خیالی تھی کہ بچی کی نسوانی تصویر کسی عورت کی کمزوری کی ترجمانی کرتی ہے۔ ان کو تو یہ ایک بہت معمولی پینٹنگ لگتی تھی مگر انھیں کیا معلوم تھا کہ مصور۔ دو عالم کے ہاں ایسی پینٹگز کتنی قیمتی ہوا کرتی ہے کہ کوئ بھی مصور اپنے ہی کام میں فرق نہیں کرتا اسے اپنی ہر تخلیق سے محبت ہوتی ہے ۔ اب پانچ، چھ سال بعد مصور نے وہاں اسی کے سامنے اسی بچی کی تصویر کا نیا رخ بنایا ۔ اس تصویر میں وہی بچی بالوں میں شوخی کے پھول سجائے، ہونٹوں پر مسکان کی لالی لگائے، اور مستی، بے نیازی، محبتوں کے موتی جڑے ایک لمبا فراک پہنے  زندگی کے ایک خوبصورت نو عمری کے باغ میں خوابوں کی رنگ برنگی تتلیاں پکڑ رہی تھیں۔
اب کیا تھا اس گاؤں میں واویلا مچ گیا تھا۔ ہر طرف اعتراض ہی اعتراض تھا۔ کسی کو نسوانی پینٹنگ پر، کسی کو شوخ رنگوں پر، کسی کو تتلیوں پر ، کسی کو اس شاہکار کے سبق پر ۔عرض جتنے منہ اتنی باتیں تھیں۔اس گاؤں کے ہر مرد کو اگرچہ اس شوخی جھلکنے والی تصویر پر تو اعتراض تھا مگر ساتھ ہی وہ آنکھوں میں اپنا جنسی میلا پن لیے اسے دیکھتا تھا۔ ہر مرد اس تصویر  میں اپنی خواہش کی انگڑائ محسوس کرتا تھا مگر وہ ساتھ والوں پر کبھی یہ ظاہر نہ ہونے دیتا اور ایسا تقریبا ہر نکتہ چیں کر رہا تھا۔
مگر مصور دو جہاں..! وہ خاموش تھا ۔ وہ جانتا تھا اس شاہکار کی قیمت کیا ہے ۔ کیونکہ سونے کی قیمت تو سنارہی جانتا ہے وہ تو پھر مصور دو جہاں تھا۔
اب وقت کافی گزر چکا تھا اور اس پینٹنگ بورڈ پر مصور نے جو جگہ چھوڑی تھی وہاں اس تصویری کہانی کا نیا موضوع پینٹ ہونا تھا ۔اب کی تصویر میں بچی سن بلوغت سے گزر چکی ہے وہ ایک جاذب نظر جوان لڑکی دیکھائ دے رہی ہے۔ بالوں کی گھنگھریالی لٹیں اس کی ٹھوڑی کو چھو رہیں تھیں۔ اور وہ ایک ہاتھ میں قلم اور کاعذ تھامے دوسرے کو ہوا میں لہرا رہی تھی معلوم ہو رہا تھا وہ کسی سٹیج پر کھڑی تقریر کر رہی تھی، ایسے جیسے وہ معاشرہ نامی گاؤں کے لوگوں کوسبق دے رہی ہو کہ بیٹی بوجھ نہیں ہوتی، بیٹی کسی کی غلام نہیں ہوتی، بیٹی صرف مردوں کے استعمال کی شے نہیں ہے بلکہ اگر اسے پڑھاؤ لکھاؤ تو یہ شاہین سے اونچا اڑ سکتی ہے، یہ ستاروں پر کمند ڈال سکتی ہے، یہ گھر کو جنت بنا سکتی ہے، یہ ذہد و عبادت میں رابعہ بصریہ، حیا میں فاطمہ رض، علم میں عائشہ رض، پاکیزگی میں اماں خدیجہ رض اور بہادری میں زینب رض، خولہ بنت ازور رض اور حضرت صفیہ رض بن سکتی ہے ۔ مگر اس بات کو سمجھنے والے کم اور اعتراض کرنے والے زیادہ تھے اور یہ مصور_ عظیم کی اس پینٹنگ میں اس انداز سے پینٹ کیا گیا تھا کہ اس لڑکی کے سامنے صرف کچھ لوگوں کا مجمع تھا اور جہاں وہ لڑکی اور وہ مجمع تھا اس کے ارد گرد روایات، رسومات، قبائلی غیرت اور اعتراضات کی آہنی سلاخوں اور تاروں کے جال کو پینٹ کیا گیا تھا جس کے دوسری طرف کھوٹی سوچ کے لوگ کھڑے ہاتھوں میں گندی نگاہوں، گالیوں، تہمت، جنسی خواہش، ظلم، آوارگی، ناخواندگی، نالائقی کے پتھر اٹھائے اس لڑکی پر پھینک رہے تھے۔ اب پینٹنگ کا تقریبا ستر فیصد مکمل ہو چکا تھا اور رنگ وقت کی دھوپ میں پڑے پڑے ماند پڑنے لگے تھے۔ اب راہگیروں کے جملے بھی کم ہونے لگے تھے اور اس کی طرف اٹھنے والی نگاہیں بھی کم ہو گئ تھیں۔ مگر اب مصور اس شاہکار کا آخری حصہ پینٹ کرنا چاہتا تھا۔ جوانی ڈھلنے کے بعد کا حصہ۔ مردوں کے لیے بے لذت ہو جانے کا حصہ۔ بڑھتی ہوئ عمر کا حصہ۔ جھریوں سے بھرے چہرے اور گھر بار، بال بچے، سسر ساس اور رشتہ داریاں اور زمہ داریاں نبھاتے نبھاتے کمر جھک جانے کا حصہ۔ خود سب کچھ دوسروں پر وار کر، اپنا سارا سکون، پیار، اور پھر زندگی اپنے بچوں، گھر والوں اور شوہر پر نچھاور کر کے خود ہر رنگ ہر شوخی سے عاری ہونے کا حصہ۔ جی ہاں! اب مصور سبحانہ و تعالی وہ حصہ پینٹ کرنا چاہتا تھا جب ایک معاشرے نامی گاؤں کے لوگوں کی نظر میں ایک تابعدار عورت  وہ ہوتی ہے جسے ساری عمر تابعداری کرنے کے بعد موت کے قریب ہو جانے کے وقت کچھ لوگ شاباش کا تمغہ پہناتے ہیں مگر اب اسے رنگینیوں اور شاباشی کا شوق نہیں رہتا ۔ بس اتنا ہوتا ہے اسکے بالوں کی چاندی دیکھ کر اکثر آوازیں خاموش ہو جاتی ہیں اور ان کی خدمت ہونے لگتی ہے اور کچھ بد نصیبوں کو اتنا بھی نصیب نہیں ہوتا۔ اب تصویر کے اس رخ میں رنگ بھرنے کی باری آ چکی تھی، صرف ہلکے، پھیکے، سرمئ رنگ۔ مصور کا شاہکار مکمل ہو گیا تھا، مگر پتہ ہے کیا؟؟ اب جب لوگ شاہکار دیکھنے آتے تھے تو سب آدھے پینٹنگ کی تعریف کرتے تھے اور آخری حصہ کسی شاذ و نادر کو ہی پسند آتا۔ مگر یہی حقیقت ہے۔ زندگی کی حقیقت۔ شاہکار کو اب مصور نے مٹی میں دفنا دیا تھا بغیر کوئ نشانی کے۔ اب ساٹ، پینسٹھ سال بعد نہ شاہکار تھا، نہ لوگوں کا ہجوم ، نہ انکی چبھتی نظریں اور نہ ہی انکے اعتراض۔ عظیم فنکار اور مصور دو جہاں کے اس خوبصورت شاہکار کی کہانی مکمل ہو چکی تھی مگر اس کو دیکھنے والوں میں سے صرف چند ہی اس پینٹنگ کو سمجھ پائے ہونگے، کہ شاعری اور شاہکار کو خود فنکار سے زیادہ کوئ نہیں سمجھ سکتا۔
میں نے جب اس پینٹنگ کی تصویر دنیا کے عجائب گھر میں دیکھی تو بے ساختہ اقبال کی یہ نظم گنگنانےلگی جو میرے خیال میں قارئین کے لیے اس فن و تصویر کا خاکہ پیش کرتی ہے

