مجھے زندہ رہنا ہے۔

ہلکا جامنی سوٹ ، اس کے ساتھ سرمئ رنگ کا سلک سکارف پہنے، ٹانگیں میز کے ساتھ لگائے، وہ قرآن کی تفسیر کا سبق دہرا رہی تھی جو اسنے صبح گاؤں کی بچیوں کو پڑھانا تھا۔ پچھلے چند سالوں، یعنی 2015 سے آج تک  عصر کے وقت قرآن پڑھنا، پھر وہیں لان میں بیٹھے بیٹھے کسی ایک آیت پر تدبر کرتے ہوئے سورج کو ڈھلتا ہوا دیکھنا، اریشے کا معمول بن گیا تھا ۔ یہ دسمبر کا پہلا ہفتہ تھا،  لان میں لگی بیلوں کے پتے خشک اور زرد ہو گئے تھے۔ان کے پہاڑی علاقے میں سردی اتر چکی تھی۔ وہ یہاں شوہر کی وفات  اور عباد کی شہادت کے بعد پشاور چھوڑ کے آئ تھی ۔ قرآن پڑھتے پڑھتے وہ اس آیت پر پہنچی کہ شہید زندہ ہوتے ہیں اور انھیں اللہ کی طرف سے رزق دیا جاتا ہے۔ پڑھتے ہوئے اس کی آنکھیں نم ہونے لگیں ۔ یہ آیت اسکو یوں لگتی تھی جیسے کسی نے اسکے بخار زدہ جسم پر ٹھنڈی پٹی رکھ دی ہو۔  “بیشک! میرا لاڈلا، طیب عباد بھی اللہ کے ہاں زندہ ہی ہے. وہ بھی تو شہید ہوا تھا۔بلکہ شکر ہے وہ امر ہوگیا ہے میرے عباد کو تو موت سے ڈر لگتا تھا وہ ہمیشہ کے لیے زندہ  رہنا چاہتا تھا”  اریشے نے دور سفیدوں کے جھنڈ کے پیچھے غروب ہوتے سورج کو دیکھتے ہوئے زیر لب  خود سےکہا تھا۔  ہر سال دسمبر کے خاموش خنکی بھرے موسم  میں شہید بیٹے کی یاد اذیت میں بدلنے لگتی تھی اور یوں 16 دسمبر تک وہ ایک عجیب سی اینگزائٹی کا شکار ہوتی۔مگر یہی قرآن اس کے لیے مرہم کا کام کرتا کیونکہ قرآن میں اللہ نے دلوں کی شفاء رکھی ہے۔ آج اسنے وہی آیت پڑھی تھی بلکہ اللہ نے اسے پڑھائ تھی جس کی یاد دہانی ضروری تھی جس نے اسکا غم ہلکا کیا تھا۔ جس نے اسے عباد کی قبر پر گھنٹوں رونے سے منع کر دیا تھا۔اس آیت کے زریعے اسے صبر دے دیا گیا تھا۔ ورنہ وہ پہلے کی طرح عباد کی قبر پہ جا کر کمبل ڈالتی اور حواس باختہ یہ کہتی کہ “میرے عباد کو سردی لگ رہی ہوگی، اسے کیوں مٹی کے ڈھیروں تلے اکیلے سلایا گیا ہے میرا عباد تو میرے بغیر کہیں نہیں جاتا تھا پھر وہ  قبرستان کے اس ویرانے میں اکیلے کیسے آگیا ہے ۔” اس حادثے کو آج سات برس ہو چکے تھے مگر جیسے ہی دسمبر دہلیز پہ قدم رکھتا، تو وہی پرانا 2014 کا دسمبر اس کی آنکھوں کے سامنے ایک دفعہ ضرور آتا کیونکہ ملکی عدالت میں اس حادثے کا کیس ابھی تک چل رہا تھا۔اور اس سال کی یادیں اس کے تحت الشعور میں ہمیشہ کے لیے محفوظ تھیں۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
اریشے وزیرستان کے علاقے، سام سے تعلق رکھتی تھی۔اور اسکا نام اسکے بابا نے ایران سے واپسی پر اریشے رکھا تھا یہ فارسی نام تھا۔ گاؤں کی روایات کے مطابق اس کی شادی 18 برس کی عمر ہی میں ہوگئ تھی ۔ جس کزن سے اس کی شادی ہوئ وہ ایڈوکیٹ تھے اور اسے تعلیم سے خاصا لگاؤ تھا۔ اس لیے وہ اریشے کو بھی پشاور لے آیا تھا ویسے وزیرستان میں لڑکیوں کو پڑھانے کا رواج نہیں تھا مگر وہ اس معاملے میں خوشقسمت تھی۔ وہ پہلے بھی پشاور میں ہاسٹل رہ کے پڑھتی رہی تھی۔ اس کے شوہر منیر نے عباد کی پیدائش کے چند سال بعد اریشے کا بی ایس سی میں داخلہ کرایا اور پھر ایم ایس بھی اس نے شادی کے بعد ہی کی۔ اس کے شوہر، ایڈوکیٹ منیر خان اکثر اسے کہا کرتے تھے، “اریشے تم پڑھ لینا، جاب بیشک نہ کرنا مگر کبھی میں تم سے پہلے  دنیا سےچلا گیا تو کم از کم تم کچھ کمانے کے قابل ہو گی۔” اگرچہ تب کسی کے وہم و گمان میں بھی نہ تھا کہ ایسا واقعی ہوگا مگر جب 2013 میں منیر خان کی اچانک دل کا دورہ پڑنے سے موت ہوئ تو  اب اریشے کو یہ بات اکثر یاد آتی تھی۔ویسے اریشے نے منیر خان کی زندگی میں ہی سکول میں پڑھانا شروع کیا تھا کیونکہ اللہ نے اسے صرف ایک بیٹا دیا تھا اس کے علاوہ اریشے کی کوئ اولاد نہ تھی۔ سسر، ساس وزیرستان ہی میں کھیتوں کے کام میں مصروف رہتے  اس لیے اریشے نے وقت بتانے کے لیے ٹیچنگ شروع کی تھی۔ اس نے بیٹے کا نام بہت سوچ کے طیب عباد رکھا تھا، کہ اسے ناموں کے شخصیت پر اثر ہونے کا یقین تھا۔ ہر ماں کی طرح اس کا بھی خواب تھا کہ اس کا لاڈلا بیٹا ایک بہترین انسان بنے ۔ عباد کو ایک دو سکول بدلوانے کے بعد اب اسے آرمی پبلک سکول میں ڈال دیا تھا۔ جس کی وجہ عباد کے کچھ رجحانات تھے۔ اکلوتا ہونے کی وجہ سے اس کا زیادہ وقت ماں باپ کے ساتھ ہی گزرتا تھا اس لیے عباد بھی منیر خان کی طرح تعلیم میں دلچسپی رکھتا تھا۔ وہ کافی خاموش طبع واقع ہوا تھا، اور اس کے ساتھ ساتھ وہ بہت حساس بھی تھا۔ اکثر چھوٹی سی بات پر گھنٹوں سوچتا رہتا پھر اریشے سے اس بات کی وضاحت کے لیے بات کرتا یا ابا جان جب گھر آتے تو اس سے سوالات کرنے لگتا ۔  انھی دنوں، یعنی آٹھویں کلاس کے دنوں کی بات ہے کہ ایک دن اس نے جمعے کے خطبے میں مولوی صاحب سے موت کے برحق ہونے اور عذاب قبر کے بارے میں سنا تو وہ بہت خوفزدہ ہو گیا تھا۔ گھر آکر اریشے سے پوچھنے لگا، “مما! آج مولوی صاحب نے عذاب قبر کے بارے میں بتایا ہے۔ مجھے تو موت سے ڈر لگنے لگا ہے۔۔مما کیا  کوئ ایسا طریقہ نہیں ہے کہ بندہ ہمیشہ کے لیے زندہ رہ جائے۔ اوہ ہاں! مجھے وہ سٹوری یاد ہے جو آپ نے سکندر اعظم اور خضر علیہ السلام کے بارے میں سنائ تھی جب خضر علیہ السلام سکندر اعظم کو آب حیات سے واپس تشنہ لے کر آئے تھے ورنہ اسے پی کر وہ ہمیشہ زندہ رہتا۔ تو مما! کیا میں بڑا ہو کر آب حیات نہیں ڈھونڈ سکتا؟” عباد پریشانی میں اپنی مما سے پوچھے جا رہا تھا اور اریشے اس کی باتیں سن کر مسکرا رہی تھی۔ اسے دل  ہی دل میں خوشی ہو رہی تھی کہ عباد بڑا ہوتا جا رہا تھا اور اس کے سنائے ہوئے واقعات اسے کتنی اچھی طرح یاد تھے۔
عباد کے گالوں کو پیار سے چھومتے ہوئے اریشے بولی، ” بیٹا ہم سب کو مرنا ہے اور پھر مر کر زندہ ہونا ہے۔۔ہم آب_ حیات نہیں ڈھونڈ سکتے، قدرت کا قانون ہی یہی ہے کہ ہم ایک دفعہ موت کا ذائقہ چکھ لیں اور پھر دوبارہ زندہ کیے جائیں اور دنیا میں کئے ہوئے اعمال کا حساب دیں کہ یہ زندگی امانت اور امتحان ہے۔ ورنہ سارے لوگ آب_حیات ڈھونڈنے لگ جائیں۔اسی لیے تو ہمیں پیارے نبی صلی اللہ علیہ و سلم نے اچھے عمل کرنے کا حکم دیا ہے ۔”  لیکن مما پھر تو زندگی بڑی مشکل ہے کہ ہمیں کیا پتہ ہمیں معاف کیا جائے گا یا نہیں۔۔ اماں میں تو اب نہیں مرنا چاہتا، میں بڑا ہو کر ریسرچ کروں گا کہ موت کو کیسے ٹالا جا سکتا ہے۔ آپ دیکھنامیں نہیں مروں گا میں نے زندہ رہنا ہے ہمیشہ کے لیے۔ مجھے مٹی کے نیچھے دبنے سے خوف آتا ہے ۔اور وہ جو انکل طاہر کی ڈیتھ ہوئ تھی نا؟ وہ بھی واپس نہیں آئے، بابا بھی تو واپس نہیں آئے نا  مما کتنے اکیلے ہوتے ہونگے نا؟؟؟ وہ ابھی بھی خوفزدہ تھا اور اپنی بات پر قائم تھا۔ اچھا بیٹا! ابھی آپ اپنا ہوم ورک مکمل کرو پھر ہم مل کر آب حیات ڈھونڈیں گے ڈھیر ساری ریسرچ کریں گے تاکہ تم ہمیشہ زندہ رہ جاؤ۔اس نے بیٹے کے کاندھے پہ تپکی دے کر اسے کام میں لگا دیا اور خود کچھن چلی گئ۔
