A heart was Brok3n

A ring once a sign of love
was pushed & thrown away…
the love was gone…
Tears dried up at the shores of eyes
The silence badly screamed
A flower got withered
Emotions were spilt out…
All promises were set aside..
Pieces led shattered on the floor
yet there was no sound because,
A heart was broken..
A heart was broken..
Aanay Ramliya…🥀

1:20pm

22july2022

Dreaming Her Past

Like a traditional mourner
She wore the black of night..
And walked along the road of past…
Lingerd through the memories..
She mourned over
Parts of her being shed and lost…
Ashes of her dreams..
With a dusty wind had flown…
The autumns in her way …
Turned her pale, as dry fallen leaf..
The dagger of regrets..
Tore her heart apart.
And tears rolled down …
As gently as a snow that melts..
But
A cresent wisphered in her ear..
Not to lament the past ..
Told her the phases
It went through to be a moon
A fairy of hope held her hand..
Brought her to meadows …
Where love birds sang…
And peacocks danced…
A cool breeze of dawn
awakened her to reality
She thanked her God
for it was nothing but a Dream
A dream that taught
Life is an amalgamation of colours
Some dark,some bright
Some blur, some soft
Aanay Ramliya
22june2020

Gratitude

We can never make enough thanks to Allah, be grateful for every little thing you have..

Every time i bend my arm , making a curve of my elbow, putting it under my face , and sleep on it like a pillow. Every time  i take lunch or eat something , turning my hand and putting a bite in my mouth in a decent way i  fall in love with Allah. I feel amazed about how beautifully He has engineered the hinges and joints of my arms. Each curve, each angle, each joint each muscle is created so artistically. I fear when i imagine, that what if it get stuck, if there is no flexion and no extension in the joints of my arms???? Definitely it will be a burden for me then. I feel like we can never count the blessings we have. I just gave you a tiniest example, while we have a lot of blessings in our body and around us to be Thankful for. We are so beautifully created by Him. How come we say He does not love us? Do we hate the things we made with love and beauty ? I think this is enough to Thank him for everything. Believe me, worries vanish when you develop a habit of gratitude. Be happy for what you have. Feel the beauty that lies within you. Do not compare yourself with others because Your Lord Allah S.W..T has created you in a most unique and profound way. The way you are is the way He wanted you to be, so He created you like this. As He reminds you and me in surah Infitar, “IN WHATEVER FORM HE WILLED HAS HE ASSEMBLED YOU” (Surah Infitar:8)

Aanay Ramliya.