وجود زن سے ہے تصویر کائنات میں رنگ

اسی کے ساز سے ہے زندگی کا سوز دروں

شرف میں بڑھ کے ثریا سے مشت خاک اس کی

کہ ہر شرف ہے اسی درج کا در مکنوں

مکالمات فلاطوں نہ لکھ سکی لیکن

اسی کے شعلے سے ٹوٹا شرار افلاطوں

بقلم آنے رملیہ از پائیڈ۔

August2020-August2021

If I put On my veil…

let suppose! If i put on my veil
will they lower their gaze??
will they cease to lurk and chase??
will it decline the harrasment cases?
will they cease passing dirty phrases?
Only if i put on my veil
and wear not my makeup
will they stop to kill in honour?
will they no more have temptation?
will they do not bully and abuse?
will they cease to be a Rapist??
Can you please assure??
if i put on my veil, cover my self
will it change them too??
I fear it will Not,
for its not the absence of my veil
that they murder, harrass, rape and rant
but the presence of a veil, A cover
On their greasy eyes, mind and heart..

Aanay Ramliya
11:55 pm
7Aug2021

The Gap or the Difference

” Jane!, OO jane! wake up! Wake up!” She was calling me loudly and I just woke up when I heard her calling my name. “What happened to you? Are you okay?”She was asking me as I was sighing and breathing fast with one hand on my heart, waking up to a nightmare. I couldn’t answer her being stressed and relaxing myself to forget about the bad dream.
The large windows of our room were left open and the pitter-patter sound of the rain was even disturbing. “Oh god please stop this rain I just hate it”. “Why the hell is still raining?” “Is it just to make me sad huh??” I was complaining to God continuously. I thought I was saying this in my mind but it gave me a goose bump when my sister loudly said, “Stop whining please. It’s not the rain but “The gap” that disturbs us all.
The gap? OH what is she referring to? I rolled my eyes though she couldn’t see me in the dark. Ummmm “the gap”. I repeated it slowly and give it a thought but couldn’t figure it out to be honest. Simi! “Would you please explain it to me?” I turned my head to her, cupping my face in my hands as if I am really very interested to listen to her but actually I was curious about the word she said.
“Okay! Let me finish my task and I am going to tell you after a while” she replied gently as always, completing her assignment in the light of table lamp. Few minutes were passed and she began to talk, “When I said “the Gap” I meant that we human beings are never grateful for what we have. We always complain about the little things that happen to us but we never thank our lord for all the beautiful and many great things that we have. Just like you were whining about the rain a while ago but have you thought that there are people who wish to see and have some rain as they need it? Have you ever thank Allah for not even able to make a choice of so many dresses you have in your closet? When there are people who can’t even have a piece of it to cover themselves decently? Have you thought for a minute about those who collect scraps from the dumping sites to survive, when you are selecting and wasting time on the menu at dining table? Have you ever gave your wallet full of money to the one who hold their hands sacrificing their self-respect and beg to you for a penny?? Or have you even asked God that why are you different than them? Are you better than them anyway? Have you ever looked into the eyes of “chootay” at tea or juice corners when they are serving you and longing to wear a uniform like you and to have someone caressed at their cheeks and buckle their shoes like dad does yours??? Isn’t it the Gap between you and them? Isn’t it the difference God has created among people to test them but we see it differently. We always whine for little and tiny hardships and we always compare ourselves to those better than us and lament at what we don’t have rather than thanking for the blessings we are given even when we don’t deserve them. So this is actually “the Gap” I was referring to, that make us complain about things without realizing the true subject. Hope you understand it now and will think twice about it if you encounter a problem again”. “Now go to sleep please I wish you a good night”. Saying this, she left the room taking her bag along, she closed the door slowly. But all this really lasted an impact on me. And I really miss her when it rains as her kind voice echo in my head. She made me understand why we complain for little problems and not feel grateful for what we have. It is just because we see things from different and negative perspective.