بیٹے کا خوف اور پریشانی دیکھ کر اریشے کچن میں بھی اس کی بات پر سوچتی رہی  تھی کیونکہ وہ اپنے بیٹے کو ایسی الجھن  میں نہیں چھوڑ سکتی تھی۔ وہ جانتی تھی بچے کا ذہن سلیٹ کی مانند ہوتا ہے اسے جو سکھایا جائے گا وہ سیکھ جائے گا اور جب تک اسے تسلی بخش جواب نہیں ملے گا وہ یوں ہی الجھا رہے گا اس لیے وہ عباد سے بڑے خیال سے گفتگو کیا کرتی تھی اور اسکی حساس طبیعت کی  وجہ سے وہ اسے باقی ماؤں کی طرح جھوٹی کتابی کہانیاں سنانے سے  بھی گریز کرتی تھی۔ اس کے علاوہ ایک سال پہلے منیر خان کی موت نے بھی عباد پر نہایت اثر کیا تھا تبھی اسے قبر کی بات سن کر بابا یاد آئے تھے۔ سو  وہ عباد کے سامنے کمزور نہیں بن سکتی تھی، وہ اب اس کا باپ بھی تھی اور ماں بھی۔ یہی مظبوطی تو اسنے اپنے شوہر سے ورثے میں پائ تھی۔ اور تفسیر نے اسے مزید بہادر اور نڈر بنا دیا تھا۔عباد کی اس پریشانی کو سوچتے ہوئے اچانک اس کے ذہن میں قرآن کی آیت جو اسنے بڑے تفصیل سے تفسیر کلاس میں پڑھی تھی آگئ کہ “شہیدوں کو مردہ مت کہو کہ وہ مردہ نہیں زندہ ہے” اور اسے لگا اب وہ عباد کے سوال کا جواب دے سکتی تھی۔ اور یوں وقت ملنے پر اسنے عباد کو شہادت کا کانسیپٹ سمجھایا تھا کہ کس طرح شہید ہمیشہ زندہ رہتے ہیں وہ مرتے نہیں ہیں بلکہ اس دنیا سے دوسری دنیا منتقل ہو جاتے ہیں اور انھیں اللہ کے پاس سے رزق بھی دیا جاتا ہے۔اریشے جانتی تھی عباد کو واقعات جلدی  یاد ہوتے ہیں تو انھوں نے اسے حضرت حنساء کی چار بیٹوں سمیت جنگ میں شرکت و شہادت اور حضرت رافع اور حضرت ابن جندب رض عنہما کا جہاد سے محبت و شوق کا واقعہ بھی سنایا تھا،کہ وہ چھوٹی عمر میں ہی حضور ص سے جہاد کی اجازت مانگنے آئے تھے۔  بس اس دن سے عباد نے اپنے من میں یہ بات بٹھا لی تھی کہ اسے شہید ہونا ہے اور اسنے ہمیشہ کے لیے امر ہو جانا ہے۔ تب کے بعد اس  کے دل میں آرمی جانے کا بھی شوق پیدا ہوا تھا کیونکہ اس کے معصوم ذہن میں شہید ہونے کے لیے یہی ایک راستہ ہی تھا۔ وہ اکثر مما سے اپنی چھوٹی چھوٹی باتیں شیئر کرتا تو کہتا، میں اپنے ملک کا جھنڈا سر نگوں ہونے نہیں دونگا،  کتنا اچھا لگے گا نا جب آپکو شہید کی مما پکارا جائے گا؟۔اسنے اپنی ڈائری کے سر ورق پر بھی لکھا تھا کہ I will live forever mom۔۔اور عباد کے منہ سے یہ سنتے ہی اریشے اپنے آنسو دل کے اندر ہی اتار دیتی تھی۔ وہ جانتی تھی کہ عباد کے اندر یہ شوق اسی نے پروان چڑھایا تھا مگر اکلوتے بیٹے کو خود سے دور کرنا اسے مرتا دیکھنے کا دکھ بھی ایک ماں سے بڑھ کر کوئ نہیں جانتا کیونکہ اولاد کو بڑا کرنا، انھیں پالنا صرف ایک ماں جانتی ہے اور اب تو عباد ہی اس کا کل اثاثہ تھا پس وہ فی الحال ایسا نہیں سوچ سکتی تھی۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
سبز رنگ کی وجہ سے عباد کواپنا سردیوں کا یونیفارم بیحد عزیز تھا کیونکہ وہ پاکستانی جھنڈے سے مشابہ تھا اور پرچم کی حرمت ماں نے بہت اچھی سمجھائ تھی چنانچہ  اسے سردیاں شروع ہونے کا انتظار ہوتا تھا کہ کب سردیاں آئیں اور وہ سبز سویٹر اور کوٹ پہنے۔ 15 دسمبر کو یعنی، 16 دسمبر کی رات کو وہ اپنا یونیفارم پہنے کمرے میں ہی پریڈ کی ریہرسل کر رہا تھا، پھر فائرنگ کرنے کی نقالی کرتا ، بیڈ سے الماری تک بھاگ کے جاتا، فرسٹ ایڈ کٹ نکالتا، اور تکیوں کو زخمی ساتھی سمجھ کر ان کی مرہم پٹی کرتا۔ کمرے کو اس نے میدان جنگ بنا رکھا تھا کہ اریشے اندر داخل ہوئ تو عباد نے مڑ کر ، ماتھے پہ ہاتھ رکھ کر اپنی ماں کو باوردی فوجی کی طرح سلیوٹ مارا۔ اور اریشے جو اسے ڈانٹنے آئ تھی اسکی اس حرکت پہ ہنس پڑی ۔ “یہ کیا اودھم مچایا ہے عباد! کبھی فائرنگ کی آوازیں نکالتے ہو کبھی نعرۂ تکبیر، اور یہ کمرے کا کیا حشر کیا ہے؟؟” اریشے نے خفگی کا اظہار کرتے ہوئے پوچھا۔ “اوہ مما! میں صرف پریکٹس کر رہا تھا، کل بریگیڈیر سعید خان، میجر  ڈاکٹر سہیل، کیپٹن اسفند، اور باقی کچھ آرمی والے ہمارے سکول آئیں گے اور ہمیں فرسٹ ایڈ سکھائیں گے۔تو ان کے سامنے ہم نے ٹیبلیو کرنا ہے۔ آپ کو بتایا تھا نا میں ٹیبلیو میں میجر بنوں گا، زخمی ساتھیوں کی مدد کرونگا ، نعرۂ تکبیر کہہ کر فائرنگ  بھی کریں گے ہم دشمن پر اور مما میں ٹیبلیو میں شہید ہو جاؤنگا، پھر میری لاش سبز پرچم میں لپٹی جائے گی اور مجھے پروٹوکول کے ساتھ دفنایا جائے گا،  مما میں نے جھوٹ موٹ مرنے کی بھی پریکٹس کی ہے۔ اور وہ ہماری کلاس کی خولہ عاقب ہے نا؟ وہ میری مما بنیں گی ٹیبلیو میں اور، وہ جو شہیر ہے وہ چیف آف آرمی سٹاف بنیں گے اور پھر جب میں شہید ہو جاؤنگا نا مما تو میرا یونیفارم وغیرہ خولہ کو دیا جائے گا۔ ویسے مما! جو لوگ سچ میں شہید ہو جائیں وہ تو مرتے نہیں ہیں نا آپ نے بتایا تھا؟” عباد اتنا ایکسائٹڈ تھا کہ ایک ہی سانس میں سارا ٹیبلیو مما کے سامنے دہرا دیا حالانکہ وہ پہلے کئ بار بتا چکا تھا اور ساتھ وہی ہمیشہ والا سوال بھی دہرایا۔ وہ اب نویں کلاس میں ہو چکا تھا۔ دوستوں کی وجہ سے کافی سوشل بھی ہو گیا تھا ہر فنکشن میں حصہ لیتا تھا اور پھر آرمی کا ٹیبلیو کرنا تو اسکا جنون تھا کیونکہ اس کے تحت الشعور میں یہ بات نقش تھی کہ اسے شہید ہو کر ہمیشہ کے لیے امر ہونا ہے۔ اور یہ ٹیبلیو کا منظر تصور کر کے اریشے کی ممتا تڑپ اٹھی تھی آخر کو وہ ماں تھی اکلوتے اور فرمانبردار بیٹے کی ماں۔ اس نے عباد کو گلے سے لگایا اور رندھی ہوئ آواز میں کہا ، ” ہاں میرا بیٹا میجر عباد ضرور بنے گا، لیکن اتنا جلدی نہیں شہید ہونا میرے بیٹے نے۔” ” اونہوں مما! آپ تو ایموشنل ہو گئ ہیں ، ابھی کہاں، ابھی تو میں نے کیپٹن بننا ہے ، پھر ترقی کرتے کرتے میجر بنوں گا، آپ کو پاسنگ آوٹ والے دن سلیوٹ کرونگا ابھی تو بہت کچھ کرنا ہے مما۔” عباد شرارتا بولا تھا۔ اچھا چلو اب وقت پر سو جانا صبح جلدی جانا ہے تمھیں۔ یہ کہہ کر اریشے اپنے کمرے میں آگئ تھی اور اپنے وظائف و اوراد پڑھتے پڑھتے جانے کب اس کی آنکھ لگ گئ تھی۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
16 دسمبر 2014 کی صبح جب ٹیبلیو میں کچھ وقت باقی تھا، سٹیج بلکل تیار تھا، تمام بچے اور اساتذہ مہمانوں کا انتظار کرتے ہوئے بڑے پرجوش تھے۔ عباد بھی انھی میں سے ایک تھا ۔ کہ اچانک ہال میں آرمی کے یونیفارم میں ایک گروہ داخل ہوا، بچے اور سٹاف نے سمجھا کہ مہمان آگئے ہیں سو انھوں نے تالیاں بجانا شروع کیں مگر یہ کیا ان کے آتے ہی فائرنگ شروع ہوئ لاشوں پر لاشیں گرتی گئیں ،کوئی منہ کے بل گرا، کوئی کرسی سے ٹکرا کے چھکرا گیا، کوئ گولی لگتے ہی سینے پر ہاتھ رکھے دم توڑ گیا، کچھ بچے خوف سے گرے، چیخیں شروع ہوئیں۔ سکول میں جیسے جیسے شور تیز ہوتا گیا بدحواسی پھیلتی گئ، پرنسپل یا شاید کسی ٹیچر نے پولیس ہیلپ لائن پر معلومات دی، کچھ بچوں نے گھر اطلاع کی مگر ٹوٹے پھوٹے لفظوں میں۔ درندے نما دہشتگرد کلاسوں میں گھسنے لگے جو نظر آیا گولی ماری، کچھ بچے  جو خوف سے گر کر اپنی سانسیں بند کیے ہوئے تھے انھیں مردہ سمجھ کر دہشت گرد آگے دوسری کلاس کی طرف چلے جاتے۔ بچوں کے عینک، جوتے، کاپیاں اور کتابیں زمین پر بکھری ہوئ خون میں لت پت ہو رہی تھی، کچھ بچوں نے بھاگنے کی کوشش کی تو انھیں بھی گولی مار دی گئ۔ سٹاف روم کے اساتذہ کا لنچ یوں ہی رہ گیا تھا کوئ شہید ہو چکی تھی تو کوئ زخمی تڑپ رہی تھی۔ پرنسپل کو مزاحمت کرنے پر آگ لگا دی گئ تھی۔ کچھ نے صرف اتنا کیا تھا کہ اپنے چھوٹے بہن بھائ کو دیوار کی دوسری طرف پھینک دیا تھا ان کے چھوٹے ذہن میں یہی تجویز آئ ہوگی۔  پولیس اور آرمی کے پہنچنے سے پہلے وہاں قیامت بپا ہو چکی تھی، سفید شرٹس، سبز جرسیاں پہنے نو عمر بچے سب خون میں ایسے رنگے تھے گویا سفید گلاب کے پھولوں کو سرخ رنگ میں ڈبو کے بکھیر دیا گیا ہو۔ دل دہلانے والا منظر تھا۔ آرمی نے پہنچتے ہی آپریشن شروع کیا تھا مگر تب شہر میں خبر پھیل چکی تھی، ایمبولینس بار بار چھوٹے چھوٹے زخمیوں کو ہسپتال منتقل کر رہے تھے جن میں سے اکثر نے راستے میں دم توڑ دیا تھا۔ ڈاکٹر بھی رو رہے تھے۔شہر کی سڑکوں پر ٹریفک جام ہوگیا تھا راستے بند ہو گئے تھے، پورے شہر میں ایک آہ و فغاں تھی۔ سو سے بھی زائد بچے شہید ہو چکے تھے، ان کے ماں باپ تڑپ رہے تھے، رو رہے تھے، چیخ رہے تھے اپنے بچوں کو شناخت کرنے کی کوشش کر رہے تھے،قیامت کا سا عالم تھا۔ شام تک آپریشن ختم ہو چکا تھا ۔اور اب جنازوں پر جنازے پڑھے جا رہے تھے، چمن اجڑ چکا تھا، پھول وقت سے پہلے کاٹ لیے گئے تھے۔ ہر آنکھ اشک بار تھی۔ ہر دل میں درد کی ٹھیسیں اٹھ رہی تھیں۔ ایسا لگ رہا تھا پورے پشاور سے ایک آہ اوپر کو اٹھ رہی ہے۔ ان گلابوں میں ایک گلاب عباد بھی تھا۔ عباد نے صبح مما سے ملتے ہوئے مذاق میں کہا تھا کہ وہ آج میجر بنے گا اس لیے اس کے لیے کوئ فیورٹ ڈش بنائے۔ اریشے نے اس کی پسند کے کابلی چاؤل بنائے تھے۔ جب 3 بجے تک وہ نہ آیا تو اریشے کو تشویش ہوئ اس نے عباد کے کزن کو کال کی، جو پشاور میڈیکل کامپلیکس میں ڈاکٹر تھے۔ ان کو پتہ تھا عباد شہید ہو چکا ہے وہ خبر ملتے ہی ہسپتال سے سیدھا عباد کے سکول گئے تھے تاکہ لاش مل سکے۔ مگر وہاں اتنا ہجوم تھا کہ اسے ابھی تک لاش نہیں ملی تھی۔ اسنے اریشے کی کال اٹینڈ کرتے ہوئے بس اتنا کہا تھا کہ وہ انکو پک کر چکے ہیں لیکن آج وہ دیر سے آئیں گے انھیں ہاسپٹل میں تھوڑا کام ہے۔ یہ سن کر اریشے تو زرا مطمئن ہو گئ تھی مگر عباد کے کزن آنسو پونچھتے ہوئے ابھی تک عباد کو ڈھونڈ رہے تھے۔ شام 6 بجے کے قریب جب ہال والی لاشوں میں وہ عباد کو ڈھونڈ رہے تھے تو وہ ایک ایک بچے کا کارڈ چیک کر رہے تھے کیونکہ شکلوں سے شناخت ممکن نہ تھی۔جب  اسے عباد کی نعش ملی تو پہلے وہ پہچان ہی نہ سکے  مگر خون کے چھینٹوں سے رنگے کارڈ پر عباد کا نام نظر آرہا تھا اور جب اسنے کارڈ کو پلٹا کے دیکھا تو اسے یقین ہو گیا کہ یہ طیب عباد ہی ہے کیونکہ اس پر عباد نے پین سے میجر عباد اور اپنا فیورٹ جملہ لکھا تھا جو وہ ہر جگہ لکھا کرتا تھا، کہ “I will live for ever”.
اسے ایک گولی دل اور دوسری چہرے پہ لگی تھی۔ اس کے کزن (ڈاکٹر برہان) میں اریشے کو بتانے کی ہمت نہیں تھی کیونکہ خود اس کے لیے عباد اس کے چھوٹے بھائ کی طرح تھا۔ وہ میڈیکل کامپلیکس میں جاب شروع کرنے کے بعد سے اریشے ہی کے پاس رہتے تھے جبکہ اس کا اپنا خاندان ڈی آئ خان میں رہتا تھا۔ اس کے ہاتھ کانپ رہے تھے، سمجھ نہیں آرہی تھی چچی کو اس کے لاڈلے کی موت کی خبر کیسے دے۔ ادھر اریشے کو حادثے کی خبر ٹی وی پر ہیڈ لائنز سن کر   مل چکی تھی وہ مرغ بسمل کی طرح تڑپ رہی تھی ، اسے معلوم نہیں تھا اسکا لاڈلا زندہ ہے یا مر چکا ہے وہ بار بار فون کر رہی تھی برہان کو اور جب برہان نے مشکل سے فون ریسیو کیا تو وہ صرف اتنا ہی کہہ پائے، ” اریشے آپی! حوصلہ رکھیے اللہ نے آپ سے اپنی امانت واپس لے لی ہے۔ عباد شہید ہو چکے ہیں۔”  یہ سن کر اریشے نے آہستہ سے دیوار کو تھاما اور وہیں سر تھام کے بیٹھ گئیں اسکے کانوں نے جب یہ خبر سنی تو دل پر کیا بیتی یہ اس ماں سے بہتر کوئ نہیں جانتا۔ برہان نے اپنے بھائ کو کال کر کے باقی خاندان والوں کو بھی اطلاع کر دی تھی انھوں نے اسی وقت تایا کے مشورے کے مطابق وزیرستان کے لیے نکلنا تھا، ایمبولینس اڈے کے پاس روک کر برہان نے اریشے کو  گھر سے پک کیا تھا، جو بلکل ساکن تھی، صدمہ اتنا گہرا تھا کہ، اسکے الفاظ غائب ہو چکے تھےاور آنکھوں سے آنسو ایک تواتر میں بہہ رہے تھے۔ انا للہ کا ورد کرتے ہوئے بار بار کہہ رہی تھی، ” عباد امر ہو گیا ہے ۔ عباد نے تو مرنا نہیں تھا۔” ایمبولینس میں چڑھتے ہی اس  نے عباد کے چہرے سے چادر ہٹائ تو ایک بے ساختہ سی چیخ اریشے کے منہ سے نکلی اور پھر بلکل خاموش، ایسے جیسے وہ ہواس کھو بیٹھی ہو، سیٹ پر منجمد بیٹھ گئ۔برہان بار بار اسے تسلیاں دے رہے تھے مگر اسے تو سنائ ہی نہیں دے رہا تھا کچھ۔ “عباد! میرے بیٹے آپنے اپنا شوق اتنا جلدی پورا کر لیا؟ تم نے زندہ رہنا تھا نا تم زندہ ہو۔” وہ سارا راستہ دعا کے ساتھ یہ الفاظ حواس باختہ دہراتی رہی۔ وہ راستہ، وہ سفر اسنے کیسے کاٹا ہوگا یہ وہی جا نتی ہے۔  ادھر شہر پشاور کئ دنوں تک غم میں ڈوبا تھا، لوگوں نے اخبار پڑھنا چھوڑ دیا تھا، اریشے 2015 سے ہی پشاور ہمیشہ کے لیے چھوڑ گئ تھی، اسے قرآن نے صبر سکھایا تھا مگر جب عباد کو دفنایا گیا تو وہ کئ دن تک کمبل ساتھ لیجا کر کہا کرتی تھی میرے بیٹے کو درندوں نے اس سردی میں کیسے شہید کیا؟ کوئ کمبل اوڑھا دے میرے بیٹے کو ۔ اسے مرنا نہیں تھا وہ ادھر اکیلے کیسے آگیا ہے۔ یہ اس لیے نہیں کہ وہ قرآن پر عمل نہیں کرتی تھی مگر یہ حادثہ اتنا اچانک اور اتنا شدید تھا کہ وہ سوچوں میں گم ایسی باتیں کرنا شروع ہو جاتی تھی۔۔ پشاور جو پھولوں کا شہر مشہور تھا اب اریشے جیسی سب ماؤں کو پھولوں کا مقتل نظر آتا تھا، عباد جیسے کئ بچے ہمیشہ کے لیے امر ہو گئے تھے ۔ ملک کا پرچم تین دن تک سر نگوں تھا اور ان بچوں اور اساتذہ کے لہو کا قطرہ قطرہ اس ملک پر نچھاور ہو گیا تھا۔
آج کئ سال گزرنے کے باوجود جب دسمبر آتا ہے تو اریشے کو عباد کی یادیں ستاتی ہیں آخر کو وہ ایک ماں ہے مگر پھر وہ اپنا سکون قرآن اور نماز سے حاصل کرتی ہے وہ جب بھی گاؤں کے بچیوں کو قرآن کی تفسیر پڑھاتی ہے یا جب روٹین کی دہرائ میں قرآن کی اس آیت پر پہنچتی ہے کہ شہید زندہ ہوتے ہیں تو وہ زیر لب عباد کو ضرور یاد کر کے کہتی ہے کہ بیشک اللہ کا وعدہ سچا ہے عباد شہید ہے وہ زندہ ہے اور یہ آیت اریشے کو  جینے کی قوت عطا کرتی ہے۔ اس کے ذہن میں آج بھی جب عباد کی آب حیات کی ریسرچ والی بات آتی ہے تو وہ مسکرا کر تصور ہی تصور میں عباد کو گلے لگا کر کہتی ہے، “عباد آپ نے شہادت کا جام پی کر آب حیات پی لیا ہے ۔تمہاری خواہش پوری ہوگئ ہے تم ہمیشہ کے لیے امر ہو چکے ہو۔انشاء اللہ جلد ملاقات ہوگی۔ پچھلے ہفتے یعنی 2 دسمبر 2021 کو جب وہ سرمئ سلک سکارف پہنے سبق دہرا رہی تھی تو اتفاقا وہ وہی سورۃ اور وہی آیت پڑھ رہی تھی جو اسے ان دنوں پڑھنی چاہیے تھی اور غروب ہوتے سورج کو دیکھتے ہوئے اسنے وہی الفاظ دہرائے تھے۔مگر اب وہ پرسکون تھی، اسے اللہ نے صبر دے دیا تھا اور اسے اللہ کے ہر وعدے پر یقین تھا۔ چلے جانے والوں سے ملنے کا یقین۔ عباد کو حضرت حسین رض کی ٹولی کے ساتھ اٹھائے جانے کا یقین۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔
آنے رملیہ
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
12:27 am
4 Dec 2021

