میرے کو ہے۔

وہ شخص اس سے بہت مشابہ تھا۔۔

میں نے یہ مقولہ  سن رکھا تھا کہ دنیا میں ذیادہ تر سچ نشے کی حالت میں بولے جاتے ہیں۔ اور مجے ہمیشہ لگتا تھا کہ یہ صرف مقولہ ہی ہے ۔ لیکن اس دن کا واقعہ مجھے جب بھی یاد آتا ہے تو مجھے یہ بات سبق آموز حقیقت لگتی ہے۔
یہ ان دنوں کی بات ہے جب میں ہاسٹل میں نیا نیا آیا تھا۔ یہ جنوری کی ایک بہت یخبستہ شام تھی۔ صبح سے بارش بھی برس رہی تھی ۔اور اس دن میرا دل تھا کہ میں ہاسٹل میں بنی دال کے لئے باہر سے نان لے کر آؤں کہ ہاسٹل کی روٹیوں سے تو دل اکتا گیا تھا۔ ہاسٹل سے زرا فاصلے پر ایک ہوٹل تھا۔ میں چھتری لئیے باہر نکلا۔ سردی کی وجہ سے میرے دانت بج رہے تھے ۔ایک ہاتھ سے بمشکل چھتری تھامے اور دوسرا ہاتھ کوٹ کی جیب میں ڈالے میں ہوٹل پہنچا۔ کیا دیکھتا ہوں کہ ایک عمر رسیدہ پوڈری، نشے میں دھت ہاتھ میں  ڈنڈا، ایک بوتل اور ایک کاغذی پیالہ لئے وہاں کھڑا ہے اور ہوٹل کے کارندے اس کا مزاق اڑا رہیے ہیں ۔اسے دھکیل رہے ہیں ۔اور وہ منہ ہی منہ میں کچھ بڑبڑاتا ہوا  ہوٹل کے سامنے فٹ پاتھ پر بیٹھ گیا۔ مجھے اسکے مہینوں میلے، پھٹے پرانے کپڑے، گرد وغبار سے اٹی ہوئ داڑی پراگندہ بال دیکھ کر بڑا ترس آیا۔ جس کے تعفن زدہ ہونے کا اندازہ اس اندھیرے میں دکانوں کی لگی بتیوں میں بھی لگایا جا سکتا تھا۔ میں نے ایک نان الگ سے اس کو دینے کی نیت کر کے لیا۔  اس سخت سردی میں مجھے لگا کہ وہ بھی بھوکا ہوگا۔۔لیکن جب میں روٹی لیے اس کے پاس جانے لگا تو پہلے تو ڈر کے مارے اس سے زرا دور کھڑے ہو کر سوچتا رہا کہ قریب جاؤں یا ادھر سے ہی روٹی پھینک دوں ؟ کیونکی مجھے ان نشئ لوگوں سے  بچپن سے ہی بڑا ڈر لگتا ہے۔ لیکن پھر خیال آیا کہ یہ تو اس انسان اور رزق دونوں کی بے حرمتی ہوگی ۔ بہر حال میں نے ہمت کی اور اس کے سامنے اخبار میں لپٹا گرم نان پکڑتے ہوئے بولا، ” انکل جی روٹی لیجیے ۔” وہ مجھے گورنے لگا ۔ میں ڈر گیا اور زرا دور ہو کہ پھر بولا ، ” انکل جی یہ روٹی لیجئے، اسے کھا لیں” اب کی بار وہ بولا،  ” مجھے نہیں لینی میرے کو ہے”۔۔ اور ہاتھ سے جیسے وہ مجھے چلے جانے کا اشارہ کر رہا ہو۔۔میں نے پھر اصرار کیا تو وہ چیخ کے بولا نہیں چاہئے مجھے “میرے کو ہے” ۔ اب میں وہاں  سےلوگوں کی نظر بچا کر چل دیا ۔۔وہ روٹی تو میں نے ایک سبزی فروش کو دے دی تھی لیکن اس نشئ کے الفاظ رات دیر تک میرے کانوں میں گونجتے رہے۔۔ مجھے اس کی بے نیازی پر رشک بھی آیا کہ واقعی اس وقت وہ بڑا قانع تھا۔اور “میرے کو ہے” سے اسکا یہی مطلب تھا کہ میرے پاس ہے۔۔ میں دیر تک سوچتا رہا کہ اسنے نشے کی حالت میں ایک حقیقت کہہ دی تھی۔ اگر انسان غور سے سوچے تو وہ کبھی رزق کے پیچھے اتنے حرص کے ساتھ نہ بھاگے کہ اس کا دین و ایمان ہی لٹ جائے۔ ہاں مرد ہنر مند کے لئے رزق حلال کی تلاش اور حصول، عبادت کے زمرے میں داخل ہے مگر اس کے پیچھے بھاگنا سراسر ناشکری ہے۔۔اور جتنا اس کے پیچھے انسان بھاگتا ہے اتنا ہی وہ خوار ہوتا ہے۔۔رزق انسان کو موت کی طرح تلاش کرتی ہے جو قسمت میں ہوتا ہے وہ مل کے رہتا ہے اور جو قسمت میں نہ ہو وہ ہزار جتن کے باوجود نہیں ملتا۔ نجانے کیوں! ہم اکثر بھول جاتے ہیں کہ جو رازق پتھر کے اندر کیڑے کا رزق نہیں بھولتا وہ ہمیں رزق پہنچانا کیسے بھول سکتا ہے ۔وہ جو اتنا علیم ہے کہ کالے اندھیرے میں، کالے پتھر پر رینگتی ہوئ کالی چیونٹی کے دل کی بات اور قدموں کی چاپ دیکھ اور سن سکتا ہے وہ ہمارے حال اور ضروریات سے کیسے بے خبر رہ سکتا ہے؟ لیکن دراصل ہمارا اپنا ایمان و یقین ہی کمزور ہے۔ اس واقعے کو آج ڈیڑھ سال ہو چلا ہے مگر جب بھی بارش ہوتی ہے، یا دل میں ناشکری کے خیالات جنم لینے لگتے ہیں تو مجھے اس بوڑھے پوڈری کا جملہ “میرے کو ہے” بھولے ہوئے سبق کی طرح یاد آتا ہے۔۔ بے شک اگر انسان قانع بن جائے، شکر گزار بن جائے، اپنے پاس موجودہ نعمتوں کی طرف نظر کرے، تو بے اختیار کہہ اٹھتا ہے “میرے کو ہے” مزید کی لالچ نہیں۔۔یہی قناعت کی عادت ہی انسان میں خودی اور بے نیازی پیدا کرتی ہے۔۔
بقلم۔   آنے رملیہ

“میری زندگی، میری ڈائری میں” سے اقتباس

آنے رملیہ

مورخہ : 31اگست 2020

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out /  Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out /  Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out /  Change )

Connecting to %s