Good bye take care till the next blog. With love and Regards Aanay Ramliya45

March 1, 2020

Spring Needs to be in the Heart

Crip-crap, Crip-crap, the soothing sound of dry leaves was quite prominent as they walked over them without talking to each other. The month of March had just begun which used to be the arrival of spring in their country. Bunnies could be seen hopping around and scampering. Birds could be heard singing but dove’s song was the most profound and beautiful sound to them to recognize that spring had actually arrived. Both of them had their memories attached to this lovely sound. Weather was getting warmer than the chilly cold of January then and days were getting longer. Daffodils, camellia and tulips’ flowers were blooming and anemones ushering in spring loud and proud with vivid blooms in colors like pink, red and burgundy. Both of them were deeply sunk in the serenity of nature each waiting for the other to speak first. “Mugheera! Which book are you reading these days?” Zakwan asked him as he couldn’t wait anymore. “Ummm! I am not reading anything these days I just can’t concentrate on books even. I am quite distracted. Everything, even my life seems dull and boring to me. I feel broken since my brother’s death as he was diagnosed with cancer. I wish I could give him my life and he could live longer”. Mugheera responded, in sad tone as if weary and tired.
“Oh chap! Come on, that’s not a big deal, life is meant to end for all of us. Death is undeniable. All of us will die. Stop thinking about the past. Look at the beauty of the nature and how spring has decorated everything with a new dress of its kind. Haven’t you heard Sufi Shams’ quote that beauty is in the eyes of beholder?” So unless you see the beauty around you and the beauty in your life, you are not going to get out of this trauma, brother.” Zakwan lectured him as if he was his mentor as always.
“Yeah! Yeah! I have heard this and Sufi Shams has been absolutely right and this is why I can’t feel the serenity and the blissful beauty, of the spring these days. I just can’t feel the spring because spring is not outside rather, it lies in the heart. And as long as your heart has the beauty everything seems fragrant and joyful but when heart mourns, your world become colorless. Thus, it will take me some time.” Said Mugheera raising his right eyebrow with his eyes still calm and deep. Both headed towards the end of the walking track and were about to depart then.
Mugheera’s answer left Zakwan with no answer but to agree with him, both were right at their own. The stance of Mugheera really is applicable to life in every perspective. It’s not the mind but the heart that keeps one alive. When heart dies, life become meaningless. As Meer Dard (a famous poet) puts it, “I fear the death of my heart, as my life lives by it.” Every weather becomes breezy if a person’s heart celebrates spring of joy and love otherwise, even a spring outside will be autumn for a negative person. Though, sadness is a part of our emotional life but holding on to it without helping yourself to change is wrong way of dealing with emotions.
As far as one’s heart is delighted, his life is beautiful too. He then finds beauty in every little thing he has and every task he does. He can make others happy and care for them only if he is happy himself. And same is the case of practicing religion. As narrated in a famous Hadith that every organ of the body performs well when the heart performs better. But if the heart is ill, impure and distracted, everything else gets wrong itself, because heart is the director and the king of all the organs. May our heart be purified by the will and love of Allah Ameen.
keep spreading love and peace and it will echo.

4march2020


Aanay Ramliya 45