3:00 pm

2sep2020

یقیں سے بڑھ کر گماں سے آگے۔۔

لاہور کے سفر کی روداد پھر کبھی۔۔۔

میں نے آخری بار اسے تین سال پہلے اسی مہینے یعنی جولائ میں آئ ایٹ کے بس سٹاپ پر الوداع کیا تھا۔ بلکہ وہ مجھے ہاسٹل سے بس سٹاپ تک چھوڑنے آیا تھا۔ یہ ہمارا ایک ساتھ آخری دن تھا۔ اس نے مجھے مہینہ پہلے ہی بتا دیا تھا کہ آگست میں وہ جرمنی چلاجائے گا۔ میرا دل تو تب سے ہی عجیب ہو رہا تھا بلکہ میں نے اس آخری دن سے دو دن پہلے ہی اس کے بارے میں ہاسٹل کی چھٹی منزل کی چھت پہ بیٹھ کر ڈائری لکھی تھی اور اس کے چلے جانے کا سوچ کر میرا گلا رند گیا تھا ۔ویسے ہاسٹل کے اس چھت سے  آئ ایٹ کے چھ سڑک ایک ساتھ دیکھائ دیتے تھے اور میں رات کے 12 بجے وہاں بیٹھ کر چلتی گاڑیوں کا نظارہ کرتے اکثر سوچوں میں گم جاتا تھا۔ میں سوچتا تھا کہ ان گاڑیوں میں کوئ گاڑی باہر جانے والے کی ہوگی جو ابھی ائر پورٹ جا رہی ہوگی ۔کوئ باہر ملک سے لوٹا ہوگا کوئ کسی شادی میں، کوئ کسی میت کے گھر اور کوئ کسی کو وداع کرنے جا رہا ہوگا۔ یہ گاڑیاں مجھے بہت فیسینیٹ کرتی تھیں۔ مجھے کسی کو وداع کرنا ہمیشہ سے تکلیف دہ لگتا تھا اور پھر یہ تو میرا جگری دوست تھا۔ بلکہ یوں کہہ لیں میری انسپیریشن تھا ویسے بھی وہ مجھ سے کوئ سات سال بڑا تھا۔ سو ڈائری لکھتے وقت جب میں گاڑیاں دیکھ رہا تھا جو ایسے لگ رہی تھیں جیسے ایک ردھم کے ساتھ سڑک پر بہہ رہی ہوں۔ میں نے یہی سوچا تھا کہ مہینہ بعد اس سڑک پر شہریار بھی کسی گاڑی میں بیٹھ کر پاکستان کو الوداع کہیں گے اور یہ سوچ مجھے اداس کر دیتی۔
ہم دونوں انٹروورٹ تھے مگر ایک دوسرے کے ساتھ جیسے ہم۔ایکسٹرو ورٹ بن جایا کرتے تھے۔ ہمارے کمرے میں اکثر خاموشی رہتی اور دونوں اپنی پڑھائ میں مصروف ہوتے بلکہ یوں کہہ لیں اس کو پڑھتے دیکھ کر میرا بھی پڑھنے کا دل کرتا۔ حالنکہ وہ پی ایچ ڈی کا سٹوڈنٹ اور 18 گریڈ لیکچرر جبکہ میں ایم فل کا سٹوڈنٹ تھا۔ لیکن پھر بھی جب ہم کبھی بات کرتے تو ہمجولیوں کی طرح دل کھول کے ہنستے تھے۔ ہم ہر دو ہفتوں میں ایک بار کسی اچھی جگہ سیر کرنے جاتے۔ اس لئے کہ ایک ویک اینڈ وہ گھر گزار کے آتا تھا۔ اسے لاہور سے زیادہ محبت دنیا کے کسی جگہ سے نہیں تھی بوجہ یہ کہ وہاں اس کی ماں رہتی تھی۔  اس کی ماں،اس کی زندگی کا کل سرمایہ۔ میں اس کو لاہور کی برائیاں کر کے خوب تنگ کرتا اور وہ ہمیشہ لاہور کو ڈیفینڈ کر کے آخر میں کہتا اللہ کرے تم سی ایس پی بنو پھر تمھیں مجبورا ٹریننگ کے لیے لاہور ہی آنا پڑیگا۔اور تب میں تمھیں لاہور دیکھاؤں گا کیونکہ “جس نے لاہور نہیں دیکھا وہ تو پیدا ہی نہیں ہوا”.وہ اپنی بات ختم کرتا اور میں دل میں انشاء اللہ کہہ کر اسے کہتا، جی اچھا میں ابھی نہیں پیدا ہوا ، اور پھر کمرے میں ہمارا قہقہہ گونجتا۔ یوں ہمارا وقت بہت خوبصورت گزرتا تھا۔ ویسے وہ لاہوری یعنی خالص پنجابی اور میں بدر کا رہنے والا محسود، یعنی کٹر پشتون۔ عجیب لگا نا سن کے؟؟ کہ اتنے دو مختلف سمتوں اور آج کل کے نفرت بھرے ماحول میں ہم ایسے اچھے دوست کیسے ہو سکتے۔ بھئ یہی تو کمال تھا اس کا۔ اس کے اخلاق نے میرا پنجابیوں کے بارے میں سارا نظریہ بدلا تھا۔ اور وہی تھا جسے اللہ نے میرے دل میں پنجاب اور پنجابیوں سے محبت کا پہلا زریعہ بنایا تھا۔ لیکن میں یہاں وہ سب نہیں لکھنے لگا۔ کیونکہ اگر کبھی اس کی نظر سے یہ گزرا تو سیدھی چاپلوسی لگے گی پس بہتر ہے ذکر نہ کیا جائے۔
اونہوں! میں یہ سب کیوں بتانے لگا ہوں اور بات میں نے تین سال پہلے سے کیوں شروع کی؟؟؟ وہ تو چار سال پہلے سے شروع کرنی تھی۔ چلو پھر دوبارہ آپ کو چار سال پہلے سے شروع کر کے بتاتے ہیں۔ تو سنیے! چار سال پہلے، یعنی اکتوبر 2018 کو مجھے ہاسٹل کے کمرے میں ایک ای میل موصول ہوئ جس میں مجھے یہ مبارک باد دی گئ تھی کہ میرا بی ایس کا لکھا (ایک بیکار سا) ریسرچ پیپر سلیکٹ کر لیا گیا ہے، تمام کانٹیکٹس وغیرہ بھی فراہم کی گئ تھیں اور میرا نام بھی پریزنٹرز بلکہ مہمانوں کی لسٹ میں ڈالا گیا تھا اور ساتھ کارڈ، انٹری کرنے اور بیگ لینے، پھر آڈیٹوریم جانے غرضیکہ سارا لائحہ عمل موجود تھا۔ جی ہاں یہ بلاوا لاہور کی انجنئیرنگ اینڈ ٹیکنالوجی یونیورسٹی سے آیا تھا جہاں دوسری بین الاقوامی کانفرنس منعقد ہونی تھی۔ اور مجھے اس کانفرنس میں بطور پریزنٹر مدعو کیا گیا تھا۔ تین دن کے کھانے پینے، رہائش وغیرہ سب کا انتظام ان کی طرف سے تھا۔ ای میل پڑھ کر کچھ دیر تو میں سر پکڑ کے بیٹھ گیا۔ مجھے یقین ہی نہیں آرہا تھا کیونکہ ابھی اگست میں تو میرا بی ایس مکمل ہوا تھا اور پھر اتنا جلدی میرا پیپر سلیکٹ ہو گیا ۔ خیر خوشی سے زیادہ مجھے ایک محرومی کا غم تھا۔ کیونکہ میں نے تو کبھی ڈی ائ خان کی گومل یونیورسٹی سے باہر قدم ہی نہیں رکھا تھا، بی ایس کی اسائمنٹس والی پریزنٹشن کے علاوہ کوئ خاص پریزنٹیشن ہی نہیں دی تھی، لڑکا ہونے کے باوجود مجھے ابا جی نے کبھی اکیلے سفر کرنے نہیں دیا تھا۔ پس لاہور جانا، وہاں تین دن رہنا، اکیلے سفر کرنا، وہاں غیر ملکی سکالرز کے سامنے پیپر پریزنٹ کرنا سب فقط ایک خواب ہی ہو سکتا تھا جو میں نے ای میل موصول ہونے کے بعد چند لمحوں میں دیکھا بھی تھا اور پھر خود ہی آنکھیں مل کر اس کی نفی بھی کر دی تھی۔ ای میل پڑھ کر موبائیل بند کرنے کے بعد میرے دل میں لاہور دیکھنے کی خواہش نے ایک دفعہ پھر انگڑائ لی۔ مجھے (ایک کٹر پشثون اور ایک ایسے علاقے میں بڑا ہونے کے باوجود جس کی اکثریت پنجاب کے لوگوں سے نفرت کرتی ہے اور اس نفرت کے لیے ان کی اپنی توجیحات ہیں،) پنجاب کے شہر لاہور سے محبت تھی، محبت نہ سہی مجھے اسے دیکھنے کا بہت شوق تھا۔ یہ ذوق اپنی تاریخ پڑھنے کی وجہ سے پیدا ہوا تھا۔ بلکہ سچ بتاؤں تو جب میں نے چوتھی جماعت میں پہلی دفعہ اردو کی کتاب میں شالیمار باغ کی سیر کے عنوان سے ایک باب پڑھا تھا تب سے میرے لاہور کے بارے میں بڑے پیارے تخیلات ہوا کرتے تھے۔ مجھے وہ تخت دیکھنے کی بڑی جستجو تھی جس کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ اس میں جڑا ہوا ہیرا ملکۂ برطانیہ کے تاج میں لگا ہوا ہے۔ خیر میں چپ چاپ بیٹھ گیا۔ کچھ تشکر کے آنسو بھی آنکھوں میں امڈ ائے تھے مگر خاموشی غالب تھی۔ میں اٹھ کر پاکیزہ مارکیٹ گیا وہاں سے اولپر کا پیکٹ لا کر میں نے چائے بنائ۔ اور ہاسٹل کی آخری چھت پر چڑھ گیا ۔ چائے سے بھاپ اڑتی ہوئ شام کے دھند لکے میں تحلیل ہونے لگی تھی اور میرا ذہن سوچوں کے سمندر میں غوطے کھانے لگا تھا۔ وہ کام جس کا میں نے کبھی سوچا بھی نہ تھا اس کے آچانک یوں ہونے پر اب میری ساری سوچیں اسی کی طرف مرکوز ہو گئ تھیں۔ لیکن اسی سال میں نے ایک اور معجزہ بھی دیکھا تھا جس کی وجہ سے میں آج تک کہتا ہوں کہ اللہ سے مانگو تو وہ عطا کرتے ہیں ، یقیں سے بڑھ کر گماں سے آگے۔۔ اس معجزے کا ذکر پھر کبھی کروں گا وہ بلکل ایسا تھا جیسے کوئ فکشن ہو کوئ خواب ہو مگر وہ حقیقت تھی۔اللہ کی مہربانی یا شاید دے کر آزمانے کا امتحان۔۔ویسے ابھی یہ وہ ہاسٹل نہیں تھا جہاں میں اور شہر یار رہتے تھے، شہریار کے پاس میں ایک مہینہ بعد آیا تھا لیکن ہماری دوستی اسی ہاسٹل میں ہوئ تھی جہاں میں ان دنوں تھا اور وہ یہاں صرف دو دن رہ کے چلے گئے تھے۔ خیر میں چھت پہ نماز پڑھ کے دو رکعت صلواۃ حاجت ادا کئے۔ یہ میری عادت ہے کہ جو بھی مسئلہ ہو یا کوئ کام ہو تو میں صلواۃ حاجت پڑھ لیتا ہوں کیونکہ سنت ہونے کے ساتھ ساتھ اس کا گہرا اثر ہوتا ہے اور اس لیے بھی کے میں لوگوں کی طرح رٹ لگا کر لمبے لمبے وظیفے نہیں پڑھ سکتا۔ میرا ایمان ہے کہ دعا کے لیے بس ایک تڑپ چاہیے جو اگر آپ اللہ سبحانہ و تعالی کے سامنے صرف خالی ہاتھ اٹھا کر خاموش بھی سر جھکائے رہیں تو سن لی جاتی ہے۔ سو میں نے صلواۃ حاجت پڑھ کر فون اٹھایا ۔ میں نے ابو کو کال کی کیونکہ میرے تمام معاملات ان کو بتا کر طے ہوتے ہیں میں ان کے بغیر کوئ فیصلہ نہیں کر سکتا تھا  میں ابھی تک انھی پر ڈیپینڈنٹ تھا۔ اور اس کی وجہ میں اوپر بتا چکا ہوں کہ میں اپنے گھر کا واحد لڑکا تھا جسے مزید پڑھنے ہاسٹل بھیج دیا گیا تھا ورنہ میرے گاؤں کا یہ حال ہے کہ لڑکیوں کی تعلیم صفر فیصد جبکہ لڑکوں کو سولہ سترہ سال میں سعودی عرب یا کسی اور ملک بھیج دیتے ہیں۔ اچھا میں بتا رہا تھا کہ میں نے ابو کو کال کی اور بات بتا دی ۔ کہ میرا پیپر سلیکٹ ہو گیا ہے اس لیے اگر آپ اجازت دیں تو میں لاہور چلا جاوں گا اور اس کے لیے کچھ انفارمیشن ان کو کنفرم کرنے کے لیے ابھی سے بھیجنی ہو نگی جو اگر اجازت ملے گی تو میں بھیجوں گا ۔ ابو نے تحمل سے میری بات سنی جو میرے ابو کی سب سے اچھی عادت ہے کہ وہ دوسرے کی بات پوری توجہ سے سن کے ہی جواب دیتے ہیں۔ میں نے زرا بڑھا چڑھا کے بات کی کہ ابو یہ بین الاقوامی کانفرنس ہے اور اس کا مجھے بڑا فائدہ ہوگا میرا پبلیکشن میں نام آئے گا وغیرہ وغیرہ۔ اور ابو نے میری بات کا یقین کر بھی لیا۔ دراصل اس معجزے کے بعد انھیں شاید بیٹے کی قابلیت پر اعتماد ہونے لگا تھا جس پر مجھے اکثر جانے کیوں ہنسی آجاتی ہے کیونکہ جو ہوتا ہے اس میں مجھے اپنا کوئ کمال نہیں لگتا بس اسی بات کا اثر لگتا ہے ، “خدا عطا کرتا ہے، یقیں سے بڑھ کر گماں سے آگے۔” بلکہ میرا یہاں اسلام آباد کا داخلہ بھی اسی بات کی مرہون منت تھا۔ تو ابو نے کہہ دیا کہ اچھا فلحال تو باقی کوائف پورے کر دو جانے کا بعد میں سوچا جائے گا۔ یعنی انھوں نے آدھی خوشی آدھا شک والی صورتحال پیدا کی۔ اور میں تو جب تک ایک چیز کو ہوتے ہوئے دیکھ نہیں لیتا تھا ابو کی اجازت کا کبھی یقین نہیں آتا تھا کیونکہ ان کی اجازت عین آخری لمحے تک ان کے موڈ پر منحصر ہوتی ہے۔ مسکرائیے مت میرے ابو ایسے ہی ہیں۔ اللہ ان کی عمر دراز کرے۔ اب آگے کی بات کرتے ہیں آپ کو بور نہیں کرنا مگر یہ تین سالوں کا سفر ہے تو وقت تو لگے گا بتاتے ہوئے بھی۔
اب اکتوبر کے بعد میں شہریار کے پاس ہاسٹل آگیا تھا یعنی اب میں اس کا رومیٹ تھا اور تب سے ہمارا ایک ساتھ سفر شروع ہوا۔ ہماری دوستی کا بہترین سفر ۔اس کا مجھے قدم قدم پر انسپائر کرنے کا سفر۔ ویسے جب اس نے ہمارا پچھلا ہاسٹل چھوڑا تھا تو مجھے لگا شاید ہماری دوستی بس وہی کچھ دن کی تھی اور چند دنوں بعد دم توڑ جائے گی جیسے عموما لوگوں سے ملنے کے بعد ہوتا ہے مگر جب اللہ ملاتے ہیں تو وہ خود راستے بنا دیتا ہے سو ہمیں بھی دوبارہ ملا دیا تھا۔
10 دسمبر 2018 کو کانفرنس منعقد ہونی تھی جو کے تین دن یعنی 12 تک تھی۔ جب کہ 11 کو ہماری یونیورسٹی یعنی نیشنل یونیورسٹی آف سائنس اینڈ ٹیکنالوجی کی سالانہ تقریب بھی تھی۔ اور وہ 13 کو ختم ہونی تھی جس میں شہریار کو ارڈینیٹر کے فرائض انجام دے رہے تھے۔ اب میرے لیے جانے میں فقط تین دن تھے اور شہر یار لاہور گیا ہوا تھا۔ میں نے ابو سے اجازت لی جو کافی یہ وہ کہنے  کے بعد ہی ملی۔ یقین کریں میرے پاس لاہور آنے جانے کے کرایے کے علاوہ فقط دو ہزار روپے تھے۔ مگر مجھے اپنے رب پر یقین تھا۔ میں جس دن  لاہور گیا اسی دن شہر یار اسلام آباد آگیا تھا. میں لاہور چلا گیا مگر وہاں میرا جاننے والا کوئ نہیں تھا جس سے مل کے میں فنکشن انجوائے کرتا. اگرچہ میں نے وہاں ایک دوست بنا لیا تھا مگر کیا وہ اور کیا شہریار۔ میں نے اپنا پیپر پریزنٹ کر کے ہی اسلام آباد کی راہ لی۔ اور باقی دنوں کے پاس یعنی ٹکٹ ایک کلاس فور والے کو دے دیے وہ بہت خوش ہوا اور تب بھی مجھے ذہن میں یہی آیا کہ یہ اللہ نے اس کی قسمت میں لکھے تھے کیونکہ وہاں تین دن بوفے کا انتظام صرف مہمانوں کے لیے تھا یا پھر جنھوں نے ٹکٹ لیے تھے۔ میں وہاں سے واپس آیا تو شہر یار کو خوب تنگ کیا کہ یہ کیا گندہ لاہور ہے تمھارا، فقط رکشے، اور رش ہی دیکھا میں نے، ہر جگہ بس گرد ہی تھی۔ یہ تو ڈی آئ خان سے بھی گیا گزرا ہے وغیرہ وغیرہ۔ چونکہ لاہور میں یونیورسٹی آف انجنئیرنگ جانے والا راستہ لاہور کے مضافات میں سے گزرتا ہے وہ اصل لاہور سے نہیں گزرتا اور میں نے تو بس وہی دیکھا تھا۔ لیکن خیر میں نے شہر یار کو اچھی خاصی سنائ لیکن اس نے پھر بھی اپنے مخصوص انداز میں اپنے لاہور کو ڈیفینڈ کیا۔ اور پھر وہی سی ایس پی بننے والی بات کر کے ہم دونوں ہنسے تھے۔ ویسے ڈیفینڈ کرنا بنتا تھا کیونکہ  اپنے شہر سے ہر شخص کو محبت ہوتی ہے۔ یہاں روداد ختم ہوئ سفر _ لاہور کی۔ زندگی پھر سے اپنے ڈگر پر چلنے لگی تھی۔ میرے لیے، لاہور سے پہلے والا واقعہ، پھر میرا نیشنل یونیورسٹی (NUST)میں داخلہ، شہر یار کا رومیٹ بننا، لاہور کی کانفرنس میں شرکت، پھر اپنے سارے ٹکٹ اس شخص کو دینا، غرض یہ سب ناممکنات تھیں جن کی وجوہات درج کرنے کا یہاں وقت نہیں ہے مگر ان سب نے بس اسی ایک سطر کا مفہوم مجھ پر واضح کیا تھا کہ جب اللہ دیتے ہیں تو یقین سے بڑھ کر گماں سے آگے دیتے ہیں۔ میرا دعاؤں پر یقین مزید پختہ ہو گیا تھا۔
اب واپس آتے ہیں، اپنی کہانی کی طرف، آئ ایٹ کے بس سٹاپ کی طرف جہاں میں اور شہر یار آخری دفعہ گلے ملے تھے۔ جی ہاں یہ آخری دن تھا، ہمارے امتحانات ہو چکے تھے میں ڈی آئ خان واپس آرہا تھا، دل بوجھل بوجھل تھا، امید اور اداسی کے ملے جلے تاثرات تھے، میرے جانے کے بعد شہر یار کی دو دن بعد فلائٹ تھی۔ ہمارے درمیان بھی یاد رکھنے کے کچھ عہد و پیمان ہوئے تھے جو عموما دوستوں میں ہوا کرتے ہیں۔ آخری الوداع کرتے وقت میرے ذہن میں اس وقت اسلم انصاری کے غزل کے یہ شعر گردش کر رہے تھے،
“ہم نے روکا بھی نہیں اور وہ ٹھہرا بھی نہیں
حادثہ کیا تھا جسے دل نے بھلایا بھی نہیں
جانے والوں کو کہاں روک سکا ہے کوئ۔۔
تم چلے ہو تو کوئ روکنے والا بھی نہیں۔۔
میں اپنے گھر آگیا تھا اور شہر یار جرمنی چلا گیا تھا۔ اسے جانے کا دکھ نہیں تھا مگر سب سے چھوٹا اور لاڈلا بیٹا ہوتے ہوئے امی کو پاکستان میں چھوڑنا تکلیف دہ تھا۔ جانے کے بعد ہماری فون پہ بات ہوتی تھی بلکل ایسے جیسے کمرے کا روٹین ہوتا تھا یعنی لمبے عرصے تک خاموشی لیکن جب بات ہوتی تھی تو دل ہلکے ہو جاتے، مسکراہٹیں سچی ہوتیں اور قہقہے دل کے بوجھ اتار دیتے تھے۔ وہ جب بھی کال کرتا وہی بات کرتا تھا ، اللہ کرے تم سی ایس پی بنو پھر میں تمھیں لاہور میں ملوں گا ۔ میں دل میں انشاء اللہ کہتا کیونکہ اب مجھے لگتا تھا ملنے کی کوئ صورت نہیں ہوگی۔ اور پتہ نہیں ہم کبھی ملیں گے بھی یا نہیں۔ اس کی ایک وجہ یہ بھی تھی کہ پی ایچ ڈی کے دوسرے سال ان کے اماں کی ڈیتھ ہو گئ تھی تب وہ صرف ایک ہفتے کے لیے پاکستان آئے تھے اور اس کے بعد جیسے پاکستان میں اس کی ساری دلچسپی ختم ہو گئ تھی۔ ایک ماں ہی تو تھی جس کی ہستی کے احساس سے اسے لاہور اور پاکستان سے محبت تھی ورنہ اس کے لیے پاکستان میں کچھ خاص نہ تھا۔ اسی لیے مجھے ان سے ملنے کی کوئ خاص امید نہ تھی لیکن میں پھر بھی انشاء اللہ کہہ دیتا تھا کہ اللہ کے دینے کا یقین تو ابھی بھی ویسا ہی تھا۔ اللہ کے خزانوں میں اگر مگر نہیں چلتا وہ جسے، جس وقت اور جیسے چاہے نواز دیتے ہیں۔ اللہ کے لیے ممکن و ناممکن کا فرق معنی نہیں رکھتا ۔ یہ محدودیت ہم انسانوں کے دماغ میں ہے اللہ کے شان کی اور دینے کے انداز کی کوئ حد نہیں۔ یہ بند دروازوں کا تصور میرے اور آپ کے دل میں ہے، اللہ تو جب، جہاں اور جہاں سے چاہے دروازہ کھول دیتے ہیں، وہاں سے بھی جہاں سے تمھیں یقین و گماں بھی نہ گزرا ہو۔ اور میرے ساتھ بھی یہی ہوا۔ 2021 میں شہر یار نے مجھ سے ایک دن اچانک پوچھا کہ کیا میں فارغ ہوں؟ میں نے کہا ، میں تو آپ کی دعا کی تکمیل کے لیے کوشش کر رہا ہوں یعنی سی ایس پی بننے کی تیاری ۔ اس پر وہ ہنس کے بولا تھا ، اچھا جاری رکھو مگر سنو جب تم امتحان دے دو تو کہیں اور خود کو مصروف نہ کرنا تم نے میرے ساتھ کام کرنا ہے پھر۔ میں نے بھی حامی بھر لی کیونکہ مجھے معلوم تھا اس کے ساتھ کام کرنے سے میں بہت کچھ سیکھوں گا۔ واللہ میرا ارادہ بغیر کسی معاوضے کے کام کرنے کا تھا کیونکہ میرے لیے شہر یار کے ساتھ کام کرنا معنی رکھتا تھا نہ کہ کوئ معاوضہ۔ اور میرا خیال تھا یہ کام ان کی پی ایچ ڈی کے متعلق  کوئ ریسرچ کا ہی  ہوگا۔ پھر میں تقریبا ایک سال پڑھائ میں مصروف رہا ، اس سے کبھی کبھی بات ہو جاتی تھی ، دعاؤں کا تبادلہ ہوتا تھا اور بس۔ پھر دھیرے دھیرے یہ سال بھی گزرا ، ہم ایک دوسرے کی اکثر یاد آتی تھی اور ہم ہر بار بات کرنے پر کہتے تھے کہ ہمیں ایک دوسرے سے ملنے کا انتظار ہے مگر کب ملیں گے اس کا کوئ گمان نہ تھا۔ میں نے مئ 2022 میں امتحانات دئیے ۔فارغ ہوا تو شہریار سے بات کی اس نے مجھے ایک دفعہ پھر کہا کہ ہم نے مل کے کام کرنا ہے ۔۔میں نے بھی بتایا کہ میں اب تیار ہوں ۔ میرا ذہن اب بھی وہی تھا کہ وہی ان کی پی ایچ ڈی کا کام ہوگا مگرررررر۔۔۔۔۔۔۔۔۔
مگر وہ تو مجھے اپنے ساتھ برطانیہ کی بہترین مانچیسٹر یونیورسٹی کے پراجیکٹ میں کام کا کہہ رہے تھے۔ جی آپ نے صحییح سنا، وہ یونیورسٹی جس کے خواب ہمارے جیسے غریب ملک کے لوگ ہی نہیں بلکہ یورپ کے لوگ بھی دیکھتے ہیں۔ یقین کریں میرا ارادہ اب بھی بلا معاوضہ شہریار کے ساتھ کام کرنے کا تھا لیکن جب پہلی آنلائن میٹنگ میں اس نے مجھے گائیڈ لائنز دیتے ہوئے بتایا کہ ارسلان محسود، تم اس میں بطور ریسرچ اسسٹنٹ کام کرو گے اور تمھاری کم سے کم سیلری اتنی ہوگی تو ایک بار پھر میرے منہ سے وہی جملہ نکلا کہ جب اللہ نوازتے ہیں تو وہ اس زریعے سے عطا کرتا ہے جہاں سے آپ نے کبھی خیال تک نہ کیا ہو کیونکہ میرے لیے وہ سیلری میری سوچ سے بہت ذیادہ تھی۔ پر یہ سب چھوڑیں! جس ایک بات کے لیے میں نے پوری کہانی آپ کو سنائ ہے وہ یہ تھی کہ اس پراجیکٹ کو پاکستان میں کرنا تھا جس کے لیے شہر یار کا آنا لازمی تھا۔لیکن پتہ ہے یہ پراجیکٹ کہاں کرنا تھا؟ لاہور میں۔۔جی ہاں لاہور میں۔ اور مجھے لاہور جا کر شہر یار سے ملنے اور کام کرنے کی بھی اجازت مل گئ تھی۔ ہم دونوں پراجیکٹ سے زیادہ ایک دوسرے سے ملاقات کرنے کے لیے ایکسائٹڈ تھے۔ ہم نے وقت اور دن مقرر کیا اور میں پچھلے مہینے یعنی 4 جون 2022 کو لاہور کے نیازی اڈے پر بس سے اترا ۔ شہریار  پہلے ہی سے وہاں مجھے پک کرنے کے لیے موجود تھا۔ میں جب اتر کر اس کے گلے لگا تو میری آنکھیں نم تھیں مجھے یقین نہیں آرہا تھا کہ تین سال پہلے جب ہم نے آئ ایٹ کے بس سٹینڈ پر ایک دوسرے کو رخصت کیا تھا تب مجھے لگا تھا وہ آخری ملاقات تھی اور اس کے بعد شاید کوئ دس پندرہ سال بعد ملاقات ہو ۔لیکن نہیں، جو ہم سوچتے ہیں اللہ اس سے بہت آگے کی منصوبہ بندی کر چکے ہوتے ہیں۔ ہم نے تو سوچا تھا سی ایس پی بن کر ٹریننگ کے لیے جانے یا لاہور میں جاب ملنے کے علاوہ کوئ راستہ نہیں ہوگا۔ مگر جن چیزوں کو لے کر ہم پریشان ہو رہے ہوتے ہیں وہ ہمیں اپنے وقت  اور جگہ پر ملنی ہوتی ہیں ۔ اللہ تعالی کی ذات ناممکنات سے مبراء ہے۔آپ نے بس اللہ پر یقین رکھنا ہے، اندھا یقین کیونکہ وہ ایک کن سے سب عطا کر سکتا ہے، یقیں سے بڑھ کر گماں سے آگے عطا کرتا ہے۔
نوٹ: پڑھ کر اپنا فیڈ بیک ضرور دیجئے گا۔۔#ہو سکتا ہے آپ کو لگے کہ ہم اتنی سادگی سے کیسے ملے، تو عرض ہے کہ اس وقت کی کیفیات میں لکھ نہیں پایا۔۔
از قلم : آنے رملیہ۔۔