کیا ہم آزاد ہیں؟؟؟

نیچھے تقسیم ہند کے دنوں کی تصویر ہے اور اوپر پاکستانی قوم 14 اگست مناتے ہوئے۔۔

آج چودہ اگست 2021 کو پاکستان کی 74 ویں سالگرہ کرونا وباء کے باوجود بہت جوش و خروش سے منائ گئ۔  یہ دن ہر سال بہت خوشی اور ولولے کے ساتھ، گھروں پر سبز جھنڈے لہرا کر، سڑکوں،  گلی کوچوں کو جھنڈیوں سے سجا کر، کچھ محب وطن سبز و سفید لباس پہن کر، اور ٹی وی ، ریڈیو وغیرہ پر ملی نغمے نشر کر کے منایا جاتا ہے۔ جشن آزادی کے نام پر بڑی بڑی تقریبات ہوتی ہیں اور اس دن کا آغاز اکیس توپوں کی سلامی کے ساتھ کیا جاتا ہے۔ یہ دن اگرچہ ہمیں اس دن کی یاد دلاتا ہے جب ہزاروں بلکہ لاکھوں کی تعداد میں لٹے پٹے مہا جرین کے قافلے پاکستان ، ایک آزاد ریاست کی سرزمین پر پہنچے۔ وہ لوگ اپنے گھر، کھیت کھلیان، اپنی بستیاں اور کاروبار سب کچھ چھوڑ کر پاکستان آئے۔ کیونکہ وہ اپنی آنکھوں میں ایک ایسی سرزمین کا خواب لیے ہوئے تھے جہاں انھیں عزت و سکون کے ساتھ اپنے مذہب اسلام پر عمل پیرا ہونے کی اجازت ہوگی۔ جہاں انکی ماؤں ، بہنوں اور بیٹیوں کی عفت و عزت سلامت رہے گی۔ جہاں نسلی ، صوبائ، مذ ہبی تعصب اور رنگت کی بنیاد پر نفرتوں کی بجائے ایک دین، ایک ملت اور ایک وطن میں خوشی خوشی رہنے کی اجازت ہوگی۔ جہاں لوگ، بنگالی، پنجابی، پشتون ، سندھی، بلوچی، کی بجائے مسلمان اور پاکستانی کہلائینگے ۔ وہ لٹے پٹے مہاجر قافلے کہ آج جس کی تصویریں دیکھ کر بھی دل دہل جاتا ہے، اپنے سینوں میں شہیدوں کی قربانیوں کا ثمر پا لینے کی آرزو لے کر آئے تھے۔ معلوم نہیں اس وقت کیا کیفیت ہوگی جب لوگوں نے آل انڈیا ریڈیو  لاہور سے پاکستان بن جانے کا اعلان سنا ہوگا۔ ان کی اس سرزمین تک پینچنے اور اس کی پاک مٹی کو آنکھوں سے لگانے کے لیے بیتابی کا کیا سماں ہوگا۔؟  وہ لوگ تو ہجرت کر کے آگئے۔۔ اقبال کے خواب کی تعبیر مکمل ہوگئ۔ پاکستان ( پاک لوگوں کی زمین) تو بن گیا۔ آزادی مل گئ۔ اور تب سے آج تک اس آذادی کا دن منایا جانے لگا مگر آج میرے ذہن میں بلکہ شاید کئ ایسے لوگوں کے ذہن میں جنھوں نے پاکستان کی تاریخ پڑھی ہے، یہ سوال اٹھتا ہے کہ کیا ہم واقعی آزاد ہیں؟؟؟ کیا یہ ملک اور اس کے باشندے حقیقت میں آزادی کے معنی و مطلب پر پورا اترتے ہیں یا یہ آزادی صرف لفظی یعنی کہنے کی حد تک آزادی ہے؟؟
      آزادی کا لغوی مطلب ہے خودمختاری اور حریت۔ یعنی قول، فعل اور سوچ کی خود مختاری ۔اگر ہم اس معنی کے تناظر میں جائزہ لیں تو مجھے ایسا محسوس ہوتا ہے کہ ہم آزاد نہیں ہیں ۔ کیونکہ ہمارا لباس اور ہمارے رہن سہن کے طریقے اس دین کے مطابق نہیں ہیں جس کے نام پر یہ ملک بنا۔ ہم ذہنی طور پر اب بھی غلام ہیں اور ہم اب بھی وہی روش اپنائے ہوئے ہیں جو انگریز ہمارے لیے چھوڑ کے گئے تھے ۔ ہم اب بھی اسلام پر چلنے والوں کو قدامت پسند اور مغرب کی پیروی کرنے والوں کو روشن خیال اور ترقی یافتہ تصور کرتے ہیں ۔ ہم بھول چکے ہیں کہ ہمارا راستہ اور رہنمائ کے لیے مغربی قومیں نہیں بلکہ قرآن بھیجا گیا تھا۔ خیر یہ سب چھوڑیں آئیں اس بات کا ملاحظہ کریں کہ کیا ہم جسما نی لحاظ سے آزاد ہیں؟ کیا واقعی ہمارا ملک اس خواب کی تعبیر ہے جو لٹے پٹے، خوں میں لت پت مہاجریں اپنی آنکھوں میں بچا کر لائے تھے؟؟؟ مجھے افسوس سے اس کا جواب بھی نفی میں کرنا پڑ رہا ہے۔ اور اگر کسی کو مجھ سے اعتراض ہے تو وہ زرا اخبارات اور رپورٹس اٹھا کر دیکھیں کہ اس ملک میں عورت جیسی صنف نازک کی عزتیں کتنی محفوظ ہیں؟ کہ یہاں تعصب کتنا ہے؟ یہاں کرپشن، جھوٹ، دھوکہ اور رشوت کے بازار کتنے گرم ہیں؟ تو پتہ چلے گا ہم کتنے آزاد ہیں۔ مگر اس سب میں کسی اور کا نہیں ہمارا قصور ہے ۔اور جب بھی میں کسی کو ملک کے حالات پر تنقید کرتے دیکھتی ہوں یا میں خود ایسی کوئ تحریر لکھتی ہوں تو مجھے بے ساختہ یہ شعر یاد آتا ہے، جو بحیثیت قوم ہماری اپنی نااہلی کی وجہ سے ہم پر پورا اترتا ہے ،
ع    دے رہا ہے اپنی آزادی کو مجبوری کا نام
     ظالم اپنے شعلۂ سوزاں کو خود کہتا ہے دود۔

