تب تک یہ ہوتا رہے گا۔۔

آج تو قلم بھی اپنے مذکر ہونے پر شرمندہ تھا .
میری انگلیوں کا سہارا لیے کاغذ پر پیشانی رکھے قلم کی آنکھوں سے بھی خون کے آنسو  بہہ رہے تھے۔آج کا واقعہ سن کر جیسے وہ بھی تڑپ رہا تھا۔بار بار اٹک رہا تھا۔ ایسے جیسے وہ کہانی نہیں کہنا چاہتا کہ یہ کہانی مونث کہانی تھی۔ اور میرے دین نے تو صنف نازک کی حفاظت کا حکم دیا تھا اس کی حیا سے تو سورج بھی شرما گیا تھا۔ اور میرے اسلاف مردوں کی حیا سے تو فرشتے بھی حیا کرتے تھے۔ مگر یہ کیا کہ آج قلم کی نوک سے نکلتا ہر لفظ جیسے میرے وطن کے جوانوں کی لازوال حوس پر دکھی تھا۔آج جیسے ہر چیز کو اپنے مذکر ہونے پر افسوس ہو رہا تھا۔۔کہ ایک پری زاد کو دو بچوں کے سامنےمرد نامی مذکر درندوں نے نوچا تھا۔ 
سوچتی ہوں آج تو انسانیت بھی نوحہ کناں ہوئ ہوگی۔ آسمان انگشت بدنداں رہ گیا ہوگا اور زمین نے بھی شاید پھٹ جانے کی خواہش کی ہوگی۔۔
مگر ان درندہ صفت انسانوں کو خود کوئ شرم، کوئ حیا کوئ خوف کیوں نہ آیا؟ اس جرم عظیم کا ارتکاب کرتے ہوئے انھیں اپنا انجام کیوں یاد نہ آیا اور ان کے قدم کیوں نہ لرزے؟؟ کیا اس لیے کہ ان کو معلوم تھا کہ یہ بچ نکلینگے؟ کیا ریاست مدینہ بن کر دیکھانے کا ڈھونگ رچانے والے ملک کے قوانین اتنے بے وقعت تھے؟ کہ مجرم کو اپنے جرم پر کوئ پچتھاوا نہیں؟؟
تو دل تھام کر سنیے! ایسا ہی ہے جیسا اوپر عرض کیا گیا۔ جس ملک میں، میں اور آپ رہ رہے ہیں ادھر ایسا ہونا اب عام  بات بن گئ ہے۔ اب ہمارا جیسے  یہ دیکھنا معمول بن گیا ہے کہ حادثہ ہوتا ہے۔ خبروں کی زینت بنتا ہے ۔ سوشل میڈیا پر ٹرینڈ بنتا ہے ۔ایک دو آوازیں بلند ہوتی ہیں ۔حکمرانوں کے وعدے ہوتے ہیں اور پھر خاموشی چھا جاتی ہے۔ اور متاثرین اپنا سا منہ لے کر رہ جاتے ہیں۔ اور یہ سب یوں ہی ہوتا رہے گا ۔ کہیں کشمور میں ایک معصوم بیٹی جو ابھی گڑیا کھیلنا بھی نہیں جانتی وہ شلوار نیچھے کر کے ان درندوں کے ظلم کی داستان کہے گی تو کہیں ظالم بھیڑیے جی ٹی روڈ پر بچوں کے سامنے ایک عفت مآب کو نوچینگے۔ کہیں باپ اور ماں دونوں کو گولیاں چلا کر چھوٹے بچوں کے سامنے روڈ پر مارا جائے گا تو کہیں زینب  کے خواب چکنا چور کیے جاینگے ۔کہیں کسی کا بیٹا اغوا ہوگا تو کہیں دن چڑ ھے  کسی کو خودکشی پر مجبور کیا جائے گا ۔ عرض یہ کہ درندگی کی ایک سے بڑھ کر ایک مثال قائم کی جائے گی۔ اور ہاں یہ مت سوچنا کہ تمہارے ساتھ تو کبھی ایسا نہیں ہوا  پھر کیا غم ہے۔ اگر آج  یہ کسی اور کے ساتھ ہو رہا ہے تو وہ دن دور نہیں کہ یہ آپ کے ساتھ بھی ہوگا۔ مگر نہ کسی کا دل دہلے گا۔۔نہ کسی کے قدم لرزینگے ۔
اور یہ سب تب تک ہوگا جب تک ظلم کو ظلم تصور نہیں کیا جائے گا۔ جب تک عدلیہ آزادی سے فیصلہ نہ کر سکے گی۔جب تک ظالموں اور ان در ندہ صفت لوگوں کو چوک، چوراہوں میں عبرت کا نشانہ نہ بنایا جائے۔ جب تک ہم بہ حیثیت قوم جاگ نہ جائیں . جب تک ہم اپنے اسلامی اقدار کی پاسداری اور مغرب کی نقل کرنا نہ چھوڑیں۔ جب تک ہم دوسرے کے درد کو اپنا درد نہ سمجھنے لگ جائیں۔ہاں تب تک یہ سب ہوتا رہے گا۔ تو کیا ہم انفرادی، ذہنی اور قومی لحاظ سے ایسے اقدامات کرنے کو تیار ہیں؟؟؟ محترم قارئین ! کہیں نگاہ دوڑانے کی ضرورت نہیں بس اپنے گریبان میں جھانک کر جواب دیجئے۔ ہم کس سمت میں جا رہے ہیں یا جانے والے ہیں یہ فیصلہ آپ کا ہے ۔ اور دونوں سمتوں کی قیمت بھی آپنے اور میں نے ہی چکانی ہے۔۔والسلام۔
آللہ وطن عزیز اور امت مسلمہ کو سلامت رکھے۔۔ آمین

بقلم آنے رملیہ

One thought on “تب تک یہ ہوتا رہے گا۔۔

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out /  Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out /  Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out /  Change )

Connecting to %s