کمال یہ ہے۔۔۔

خزاں کی رت میں گلاب لہجہ بنا کے رکھنا کمال یہ ہے۔۔
ہوا کی رخ پہ دیا جلانا ، جلا کے رکھنا کمال یہ ہے ۔۔
کسی کی رہ سے خدا کی خاطر ، اٹھا کے کانٹے، ہٹا کے پتھر۔۔
پھر اس کے آگے نگاہ اپنی جھکا کے رکھنا ، کمال یہ ہے۔۔۔

آنے! اس سے بڑھ کر اور کیا نعمت ہو سکتی ہے کہ لوگ آپ سے آپکی مسکراہٹ کی وجہ سے اور آپ کی زندہ دلی کی وجہ سے محبت کریں ۔یا پھر آپکو دیکھے بنا آپ کی تحریر سے ہی انھیں آپ سے محبت ہو جائے اور ان کو آپ وہ انسان لگیں کہ جس کی وجہ سے ان کے آنسو تھم سکتے ہیں یا ان کا دکھ ہلکا ہو سکتا ہے ۔ شکوک، شبہات اور بے اعتمادی کی اس دنیا میں صرف دل کی گواہی سے آپ پر اعتماد کر بیٹھتے ہیں اور پھر موقعہ ملتے ہی دل کے خزانے اگل دیتے ہیں۔ سالوں کا بوجھ آپ کے سامنے اتار پھینکتے ہیں اور ان کو ایک یقین سا ہوتا ہے کہ آپکے لفظ ان کے ہر زخم پر مرہم کا کام دینگے۔ ایسے طبیب بننا تو ہر کسی کے نصیب میں نہیں ہوتا چاہے وہ لاکھ طب پڑھیں یا نفسیات پڑھیں ۔۔یہ تو اللہ کی ایک بہت بڑی نعمت اور دین ہوتی ہے کہ آپ جسم نہیں بلکہ کسی کے دل اور روح کے زخموں کی مرہم پٹی کریں ۔۔ہر کوئ تو دوسروں کے اندھیروں کی روشنی نہیں بن سکتا نہ ہی آنسو پھونچنے والا۔۔ اگر لوگ آپکے پاس اپنے دل کا بوجھ ہلکا کرنے، اپنے آنسو پھونچنے یا آپکی مسکراہٹ اور باتوں سے اپنی اذیتوں کو بھلانے کی خاطر آتے ہیں تو آپکو پریشان ہونے کی بجائے خوش ہو جانا چاہیے کیونکہ آج کی دنیا میں ایسے لوگ بہت نایاب ہو گئے ہیں ۔۔لیکن یاد رکھیے یہ کسی کے لئے امید کی شمع بن جانا، کسی کو سننے والا ، کسی کو حوصلے کی تھپکی دینے والا اور کسی کی ہدایت کا زریعہ  بن جانا کوئ آسان بات نہیں ہے ۔۔یہ تو اللہ آپ کو ایک بہت بڑی زمہ داری سونپ دیتے ہیں۔ اس کے لیے آپکو اپنے آنسو پی کر اپنی مسکراہٹ برقرار رکھنی ہوگی۔۔ کیونکہ جب لوگ آپکا سہارا لینگے تو وہ اپنے آنسووں کے دریا کا رخ تمھاری طرف موڑینگے اور تمھیں کبھی سمندر بن کر ان کی لہروں کو خود میں ضم کرنا ہوگا تو کبھی ساحل بن کر ان کی موجوں کو  جذب کرنا ہوگا۔۔ آنے اس میں گھبرانے کی ضرورت نہیں ہے بس اللہ جی جب کسی کی دعا یا ضرورت پوری کرتے ہیں یا انکا دکھ ہلکا کرتے ہیں تو وہ خود براہ راست اس کے پاس نہیں آتے بلکہ ان کو کسی کے پاس بھیج دیتے ہیں ، اور ان کو زریعہ بنا دیتے ہیں۔۔ ویسے آنے! اپنی زندگی تو ہر کوئ جیتا ہے، اسے جینا تو گویا ایک فرض، ایک مجبوری ہے مگر دوسروں کے لیے جینا کمال ہوتا ہے ۔۔ اور آپکو یاد ہے نا وہ جو آپ لوگ بچپن میں دعا کرتے تھے کہ یا اللہ ہمیں ٹوٹے دلوں کا مدعا بنانا؟؟؟؟ آمین ۔ تو شاید وہ دعا قبول ہو کر آپکے مقدر میں بھی شاید سمندر بننا لکھا ہو۔۔
بقلم: آنے رملیہ 45
11:58 am
Sat, 17 oct 2020

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out /  Change )

Google photo

You are commenting using your Google account. Log Out /  Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out /  Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out /  Change )

Connecting to %s