کیونکہ بجائے اپنی آزادی کو اصل روپ دینے کے، بجائے اپنی ملک کو ترقی کی راہ پر گامزن کرنے کے،بجائے اس مٹی کا حق اور شہیدوں کی لہو کا حق اتارنے کے ہم ایک دوسرے کو مورد الزام ٹھہراتے ہیں اور خود کو مجبور ثابت کرتے ہیں جو کہ یقینا غلط قدم ہے۔
آخر میں عرض ہے کہ امید کا دامن نہیں چھوڑنا چاہیے ابھی بھی وقت ہے اور ایک عظیم شخص اور قوم وہی ہے جو اپنی غلطیاں دہرانے کی بجائے اس سے سیکھے اور مستقبل میں اس کی اصلاح کی کوشش کرے ۔ ہم آج بھی اگر مل کر اس قوم و ملک کی خدمت کریں تو ہمارا ملک آج بھی دنیا کے نقشے پر ایک عظیم و ترقی یافتہ ملک کی حیثیت سے ابھر سکتا ہے ۔کیونکہ اس ملک میں صلا حیتوں کی کمی نہیں ہے بس کوشش اور محنت اور اس صلاحیتوں کو پہچاننے اور آگے لانے کی دیر ہے ۔۔

اقبال کا کہنا بجا تھا،
ع      نہیں ہے ناامید اقبال اپنی کشت ویراں سے۔۔
        زرا نم ہو تو یہ مٹی بڑی زرخیز ہے ساقی۔۔۔
        میری دعا ہے کہ یہ ملک تا قیامت سلامت و آباد رہے۔ کہ اے وطن ہم تو مٹ جائینگے لیکن تم کو۔۔۔
        زندہ رہنا ہے قیامت کی سحر ہونے تک۔۔۔
        پاکستان زندہ باد۔۔۔
بقلم آمنہ شکیل۔۔ بروز 14 اگست 2021

عظیم مصور کا عظیم شاہکار (صنف نازک)

صنف نازک کے ادوار زندگی

یہ عام کہانیوں جیسی کہانی نہیں ہے بلکہ یہ ایک مختلف داستان ہے ۔۔ ایک عظیم مصور کے ایسے شاہکار کی داستان جو ساٹ پینسٹھ سال پر محیط ہے۔ مصور کا کمال دیکھئے کہ با وجود یہ کہ یہ رنگین تصویر اسکی باقی بنائ ہوئ بنی نوع انسانوں کی تصویروں جیسی دکھتی تھی مگر پھر بھی یہ ان سے  حد درجے مختلف تھی اور ہے۔
آئیے ہم بزبان قلم آپکو اس خوبصورت شاہکار کے خدوخال بیان کرتے ہیں۔20جولائ 1956 کی شام ، جب چاند پوری آب و تاب سے چمکا، جب گرمی کے اس موسم میں سمندروں کی لہروں میں چاند کے قوت کشش سے ارتعاش پیدا ہوا۔ اور اس چاندنی رات میں جب چاند کی تابناک کرنوں نے زمین کے گال چھوئے تو مصور،_دو جہاں کو یہ لمحے اپنے فن کے مظاہرے کے لئے بڑے موزوں لگے تھے ۔ پس اس نے اکیسویں صدی کے کینوس پر اس تصویر کی تخلیق شروع کی۔۔
مصور زوالجلال نے پہلے درد کے کالے بادل بنائے مگر یہ بادل امید کا اشارہ بھی دے رہے تھے ۔ ایک بات یہاں یاد رکھنے کی ہے کہ کوئ بھی فنکار ، خاص طور پر شاعر اور مصور ہمیشہ اپنے فن کا مظاہرہ کچھ اس انداز سے کرتے ہیں کہ اسے خود انکی طرح کوئ اور نہیں سمجھ سکتا بلکہ ہر شخص اس سے اپنا ہی مطلب اخذ کرتا ہے۔۔اسی طرح اس مصور کی تخلیق میں یہ بادل بھی پر اسرار تھے۔ بادلوں کے دوسرے پار کچھ عرصہ کے بعد مصور نے ایک مسکراتی ماں اور اس کی گود میں کھیلتی معصوم سی بچی کی تصویر بنائ۔۔
اس نے ماں کی تصویر میں رحم, شفقت، ممتا اور غیر مشروط لازوال محبت کے رنگ بھر دیئے۔۔
اب بچی کی تصویر میں رنگ بھرنے کی باری تھی۔۔ مصور اسے پینٹ کرتے ہوئے جیسے فرط محبت سے مسکرا رہا تھا۔ کیونکہ وہ جانتا تھا کہ یہ تصویر اس کی رحمت کا عکس ہے ۔  سب سے پہلے اس نے ماں باپ کی محبت کی پانیوں میں گھولے ہوئے بچپنے کے  معصوم شرارتوں کی رنگوں سے اس بچی کی فراک میں رنگ بھرے ۔۔پھر اس کے بعد کئ برس تک مصور نے وہ پینٹنگ وہیں وقت کی دھوپ تلے رکھ دی ۔کہ جب وہ رنگ ماند پڑنے لگینگے پھر وہ اس میں مزید رنگ آرائ کرے گا۔
مگر یہ کیا، پینٹنگ دیکھتے ہی معاشرہ نامی گاؤں کے لوگوں نے وہاں سے گزرتے ہوئے ناگواری سے منہ بنایا، کچھ نے کہا کہ ہونہہ! کیا یہی لڑکیوں کی تصویر سوجھی تھی اس مصور کو۔ کیا وہ لڑکا نہیں بنا سکتا تھا جو والدین کے ٹاٹ باٹ اور ان کی طاقت بننے کی ترجمانی کرتا۔ ان احمق لوگوں کی خام خیالی تھی کہ بچی کی نسوانی تصویر کسی عورت کی کمزوری کی ترجمانی کرتی ہے۔ ان کو تو یہ ایک بہت معمولی پینٹنگ لگتی تھی مگر انھیں کیا معلوم تھا کہ مصور۔ دو عالم کے ہاں ایسی پینٹگز کتنی قیمتی ہوا کرتی ہے کہ کوئ بھی مصور اپنے ہی کام میں فرق نہیں کرتا اسے اپنی ہر تخلیق سے محبت ہوتی ہے ۔ اب پانچ، چھ سال بعد مصور نے وہاں اسی کے سامنے اسی بچی کی تصویر کا نیا رخ بنایا ۔ اس تصویر میں وہی بچی بالوں میں شوخی کے پھول سجائے، ہونٹوں پر مسکان کی لالی لگائے، اور مستی، بے نیازی، محبتوں کے موتی جڑے ایک لمبا فراک پہنے  زندگی کے ایک خوبصورت نو عمری کے باغ میں خوابوں کی رنگ برنگی تتلیاں پکڑ رہی تھیں۔
اب کیا تھا اس گاؤں میں واویلا مچ گیا تھا۔ ہر طرف اعتراض ہی اعتراض تھا۔ کسی کو نسوانی پینٹنگ پر، کسی کو شوخ رنگوں پر، کسی کو تتلیوں پر ، کسی کو اس شاہکار کے سبق پر ۔عرض جتنے منہ اتنی باتیں تھیں۔اس گاؤں کے ہر مرد کو اگرچہ اس شوخی جھلکنے والی تصویر پر تو اعتراض تھا مگر ساتھ ہی وہ آنکھوں میں اپنا جنسی میلا پن لیے اسے دیکھتا تھا۔ ہر مرد اس تصویر  میں اپنی خواہش کی انگڑائ محسوس کرتا تھا مگر وہ ساتھ والوں پر کبھی یہ ظاہر نہ ہونے دیتا اور ایسا تقریبا ہر نکتہ چیں کر رہا تھا۔
مگر مصور دو جہاں..! وہ خاموش تھا ۔ وہ جانتا تھا اس شاہکار کی قیمت کیا ہے ۔ کیونکہ سونے کی قیمت تو سنارہی جانتا ہے وہ تو پھر مصور دو جہاں تھا۔
اب وقت کافی گزر چکا تھا اور اس پینٹنگ بورڈ پر مصور نے جو جگہ چھوڑی تھی وہاں اس تصویری کہانی کا نیا موضوع پینٹ ہونا تھا ۔اب کی تصویر میں بچی سن بلوغت سے گزر چکی ہے وہ ایک جاذب نظر جوان لڑکی دیکھائ دے رہی ہے۔ بالوں کی گھنگھریالی لٹیں اس کی ٹھوڑی کو چھو رہیں تھیں۔ اور وہ ایک ہاتھ میں قلم اور کاعذ تھامے دوسرے کو ہوا میں لہرا رہی تھی معلوم ہو رہا تھا وہ کسی سٹیج پر کھڑی تقریر کر رہی تھی، ایسے جیسے وہ معاشرہ نامی گاؤں کے لوگوں کوسبق دے رہی ہو کہ بیٹی بوجھ نہیں ہوتی، بیٹی کسی کی غلام نہیں ہوتی، بیٹی صرف مردوں کے استعمال کی شے نہیں ہے بلکہ اگر اسے پڑھاؤ لکھاؤ تو یہ شاہین سے اونچا اڑ سکتی ہے، یہ ستاروں پر کمند ڈال سکتی ہے، یہ گھر کو جنت بنا سکتی ہے، یہ ذہد و عبادت میں رابعہ بصریہ، حیا میں فاطمہ رض، علم میں عائشہ رض، پاکیزگی میں اماں خدیجہ رض اور بہادری میں زینب رض، خولہ بنت ازور رض اور حضرت صفیہ رض بن سکتی ہے ۔ مگر اس بات کو سمجھنے والے کم اور اعتراض کرنے والے زیادہ تھے اور یہ مصور_ عظیم کی اس پینٹنگ میں اس انداز سے پینٹ کیا گیا تھا کہ اس لڑکی کے سامنے صرف کچھ لوگوں کا مجمع تھا اور جہاں وہ لڑکی اور وہ مجمع تھا اس کے ارد گرد روایات، رسومات، قبائلی غیرت اور اعتراضات کی آہنی سلاخوں اور تاروں کے جال کو پینٹ کیا گیا تھا جس کے دوسری طرف کھوٹی سوچ کے لوگ کھڑے ہاتھوں میں گندی نگاہوں، گالیوں، تہمت، جنسی خواہش، ظلم، آوارگی، ناخواندگی، نالائقی کے پتھر اٹھائے اس لڑکی پر پھینک رہے تھے۔ اب پینٹنگ کا تقریبا ستر فیصد مکمل ہو چکا تھا اور رنگ وقت کی دھوپ میں پڑے پڑے ماند پڑنے لگے تھے۔ اب راہگیروں کے جملے بھی کم ہونے لگے تھے اور اس کی طرف اٹھنے والی نگاہیں بھی کم ہو گئ تھیں۔ مگر اب مصور اس شاہکار کا آخری حصہ پینٹ کرنا چاہتا تھا۔ جوانی ڈھلنے کے بعد کا حصہ۔ مردوں کے لیے بے لذت ہو جانے کا حصہ۔ بڑھتی ہوئ عمر کا حصہ۔ جھریوں سے بھرے چہرے اور گھر بار، بال بچے، سسر ساس اور رشتہ داریاں اور زمہ داریاں نبھاتے نبھاتے کمر جھک جانے کا حصہ۔ خود سب کچھ دوسروں پر وار کر، اپنا سارا سکون، پیار، اور پھر زندگی اپنے بچوں، گھر والوں اور شوہر پر نچھاور کر کے خود ہر رنگ ہر شوخی سے عاری ہونے کا حصہ۔ جی ہاں! اب مصور سبحانہ و تعالی وہ حصہ پینٹ کرنا چاہتا تھا جب ایک معاشرے نامی گاؤں کے لوگوں کی نظر میں ایک تابعدار عورت  وہ ہوتی ہے جسے ساری عمر تابعداری کرنے کے بعد موت کے قریب ہو جانے کے وقت کچھ لوگ شاباش کا تمغہ پہناتے ہیں مگر اب اسے رنگینیوں اور شاباشی کا شوق نہیں رہتا ۔ بس اتنا ہوتا ہے اسکے بالوں کی چاندی دیکھ کر اکثر آوازیں خاموش ہو جاتی ہیں اور ان کی خدمت ہونے لگتی ہے اور کچھ بد نصیبوں کو اتنا بھی نصیب نہیں ہوتا۔ اب تصویر کے اس رخ میں رنگ بھرنے کی باری آ چکی تھی، صرف ہلکے، پھیکے، سرمئ رنگ۔ مصور کا شاہکار مکمل ہو گیا تھا، مگر پتہ ہے کیا؟؟ اب جب لوگ شاہکار دیکھنے آتے تھے تو سب آدھے پینٹنگ کی تعریف کرتے تھے اور آخری حصہ کسی شاذ و نادر کو ہی پسند آتا۔ مگر یہی حقیقت ہے۔ زندگی کی حقیقت۔ شاہکار کو اب مصور نے مٹی میں دفنا دیا تھا بغیر کوئ نشانی کے۔ اب ساٹ، پینسٹھ سال بعد نہ شاہکار تھا، نہ لوگوں کا ہجوم ، نہ انکی چبھتی نظریں اور نہ ہی انکے اعتراض۔ عظیم فنکار اور مصور دو جہاں کے اس خوبصورت شاہکار کی کہانی مکمل ہو چکی تھی مگر اس کو دیکھنے والوں میں سے صرف چند ہی اس پینٹنگ کو سمجھ پائے ہونگے، کہ شاعری اور شاہکار کو خود فنکار سے زیادہ کوئ نہیں سمجھ سکتا۔
میں نے جب اس پینٹنگ کی تصویر دنیا کے عجائب گھر میں دیکھی تو بے ساختہ اقبال کی یہ نظم گنگنانےلگی جو میرے خیال میں قارئین کے لیے اس فن و تصویر کا خاکہ پیش کرتی ہے