24july2022

وہ سفر _ مسلسل۔۔

میں نے اس کی آنکھوں کا گیارہ سال پر محیط سفر دیکھا ہے۔ جی ہاں اس کی آنکھیں یوں ہی تو اتنی خوبصورت اور شفاف نہیں ہیں۔ ان کے آنسوؤں کے دریا کا رخ موڑتے موڑتے اسے گیارہ سال لگے تھے۔ اور ان گیارہ سالوں میں ان دریاؤں کی طغیانی بھی میں نے دیکھی ہے۔ آج جو اس کے چشم سمندر جیسی  پر اسرارخاموشی اور گہرائ اور سکون رکھتے ہیں یہ اسی سفر کی مرہون منت ہے۔ یہ جو تم لوگ اسے دیکھ کر سمجھتے ہو کہ وہ ہمت کا چٹان بنی ہے، اس کے پیچھے میں نے وہ دکھوں کے ریگزار دیکھے ہیں۔ آج جو تم اس کی باتوں میں دل کی سیرابی کا سامان اور سکون پاتے ہو اس کے پیچھے وہ رحم کے بارش کی تمنائیں میں نے دیکھی ہیں۔
جی ہاں سب ایک دم نہیں ہوا۔ گیارہ سال لگے ہیں۔ اور یہ گیارہ سال صرف کہنا ہی آسان ہے گزارنا نہیں۔ میں اور وہ دونوں رومیٹ تھے۔ وہ دن میں بہت ہنسا کرتی تھی بلکہ دوسروں کو بھی ہنساتی تھی۔ مجھے بھی شروع میں لگتا تھا وہ بہت خوش ہے۔ اس کو کوئ غم ہی نہیں ہے۔ کبھی کبھی وہ شاعری سناتی تو میں اسے چھیڑ کے کہتی کہ یار لگتا ہے کوئ دکھ ملا ہے لیکن وہ مسکرا کے، یہ کہہ کے ٹال دیتی کہ میں تو عشق حقیقی کی شاعری پڑھتی ہوں۔ پھر اس سے آگے میرے پاس جواب ہی نہ ہوتا تھا۔ مگر ایک دن تہجد کے وقت میری آنکھ کھلی تو وہ موبائیل کی لائٹ آن کئے جانماز پر بیٹھی تھی۔ میں نے بھی اس پر یہ ظاہر نہیں کیا کہ میں جاگ رہی ہوں لیکن مجھے آج اس کا یہ راز پتہ چل گیا تھا کہ وہ اتنا چھپ کر تہجد پڑھتی تھی۔ کمرے میں اندھیرے کی وجہ سے وہ موبائیل کی لائٹ آن کر کے اسے الٹا بیڈ پر رکھ دیتی تھی تاکہ صرف جائے نماز پر روشنی ہو اور میری آنکھ نہ کھلے لائٹ کی وجہ سے۔ وہ جانتی تھی میں روشنی سے جلدی جاگ جاتی ہوں۔اب میں روز ایسا کرنے لگی ۔یہ ہاسٹل کے پہلے دن تھے۔ واللہ میں نے اس کی ہچکیاں سنی ہیں۔ یہ کوئ ایک دن کی بات نہیں ہے یہ سالوں کی بات ہے۔ وہ روز ایسا کرتی تھی، اس کی تڑپ ، اس کے آنسو مجھے یاد ہے ۔ اس کا سر سجدے میں پڑا رہتا کہ مجھے گمان ہونے لگتا وہ سجدے میں سو گئ ہے۔ اس کا انداز عجیب ہوتا تھا کبھی۔ وہ سر سے دو پٹہ گرا کرا اپنا دامن کسی بھکاری کی طرح پکڑے رکھتی اور روتی رہتی۔ میں نے اسکی بہتی آنکھیں دیکھی ہیں۔ اس کے آنسو کے لیے دریا کا لفظ بہترین استعارہ ہے۔ وہ مرغ بسمل کی طرح تڑپتی تھی۔ بے خودی میں کبھی اس کی آواز سرگوشیوں میں بدل جاتی تھی مجھے یاد ہے جب وہ کبھی انگلش میں دعا کرنے لگتی کبھی اردو میں کبھی عربی اور وہ جس شدت سے پلیز کا لفظ کہہ رہی ہوتی تھی تو مجھے ڈر لگنے لگتا ایسا لگتا جیسے اللہ اس کے پاس کھڑے ہوں اور وہ دامن پکڑ کر اصرار کر رہی ہو چھوٹے بچوں کی طرح۔ اسے مجازی محبت ہوگئ تھی جس کے بارے میں مجھے اس نے بعد میں بتا بھی دیا تھا مگر اس نے اپنی تہجد کا آج تک نہیں بتایا (اور یہ سفر اس نامحرم سے محرم عشق کی طرف تھا)۔ بلکہ آج بھی اسے بڑا غرور ہے اپنی دعا اور اس کا یقین تو میں بھی جانتی تھی۔ “یا رب یہ محبت تو نے میرے دل میں ڈالی تھی اب اسے نکال باہر کریں یا مجھے نہیں اچھا لگتا آپ کے سامنے نامحرم کی حرمت مانگوں مگر اسے محرم بنا دے۔ مجھے افسوس ہے میں نے کیوں چاہا اسے لیکن یہ میرے بس میں نہ تھا۔ اب ندامت ہے اور اس کا ازالہ کرنے کے لیے اس کا ساتھ مانگ رہی ہوں تاکہ وہ کہیں کسی اور کی زندگی اجیرن نہ کردے۔ یا رب اس میں خیر و عافیت رکھ کے دے دیں ۔۔اے آسمان بنانے والے کیا میں بہت بڑی چیز مانگ رہی ہوں؟ نکال دیں اسے میرے دل سے اگر وہ مقدر میں نہیں ہے۔ میں نے دس سال اس کی دل سے نکالنے کی یہ دعا سنی ہے۔ دیکھو آسان نہیں ہوتا دل سے نکالنا۔ بھلا دینا ہر کسی کے بس کی بات نہیں ہوتی اور پھر اس جیسی لڑکی جس کے لیے میں کہوں گی، “وہ نمازوں کی پابند لڑکی، اس کی آنکھوں نے چن لیا کافر” ۔۔ ایسے شخص کے لیے جو باتیں یاد رہنے کے لیے مشہور ہو۔ انسان بھول جاتا ہے یا پھر روتے روتے تھک جاتا ہے مگر وہ ہر روز روئ تھی۔ مسلسل۔ اور دعا بھی کیا مانگتی تھی سبحان اللہ ۔۔اس کی غیرت کے صدقے جاؤں۔۔دل سے نکال دینے کی دعا۔وہ جان چکی تھی کہ اس کا اصل محرم خدا ہے اور اسے اس کو پانے کی آرزو تھی۔ مجھے معلوم تھا وہ رابعہ بصریہ سے کتنی انسپائر تھی۔ مگر ان آنسو کے باوجود جب ہم صبح اٹھتے تھے تو وہ اتنی فریش ہوتی جیسے کچھ ہوا ہی نہ ہو۔ کبھی کبھی آنکھیں سوجھی ہوتی تو کہتی یار یہ زیادہ سونے سے شاید ہو جاتا ہے اور ہنس دیتی تھی۔ وہ سارا دن مسکراتی تھی۔ اور اس کی مسکراہٹ کا انداز اتنا خوبصورت تھا کہ ہاسٹل کے اکثر لوگوں کی اس سے بس اس بات پر دوستی ہو گئ تھی کہ یار وہ ہر وقت خوش رہتی ہے بندے کا دل خوش ہوتا ہے اس سے بات کر کے ۔ یقین کریں وہ اپنے ہاسٹل میں سب کی کاؤنسلر تھی۔ اس کی شخصیت میں اللہ نے ایک ایسی جاذبیت رکھی تھی کہ بندے کا خود دل کرتا تھا اپنا دل اس کے سامنے کھول کے رکھ دے اور اکثر لڑکیاں فقط اس لیے اس کے پاس آتی تھیں حالنکہ وہ خود کبھی کسی سے اپنی پرسنل بات نہ کرتی تھی۔ وہ بہترین موٹیویشنل سپیکر تھی اکثر لڑکیاں تو بس اس سے بات کر کے ہی اتنی موٹیویٹ ہو جاتی تھی کہ نا پوچھو۔ مجھے یاد ہے جب لڑکیاں اس کو اپنی ساری باتیں شئیر کرتی ہوتی تھیں اور وہ ایک ایک کو سمجھاتی اور حوصلہ دیا کرتی تھی۔ کچھ کو میں نے سنا تھا یہ کہتے ہوئے، “یار کاش ہم بھی “مہک عمر” جیسے ہوتیں۔ ہر وقت اتنا خوش رہتی ہے۔ لڑکیوں کو اس کی خوشی پر رشک آتا تھا۔ وہ ہر وقت توکل علی اللہ، دعا اور اللہ کی محبت کی بات کرتی تھی۔ سب سے کہتی دیکھو آج بھی معجزے ہو جاتے ہیں لیکن یقین مظبوط ہو۔ خوبصورت ہونے کےساتھ ساتھ اللہ نے اسے بہت ساری خصوصیات سے نوازا تھا۔ وہ قرآن پڑھتی تھی تو دروازہ بند کر کے تیز خوبصورت آواز میں پڑھتی۔ مگر گرمیوں میں صبح صبح فجر کے وقت دروازہ کھلا ہوتا تو آواز ہاسٹل میں ایکو کرتی تھی۔ ایک دن چکوال کی ایک لڑکی اس کے پاس آ کر کہنے لگی، مہک وہ صبح تلاوت آپ کرتی ہیں کیا؟ جب اس نے ہاں میں جواب دیا تو لڑکی کہنے لگی آچھا میں آپ سے سننے آؤنگی آپ نے مجھے بھی سنانا ہے ۔ کچھ لڑکیاں اسے کہتی تھیں یار آپ کی ماشاء اللہ ہر دعا قبول ہوتی ہے اس لیے آپ کا یقین بھی زیادہ ہماری تو دعائیں قبول ہی نہیں ہوتی اور ہم تو آپ جیسے اسلامی نہیں ہیں نا تو وہ دھیرے سے مسکرا دیتی۔ اس مسکراہٹ کے پیچھے کی کہانیاں میرے علاوہ کوئ نہیں جانتا تھا۔ اس کی مقبول دعاؤں کے ساتھ جو لا مقبول دعائیں جڑی تھیں لوگ اس سے بے خبر تھے کیونکہ وہ ان کا ذکر ہی نہ کرتی۔ میں اس کی پندرہ سال سے دوست تھی، کالج، یونیورسٹی اور اب جاب تک۔ اس کے یقین اور ان خوشیوں کے پیچھے جو راتوں کے آنسو، سجدے اور تڑپ تھی وہ تو کوئ نہ جانتا تھا۔ اور جب لوگ اس سے کہتے تھے کہ کاش ہم آپ کی طرح بن جائیں تو وہ کہتی ارے نہیں اللہ آپ کو مجھ سے بہتر بنائے۔ میں نے سنا تھا جب وہ دعا کرتی تھی “اے اللہ کسی کو ہدایت دینے کے لیے میرے جیسے راستے سے نہ گزارنا، بس انھیں اس کے بغیر ہی ہدایت دینا۔ اے رب انسانی عشق کی بیماری سے سب کو محفوظ فرما۔” غرض یہ کہ وہ دن کے اجالے میں ایک مختلف انسان تھی اور راتوں میں مختلف۔ اس لیے نہیں کہ وہ منافق تھی بلکہ وہ اپنا درد چھپانا جانتی تھی۔ اس نے جو سفر اپنے رب کی طرف شروع کیا تھا اس سفر میں وہ مسلسل کوشش میں تھی۔ صبح فجر پڑھ کے وہ حفظ کرتی تھی۔ گھنٹوں کسی سے بات کرنے کی عادت کو ایسے اس نے بدلنے کی کوشش کی تھی۔ لوگ کہتے ہیں بدلنا آسان ہے۔ خوش رہنا آسان ہے۔ انسانوں کو دل سے نکال کر اللہ کا ہو جانا آسان ہے ۔ اسلامی لوگوں کو ایسی کوئ پریشانی نہیں ہوتی مگر یہ سب غلط ہے۔ اکثر بظاہر اسلامی نظر آنے والے لوگ اپنے اندر کئ کئ جنگ لڑ رہے ہوتے ہیں۔۔اور یہ میں نے مہک عمر سے سیکھا تھا۔ میں نے اس کی خون سے رنگ ڈائیریز پڑھ لی تھیں (جو کہ نہیں پڑھنی چاہیے تھی اور بعد میں اس نے جلا بھی دی تھیں) ۔ ان ڈائیریز میں اس نے جو لکھا تھا واللہ میں کہہ نہیں سکتی اور اتنا مجھے معلوم ہے کہ وہ ڈائیری میں سب کچھ سچ لکھتی تھی وہی تو اس کی دوست تھی ۔ ڈائیری کے اوارق آنسو گرنے سے کھر درے سے ہوگئے تھے جیسے پانی سے ہو جاتے ہیں۔ اور کچھ پر خون کے دھبے جو اس نے پاگل پن کیا تھا۔  میں نے پڑھا تھا وہ کب بدلی تھی، اس نے دنیا والوں کو کب اور کیسے چھوڑا تھا اور پھر اس محبت کو بھلانے میں اس نے کتنے سال لگائے، وہ راتوں کی بےچینی سے سمندر کی سی اس پر سکونی اور بے نیازی تک کیسے آئ تھی یہ اس کے روزنامچے والی ڈائیری میں درج تھا۔ تاریخ ، وقت اور موسم کے ساتھ۔ اور پھر اس مسلسل جنگ کو گیارہ سال لڑنے کے بعد اسے عشق حقیقی کی منزل مل گئ تھی۔ اس کے مضطرب لہروں میں ایسا ٹھہراؤ آگیا تھا کہ لوگ رشک کرتے تھے اس کی زندگی پر۔ اس نے اس سال کی ڈائیری پر لکھا تھا، “یقینا محبت کو محبت ہی کاٹ سکتی ہے۔ نمرہ احمد نے ابن القیم کی بات سچ لکھی تھی۔ اور جب مجاز کی کاٹ حقیقت اور حق سے ہوتی ہے تو معجزے ہونا لازم ہے۔” پھر ایسی بے نیازی کہ گویا سارا جہاں اس کا غلام ہو ۔ ایمان کی ایسی حلاوت کہ جب قرآن پڑھے تو جھوم اٹھے ۔ مگر کیا یہ سب آسان تھا؟ کیا یہ بس فقظ خدادا تھا؟ کیا وہ ایسے اچھے ماحول میں پرورش پائ ہے اس لیے؟ جی نہیں۔ اس کے پیچھے گیارہ سال کا سفر_ مسلسل تھا۔ اس کے پیچھے رتجگے اور آنسو تھے۔ اس کے پیچھے ہدایت مانگنے کی وہ تڑپ و لگن تھی جو اسے سونے نہیں دیتی تھی۔ جو اس کا تکیہ بھگو کے رکھتی تھی۔ اس کے پیچھے وہ احساس ندامت تھا جو اس کی ہچکیاں باندھ دیتا تھا۔ اور اللہ نے بھی تو کہا ہے کہ ہدایت اللہ زبردستی نہیں ٹھونستا۔ ہدایت اور دین تو مانگنے پڑتےہیں ۔ خود کو بدلنے کے لیے کوشش کرنی پڑتی کیونکہ اللہ جی اس کی حالت کبھی نہیں بدلتے جو خود اپنی حالت بدلنے کو تیار نہ ہو۔ کل بھی میں اس سے افطار پر ملنے گئ تھی پھر افطار کے بعد اس کی ایک کلائنٹ آئ وہ اس کی کاؤنسلنگ کرنے لگی تو وہ لڑکی آگے سے بولی ، میم میرے دل کو سکون نہیں ملتا آپ تو ماشاء اللہ نیک ہیں آپ کےلیے تو آسان ہے یہ سب۔ اور یہ سن کر مجھے وہی ہاسٹل کے دن یاد آئے تھے ۔ میں سوچ رہی تھی کاش میں اسے بتا دوں کہ اس کے اپنے آنسو کے دریاؤں کا رخ موڑنے والے سفر میں میں نے بھی اس سے بہت کچھ سیکھا ہے۔ یا پھر لوگوں کو بتا دوں کہ ہماری مہک عمر ایک دن میں ایسی نہیں بنی، کندن بننے کے لیے تپنا پڑتا ہے اور مہک عمر اس کی بہترین مثال ہے میرے لیے۔ مگر میں یہ بتا نہیں سکتی کیونکہ میں نے اس کے لیے کوئ اور وقت سوچا ہے۔