وجود زن سے ہے تصویر کائنات میں رنگ

اسی کے ساز سے ہے زندگی کا سوز دروں

شرف میں بڑھ کے ثریا سے مشت خاک اس کی

کہ ہر شرف ہے اسی درج کا در مکنوں

مکالمات فلاطوں نہ لکھ سکی لیکن

اسی کے شعلے سے ٹوٹا شرار افلاطوں

بقلم آنے رملیہ از پائیڈ۔

August2020-August2021

If I put On my veil…

let suppose! If i put on my veil
will they lower their gaze??
will they cease to lurk and chase??
will it decline the harrasment cases?
will they cease passing dirty phrases?
Only if i put on my veil
and wear not my makeup
will they stop to kill in honour?
will they no more have temptation?
will they do not bully and abuse?
will they cease to be a Rapist??
Can you please assure??
if i put on my veil, cover my self
will it change them too??
I fear it will Not,
for its not the absence of my veil
that they murder, harrass, rape and rant
but the presence of a veil, A cover
On their greasy eyes, mind and heart..

Aanay Ramliya
11:55 pm
7Aug2021

The Gap or the Difference

” Jane!, OO jane! wake up! Wake up!” She was calling me loudly and I just woke up when I heard her calling my name. “What happened to you? Are you okay?”She was asking me as I was sighing and breathing fast with one hand on my heart, waking up to a nightmare. I couldn’t answer her being stressed and relaxing myself to forget about the bad dream.
The large windows of our room were left open and the pitter-patter sound of the rain was even disturbing. “Oh god please stop this rain I just hate it”. “Why the hell is still raining?” “Is it just to make me sad huh??” I was complaining to God continuously. I thought I was saying this in my mind but it gave me a goose bump when my sister loudly said, “Stop whining please. It’s not the rain but “The gap” that disturbs us all.
The gap? OH what is she referring to? I rolled my eyes though she couldn’t see me in the dark. Ummmm “the gap”. I repeated it slowly and give it a thought but couldn’t figure it out to be honest. Simi! “Would you please explain it to me?” I turned my head to her, cupping my face in my hands as if I am really very interested to listen to her but actually I was curious about the word she said.
“Okay! Let me finish my task and I am going to tell you after a while” she replied gently as always, completing her assignment in the light of table lamp. Few minutes were passed and she began to talk, “When I said “the Gap” I meant that we human beings are never grateful for what we have. We always complain about the little things that happen to us but we never thank our lord for all the beautiful and many great things that we have. Just like you were whining about the rain a while ago but have you thought that there are people who wish to see and have some rain as they need it? Have you ever thank Allah for not even able to make a choice of so many dresses you have in your closet? When there are people who can’t even have a piece of it to cover themselves decently? Have you thought for a minute about those who collect scraps from the dumping sites to survive, when you are selecting and wasting time on the menu at dining table? Have you ever gave your wallet full of money to the one who hold their hands sacrificing their self-respect and beg to you for a penny?? Or have you even asked God that why are you different than them? Are you better than them anyway? Have you ever looked into the eyes of “chootay” at tea or juice corners when they are serving you and longing to wear a uniform like you and to have someone caressed at their cheeks and buckle their shoes like dad does yours??? Isn’t it the Gap between you and them? Isn’t it the difference God has created among people to test them but we see it differently. We always whine for little and tiny hardships and we always compare ourselves to those better than us and lament at what we don’t have rather than thanking for the blessings we are given even when we don’t deserve them. So this is actually “the Gap” I was referring to, that make us complain about things without realizing the true subject. Hope you understand it now and will think twice about it if you encounter a problem again”. “Now go to sleep please I wish you a good night”. Saying this, she left the room taking her bag along, she closed the door slowly. But all this really lasted an impact on me. And I really miss her when it rains as her kind voice echo in my head. She made me understand why we complain for little problems and not feel grateful for what we have. It is just because we see things from different and negative perspective.