“عنبر طلال کی ڈائیری  ، میرے ہاسٹل کی دوست سے اقتباس”

آنے رملیہ۔۔
14April2022

میری دوست ملحان ضرار کے نام

بچھڑا وہ اس ادا سے کہ رت ہی بدل گئ
ایک شخص سارے شہر کو ویران کر گیا۔۔
آج پھر چودھویں کی شام تھی یعنی ہمارے ملنے کا دن تھا کیونکہ ہم دونوں نے سکول کے بعد الگ الگ یو نیورسٹیز جانے سے پہلے ایک دوسرے سے وعدہ لیا تھا کہ ہم ہر دو مہینے بعد اسلامی مہینوں کے مطابق چودھویں کی شام کو ملا کرینگے۔ ہم جب بھی ملتے تھے ہماری گفتگو بہت خوبصورت ہوا کرتی تھی بس ہم دونوں کے بارے میں اور اللہ والوں کے بارے میں اور ہمارا یہ وعدہ تھا کہ ہم اپنی اس چھوٹی ملاقات میں کوئ غیبت نہیں کرینگے کوئ حسد کی بات یا کسی کے جھگڑے کی بات نہیں کرینگے۔ ہم دونوں چاہتے تھے کہ جب ہماری ملاقات ہو تو وہ ہمارے نامه اعمال میں احسن کاموں میں لکھی جائے۔ ہر بار ہم ایک دوسرے سے کچھ نیا سیکھتے تھے اور کبھی ہم ایک دوسرے سے کوئ نئ سیکھی ہوئ دعا یا آیت شئیر کرتے تھے۔ ہماری دوستی بہت پیاری تھی، منفرد تعلق تھا، خوبصورت اور پرسکون۔ تو آج بھی ہم اسلام آباد کے اس پارک میں ملنے کے لیے پہنچ چکے تھے بلکہ وہ میرے بعد پہنچی تھی۔ حسب معمول ہم نے جوگنگ ٹریک پر یاد کئے ہوئے سبق کی دہرائ کی اور واک مکمل کیا۔پھر ہم اسی بید مجنوں کے درخت کے نیچھے بینچ پر بیٹھ گئے۔ یہ جگہ ہماری پسند کی تھی اور ہماری طرح یہ بینچ بھی ہمارا ساتھی بن گیا تھا خاموشی سے ہماری باتیں سنا کرتا تھا۔ آج میں نے اس سے باتوں باتوں میں پوچھا کہ ملحان! تمھارا کیا فیوچر پلان ہے بلکہ تمنا کیا ہے؟؟ وہ مسکرائ۔۔بولی “آمنے! آپ کو پتہ تو ہے میں مستقبل کی باتیں نہیں کرتی ہوتی۔ کیونکہ جب میں مستقبل کی بات کرتی ہوں تو پھر میں اصلی والے مستقبل کی باتیں کرنا شروع ہو جاتی ہوں ، جیسے کہ مجھے اللہ کی خوبصورت آواز سننے کا ، اللہ کے دیدار کا، نبی پاک صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے دیدار و ملاقات کا، اہل بیت سے ملنے کا، حضرت عثمان  رض کی حیا دیکھنے کا، حضرت فاطمہ کی چادر کو اپنے دل و آنکھوں سے مس کرنے کے لیے مزید انتظار نہیں ہو رہا تو پھر تم اداس ہو جاتی ہو آمنے۔۔۔اور بولتی ہو موت کی باتیں مت کرو۔۔وہ جیسے شکوہ کر رہی تھی لیکن جانتی تھی میں کیوں اداس ہو جاتی ہوں سن کے۔۔” پھر میں نے کہا ارے نہیں یار اس طرح نہیں کہہ رہی۔ میں تو بس یہ پوچھنا چاہ رہی تھی ضرار بھائ سے شادی کے بعد کے کوئ خواب سجائے ہیں یا نہیں؟؟ میں اس کو چیڑ رہی تھی۔ لیکن اس نے جو خوبصورت جواب دیا تو مجھے ایک دفعہ پھر لاجواب کر دیا۔ کہتی ہے، ” آمنے لوگ پتہ نہیں کیا کیا خواب بنتے ہونگے، انکے نجانے کیا کیا پلان اور کیا کیا خواہشیں ہونگی شادی سے پہلے یا بعد میں لیکن میری بس ایک تمنا ہے۔ اور وہ یہ ہے کہ تہجد کا وقت ہو اور میں گہری نیند سوئ ہوں، تہجد کی آذان گونجے اور میرے منہ پہ پانی کے چھینٹے پڑے، میں جاگوں تو میرا ہمسفر وضو بنائے اور دو جائے نماز بچھائے میرا انتظار کر رہا ہو۔ میں اٹھوں تو ہم دونوں ایک ساتھ تہجد کی نماز پڑھیں، وہ میرا امام ہو اور میں مقتدی، اللہ ہم دونوں کی طرف دیکھ کے مسکرائے ۔ ہم سلام پھیریں تو ہم دونوں میں سے ایک تلاوت کرتا جائے اور ہم اس کے سحر میں ، اللہ کی محبت میں روتے جائیں، اللہ مسکراتا جائے۔ ہم دونوں کی بس ایک دعا ہو، اے اللہ تیری محبت ، اے اللہ تیری محبت، تیرے نبی کے عشق کی تڑپ۔ ہم دونوں کا ایک ہی محبوب ہو ایسا محبوب کہ جس کہ ایک ہونے کے باوجود دلوں میں حسد نہ آئے ۔ ہمارے ہاتھ دعا میں اٹھے ہوں وہ دعا کرتا جائے اور میں آمین  کہتی جاؤں یہاں تک کہ صبح ہو پھر ہم نماز پڑھیں اور ہمارے دن کی شروعات سورۃ الضحی سے ہو۔۔بس مجھے ایک ایسا دن نصیب ہو پھر بیشک میں مر جاؤں۔” واللہ وہ اپنی تمنا بتا رہی تھی اور میرے آنسو لڑھک لڑھک کے گر رہے تھے۔ مجھے اس کی سوچ کی خوبصورتی اور تمنا کی معصومیت پہ رشک آرہا تھا کہ آج بھی ایسے لوگ موجود ہیں جو دنیا کا نہیں سوچتے جو خدا کی محبت کے پیاسے ہیں۔ پھر ہم کب اور کیسے ملاقات ختم کر کے چل دئیے مجھے زیادہ یاد نہیں کیونکہ میرے ذہن میں تو اسے الوداع کرتے وقت بھی بس اس کی معصومیت اور باتوں کی خوبصورتی پہ رشک آرہا تھا۔ اس کی محبت نے مجھے بہت بدلا تھا شاید آج میں جو ہوں اس کی وجہ سے ہوں۔اس نے میرے اندر خدا کی محبت ڈالی تھی کہتی تھی آمنے تم گناہ بھی کرو تو اللہ سے باغی نہ ہو جانا بس معافی کی امید کی ڈور پکڑے رکھنا یہ 2020 کے ربیع الاول کے چودھویں شام کی بات ہے۔ اور آج جب میں صبح اٹھی تو اس کی بہن کا سٹیٹس لگا تھا کہ ملحان دنیا میں نہیں رہی۔۔ جو دل پہ گزری بیاں سے باہر ہے لیکن اس کی موت بھی کیا حسین تھی  کہ جمعہ کی شب تفسیر پڑھتے ہوئے اس کی موت ہوئ تھی ۔۔سبحان اللہ ۔ضرار بھائ ان سے شادی کر کے بہت خوشقست تھے مگر شاید میری طرح وہ بھی بھول گئے ہوں کہ اللہ اپنے پسندیدہ لوگوں کو جلدی بلا لیتا ہے اور پھر ملحان تو بے صبر تھی، اسے تو انتظار کاٹ کھاتی تھی کہ کب اس کی موت ہو اور وہ اللہ سے ملے کیونکہ اس جیسے لوگ موت سے ڈرتے نہیں ہیں بلکہ تیار رہتے ہیں انھیں بس اللہ کے پاس جانے کی جلدی ہوتی ہے۔لیکن ہم انسان کمزور ہیں اتنی خوبصورت موت کے بعد بھی دل کو سنبھالا نہیں دے پاتے۔۔ اللہ انھیں جنت کے اعلی درجات عطا فرمائے آمین ۔
۔ آنے رملیہ
Aanay Ramliya
9feb2022