Good bye take care till the next blog. With love and Regards Aanay Ramliya45

March 1, 2020

Spring Needs to be in the Heart

Crip-crap, Crip-crap, the soothing sound of dry leaves was quite prominent as they walked over them without talking to each other. The month of March had just begun which used to be the arrival of spring in their country. Bunnies could be seen hopping around and scampering. Birds could be heard singing but dove’s song was the most profound and beautiful sound to them to recognize that spring had actually arrived. Both of them had their memories attached to this lovely sound. Weather was getting warmer than the chilly cold of January then and days were getting longer. Daffodils, camellia and tulips’ flowers were blooming and anemones ushering in spring loud and proud with vivid blooms in colors like pink, red and burgundy. Both of them were deeply sunk in the serenity of nature each waiting for the other to speak first. “Mugheera! Which book are you reading these days?” Zakwan asked him as he couldn’t wait anymore. “Ummm! I am not reading anything these days I just can’t concentrate on books even. I am quite distracted. Everything, even my life seems dull and boring to me. I feel broken since my brother’s death as he was diagnosed with cancer. I wish I could give him my life and he could live longer”. Mugheera responded, in sad tone as if weary and tired.
“Oh chap! Come on, that’s not a big deal, life is meant to end for all of us. Death is undeniable. All of us will die. Stop thinking about the past. Look at the beauty of the nature and how spring has decorated everything with a new dress of its kind. Haven’t you heard Sufi Shams’ quote that beauty is in the eyes of beholder?” So unless you see the beauty around you and the beauty in your life, you are not going to get out of this trauma, brother.” Zakwan lectured him as if he was his mentor as always.
“Yeah! Yeah! I have heard this and Sufi Shams has been absolutely right and this is why I can’t feel the serenity and the blissful beauty, of the spring these days. I just can’t feel the spring because spring is not outside rather, it lies in the heart. And as long as your heart has the beauty everything seems fragrant and joyful but when heart mourns, your world become colorless. Thus, it will take me some time.” Said Mugheera raising his right eyebrow with his eyes still calm and deep. Both headed towards the end of the walking track and were about to depart then.
Mugheera’s answer left Zakwan with no answer but to agree with him, both were right at their own. The stance of Mugheera really is applicable to life in every perspective. It’s not the mind but the heart that keeps one alive. When heart dies, life become meaningless. As Meer Dard (a famous poet) puts it, “I fear the death of my heart, as my life lives by it.” Every weather becomes breezy if a person’s heart celebrates spring of joy and love otherwise, even a spring outside will be autumn for a negative person. Though, sadness is a part of our emotional life but holding on to it without helping yourself to change is wrong way of dealing with emotions.
As far as one’s heart is delighted, his life is beautiful too. He then finds beauty in every little thing he has and every task he does. He can make others happy and care for them only if he is happy himself. And same is the case of practicing religion. As narrated in a famous Hadith that every organ of the body performs well when the heart performs better. But if the heart is ill, impure and distracted, everything else gets wrong itself, because heart is the director and the king of all the organs. May our heart be purified by the will and love of Allah Ameen.
keep spreading love and peace and it will echo.

4march2020


Aanay Ramliya 45

ایک کی جیت، دوسرے کی ہار

دیہات کی شفاف فضا میں چاند خوب روشن تھا ایسے جیسے کوئ فانوس آسمان سے لٹک رہا ہو۔۔ دیہات کی راتیں بہت خوبصورت اور پرسکون ہوتی ہیں ۔آسمان پر تارے ایک کہکشاں کا نظارہ پیش کرتے ہیں اور پر جب چاندنی رات ہو تو بات ہی کچھ اور ہوتی ہے۔ آج بھی چاندنی رات تھی اور آریان بھی ایرگل کے گھر ہی رک گیا تھا۔ وہ بہت خوش تھا اور اپنے جذبات چھپا نہیں پا رہا تھا۔ بار بار مسکرا رہا تھا کہ آج جیسے صدیوں بعد کوئ ناسور جیسے زخم بھرے ہوں۔۔اسے ایسے لگ رہا تھا جیسے کوئ مسافر تھک ہار جائے اور بہت سالوں بعد اپنے منزل پہنچ کر گہری نیند سو کہ اٹھ جائے۔۔ایسے جیسے گہرے غم کے بادل پہلی دفعہ چٹ گئے ہوں۔ کیونکہ آج وہ اپنی محبت جیت گیا تھا۔اسکو سجدوں کا جواب مل گیا تھا۔اس کی دعائیں کامل ہو گئ تھیں۔سو وہ آج ایرگل سے ڈھییر ساری باتیں کرنا چاہتا تھا۔وہ پہلی دفعہ اس کے اتنا قریب بیٹھا تھا کہ اسے ایرگل کی سانس تک سنائ دے رہی تھی۔ ایر گل! اسلام علیکم۔ آریان نے دھیرے سے مزاحیہ انداز میں کہا۔ والسلام آریان! “کیسے ہیں آپ؟” ایرگل آہستہ سے بولی۔
“میں ٹھیک ہوں لیکن ایرگل میری جان! آج مجھ سے اپنے جذبات قابو نہیں ہو رہے۔۔میں اتنا خوش ہوں کہ مجھے یقین ہی نہیں آرہا ہماری شادی کی بات پکی ہو گئ ہے۔ کیا اللہ ایسے سنتے ہیں دعائیں؟؟؟؟ اب تو مجھے اللہ جی سے اور بھی محبت ہونے لگی ہے”۔ آریان بولے جا رہا تھا۔ لیکن ایرگل کیا آپ بھی میری جتنی خوش ہیں میری ساتھی بننے پر؟ بلکہ مجھے یقین ہےآپ بہت خوش ہیں۔۔ہے نا؟؟” آریان نے ایرگل کی طرف دیکھتے ہوئے پوچھا۔
“آریان! آپ بہت خوش قسمت ہیں ۔آپ کو محبت مل گئ ہے۔ اور جیسے آپ کی سوچ اور خواہش تھی بلکل ویسی۔مگر مجھے نہیں معلوم میں کتنی خوش ہوں۔۔ہاں ایک بات ہے کہ مجھے آج بہت گھبراہٹ ہو رہی ہے۔ اور پتہ ہے آج مجھے اپنا آپ کیسے محسوس ہو رہا ہے؟؟ ایرگل نے سوالیہ نظروں سے دیکھا آریان کو۔۔
جی بولیے! اس نے جوابا بڑے احترام سے کہا۔ویسے بھی وہ محبت سے زیادہ، احترام کرتا تھا ایرگل کا۔
ایرگل گویا ہوئ،”ہممم !جب ہم چھوٹے ہوتے تھے تو اکثر چڑیا کمرے میں آجاتی تھی۔ اور ہم اسے دروازہ بند کر کے پکڑنے کی کوشش کرتے تھے۔ مجھے یاد ہے ایک دفعہ ہم سارے بچے اس بڑے والے ( ما موں کے کمرے کی طرف اشارہ کر کے) کمرے میں پڑھائ کر رہے تھے کہ ایک چڑیا اندر داخل ہوئ بس پھر کیا تھا۔ ہم نے کتابیں بند کی اور اسے پکڑنے لگے ۔وہ کبھی ایک طرف اڑتی کبھی دوسری طرف_ کافی دیر تک یہ کھیل جاری رہا پھر آخر کو وہ تھک کر گر گئ جیسے اب طاقت ختم ہو چکی ہو۔ اور پھر ہم نے چادر ڈال کر اسے پکڑ لیا۔ ” آریان تب ہم بچے تھے ایسا کر کے خوش ہوتے تھے مگر آج مجھے ایسے لگ رہا ہے جیسے میں خود وہ چڑیا بن کر گر گئ ہوں۔۔میں آج تک اڑتی ہی رہی تھی ۔ مجھے خوابوں کی تکمیل کرنی تھی اور ان خوابوں کے سفر میں شادی اور تعلق کی گویا کوئ جگہ ہی نہ رکھی تھی اور میں معاشرے سے بچنے کے لیے ادھر ادھر اڑ رہی تھی ہاں میں اوپر کو بھی نہیں اڑ سکتی تھی ک چاروں طرف اقدار و روایات کی دیواریں تھی ہر دفعہ ٹکراتی تو پر زخمی ہوتے۔ اور اب وہ وقت آگیا ہے کہ میں تھک کر اسی چڑیا کی طرح خود ہی گر گئ ہوں اور ان بچوں کی طرح وہ خوش قسمت بچہ آپ ہی ہے جس نے اسے پکڑ لیا ہے۔۔”
ایرگل اب چپ ہو گئ تھی۔ وہ شاید بہت سارے ایسے پرندوں کا قصہ سنا رہی تھی اور آریان سوچ رہا تھا کہ لوگ کیوں محبت مل جانے کی دعا کرتے ہیں اگر مل کر بھی وہ اپنے آپ کو ایک قید سمجھتے ہیں تو یہ جیت نہیں شا ید دوسرے کی ہار ہوتی ہے۔
آنے رملیہ۔۔