وہ خط جو میرے نام تھا

یہ 14 فروری کا دن تھا، میں آج خوب اچھے سے تیار ہوا ، اپنا فیورٹ پرفیوم لگا کر اپنے بال سیٹ کرنے لگا تھا کہ مجھے آذان کی آواز سنائ دی۔ میں نے آذان سنی مگر نظر انداز کر دیا۔ ویسے میں نماز تو پڑھتا تھا مگر بس جمعہ جمعہ یا پھر جب اللہ سے کوئ خاص چیز مانگنی ہوتی تو میں نماز پڑھ لیتا۔ سو آج میرا دل نہیں تھا نماز پڑھنے کا، نہیں پڑھی اور مجھے اس سے کوئ خاص فرق نہیں پڑتا تھا اور نہ ہی کبھی یہ سوچنے کی توفیق ہوئ کہ میں نماز چھوڑ کر گناہ کبیرہ کر رہا ہوں۔ میں اکلوتا بیٹا تھا اور تھا بھی کافی امیر خاندان سے پس اس لیے مجھ پہ کوئ خاص روک ٹوک نہیں تھی۔ ابا نے کالج کے دنوں میں ہی مجھے اپنی گاڑی لے کے دی تھی سو دوستوں کے بھی مزے تھے بلکہ وہ تھے ہی مجھ سے فائدہ اٹھانے والے دوست لیکن میں کچھ زیادہ پرواہ نہیں کرتا تھا ان باتوں کی۔  ہم ایف سیکس میں رہتے تھے سو میں تیار ہو کر سیدھا جناح سپر کے سامنے فلاور مارکیٹ گیا۔ آج ویلنٹائن ڈے تھا جس کی تاریخ جانے بغیر ہم سب پیار کا دن کہتے ہیں اور ہر جگہ سرخ و سفید غباروں سے، سجی ہوتی ہے۔ چاکلیٹ، بئیرز اور پھولوں اور کیک والوں کا بزنس اس دن خوب چلتا ہے۔ میں بھی ان لیبرل لوگوں میں سے تھا جو اس طرح کی چیزوں پر اچھا خاصا خرچ کر لیتے ہیں۔انھی کی طرح میں بھی وہاں سرخ گلابوں کا بکے لینے گیا تھا۔ میں بہت پرفیکشنسٹ تھا اس لیے میں وہ لڑکا تو تھا نہیں کہ جس کا ہر لڑکی پر ہی دل اجائے بلکہ میری ایگو کے ساتھ ساتھ میں کلاس کا ٹاپر بھی تھا اور اللہ نے حسن بھی دیا تھا اس لیے بھی میں زیادہ کسی کو لفٹ نہیں کراتا تھا۔ اسلام آباد کی لڑکیاں خود مجھ سے بنانے کی کوشش کرتیں مگر میں بہت فارمل تھا۔ اس لیے نہیں کہ میں بہت کوئ نیک یا اچھا لڑکا تھا بلکہ مجھے اپنے سٹینڈرد کی لڑکی چاہیے تھی۔ میں چاہتا تھا کوئ ایسا ہو جو مجھ سے میری دولت کی بجائے میری پرسنالٹی اور عادات سے محبت کرے جو اگر میرے پاس کچھ بھی نہ ہو تب بھی نبھانے والی ہو اور اسلام آباد میں ایسی لڑکی ملنا مشکل تھی( میں تضحیک نہیں کر رہا بس میرا یہ ماننا تھا) ۔ وہ سب ہائ فائ تو تھیں لیکن مادیت پرست۔ میں اچھی طرح جانتا تھا کہ میں جس لڑکی سے کہوں گا وہ مجھ سے ریلیشن بنانے کے لیے راضی ہوگی لیکن میں فلرٹ نہیں  کرنا چاہتا تھا کیونکہ مجھے اگلے سال جرمنی جانا ہے سو میں چاہتا تھا کسی سے نکاح کر لوں. ابا کی خواہش تھی کہ میں نکاح کر کے جرمنی جاؤں اور میں خود کسی کو پسند کروں کہ میں ارینج شادی پر یقین نہیں کرتا تھا۔ خیر چھوڑیں میں یہ بتا رہا تھا کہ میں پھول مارکیٹ کس لیے گیا تھا ۔۔جی ہاں میں بھی پھول لینے گیا تھا جس کا اوپر ذکر کر چکا ہوں۔ لیکن کس کے لیے؟؟ آپ بھی سوچ رہے ہونگے کہ ابھی تک تو اپنی تعریفیں جھاڑی اور اب پھول خرید لیے؟؟؟ ہاں جی ایسا ہی ہے ۔ میں نے زویا ناصر کے لیے پھول خریدے تھے ۔ میں آج محبت کا مفہوم پانے کی کوشش کر رہا تھا ۔وہ محبت جس کو جاننے کی جستجو نے مجھے اپنے اصل سے بھی شاید کافی دور کر دیا تھا اور میں بس نام کا مسلمان رہ گیا تھا۔ویسے زویا میری جونئیر تھی اور کلاس کی ٹاپر بھی۔
زویا کی مجھ سے اچھی سلام دعا بھی تھی۔ وہ اکثر فنانشل انالیسز (financial analysis)  کے سوال میرے سے ہی کرتی تھی۔ میری فائنانس میں سب سے اچھی گریپ تھی اور شاید اسی بات نے مجھے یونیورسٹی میں بھی اچھا خاصا مشہور کیا تھا۔ مجھے زویا میں کافی انٹرسٹ تھا اور اس کی وجہ یہ تھی کہ وہ بہت رزرو طبیعت والی تھی۔ وہ ہر کسی کے ساتھ ہنسنے والی اور بات کرنے والی نہیں تھی۔ اس کا ڈریسنگ سینس بہت اچھا تھا. مجھے معلوم نہیں تھا وہ میری پرپوزل پر کیسے ری ایکٹ کریگی مگر باقی ہماری اچھی دوستی تھی۔ اور میں نے اس کو کبھی بولا نہیں تھا کہ وہ مجھے اچھی لگتی ہے کیونکہ میں ابھی اس کو جج کرنا چاہ رہا تھا کہ کہیں اسے کوئ پسند یا کمیٹڈ نہ ہو۔ خیر اس نے آج تک ایسا کچھ نہیں کہا تھا اور ہم نے کبھی ایسی بے باک گفتگو نہیں کی تھی کیونکہ میں بھی اس کی اتنی ہی عزت کرتا جتنی وہ میری کرتی تھی اور میں بھی اس کا اعتبار نہیں توڑنا چاہتا تھا کیونکہ وہ باقی لڑکوں کی بجائے میرے پاس ہی آتی تھی۔ اوہووووو یہ میں پھر کس طرف آگیا ہوں ۔۔اچھا بابا سوری اصل بات کی طرف آتے ہیں میں نے پھول لیے پھر کیا ہوا چلیں اب بتاتا ہوں۔۔۔معذرت بات دوسری طرف چلی گئ تھی۔ میں نے پھول لیے تو گاڑی میں لا کر رکھ دیے پھر میں صفا گولڈ گیا میں نے  وہاں سے اچھی چاکلیٹ کا ایک پیکٹ اور چیسٹیٹی پرفیوم لیا۔ اب یہ سب لے کر میں نے جہاں گاڑی پارک کی تھی وہیں بس گاڑی میں گانے سننے لگا۔۔ میں نے زویا سے کہا تھا کہ آج شام کو میری طرف سے ڈنر ہے لیکن وہ یہ نہیں جانتی تھی کہ میں اسے پروپوز کرنے والا ہوں۔ ویسے میں بہت کانفیڈنٹ تھا لیکن آج تھوڑا اس بات سے میں گھبرا رہا تھا کہ ایسا نہ ہو اس کے انکار سے میری ایگو ہرٹ ہو جائے یا پھر اسکا اعتبار ٹوٹ جائے اور یہ دونوں میں نہیں چاہتا تھا کیونکہ میری یہی سوچ تھی کہ چھپ کر چاہنے اور غلط طریقے سے اپروچ کرنے کی بجائے ڈائریکٹ بتا دینا چاہیے پھر اگر ہاں ہو تو بھی ٹھیک اور نہ ہو تو بھی ٹھیک۔ لیکن پھر بھی مجھے آج تھوڑی سی نروسنس ہو رہی تھی مجھے سمجھ نہیں آرہی تھی کہ زویا کو آج کے دن بتانا مناسب ہے کہ نہیں۔ پھر خیال آیا کہ شاید وہ خود یہی امید کر رہی ہو کیونکہ اس سے پہلے بھی ہم نے اکٹھے دوستوں کے ساتھ ڈنر تو کیا تھا پر یوں ویلنٹائن ڈے پر نہیں کیا تھا۔ ابھی 8 بج چکے تھے اور اسلام آباد میں رہتے ہوئے بھی زویا کو 10 سے زیادہ لیٹ کسی صورت میں باہر جانے کی اجازت نہ تھی۔ یعنی ابھی دو گھنٹے باقی تھے ہم نے ڈنر بھی کرنا تھا اور پھر زویا کو ڈراپ بھی کرنا تھا۔ جانے کیا وجہ تھی کہ میرا موڈ سونگ ہونے لگا اور میں نے زویا کو پروپوز کرنے کا پلان کینسل کر دیا. خیر وہ آئ اور ہم نے بلکل نارمل ڈنر کیا وہی ہلکی پلکی سٹڈیز کی باتیں اور پھر میں نے اسے ڈراپ کر دیا۔ میں گھر واپس آگیا ۔ امی لوگ اپنے کمرے میں تھے میں بس یوں ہی خود دروازہ کھولا اور گاڑی سے پھول وغیرہ اٹھا کر کمرے میں لے آیا۔مجھے موڈ سوینگز کا مسئلہ تو تھا ہی لیکن آج کچھ زیادہ ہی دل بوجھل ہونے لگا تھا۔۔
جیسے کچھ مسنگ ہو۔۔ جیسے زندگی میں کوئ کمی ہو ۔ لیکن کیا کمی ہے؟ گاڑی ہے، اچھی یونیورسٹی ہے ، اچھا گھر ہے۔پاکٹ منی بھی مل جاتی ہے۔ گھر میں کوئ روک ٹوک بھی نہی  پھر کیا ہے ؟ سٹڈیز میں بھی بہت اچھا ہوں، چاہنے والے بھی ہیں تو پھر کیا ہے جو مسنگ ہے؟ میں دل میں شاید خود سے ہی پوچھ رہا تھا۔ “محبت! جسے دنیا محبت کہتی ہے وہ مسنگ ہے” میں بڑبڑایا۔ لیکن وہ محبت تو مجھے سیٹسفائ نہیں کر سکتی تھی میں تو نہ کسی کو قید کر سکتا تھا جو فقط میرے اشاروں پہ چلے اور نہ میں ایسا تھا کہ جو ایک دفعہ میرا ہو اسے کھو دوں۔ میں اپنی ہر چیز کو بہت خاص سمجھتا تھا، لیکن میں سوچتا تھا کہ اگر میں ریلیشن بنا کر اسے یہ نہ سمجھا پایا تو پھر کیا ہوگا؟؟ مجھے ہونے سے پہلے  کھونے کا ڈر تھا۔ تو پھر یہ کیسی محبت ہوئ؟؟ محبت تو ولایت ہوتی ہے۔ یہ تو قوت عطا کرتی ہے۔ تو پھر اس میں کھونے کا ڈر کیسا؟ یہ کیسا مفہوم_ محںت ہوا پھر؟؟ میں بس ذہن میں خود سے ہی محو گفتگو تھا۔
میں نے چیزیں بیڈ پر پھینک دیں اور موبائیل وغیرہ سب سائیڈ ٹیبل پر رکھ دئیے ۔ چینج کر کے خود بھی بیڈ پر ڈھے سا گیا مگر دل کی بیچینی بڑھتی جارہی تھی۔  ایک خلا تھا جو آج مزید وسیع ہوا جا رہا تھا۔ آج میں محبت کے جذبے کی تکمیل چاہتا تھا لیکن سوچا تو مجھے محبت کا مفہوم ہی معلوم نہ تھا ۔میرے جیسے ذہن والے بندے کے لیے فقط پھول دینا، پروپوز کرنا، تارے تھوڑ لانے جیسے بے معنی دعوے کرنا یا پھر ایجاب و قبول کر کے کسی پسند کی لڑکی سے شادی کر لینا ہر گز محبت کی تشریح نہیں ہو سکتی تھی۔
میں نے سونے کی کوشش کی پر آج نیند نے بھی نہیں آنا تھا نہیں آئ۔ لیکن آج اس دن کے برسوں بعد  جب میں اپنی کہانی لکھ رہا ہوں تو اس ساری بیچینی، نیند کا اڑ جانا دل کا بوجھل ہو جانا وغیرہ کی سمجھ آگئ ہے۔ مجھے اب لگتا  ہے کہ ہر انسان کی ہدایت کے لیے کوئ خاص دن، کوئ خاص شخص، کوئ خاص واقعہ یا حادثہ یا پھر کوئ خاص قرآن کی سورۃ یا آیت مقرر ہوتی ہے جو اس کی آنکھیں کھول دیتی ہے۔ جس کے بعد انسان کا ظاہر و باطن دونوں بدل جاتے ہیں ۔یہ وہ لوگ ہوتے ہیں جو چن لیے جاتے ہیں۔ جو بہت خوشنصیب ہوتے ہیں جنھیں اللہ باقی عام لوگوں جیسا نہیں دیکھنا چاہتا۔ جنھیں اللہ اپنا رنگ دینا چاہتے ہیں۔ جنھیں اس جھوٹی دنیا کی سرخ رنگوں سے نکال کر صبغۃ اللہ یعنی اللہ کا رنگ چڑھا دیا جاتا ہے  پس میرے لیے شاید یہی دن مقرر تھا جسے دنیا ویلنٹائن جیسے غلیظ تہوار کے نام سے جانتی ہے مگر اس وقت میں بھی اس ویلنٹائن نامی چیز کو کچھ ذیادہ برا نہیں سمجھتا تھا۔ خیر اس دن مجھے نیند تو نہ آئ لیکن دل کے نہاں خانے اور تحت الشعور میں جو سوالات شاید ایک عرصے سے پڑے تھے وہ اب ابھر ابھر کر میرے دل و دماغ پر جیسے ہتھوڑے برسا رہے تھے۔ ہر گزرتے لمحے کے ساتھ ان کے جاننے کی جستجو بڑھتی جا رہی تھی۔ کچھ عجیب عجیب وسوسے بھی آ رہے تھے زویا کے بارے میں۔ پھر سوچا زویا کو کال کر لوں شاید دھیان بھٹک جائے حالنکہ میں  نے کبھی اسے اتنی لیٹ کال نہیں کی۔ میں نے کال نہیں کی کیونکہ میری انا اور عزت نفس یہ گوارا نہیں کرتی تھی۔
پھر میں نے موبائیل میں واٹس ایپ کھولا اور یوں ہی اوپر نیچھے چیٹ دیکھنے لگا۔ میری نظر ایک چیٹ پر پڑی یا شاید یہ اللہ نے طے کر دیا تھا کہ میں ایسے لمحوں میں ہی اس چیٹ کی طرف نظر کرونگا۔کہ اللہ سورۂ التکویر میں فرماتے ہیں ، ” تم چاہ بھی نہیں سکتے جب تک اللہ نہ چاہے”. جب اس کی چاہ کے بغیر کوئ پتہ تک نہیں ہل سکتا تو میں کیونکر چیٹ دیکھ سکتا تھا بھلا؟ یہ چیٹ میں نے کئ دن سے نہیں کھولا تھا، لوح محفوظ میں یہی لکھا گیا تھا کہ میں اسے آج ہی کھولونگا۔ یہ ضرارہ کی چیٹ یعنی میسجز تھے۔  ضرارہ میری ایک چھوٹی کزن ہے جو تب یونیورسٹی کے تیسرے سیمسٹر میں تھی ان کے بھائ نہیں ہیں اور مجھے وہ بھائ کہتی ہی نہیں سمجھتی بھی ہے۔ بچپن سے میرا بھی اس کے ساتھ سگے بھائ جیسا تعلق ہے۔ ویسے میں ان کا رضاعی بھائ بھی ہوں۔ ان کا میسج آیا تھا کہ بھائ آپ نے میری میم کی آڈیوز سن لی ہیں کہ نہیں؟ “وہ کسی آن لائن پلیٹ فارم پر ایک میم سے پڑھتی تھیں بلکہ ابھی تک پڑھتی ہیں جن کا نام میڈم تانیہ ہیں اور خود کو اللہ کی نائب کہتی ہیں”۔۔ضرارہ مجھے ہر وقت کہتی تھیں کہ رومان بھائ آپ کبھی میری میم کے لیکچرز سنیں آپ کبھی قرآن سے جڑ کے تو دیکھیں آپ کی لائف بڑے مزے کی ہو جائے گی۔ میں اس کی باتیں “ہاں سنوں گا کبھی” کہہ کر ٹال دیتا تھا۔اور وہ اکثر کچھ خاص موقعوں پر ضرور مجھے اپنے سیشنز کی ریکارڈنگز بھیجتی تھیں مگر سچ بتاؤں تو میں نے کبھی نہیں سنا ان کو۔ بلکہ میں تنگ ہوتا تھا ایسے کسی کو سننے سے۔ اور پھر اسلامی باتیں سننا تو میرے لیے کچھ خاص دلچسپ نہیں تھا۔نعوذباللہ۔
مگر اس دن میرا دل اتنا بیچین تھا کہ نا چاہتے ہوئے بھی میں نے آڈیوز پلے کردیں۔اس دن مجھے پہلی بار احساس ہوا کہ کچھ اتفاق  دراصل اتفاق نہیں ہوتے بلکہ اللہ نے اس لمحے آپ کو دوسرے راستے پر موڑنا ہوتا ہے۔ وہ ایک چھوٹا اتفاق، حادثہ، جملہ ، یا لفظ آپ کی زندگی کو یا تو موت سے نواز دیتا ہے یا پھر ایک نئ زندگی بخشتا ہے اور یہی میرے ساتھ ہوا۔ آج دہائیوں بعد سوچتا ہوں کہ تب مجھے چن لیا گیا تھا، آنکھوں سے آج آنسو گرتے نہیں تھمتے کہ میں اللہ کا شکر کیسے ادا کروں۔ کبھی خیال آتا ہے کہ شاید یہ میری دعا قبول ہوئ ہے جب میں کبھی کبھی جمعہ کی نماز پڑھتا تو اللہ جی سے کہتا تھا کہ اے اللہ میں گناہگار ہوں باغی نہیں ہوں میں اپنے گناہ کا اعتراف کرتا ہوں مجھے موت سے پہلے ہدایت دے دیں۔ مجھے آقا نامدار صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کا سامنا کرنے سے شرم آتی ہے۔ دوسروں کے ساتھ دھوکہ نہیں کرتا پس مجھے ہدایت دے۔