1:00 am .
Mon 24 2021

جیو کہ زندگی خوبصورت ہے۔۔


میں نے زندگی کے کئ روپ دیکھے ۔کبھی بہار کے خوش رنگ پھولوں سے ڈھکی ہوئ۔تو کہیں خزاں کے سوکھے پتوں کی مانند بکھری ہوئ۔کہیں آبشاروں کی طرح ایک ردھم میں بہتی ہوئ۔۔تو کہیں خالی وسیع صحرا جیسی تپتی ہوئ۔کہیں ذوالفقار بن کر علی رضی اللہ کی شجاعت دیکھاتی ہوئ۔تو کہیں تپتی ہوئ ریت پر لیٹ کر بھی احد احد کا نعرہ لگاتی ہوئ۔کبھی اسے کربلا کی زمین پر تلواروں کی جھنکار میں سجدہ ریز ہوتے دیکھا تو کبھی گانے بجانے اور موسیقی کی محفلوں میں شراب پیتے ہوئے۔۔کہیں میں نے اسے دکھوں اور غموں سے چور ہو کر بھی صبر و شکر کا لبادہ اوڑھتے دیکھا ۔تو کہیں ہر آسائش کی موجودگی میں بھی تاریکیوں میں الجھی اور ناشکری کرتے ہوئے۔کہیں بڑے بڑے آزمائشوں میں  بھی خالق کو یاد کرتے ہوئے۔تو کہیں باغ و بہار اور دولت کے باوجود بھی مایوسی کے بھنور میں پھنستے ہوئے۔۔کبھی میں نے بیماری کی حالت میں آخری سانس لینے والے۔۔محاذ جنگ میں اپنوں سے بہت دور شہید ہونے والے۔اپنے وطن سے باہر کچھ کمانے کی خاطر مسافر کیطرح  زندگی گزارنے والوں کی آنکھوں میں زندگی کو امید کی صورت دیکھا تو کہیں سنگ مرمر کی محفلوں میں بھی اسے برباد اور ضائع ہوتے دیکھا۔۔غرض یہ کے میں نے ذندگی کو کئ طرح  اور مختلف طرز سے گزرتے دیکھا۔مگر میرا دل تب دہل گیا جب میں نے سنا اور دیکھا کہ زندگی خود اپنے ہی ہاتھوں خود کو موت کے حوالے کر رہی ہو۔
میں نے تب سوچاکہ گو موت ایک اٹل حقیقت ہے مگر یوں گلے میں پھندا ڈال کر۔۔اونچی عمارت سے چھلانگ لگا کر۔۔یا گولی چلا کر خود کو یوں موت کے کنوئیں میں پھینک دینا اور اپنے پسماندگان کو ازیت کا ترکہ دینا کہاں کی عقلمندی اور کہاں کا انصاف ہے؟
کیا مالک و خالق حقیقی نے اس لئے  اتنے مان سے۔فرشتوں کے سامنے فخر کر کے تجھے پیدا کیا تھا۔  کہ تو یوں بیزاری اور نا قدری سے اپنے گردن سے زندگی کو اتار پھنکے؟؟؟ کیا تمھاری زندگی صرف تمھارا حق تھی۔۔کیا اسے بنانے اور تجھے صحیح سلامت دینے والے کا اس پر کوئ حق نہ تھا۔کیا یہی زندگی جینے کا مقصد تھا۔۔کیا یہی درس دیا تھا تجھے اصلا ف و قرآن نے؟؟۔۔کیا تجھے اشرف المخلوقات کا درجہ اسی لئے عطا ہوا تھا؟۔۔کیا یہ زندگی اتنی ہی بے مول رب ذوالجلال نے بنائ تھی تیرے لیے کہ تو جب چاہے اسے پھینک دے؟؟؟
لیکن پھر خیال آیا کہ ہو سکتا ہے اس میں خود زندگی کا یعنی ابن آدم کا کوئ قصور نہ ہو۔بلکہ اسے دکھوں اور پریشانیوں نے،گھریلوں پیچیدگیوں نے، کسی محبت کے کھو جانے نے یا پھر معاشرے اور آس پاس کے لوگوں نے اسے تکلیف اور صدمہ پہنچا کر اس نہج پر لا کھڑا کر دیا ہو کہ خود زندگی کو اپنے آپ سے موت زیادہ حسین دیکھائ دی ہو۔یا موت اسے اپنے سب مسئلوں کا واحد حل سوجھا ہو۔ابھی میں کئ حیلے سوچ ہی رہی تھی کہ مجھے قرآن میں سے خدا کی آواز سنائ دی جس نے مجھے اپنی طرف نہ صرف متوجہ کیا بلکہ میرے ذہن میں فلم کی طرح چلتی ، میرے نفس کے پیش کردہ سب بے معنی حجتوں کا رد بھی کیا۔
اللہ جی کہہ رہے تھے کہ “چلو مان لیا  ابن آدم یا بنت حوا ! کہ تیرے دکھ بہت بڑے تھے۔تجھے تکلیف پہنچی تھی لیکن کیا میں نے سورہ بقرہ کے آخری حصے میں تجھ سے یہ نہیں فرمایا تھا کہ میں کسی بھی نفس کو اس کی برداشت سے بڑھ کر تکلیف نہیں دیتا۔۔۔مانا تم پر تنگی آئ۔مشکلات آئے لیکن کیا سورہ الانشراح میں تجھے میں نے خوشخبری نہیں   دی تھی کہ ہر تنگی کے ساتھ آسانیاں ہیں”
“چلو! تم دنیا والوں سے نا امید ہو گئے تھے مگر کیا میں نے تمھیں نصیحت نہیں کی تھی کہ دیکھ میرے بندے لا تقنطو من رحمتہ اللہ۔اگر تمھاری کوئ نہیں سن رھا تھا تو تمہیں کتنی بار میں نے سمجھایا کہ دیکھ میرے بندے تیرا رب سننے والا سمیع بھی ھے۔۔۔وہ دیکھنے والا بصیر بھی ہے۔وہ بے مانگے اور  بغیر مستحق ہوئے دینے والا الوھاب بھی ہے۔کیا میں نے نبی مصطفی صل اللہ علیہ وسلم کے زریعے تجھے پیغام نہیں بھیجا تھا کہ میرے بندوں سے کہو کہ میں ان کے بہت قریب ہوں اور میں پکارنے والوں کو جواب دیتا ہوں۔مگر تو بتا ! کتنی دفع تم نے مجھے پکارا جو میں نے تم سے کبھی منہ موڑا ہو؟۔چلوہو سکتا ہے کہ تمہیں لوگوں نے دکھ دیئے ھوں۔ رسوا کیا ہو ۔مگر کیا تم میرے بندے نوح ع سے ,، میری بندی مریم ع سے،میرے پیارے یوسف ع سے اور میرے محبوب نبی محمد مصطفی ص سے ذیادہ دکھی تھے۔کیا ان سے ذیادہ تمھیں زلیل کرنے کی کوشش کی گئی۔۔۔؟؟؟؟ وہ چھو ڑو سب اگر ان سے ذیادہ بھی ہو تو کیا میں نے نہیں تم سے کہا کہ میں صبر کرنے والوں کے ساتھ ہوں۔کیا میں نے تجھے نہیں بتایا تھا کہ میں پکڑ سکنے والا ہوں۔
وہ سب ایک طرف  مگر۔میں نے تو صاف صاف سورہ ملک میں یہ بھی بتلا دیا تھا کہ یہ زندگی ابدی نہیں ہےاور نہ ہی یہ دکھ سکھ  بلکہ سب ایک دن ختم ہونے والا ہے ۔۔۔ہاں مگر تجھے میں نے موت اور زندگی اس لیے دی تاکہ آزمایا جائے کہ کون اچھے عمل کرتا ہیے اور وہ  العزیز و الغفور بھی ہے۔۔
۔میں نے ایک دوسرے کے کام آنے کو کہا تھا عبادت کے لیے تو فرشتے بسیار تھے۔
اب دیکھ میرے بندے اگر تیرے پاس ان سب کا جواب نہیں تو نہ سہی میں پھر بھی تمھارے لوٹنے کا انتظار کر رہا ہوں مگر تو یہ الزام تو نہ لگا کہ تیرا کوئ نہیں۔یوں زندگی کی نا قدری تو نہ کر کہ پھر خود اپنے آپ کو موت کے حوالے کرتے ہوئے  بولے کہ موت دکھوں کی زندگی سے بہتر ہے۔نہیں میرے بندے تو کسی بے سہارے کا سہارا بن کر ۔کسی نا امید کو میرا پیغام دینے والا بن کر ،کسی کے بوجھ کو ہلکا کر دینے والا ، کسی کے آنسو پو نچنے والا بن کر..میں نے تجھے رب چاہی زندگی کے لیے پیدا کیا تھا نہ کہ من چاہی زندگی گزارنے کے لیے ۔۔۔میری طرف اپنا سفر شروع کر کے دیکھو۔زرا میرے کہنے کے مطابق جی کر تو دیکھو تو پتہ چلے کہ زندگی با مقصد ہو تو بڑی خوبصورت ہے۔
جیو کہ ذندگی خو بصورت ہے۔۔۔کیا خوب کہا کسی شاعر نے،

زندگی زندہ دلی کا ہے نام۔ مردہ دل خاک جیا کرتے ہیں
جینےاور مسکرانے کے لئے تو یہ سوچ بھی کافی ہے کہ اللہ تجھ سے محبت کرتا ہے ۔۔اور تو اس کے محبوب نبی کا امتی ہے۔۔
بقلم آمنہ شکیل ۔۔۔۔از پائیڈ اسلام آباد۔

16 june 2020

After someone’s Suicide

Aanay Ramliya 45

Love is power

Love is power
Power that leads
Leads to the truth
It is a language so sweet
That let you speak
Speak without words
It is courage
Making you brave
To sail through the storms
And see fear in the eyes
Or face the sharpest sword
It provide you with wings
Wings, to make you fly
Fly so high, beyond the sky
Like free, high soaring bird
In the garden of the heart,
Love is a flower
That blooms out of a bud
Bud of a seed sown
Deep in the soil..
Soil of a loving heart
It is vibes that flow to another heart. Get reflected like a ray, bouncing back Strike back the source To ignite the fire.. Fire of love, The lover and beloved
Thus unites as one,. As a single burning flame
But if it hurts.. And give you pain
Rather than a shine
It make your eyes rain
Or let your heart ache
And destroy your brain
Then its not love but a relation so toxic
A choice that is wrong
Choice can mislead
And make you only weak
But love is valour
Valour of the strong
Aanay Ramliya 45

May,29,2021

The Pure Gold, The pure you

Nothing is easy..
Its not easy to move on, if you have a breakup with anything or anyone you loved. Yes! its gonna be really painful, but to move on is worth the pain. To live an emotionally independent life is worth the pain. Its not easy to do, but there is a therapy: go away from it as far as you can. Try not to face what reminds you of the shit in the past. Discard everything which relates to the habit or person which you were dependent upon. I know it will make you shattered into pieces, it will bring you disaster and madness, but it will be over one day. You need to give time, some Time, to heal the wounds and remove the scars. Its Okay if you Cry, and it doesn’t mean you are Weak. It also doesn’t mean you are Wrong. Dear! Its a strategy, a Therapy to move on . You have to make this painful efforts to restart your life without that person or thing. Don’t you see, how much the gold has to be burnt, to turn into the purest form? The more you burn it, the purer it becomes.You are worthy than you think and expect of yourself. God has created you with love and for a reason. You do not need to waste it for one person or one thing that was meant to leave you. Remember! One day, when people will emulate your elegance, your forbearance and your Sobriety, and the way you will stand tall and firm, they won’t know the pain you have been through, the fire and flames you have gone through, to reach that Modesty, but they will only see the final pure Gold, The diamond out of the carbon,The Pure you.

Aanay Ramliya
18 may Tuesday
12:14 am