میں نے کبھی کسی عورت کا اسلامی لیکچر نہیں سنا تھا سوائے اس کے کہ میں استاذہ فرحت ہاشمی صاحبہ کو جانتا تھا کہ وہ اسلامی لیکچرز دیتی ہیں اور ان کا انداز بھی بڑا مشفق تھا۔ سو اس دن میں میم تانیہ کو پہلی دفعہ سن رہا تھا انھوں نے اس دن جو پوسٹر ڈیزائن کیا تھا کمال تھا اور میرے پاس آج تک پڑا ہے۔قارئین کے لیے کہانی کے آخر میں لگا دوں گا۔ میں ان کو سنتا گیا تو ان کا انداز بیاں بہت مختلف تھا وہ قرآن کی ہر آیت روزمرہ کی زندگی سے جوڑتی جا رہی تھی۔ مجھے ضرارہ نے بتایا تھا ان کے ہر سیشن کا اپنا ایک تھیم ہوتا تھا، سو ویلنٹائین ڈے کے سیشن کا تھیم انھوں نے کچھ ایسا رکھا تھا “سچی محبت، کیوں کہ یہ تو دل کا معاملہ ہے:  محبت کا خط: قرآن و حدیث کی نظر میں”۔ 
آڈیوز یعنی ریکارڈ شدہ کلاس میں استاذہ تانیہ نے پہلے ویلنٹائن کی مختصر تاریخ اور اس کا اسلامی تہذیب کے ساتھ موازنہ بتایا۔ سنتے ہوئے میرا سر شرم سے جھکا جا رہا تھا کہ ہم اسلام جیسی خوبصورت اور جدت پسند دین کے ہوتے ہوئے اور ہر وقت غیرت کی رٹ لگائے کس قدر بیغرتی اور ذلت والی تہذیب کو رنگین محبت کا کور چڑھا کر فقط قبول ہی نہیں بلکہ مزید ا شاعت بھی کیے جارہے ہیں۔
چونکہ آپی تانیہ ان کو اس سیشن سے پہلے سورۃ القیامہ کی تفسیر پڑھا چکی تھی سو وہ اس موضوع کو اس کے ساتھ ریلیٹ کرنے لگی کہ کیسے ہم “لیفجر امامہ” یعنی آگے آگے یا برملا گناہ میں ڈوبے جا رہے ہیں، اور پھر اس کو ایسے کھلم کھلا کرتے ہیں جیسے وہ گناہ ہی نہ ہو ۔ اگر کوئ ہمیں آخرت سے ڈراتا ہے تو بے دھڑک پوچھتے ہیں، اچھا قیامت کب آئے گی؟؟ جب کہ قیامت کا علم تو صرف اللہ کے پاس ہے۔ لیکن ہاں اس دن حالات یہ ہونگے کہ کچھ چہرے بڑے روشن ہونگے اور وہ اپنے رب کی طرف دیکھ رہے ہونگے۔ اور کچھ چہرے بد رونق ہونگے، وہ گمان کریں گے کہ اب ان کے ساتھ کمر توڑ معاملہ ہوگا ۔نعوذ باللہ۔مگر ہم بھول جاتے ہیں کہ انفرادی قیامت تو کسی بھی لمحے آسکتی ہے جس کا ذکر اسی سورۃ میں آگے تھا، یعنی انسان کے ذہن کو اللہ کتنا بہتر جانتے ہیں کہ ادھر سوال ابھرا ادھر جواب آیا۔۔سبحان اللہ اس آیت پر میں رک گیا۔ بیڈ پر بیٹھے مجھے بڑے ڈریسنگ میرر میں اپنا آپ نظر آرہا تھا۔ میرے کاٹن کے کپڑے، پرفیوم کی خوشبو اور میرے خوبصورت کٹے اور جیل سے سیٹ شدہ بال، یہ سب تو شام سے ایسے تھا یعنی میں زویا سے ملنے خود کو تو بڑا سیٹ کر کے گیا تھا۔ مگرر۔۔۔۔میری زبان رکنے لگی ۔ دل تیزی سے دھڑکا۔۔میں اپنی آنکھوں میں دیکھ کر خود سے پوچھنا چاہ رہا تھا کہ ، رومان! رومان! کیا تم اس دن روشن چہرے والے لوگوں میں شامل ہو گے یا پھر؟؟ آگے ایک بہت بڑا سوالیہ نشان تھا۔ اندھیرا ہی اندھیرا۔ میری آنکھوں میں سرخی اتر رہی تھی، غم، ندامت، اور پچھتاوے کی سرخی۔  جیسے جیسے تانیہ آپی تفسیر ریلیٹ کرتی جارہی تھی اور کہتی جاتی کہ یہاں اپنا نام لگاو میں وہاں نام لگاتا جاتا، خود سے سوال کرتا جاتا مگر وہ میں تو نہیں تھا۔ وہ تو اللہ کی آیات تھیں ۔وہ تو اللہ مجھ سے مخاطب تھا۔ میں نے یہ آیات دوبارہ پڑھیں، ” کہ اس روز کچھ چہرے روشن کچھ بدرونق ہونگے اور روشن چہرے والے اللہ کا دیدار کریں گے۔ ” میں بار بار دہراتا رہا، میں اپنے آپ کو میدان حشر میں دیکھ رہا تھا ، میرے لیے ایک لمحے کے لیے بھی سوچنا مشکل تھا کہ اگر وہاں میرا چہرا بدرونق ہو، پورے عالم کے سامنے، میرے پروردگار کے سامنے، پیارے آقا کے سامنے، وہ جو آج سے چودہ سو سال قبل میرے لیے، جی ہاں مجھ گناہ گار رومان کے لیے روتے تھے، تو کیا ہوگا؟؟ دنیا میں تو میں زرا کسی کے سامنے بغیر سٹائل کے نہیں گیا مگر وہاں؟؟؟؟ وہاں سب کے سامنے بے رونق؟ سب کے سامنے میرے گناہ۔۔؟؟ کک کیا حالت ہوگی؟؟ میرے الفاظ دم توڑتے جا رہے تھے۔  میں آڈیوز کو آگے آگے سنتا گیا، میرا دل ہی نہیں کر رہا تھا وہ تفسیر ختم ہو، جب استاذہ قیامت کا منظر بتا رہی تھی وہی جو سورۂ القیامہ میں اللہ نے مجھ سے اور تم سے بیان کیا ہے، کہ سورج بے نور ہو جائے گا، چاند کی روشنی سلب کر لی جائے گی، چاند و سورج کو ملا دیا جائے گا، میں اپنے تصور میں گویا یہ سب دیکھ رہا تھا۔ کہ اچانک سے بجلی گرجنا شروع ہوئ آسمان پر بجلی چمکنے لگی تھی، میرے کمرے کی کھڑکیاں بولنے لگیں تھیں۔ باہر یہ منظر اور تصور میں قیامت کا منظر ، سب کچھ بے نور، کالا اندھیرا، بے بسی، بد رونق چہرے، گرمی کی شدت، میں روتے ہوئے ہچکیاں لینے لگا تھا ۔”اے اللہ آج موت نہ دینا ، بس آج موت نہ دینا، میں سنبھل جاؤں گا، پلیز مجھے ہدایت دے دیں بس آخری موقعہ دیں میرے اللہ پلیز”۔ میں زندگی میں کبھی اتنا خوفزدہ نہیں ہوا جتنا اس رات ہوا تھا، مجھے لگا کہ اگر میں اس دن مر گیا تو کیا ہوگا۔ اس دن پہلی بار قیامت کا یقین ہوا تھا، تب میرے ذہن میں کتنے سالوں بعد اسلامیات کے استاد کے یہ جملے گونج رہے تھے کہ عقیدۂ آخرت انسان کو انسان بنا سکتی ہے اگر یقین کامل ہو۔ جی ہاں اس دن سمجھ آیا تھا کیوں سارے اعمال توحید و رسالت کے بعد عقیدۂ آخرت سے بدل سکتے ہیں۔ یوں لگ رہا تھا کسی نے میری آنکھوں سے پردہ ہٹایا ہو اور میں جتنا آگے جا رہا تھا یعنی میں استاذہ کی آڈیوز سنتا جا رہا تھا وہ اگے آگے ہر ایت کو ویلنٹائن ڈے کے ساتھ اور ہماری زندگی کے ساتھ کنیکٹ کرتی جا رہی تھیں میرے سامنے کچھ پرت در پرت کھل رہا تھا جی وہی تو راز_حق تھا جو عیاں ہو کر بھی مجھ سے نہاں تھا ۔میں وہ سب یہاں نہیں لکھ سکتا، کہ قرآن کی یہ مختصر سورۃ کتنی وسیع ہے یا میرے اس وقت کیا جذبات تھے وہ سب لکھنے سے میں قاصر ہوں ورنہ جانے کتنے دن لگ جائیں صرف اسے لکھنے میں۔میں آج بھی سوچتا ہوں کہ انسان کی ہدایت کے لیے تو سورۂ القیامۃ جیسی ایک سورت ہی کافی ہے چہ جائیکہ پورا قرآن۔یہ پورا قرآن تو واقعی بہت بھاری ہے مگر انسان سچ میں احمق ہے، جسے اٹھانے کی پہاڑوں نے زمہ داری نہیں اٹھائ، جس کا وزن پہاڑوں سے نہ اٹھایا جا سکا اس کو انسان نے اٹھانے کی زمہ داری لے لی۔ خیر اب آپی اس سورۃ کو اس دن کے تھیم کے مطابق سمجھانے لگی تھی، کہ جب اللہ جی ساری چیزیں بتا کر بڑے پیار سے شکوہ کرتے ہیں، “فلا صدق ولا صلی” ولکن کذب و تولی، ثم ذھب الی اھله یتمطی ” اولی لک فاولی ۔
پھر اس نے نہ تصدیق کی، نہ نماز پڑھی، بلکہ اس نے جھٹلایا اور منہ پھیر دیا، اور پھر اپنوں کے پاس اکڑ کر چل دیا. وائے (افسوس) ہے تجھ پر اور پھر افسوس۔۔
یا رب یہ کیا ہو رہا ہے؟  جی میں نے ہی تو آج نماز چھوڑی تھی، میں ہی تو آذان کو نظر انداز کر کے گیا تھا، میں ہی اللہ جی کو چھوڑ کر زویا سے ملنے گیا تھا، محبتوں کی تعبیر ڈھونڈنے لیکن۔
یا ربی کیا آپ واقعی مجھ سے ہی بول رہے ہیں؟ میرا کلیجہ منہ کو آرہا تھا، میری رونے کی آواز چیخنے میں بدل گئ تھی میں بیڈ سے اتر کر زمین پر بے اختیار ہو کے آ بیٹھا تھا۔ استاذہ تانیہ اس دل کے ساتھ، وفا کے مفہوم کے ساتھ، محبت کے اس عظیم انداز کے ساتھ، لاڈ اٹھانے والے رب کے اس سوہنے انداز _ شکوہ کے ساتھ بتا رہی تھیں کہ اللہ جی نے تو تمھیں پیدا کر کے تمھارا دل بنایا تھا، پھر تمھیں ہدایت اور گمراہی دونوں راستوں کے انجام سمجھائے تھے ، اور دیکھو رومان! آج تم نے جو کیا اور تمھارے دل میں جو سوال تھے اللہ اسی کو لے کر تم سے مخاطب ہے ۔ وہ اب بھی تمھارا انتظار کر کے اتنی محبت سے شکوہ کر رہے ہیں کہ رومان تم نے پھر بھی نماز چھوڑ دی ؟ کتنا افسوس ہے تم پر۔ کاش میں یہاں وہ ساری تفسیر لکھ سکتا، وہ تو کئ مہینوں کی تفسیر تھی لیکن میں تو مسلسل جانے کتنے گھنٹے سنتا رہا تھا ۔میری نیندیں اڑ گئ تھیں۔ استاذہ جب کہہ رہی تھیں کہ اپنا نام لکھ کے خود سے پوچھو! بلکہ سوچو اللہ تم سے ہی پوچھ رہا ہے کہ اے رومان! میں نے تیرا دل بنایا، تمھیں ایک حقیر پانی کے قطرے سے تخلیق کیا اتنی خوبصورت شکل کے ساتھ اور پھر تمھیں اپنا خط بھیجا، وہ خط جو ایک سو چودہ عنوانات پر مشتمل تھا، ایسا خط جو زندہ تھا جس میں تمھاری ہر حالت کے مطابق تیرے دل کے ہر احساس کے مطابق میں نے تجھے مخاطب کیا تھا، مگر تم نے اس خط کو کھولا تک نہیں۔ کیا کوئ ایسے کرتا ہے اپنے محبوب کے خط کے ساتھ؟؟ کیا میرا بنایا ہوا دل تم نے غیر کی محبت سے بھر دیا اور میری جگہ تم نے اسے دے دی؟ کیا میں نے نہیں تمھارے دل میں خوبصورت احساسات پیدا کیے تھے؟ کیا محبتوں کا تمھیں یہی مفہوم سمجھ آیا کہ دوسروں کی پیار سے دی ہوئ چیز ، وہ جو انھوں نے بڑے چاؤ بڑے مان سے بنائ ہو وہ تم کسی اور کو دے آو؟ تمھیں وہ دل میں نے سونپا تھا جی تمھارے رب نے۔ اور رب کونسا؟ تیرا خالق، تیرا مالک، تیرا مدبر۔ بھلا یہ تین صفات کسی بھی انسان میں ہو سکتی ہیں کیا؟؟ جی رومان میں یہ تو نہیں کہہ رہا تم دنیا چھوڑ دو کہ وہ تو میں نے تیری ہی خدمت کے لیے بنائ تھی مگر یہ کیا کہ تم اپنے اصل کو ہی بھول بیٹھے ہو۔ تم اپنی تہذیب بھول کر ویلنٹائن اور پتہ نہیں کہاں کہاں محبت ڈھونڈ رہے ہو۔ کیا تم بھول گئے ہو کہ کالی کملی والے خوض کوثر پر تیرا انتظار کریں گے، وہ مجھے سے ہر لاالاہ الاللہ کہنے والے کی سفارش کریں گے، وہ جو قیامت میں بھی امتی امتی پکار رہے ہونگے کیا تمھیں اس سے ذیادہ محبت چاہیے ہے؟؟
باہر ہوا کے جھکڑ مزید تیز ہونے لگے تھے، مجھے یوں لگ رہا تھا گھر کی چھت گر جائے گی، اور میرے اندر خوف و ندامت کے طوفان برپا تھے ۔ اندر باہر ایک ہولناک سماں تھا۔ باہر بارش برس رہی تھی اور اندر میں آنسو میں بھیگ رہا تھا۔ فجر کا وقت قریب تھا اور میں تھا کہ سورۃ القیامۃ کی تفسیر بند ہی نہیں کر پا رہا تھا۔ میں پھر کہتا ہوں کاش میں وہ سب لکھ سکتا جو میرے ساتھ ہوا۔ جیسے اس رات قرآن میرے دل پہ اترا تھا۔ جیسے اس رات مجھے سمجھ آئ تھی کہ قرآن پڑھا نہیں جاتا صرف، اس کا دل پر نزول ہوتا ہے جب تک نزول نہ ہو قرآن بس ایک آسمانی کتاب ہی لگتی ہے۔ اس رات مجھے پہلی دفعہ سر خرم کے بولے ہوئ علامہ اقبال کے اس شعر کی تشریح سمجھ آئ تھی،
تیرے ضمیر پر جب تک نہ ہو نزول کتاب
گرہ کشا ہے نہ رازی نہ صاحب کشاف۔۔۔
لیکن میرے نصیب میں اس سب کے لیے وہی رات ، وہی وقت مقرر تھا۔ اس سے پہلے میں پڑھتا بھی تو وہ مجھے نہ سمجھ آتے۔ میرا اب یہ ایمان ہے کہ اللہ آپ کو جو چیز جس وقت جس طرح سنوانا چاہتے ہیں آپ ویسے ہی سنتے ہیں تبھی تو یہ دعا مانگنی سکھائ گئ ہے کہ،
“الھم ارنا الحق حقا وارزقنا اتباعه و ارنا الباطل باطلا وارزقنا اجتنابه۔”
اے اللہ ہمیں حق کو حق دیکھا اور اس کی پیروی کی توفیق دے اور باطل کو باطل دیکھا اور اس سے اجتناب کی توفیق بخش۔
اسی لیے تو سائیکالوجی میں پرسیپشن  ایک بہت بڑا مضمون ہے، جس کا خلاصہ یہ ہے کہ انسان چیز کو جو دیکھ یا سمجھ رہا ہوتا ہے ضروری نہیں  وہ وہی ہو۔ اسی طرح اس رات اللہ نے میری کایا پلٹنی تھی سو میں اسے دوسرے اور گہرے انداز سے سمجھ رہا تھا۔
خیر میری آنکھیں سوجھ چکی تھی ، میں نے اٹھ کر اپنا مصحف اٹھایا جو شاید آخری بار میں نے رمضان میں یعنی اس دن سے تقریبا دس مہینے پہلے اٹھایا تھا اور پھر کبھی کھولنے کی زحمت نہ کی تھی۔ مصحف کو سینے سے لگایا، میرے ہیڈفونز ابھی بھی لگے ہوئے تھے، تانیہ استاذہ کہہ رہی تھیں قرآن اللہ کا خط ہے، اس میں اللہ نے میرے اور اپ کے لیے ایک سو چودہ پیغام بھیجے ہیں ” یہ سن کے میں نے زور سے بھینچا اپنے مصحف کو جیسے کوئ اپنے بہت عزیز پرانے دوست کو سینے سے بھینچتا ہے۔  جب آپی کہہ رہی تھی، ” کلا بل تحبون العاجلہ ” بلکہ اللہ جب یہ کہہ رہے تھے کہ رومان تمھیں تو عاجلہ یعنی جلدی ملنے والی (دنیا ) سے محبت ہے  تو میرے ہاتھ کانپ رہے تھے۔ میں صوفے پر بیٹھا جیسے اللہ کی محبت اور خوف سے لرز رہا تھا۔ اللہ جی جیسے میرا دل و ذہن  پڑھ رہے تھے اور مجھے جواب پر جواب تانیہ میم کی آواز میں دیے جا رہے تھے۔ اس دن مجھے احساس ہو چکا تھا کہ میرے دل میں اتنی بڑی خلا کیوں تھی، وہ خلا نہیں بلکہ روح کی تشنگی تھی جسے آسمانی پانی ہی بجھا سکتی تھی۔

جس محبت اور صفات کو میں انسانوں میں ڈھونڈ رہا تھا وہ تو انسانوں میں تھیں ہی نہیں۔ وہ خط جو میرے خالق میرے مدبر میرے مالک نے میرے نام لکھ کے محمد مصطفی، حبیب کبریا، امام الانبیاء صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کے ہاتھوں بھیجا تھا وہ تو میں نے اپنی چھبیس سالہ زندگی میں کھولا ہی نہ تھا۔ وہ خط جو صرف میرے لیے تھا، جس میں میرے محبوب ، میرے اللہ نے میری زندگی کے ایک ایک لمحے کی گائیڈینس یعنی راہنمائ کی تھی۔ وہ جس میں کبھی اس نے میرے اداسیوں اور مایوسیوں کے جواب میں لکھا تھا، ” لا تقنطوا من رحمۃ اللہ” اور کبھی میرے اکیلے پن میں بچانے کے لیے کہا تھا، ” لا تحزن ان اللہ معنا”۔ کبھی میرا موڈ اچھا کرنے کے لیے خوبصورت جنتوں کے وعدے تھے تو کہیں میرے اوور کانفیڈنس اور غرور کو توڑ کر میری کریکٹر اور پرسنالٹی بلڈنگ کے لیے نصیحت و عتاب کے طور پر جہنم اور قیامت کی ہولناکی کا بیان تھا۔ وہ جو مجھے بچوں کی طرح پاس بلانے کے لیے کہہ رہا تھا، ” ففروا الی اللہ” اور کبھی مجھے پھسلتا ہوا دیکھ کے بڑے مان سے پوچھا تھا، رومان! ” فاین تذھبون؟”. میری کمپلیکسٹی کا علم بھی اسے کتنا خوب تھا کہ مجھے اسنے لکھ کے بھیجا تھا، رومان! ” ما غرک بربک الکریم؟ الذی خلقک فسواک فعدلک۔ فی ایی صورۃ ماشآء رکبک” اور کبھی میرے غصے کو ٹھنڈا کرنے کے لیے کہا تھا، “فاصبر صبرا جمیلا” ۔۔
لیکن میں تو ویلنٹائن کے انتظار میں تھا۔ میں تو سرخ پھولوں چاکلیٹس، بھالو اور دل والے غباروں کے پیچھے پڑا تھا۔ میں نے تو محبت کی اس عظمت اس ولایت کو کبھی محسوس ہی نہ کیا تھا۔ میں تو سی ایف اے کر کے جانے خود کو کیا سمجھ بیٹھا تھا۔ خیر میری دنیا بدل چکی تھی میں نے اس دن دوبارہ کلمہ پڑھا تھا، جی ہاں اس دن دل سے پڑھا تھا پہلے تو بس قسمت میں ہی مسلمان پیدا ہونا لکھا تھا نا۔ ایمان تو میں 15 فروری کی شب  لایا تھا۔ فجر کی اذانیں ہو رہی تھیں اور استاذہ سورۃ القیامۃ کی آخری آیت پڑھ رہی تھی کہ جب اللہ جی انسان کی تخلیق اور اوقات بتا کر پوچھتے ہیں کہ ” الیس ذالک بقدر علی ان یحیی الموتی؟” کیا اللہ اس پر قادر نہیں ہے کہ وہ مردہ کو زندہ کرے؟؟ آپی کے کہنے سے پہلے ہی میں بے اختیار کہہ اٹھا تھا سبحانک فبلی۔۔(تو پاک ہے پس کیوں نہیں)۔۔ کیونکہ میں نے تو اپنی ذات کا مشاہدہ کیا تھا۔ میرے مردہ دل کو بھی تو آج اللہ نے پھر سے زندہ کیا تھا نا۔ میری روح کی مردہ محبت کو آج اسی نے جلا بخشی تھی۔ اٹھ کے میں نے نم آنکھوں سے فجر پڑھی تھی۔ میں مسجد میں کافی دیر تک اپنی بہنا ضرارہ کے لیے دعائیں شکریہ کے طور پہ کرتا رہا تھا کہ اللہ نے اسے میری ہدایت کا زریعہ بنایا تھا۔ میں استاذہ تانیہ کا شکریہ تو شاید کبھی بھی ادا نہ کرسکوں کہ اللہ نے ان کو زریعہ بنا کر مجھے روشنی، محبت، وفا، اور حق کے اصل معنی سے روشناس کرایا تھا۔ وہ خط جو میرے نام تھا ان کے زریعے مجھ تک پہنچ گیا تھا اور میں اصل معنوں میں گویا اس دن ہی پیدا ہوا تھا۔ میں نے جو پھول زویا کے لیے لیے تھے اس کے خوبصورت چند پتوں کو میں نے مصحف میں رکھ دیا تھا ، اور مصحف کے غلاف پر وہی پرفیوم چھڑکا تھا جو زویا کے لیے لیا تھا اور میرے مصحف سے زیادہ خوشبو کا حقدار کون ہو سکتا تھا۔
خیر یہاں میں اپنی کہانی روک دیتا ہوں اور یہاں سے آگے آپ اپنی محبت کی کہانی لکھیں گے۔ میں نے آپ کو پتہ بتا دیا ہےکہ جیسے میرے نام خط آیا تھا مگر میں نے اسے دنیا کی رنگینیوں میں مگن ہو کے کھو دیا تھا اور میں نے اسے کھولنے میں شاید دیر کر دی تھی۔ کہیں ایسا تو نہیں کہ آپ نے بھی ابھی تک اپنے نام کا خط وصول نہ کیا ہو، اسے نہ پڑھا ہو اور آپ اسے ڈھونڈتے ہوئے بھٹک رہے ہوں؟ کہیں آپ بھی “کل دیکھوں گا/دیکھوں گی” کے دھوکے میں پڑ کر دیر تو نہیں کر رہے؟ جی ذندگی تو فقط ایک دفعہ ملتی ہے ، یہی تو مہلت ہے پھر موت کے بعد تو کوئ مہلت نہیں ہے وہاں تو حساب ہے، ملن ہے، جزا ہے،ملاقات ہے پھر۔ کہیں آپ نے بھی اپنا اہم میسج بھلا نہ دیا ہو۔ کہیں آپ بھی میری طرح محبت کے معنی و تعبیر کے لامتناہی سرابوں کے پیچھے تو نہیں بھاگ رہے؟
کیا آپ کے اندر بھی میری طرح کی اکڑ، خلا یا پھر تشنگی ہے؟ اگر آپ کا جواب ہاں ہے تو پھر یہیں سے اپنی کہانی لکھیں، جائیے اپنے گھر کے کسی طاق میں ڈھونڈیے وہ خط شاید وہیں پڑا ہو۔ کھول کے پڑھئیے، مجھے یقین ہے آپ کے عزیز از جان خالق و مالک نے آپ کو بھی آپ کے نام ایک سو چودہ میسجز پر مشتمل ایک خط ضرور بھیجا ہے۔
ہوسکتا ہے میری کہانی پڑھنے کے بعد آپ کو تجسس ہو کہ میرا کیا بنا تو میں اس کا بھی جواب دے دیتا ہوں کہ جب میری زندگی بدلی تو لوگوں کے عام تصور اور خیال کے مطابق مجھے ابینڈنڈ نہیں کیا گیا، بلکہ میرے غیور رب نے مجھے مزید نعمتوں سے نوازا تھا۔ جی میں جرمنی چلا گیا تھا، ایک سال بعد میری شادی زویا ہی سے ہوئ تھی مگر یہ پرپوزل یہ رشتہ کسی ویلنٹائن کا محتاج نہ رہا تھا، آج میرے دو بچے ہالہ اور شریم قرآن کو آدھا حفظ کر چکے ہیں میں نے جرمنی میں فنانشل انالسٹ کے طور پر بہت نامور فرم میں جاب کی ہے اور آج کل میں پاکستان آیا ہوا ہوں۔ میں نے اپنی کہانی پاکستان آکر ہی لکھی ہے کہ میرے وطن سے میری ہر یاد جڑی ہے خصوصا وہ رات جب میں ایمان لایا تھا۔اور میں جرمنی میں تبلیغی مرکز میں جرمنی آنے والوں کا ایک طرح سے مہتمم بھی ہوں۔ مجھے اپنے بیوی بچوں سے بہت محبت ہے مگر یہ محبت میرے محبوب کی محبت سے کبھی بڑی نہیں ہو سکتی، مجھے اللہ نے وہ سب دیا جو ایک انسان کی چاہ ہوتی ہے مگر اپنے وقت پر اور میرے بھٹکنے اور سیدھی راہ پر آنے کے بعد، محبت کی تعبیر و مفہوم سمجھنے کے سفر کے بعد۔ کچھ آزمائشوں میں بار بار مجھ پر مہربان ہونے کے بعد۔ اور یہ میں صرف اس لیے بتا رہا ہوں کہ کہیں آپ مایوس نہ ہو جائیں اسلئے کہ  شیطان ایک یہ بھی چال چلتا ہے، وہ آپ کو ڈرا دیتا ہے کہ اگر دین پر آؤگے تو بہت کچھ چوٹ جائے گا، نہیں ایسا کچھ نہیں ہوتا، اس ہجرت میں اگرچہ چیزیں چوٹتی ضرور ہیں مگر وہ بھی فائدے کے لیے، اس ہجرت الی اللہ میں فقط نفع ہی نفع ہے۔۔
والسلام از  رومان سیٹھی۔۔

یہ وہ پوسٹر ہے جو استاذہ تانیہ نے اس دن ڈیزائن کیا تھا۔

بقلم خامہ: آنے رملیہ
1:31 am
16 june 2022

RAWEEN:A white Flower

Raween: A White flower
On a hot summer day…
Under the shade of green tree..
I sat on a bench and opened my book
I found a white beautiful flower…
A flower with a fragrance of Raween
but with a texture of Rose..
Though i always wanted to be
a rose to someone in distress
So my fragrance can cure him
and make him special for having me
But It seems
like i have become a gardner
since the day i Found that Flower
under the shade of green tree..
I love to watch it bloom day by day
from a tightly packed beautiful bud
to a splendorous white rose…
As it opens petal after petal
I discover a new print, a new feeling
I wish to see this flower fresh…
standing tall in the garden of my heart
For i will water it with water of my love
So it never withers away…
and will never pluck it …
but will sit beside and talk to it
and kiss the dew drops on it…
For its a Raween made to be smelled
and inhaled in breaths, fresh and lovely
or To be decorated in hairs, long and silky
or to be worn in a garlend around the neck
But it’s a delicate beautiful flower
That need to be handled with care
so it never withers away..
Its a RAIHAN, a heaven’s flower
A heaven’s flower…
A white flower…
Aanay Ramliya
30 May 2022

اے کشمیر تجھ سے شرمندہ ہوں

اے وادئ کشمیر
اے وادئ کشمیر۔۔۔
اے وادئ جنت نظیر۔۔۔
میں تجھ سے لاکھ اظہار یکجہتی کروں
میں تجھ سے لاکھ تیری آزادی کا عہد کروں
لیکن میں تجھ سے شرمندہ ہوں۔۔۔
میں اپنی قوم کی طرف سے
تجھ سے معذرت خواہ ہوں
اے کشمیر، اے وادئ جنت نظیر
میں تجھے آزاد نہیں کر سکتا
میں تیرے دریاؤں کے پانیوں سے
تیرے عظیم جوانوں کے خون کی لالی
تیری ماؤں کے آنسوؤں کی بے بسی
کو مٹا تو نہیں سکتا نا
تیرے پہاڑوں پر جمی برف سے
میں اپنے لوگوں کی بے وفائ
اور ظالموں کے ظلم و بربریت
کے داغ بھی نہیں مٹا سکتا
میں شرمندہ ہوں تجھ سے
اے کشمیر، وادئ جنت نظیر۔۔
میں تیری آہیں سنتا ہوں
تیری بیٹیوں کی عزتوں کی
پامالی بھی دیکھتا ہوں۔۔
تیرے جوانوں کی کٹتی لاشیں
بکھرتی، خوں سے رنگ دیکھتا ہوں
تیرے بچوں کو یتیم ہوتا ہوا
ماؤں کو روتا ہوا
باپوں کو بیٹوں کے جنازے پڑھتا
اور اٹھاتا ہوا دیکھتا ہوں
لیکن میں خاموش رہنا پسند کرتا ہوں
کیونکہ یہ سب میرے ساتھ نہیں ہو رہا
کیونکہ میرے جیب سے کچھ نہیں جاتا
کیونکہ مجھے خوف ہے کہ اگر تمھاری
مدد کی تو میرا دوست
میری مدد بند کر دیگا
میرے وٹ کے لیے میرا کوئ نعرہ
میرے پاس نہیں بچے گا۔۔۔
پھر میں یو این میں تقریر کر کے
یا پھر ہر سال یکجہتی کا اظہار کر کے
اپنے لوگوں سے واہ واہ کیسے وصول کرونگا
اے وادئ کشمیر مجھے تیرا احساس ہے
لیکن میں خود مجبور ہوں۔۔۔
میں تمھیں آزاد نہیں کر سکتا
میں اپنے دوست کو خفا نہیں کر سکتا
کہ پھر ان کا اصلحے کا کاروبار ٹپ پڑ جائے گا
پھر ہماری فوج بھلا کیوں
کسی جنگ کی تیاری کرے گی
اگر تم آزاد ہو جاؤ تو کئ ملکوں کی سیاست
کا دھندہ رک جائے گا ۔۔۔
اے میرے کشمیر، وادئ جنت نظیر۔۔
میں تجھ سے شرمندہ ہوں۔۔
اور اس احساس کی تلافی کے لیے
میں تجھ سے آج یکجہتی کا اظہار کرتا ہوں
ہاں میں کہتا ہوں میں تیرے ساتھ کھڑا ہوں
تیرے شانہ بشانہ کھڑا ہوں ۔۔
مگر احمق نہ بن جانا۔۔
اے کشمیر تو اپنی جنگ خود لڑ
میں تو یہ کام نہیں کر سکتا
تجھے آزاد نہیں کر سکتا۔۔۔
تجھے آزاد نہیں کر سکتا۔۔۔

آنے رملیہ۔
یوم یکجہتئ کشمیر 5فروری2022

تربیت کا طعنہ دینا چھوڑ دیں

یہ  ہمارا پرانا گھر تھا۔ جس کے پچھواڑے ایک کھلی سی جگہ تھی۔ وہاں دیوار کے پاس امرود کا پیڑ تھا۔ ہم اکثر دوپہر کو کھانے کے بعد وہاں ہلکی پلکی گپ شپ کے لیے بیٹھ جاتے تھے۔ میں نے خواب میں بلکل وہی جگہ دیکھی کہ میں اور میری بہن وہاں بیٹھی باتیں کر رہی تھیں۔ کہ میں نے دیکھا سامنے سے نبی پاک صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم آرہے ہیں اور ان کے ہاتھ میں ایک موٹی سی کتاب ہے۔ قریب آکر انھوں نے سلام کیا اور جواب کے بعد ہم نے ان سے کتاب کے بارے میں پوچھا تو بتایا یہ انجیل ہے جو حضرت عیسی علیہ السلام پر نازل ہوئ تھی۔ یہ کہہ کر آپ صلی اللہ علیہ و سلم ہمارے لاؤنج کے دروازے سے اندر داخل ہو کر مصلی بچھایا اور نماز پڑھنے لگے۔ میں اور میری بہن بھی ان کے پیچھے مقتدی کی طرح نماز پڑھنے کے لیے کھڑی ہو گئیں۔ اتنے میں مجھے کن اکھیوں سے نظر آیا کے اسی سمت سے حضرت عیسی ع آرہے ہیں اور ان کے پہنچنے پر ہم دونوں بہنیں نماز ہی میں کھسک کر پیچھے ہوئیں اور حضور پاک ص کے بائیں طرف ان کے پیچھے حضرت عیسی نماز کی نیت باندھ کے کھڑے ہوئے۔ پیارے نبی صلی کی اقتداء میں جب ہم تینوں سجدے میں جانے لگے تو میں نے دیکھا نیچھے بلکل سجدے کی جگہ دو تصویریں تھی ایک حضرت محمد ص کی اور ایک حضرت عیسی ع کی ۔ یہ میری ذندگی کے خوبصورت خوابوں میں سے ایک خواب تھا۔ میری بیٹی زرنب بنت متلہ تب 11 سال کی تھی۔ ایک دن وہ سکول سے واپس لوٹی تو ابا کے پاس ان کی لائبریری میں چلی گئ۔ اور کہنے لگی ابا میری انگلش کی میم نے My Fav Dream پر مضمون لکھنے کو بولا ہے ۔ کیا میں اپنی مما کا خواب لکھ سکتی ہوں؟ مگر بابا مجھے انگریزی اتنی اچھی نہیں آتی کیا آپ میری مدد کرینگے؟؟زرنب نے اپنے بابا سے پوچھا۔ اس کے ابا بولے، “ہاں بیٹا لیکن آپ پہلے خود ٹرائ کرو۔۔ میں آپ کی غلطیاں نکال لونگا۔آپ مجھے سنا دینا میں اصلاح کر لونگا۔” میں نے زرنب کے ابا یعنی اپنے شوہر کو ہمیشہ ایسے پایا ہے کہ وہ جب بھی بچے کو کچھ سکھانا چاہتے ہیں تو ان کو کر کے نہیں دیتے بلکہ ان کی حوصلہ افزائ کر کے انھیں خود وہ کام کرنے کو کہتے ہیں۔ اسی طرح جب کوئ اچھا عمل ان سے کرانا چاہتے ہیں تو ان کو کرنے کا حکم نہیں دیتے بلکہ رات کو سٹوری ٹائم میں اس کام کی فضیلت بتاتے ہیں اور بچوں کے دل میں وہ عمل کرنے کی جستجو پیدا ہو جاتی۔ انھوں نے اپنی بچیوں سے پردہ بھی اسی انداز سے شروع کروایا تھا۔ خیر زرنب میرے پاس دوبارہ یہ خواب سننے کے لیے آئ تاکہ وہ یہ خواب مضمون کے طور پر لکھ سکے مگر میں نے اپنے خواب کی بجائے اپنے سسر کا خواب سنایا جس کی انگریزی زرنب کے لیے قدرے آسان تھی۔ میرے سسر یعنی زرنب کے دادا (جو میرے چاچو بھی ہیں اور آج کل ان کا تعلق سلسلہ نقشبندیہ اویسیہ سے ہے) کہ جب زرنب کے ابا محمد متلہ پانچ، چھ سال کے تھے تب ان کو خواب میں پیارے نبی صلی اللہ علیہ و سلم کی زیارت نصیب ہوئ اور دیکھا  آپ صلی اللہ علیہ وسلم  صحابہ رض کے ایک مجمع سے کچھ بات کر رہے ہیں یا کوئ خطبہ دے رہے ہیں۔ کہتے ہیں کہ وہ آپ صلی اللہ علیہ و سلم کے قریب گیے اور ان سے درخواست کی کہ ان کے بیٹے محمد متلہ کے لیے دعا کریں۔ آپ صلی اللہ علیہ و سلم نے محمد متلہ کے شانوں پر ہاتھ رکھ کے فرمایا تھا کہ یہ اچھا آدمی بنے گا۔ ” زرنب نے مضمون لکھ لیا تھا اور اپنے ابا کی بجائے مجھ سے ہی اصلاح کروا لی تھی کیونکہ انھیں اس خواب کا علم نہ تھا اور اگر وہ دیکھ لیتے تو زرنب کو ضرور منع کرتے۔ اگلے دن سکول سے واپسی پر زرنب نے بتایا کہ اس کی میڈم نے اسکا مضمون پوری کلاس کو ڈکٹیٹ کر کے لکھوایا ہے ۔ زرنب بہت خوش تھی اور یہ اس کی پہلی باقاعدہ تحریر تھی۔ اس سے پہلے وہ صرف ڈائری لکھا کرتی تھی مگر کسی کو دیکھاتی نہیں تھی کچھ دنوں کے بعد ہی وہ صفحے پھاڑ کر منہ میں چبا کر گرا دیا کرتی تھی۔  خیر زرنب کی بات تو یہاں ختم ہوتی ہے مگر میں ان دو خوابوں کا ذکر کر کے کچھ اور کہنا چاہ رہی تھی۔ وہ یہ کہ میں نے زرنب کے ابا کو انتہائ بہترین انسان پایا ہے۔ وہ نہ صرف ایک بہترین شوہر ہیں بلکہ ایک بہترین بھائ، فرمانبردار بیٹا اور ایک مخلص دوست بھی ہیں۔ وہ نہایت صلح رحمی والے شخص ہیں یہاں تک کہ اپنی جان کے دشمنوں سے بھی بہت اچھا سلوک کرتے ہیں۔ مجھے یاد ہے ایک دفعہ وہ ایک ایسے ہی شخص کی تیمارداری کے لیے گئے آج کے دور میں ایسے شخص کی کوئ شکل بھی نہیں دیکھتا ۔۔واپس آئے تو میں نے ان سے بات نہیں کی کیونکہ مجھے اس شخص سے نفرت تھی۔ زرا سستانے کے بعد بولے، “دیکھو ام زرنب ! مانا کہ میں آپ سے محبت کرتا ہوں لیکن اگر اس معاملے میں آپ کی بات مان کر میں وہاں نہ جاتا تو یہ قطع رحمی ہو جاتی جس کا مطلب تھا کہ اللہ اور رسول سے زیادہ میں نے آپ کی بات کا مان رکھا ” ما شاءاللہ میں ان کی تعریف اس لیے نہیں کر رہی کہ وہ میرے شوہر ہیں بلکہ ان کی عادتیں ہی ایسی ہے جو کہ یہاں بیان کرنا ممکن نہیں۔ اور یہاں ان کی تعریف بھی مقصود نہیں ہے بلکہ شاید وہ زرنب کے دادا کے خواب کی تعبیر ہے۔ میں نے یہ اتنی لمبی تحریر صرف اس لیے لکھی کہ میں نے اکثر لوگوں کو دیکھا ہے جو بچوں کو یا بڑوں کی کسی بری عادت کو دیکھ کر کہتے ہیں کہ ان کے ماں باپ بھی ایسے ہی ہونگے۔ اس لیے ان کی تربیت اچھی نہیں ہوئ۔ خدارا زرا سوچیے۔ ایسا بلکل بھی نہیں ہے اگرچہ تربیت کا بہت بڑا کردار ہے مگر یہ ضروری نہیں ہے کہ ایسا ہو۔ کسی کو اچھے اخلاق دینا اللہ کی طرف سے نعمت ہے اور برے اخلاق بھی ایک امتحان ہوتا ہے۔ میرے پاس ایسی کئ مثالیں موجود ہیں لیکن میں نے یہاں اپنی سب سے نزدیک والی مثال ضروری سمجھی۔ میرے بچے بلکل بھی زرنب کے ابا پر نہیں گئے۔ اسی طرح محمد متلہ کے بہن بھائ میں بھی کوئ ان جیسا نہیں حالانکہ سب کی تربیت ایک ہی باپ نے کی ہے بلکہ ہم بہن بھائیوں کو بھی اسی چچا نے بڑا کیا ہے مگر ہم میں سے بھی کوئ محمد متلہ جیسا نہیں ہے جسے ہر چھوٹے بڑے کام میں جتنا ہو سکے سنت کا خیال ہو۔ چاہے وہ کوئ دینی کام ہو یا دنیاوی۔ تحریر لمبی ہو جائے گی اس لیے میں اسے ایک درخواست پر ختم کرنا چاہتی ہوں کہ خدارا! کسی بھی شخص کو اس کے والدین کے عمل اور تربیت کا طعنہ مت دیں۔ اول اس لیے کہ آپ کا خدشہ یا الزام غلط بھی ہو سکتا ہے، دوسرا اس لیے کہ کہیں اللہ آپ کو خود نافرمان اولاد سے نہ آزما لے کیونکہ اولاد بھی تو ایک فتنہ ایک آزمائش ہوتی ہے، اور تیسرا یہ کہ ہر وہ شخص جو ابھی زندہ ہے اس کے مستقبل کی آپ کو کوئ خبر نہیں کہ اس کی کایا کب پلٹے اور وہ گناہگار اور فاسق انسان سے ولی بن جائے کیونکہ ہمارے سامنے ایسی بے تحاشا مثالیں موجود ہیں اور ہو سکتا ہے کہ اس طعنے پر آپ سے نادانستہ غرور ہو جائے اور مستقبل میں آپ ہی اپنا ایمان و اخلاق گنوا بیٹھیں۔۔
والسلام ۔۔۔ آپکی آنے رملیہ
9:59 pm 17 Dec 2021