یقیں سے بڑھ کر گماں سے آگے۔۔

لاہور کے سفر کی روداد پھر کبھی۔۔۔

میں نے آخری بار اسے تین سال پہلے اسی مہینے یعنی جولائ میں آئ ایٹ کے بس سٹاپ پر الوداع کیا تھا۔ بلکہ وہ مجھے ہاسٹل سے بس سٹاپ تک چھوڑنے آیا تھا۔ یہ ہمارا ایک ساتھ آخری دن تھا۔ اس نے مجھے مہینہ پہلے ہی بتا دیا تھا کہ آگست میں وہ جرمنی چلاجائے گا۔ میرا دل تو تب سے ہی عجیب ہو رہا تھا بلکہ میں نے اس آخری دن سے دو دن پہلے ہی اس کے بارے میں ہاسٹل کی چھٹی منزل کی چھت پہ بیٹھ کر ڈائری لکھی تھی اور اس کے چلے جانے کا سوچ کر میرا گلا رند گیا تھا ۔ویسے ہاسٹل کے اس چھت سے  آئ ایٹ کے چھ سڑک ایک ساتھ دیکھائ دیتے تھے اور میں رات کے 12 بجے وہاں بیٹھ کر چلتی گاڑیوں کا نظارہ کرتے اکثر سوچوں میں گم جاتا تھا۔ میں سوچتا تھا کہ ان گاڑیوں میں کوئ گاڑی باہر جانے والے کی ہوگی جو ابھی ائر پورٹ جا رہی ہوگی ۔کوئ باہر ملک سے لوٹا ہوگا کوئ کسی شادی میں، کوئ کسی میت کے گھر اور کوئ کسی کو وداع کرنے جا رہا ہوگا۔ یہ گاڑیاں مجھے بہت فیسینیٹ کرتی تھیں۔ مجھے کسی کو وداع کرنا ہمیشہ سے تکلیف دہ لگتا تھا اور پھر یہ تو میرا جگری دوست تھا۔ بلکہ یوں کہہ لیں میری انسپیریشن تھا ویسے بھی وہ مجھ سے کوئ سات سال بڑا تھا۔ سو ڈائری لکھتے وقت جب میں گاڑیاں دیکھ رہا تھا جو ایسے لگ رہی تھیں جیسے ایک ردھم کے ساتھ سڑک پر بہہ رہی ہوں۔ میں نے یہی سوچا تھا کہ مہینہ بعد اس سڑک پر شہریار بھی کسی گاڑی میں بیٹھ کر پاکستان کو الوداع کہیں گے اور یہ سوچ مجھے اداس کر دیتی۔
ہم دونوں انٹروورٹ تھے مگر ایک دوسرے کے ساتھ جیسے ہم۔ایکسٹرو ورٹ بن جایا کرتے تھے۔ ہمارے کمرے میں اکثر خاموشی رہتی اور دونوں اپنی پڑھائ میں مصروف ہوتے بلکہ یوں کہہ لیں اس کو پڑھتے دیکھ کر میرا بھی پڑھنے کا دل کرتا۔ حالنکہ وہ پی ایچ ڈی کا سٹوڈنٹ اور 18 گریڈ لیکچرر جبکہ میں ایم فل کا سٹوڈنٹ تھا۔ لیکن پھر بھی جب ہم کبھی بات کرتے تو ہمجولیوں کی طرح دل کھول کے ہنستے تھے۔ ہم ہر دو ہفتوں میں ایک بار کسی اچھی جگہ سیر کرنے جاتے۔ اس لئے کہ ایک ویک اینڈ وہ گھر گزار کے آتا تھا۔ اسے لاہور سے زیادہ محبت دنیا کے کسی جگہ سے نہیں تھی بوجہ یہ کہ وہاں اس کی ماں رہتی تھی۔  اس کی ماں،اس کی زندگی کا کل سرمایہ۔ میں اس کو لاہور کی برائیاں کر کے خوب تنگ کرتا اور وہ ہمیشہ لاہور کو ڈیفینڈ کر کے آخر میں کہتا اللہ کرے تم سی ایس پی بنو پھر تمھیں مجبورا ٹریننگ کے لیے لاہور ہی آنا پڑیگا۔اور تب میں تمھیں لاہور دیکھاؤں گا کیونکہ “جس نے لاہور نہیں دیکھا وہ تو پیدا ہی نہیں ہوا”.وہ اپنی بات ختم کرتا اور میں دل میں انشاء اللہ کہہ کر اسے کہتا، جی اچھا میں ابھی نہیں پیدا ہوا ، اور پھر کمرے میں ہمارا قہقہہ گونجتا۔ یوں ہمارا وقت بہت خوبصورت گزرتا تھا۔ ویسے وہ لاہوری یعنی خالص پنجابی اور میں بدر کا رہنے والا محسود، یعنی کٹر پشتون۔ عجیب لگا نا سن کے؟؟ کہ اتنے دو مختلف سمتوں اور آج کل کے نفرت بھرے ماحول میں ہم ایسے اچھے دوست کیسے ہو سکتے۔ بھئ یہی تو کمال تھا اس کا۔ اس کے اخلاق نے میرا پنجابیوں کے بارے میں سارا نظریہ بدلا تھا۔ اور وہی تھا جسے اللہ نے میرے دل میں پنجاب اور پنجابیوں سے محبت کا پہلا زریعہ بنایا تھا۔ لیکن میں یہاں وہ سب نہیں لکھنے لگا۔ کیونکہ اگر کبھی اس کی نظر سے یہ گزرا تو سیدھی چاپلوسی لگے گی پس بہتر ہے ذکر نہ کیا جائے۔
اونہوں! میں یہ سب کیوں بتانے لگا ہوں اور بات میں نے تین سال پہلے سے کیوں شروع کی؟؟؟ وہ تو چار سال پہلے سے شروع کرنی تھی۔ چلو پھر دوبارہ آپ کو چار سال پہلے سے شروع کر کے بتاتے ہیں۔ تو سنیے! چار سال پہلے، یعنی اکتوبر 2018 کو مجھے ہاسٹل کے کمرے میں ایک ای میل موصول ہوئ جس میں مجھے یہ مبارک باد دی گئ تھی کہ میرا بی ایس کا لکھا (ایک بیکار سا) ریسرچ پیپر سلیکٹ کر لیا گیا ہے، تمام کانٹیکٹس وغیرہ بھی فراہم کی گئ تھیں اور میرا نام بھی پریزنٹرز بلکہ مہمانوں کی لسٹ میں ڈالا گیا تھا اور ساتھ کارڈ، انٹری کرنے اور بیگ لینے، پھر آڈیٹوریم جانے غرضیکہ سارا لائحہ عمل موجود تھا۔ جی ہاں یہ بلاوا لاہور کی انجنئیرنگ اینڈ ٹیکنالوجی یونیورسٹی سے آیا تھا جہاں دوسری بین الاقوامی کانفرنس منعقد ہونی تھی۔ اور مجھے اس کانفرنس میں بطور پریزنٹر مدعو کیا گیا تھا۔ تین دن کے کھانے پینے، رہائش وغیرہ سب کا انتظام ان کی طرف سے تھا۔ ای میل پڑھ کر کچھ دیر تو میں سر پکڑ کے بیٹھ گیا۔ مجھے یقین ہی نہیں آرہا تھا کیونکہ ابھی اگست میں تو میرا بی ایس مکمل ہوا تھا اور پھر اتنا جلدی میرا پیپر سلیکٹ ہو گیا ۔ خیر خوشی سے زیادہ مجھے ایک محرومی کا غم تھا۔ کیونکہ میں نے تو کبھی ڈی ائ خان کی گومل یونیورسٹی سے باہر قدم ہی نہیں رکھا تھا، بی ایس کی اسائمنٹس والی پریزنٹشن کے علاوہ کوئ خاص پریزنٹیشن ہی نہیں دی تھی، لڑکا ہونے کے باوجود مجھے ابا جی نے کبھی اکیلے سفر کرنے نہیں دیا تھا۔ پس لاہور جانا، وہاں تین دن رہنا، اکیلے سفر کرنا، وہاں غیر ملکی سکالرز کے سامنے پیپر پریزنٹ کرنا سب فقط ایک خواب ہی ہو سکتا تھا جو میں نے ای میل موصول ہونے کے بعد چند لمحوں میں دیکھا بھی تھا اور پھر خود ہی آنکھیں مل کر اس کی نفی بھی کر دی تھی۔ ای میل پڑھ کر موبائیل بند کرنے کے بعد میرے دل میں لاہور دیکھنے کی خواہش نے ایک دفعہ پھر انگڑائ لی۔ مجھے (ایک کٹر پشثون اور ایک ایسے علاقے میں بڑا ہونے کے باوجود جس کی اکثریت پنجاب کے لوگوں سے نفرت کرتی ہے اور اس نفرت کے لیے ان کی اپنی توجیحات ہیں،) پنجاب کے شہر لاہور سے محبت تھی، محبت نہ سہی مجھے اسے دیکھنے کا بہت شوق تھا۔ یہ ذوق اپنی تاریخ پڑھنے کی وجہ سے پیدا ہوا تھا۔ بلکہ سچ بتاؤں تو جب میں نے چوتھی جماعت میں پہلی دفعہ اردو کی کتاب میں شالیمار باغ کی سیر کے عنوان سے ایک باب پڑھا تھا تب سے میرے لاہور کے بارے میں بڑے پیارے تخیلات ہوا کرتے تھے۔ مجھے وہ تخت دیکھنے کی بڑی جستجو تھی جس کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ اس میں جڑا ہوا ہیرا ملکۂ برطانیہ کے تاج میں لگا ہوا ہے۔ خیر میں چپ چاپ بیٹھ گیا۔ کچھ تشکر کے آنسو بھی آنکھوں میں امڈ ائے تھے مگر خاموشی غالب تھی۔ میں اٹھ کر پاکیزہ مارکیٹ گیا وہاں سے اولپر کا پیکٹ لا کر میں نے چائے بنائ۔ اور ہاسٹل کی آخری چھت پر چڑھ گیا ۔ چائے سے بھاپ اڑتی ہوئ شام کے دھند لکے میں تحلیل ہونے لگی تھی اور میرا ذہن سوچوں کے سمندر میں غوطے کھانے لگا تھا۔ وہ کام جس کا میں نے کبھی سوچا بھی نہ تھا اس کے آچانک یوں ہونے پر اب میری ساری سوچیں اسی کی طرف مرکوز ہو گئ تھیں۔ لیکن اسی سال میں نے ایک اور معجزہ بھی دیکھا تھا جس کی وجہ سے میں آج تک کہتا ہوں کہ اللہ سے مانگو تو وہ عطا کرتے ہیں ، یقیں سے بڑھ کر گماں سے آگے۔۔ اس معجزے کا ذکر پھر کبھی کروں گا وہ بلکل ایسا تھا جیسے کوئ فکشن ہو کوئ خواب ہو مگر وہ حقیقت تھی۔اللہ کی مہربانی یا شاید دے کر آزمانے کا امتحان۔۔ویسے ابھی یہ وہ ہاسٹل نہیں تھا جہاں میں اور شہر یار رہتے تھے، شہریار کے پاس میں ایک مہینہ بعد آیا تھا لیکن ہماری دوستی اسی ہاسٹل میں ہوئ تھی جہاں میں ان دنوں تھا اور وہ یہاں صرف دو دن رہ کے چلے گئے تھے۔ خیر میں چھت پہ نماز پڑھ کے دو رکعت صلواۃ حاجت ادا کئے۔ یہ میری عادت ہے کہ جو بھی مسئلہ ہو یا کوئ کام ہو تو میں صلواۃ حاجت پڑھ لیتا ہوں کیونکہ سنت ہونے کے ساتھ ساتھ اس کا گہرا اثر ہوتا ہے اور اس لیے بھی کے میں لوگوں کی طرح رٹ لگا کر لمبے لمبے وظیفے نہیں پڑھ سکتا۔ میرا ایمان ہے کہ دعا کے لیے بس ایک تڑپ چاہیے جو اگر آپ اللہ سبحانہ و تعالی کے سامنے صرف خالی ہاتھ اٹھا کر خاموش بھی سر جھکائے رہیں تو سن لی جاتی ہے۔ سو میں نے صلواۃ حاجت پڑھ کر فون اٹھایا ۔ میں نے ابو کو کال کی کیونکہ میرے تمام معاملات ان کو بتا کر طے ہوتے ہیں میں ان کے بغیر کوئ فیصلہ نہیں کر سکتا تھا  میں ابھی تک انھی پر ڈیپینڈنٹ تھا۔ اور اس کی وجہ میں اوپر بتا چکا ہوں کہ میں اپنے گھر کا واحد لڑکا تھا جسے مزید پڑھنے ہاسٹل بھیج دیا گیا تھا ورنہ میرے گاؤں کا یہ حال ہے کہ لڑکیوں کی تعلیم صفر فیصد جبکہ لڑکوں کو سولہ سترہ سال میں سعودی عرب یا کسی اور ملک بھیج دیتے ہیں۔ اچھا میں بتا رہا تھا کہ میں نے ابو کو کال کی اور بات بتا دی ۔ کہ میرا پیپر سلیکٹ ہو گیا ہے اس لیے اگر آپ اجازت دیں تو میں لاہور چلا جاوں گا اور اس کے لیے کچھ انفارمیشن ان کو کنفرم کرنے کے لیے ابھی سے بھیجنی ہو نگی جو اگر اجازت ملے گی تو میں بھیجوں گا ۔ ابو نے تحمل سے میری بات سنی جو میرے ابو کی سب سے اچھی عادت ہے کہ وہ دوسرے کی بات پوری توجہ سے سن کے ہی جواب دیتے ہیں۔ میں نے زرا بڑھا چڑھا کے بات کی کہ ابو یہ بین الاقوامی کانفرنس ہے اور اس کا مجھے بڑا فائدہ ہوگا میرا پبلیکشن میں نام آئے گا وغیرہ وغیرہ۔ اور ابو نے میری بات کا یقین کر بھی لیا۔ دراصل اس معجزے کے بعد انھیں شاید بیٹے کی قابلیت پر اعتماد ہونے لگا تھا جس پر مجھے اکثر جانے کیوں ہنسی آجاتی ہے کیونکہ جو ہوتا ہے اس میں مجھے اپنا کوئ کمال نہیں لگتا بس اسی بات کا اثر لگتا ہے ، “خدا عطا کرتا ہے، یقیں سے بڑھ کر گماں سے آگے۔” بلکہ میرا یہاں اسلام آباد کا داخلہ بھی اسی بات کی مرہون منت تھا۔ تو ابو نے کہہ دیا کہ اچھا فلحال تو باقی کوائف پورے کر دو جانے کا بعد میں سوچا جائے گا۔ یعنی انھوں نے آدھی خوشی آدھا شک والی صورتحال پیدا کی۔ اور میں تو جب تک ایک چیز کو ہوتے ہوئے دیکھ نہیں لیتا تھا ابو کی اجازت کا کبھی یقین نہیں آتا تھا کیونکہ ان کی اجازت عین آخری لمحے تک ان کے موڈ پر منحصر ہوتی ہے۔ مسکرائیے مت میرے ابو ایسے ہی ہیں۔ اللہ ان کی عمر دراز کرے۔ اب آگے کی بات کرتے ہیں آپ کو بور نہیں کرنا مگر یہ تین سالوں کا سفر ہے تو وقت تو لگے گا بتاتے ہوئے بھی۔
اب اکتوبر کے بعد میں شہریار کے پاس ہاسٹل آگیا تھا یعنی اب میں اس کا رومیٹ تھا اور تب سے ہمارا ایک ساتھ سفر شروع ہوا۔ ہماری دوستی کا بہترین سفر ۔اس کا مجھے قدم قدم پر انسپائر کرنے کا سفر۔ ویسے جب اس نے ہمارا پچھلا ہاسٹل چھوڑا تھا تو مجھے لگا شاید ہماری دوستی بس وہی کچھ دن کی تھی اور چند دنوں بعد دم توڑ جائے گی جیسے عموما لوگوں سے ملنے کے بعد ہوتا ہے مگر جب اللہ ملاتے ہیں تو وہ خود راستے بنا دیتا ہے سو ہمیں بھی دوبارہ ملا دیا تھا۔
10 دسمبر 2018 کو کانفرنس منعقد ہونی تھی جو کے تین دن یعنی 12 تک تھی۔ جب کہ 11 کو ہماری یونیورسٹی یعنی نیشنل یونیورسٹی آف سائنس اینڈ ٹیکنالوجی کی سالانہ تقریب بھی تھی۔ اور وہ 13 کو ختم ہونی تھی جس میں شہریار کو ارڈینیٹر کے فرائض انجام دے رہے تھے۔ اب میرے لیے جانے میں فقط تین دن تھے اور شہر یار لاہور گیا ہوا تھا۔ میں نے ابو سے اجازت لی جو کافی یہ وہ کہنے  کے بعد ہی ملی۔ یقین کریں میرے پاس لاہور آنے جانے کے کرایے کے علاوہ فقط دو ہزار روپے تھے۔ مگر مجھے اپنے رب پر یقین تھا۔ میں جس دن  لاہور گیا اسی دن شہر یار اسلام آباد آگیا تھا. میں لاہور چلا گیا مگر وہاں میرا جاننے والا کوئ نہیں تھا جس سے مل کے میں فنکشن انجوائے کرتا. اگرچہ میں نے وہاں ایک دوست بنا لیا تھا مگر کیا وہ اور کیا شہریار۔ میں نے اپنا پیپر پریزنٹ کر کے ہی اسلام آباد کی راہ لی۔ اور باقی دنوں کے پاس یعنی ٹکٹ ایک کلاس فور والے کو دے دیے وہ بہت خوش ہوا اور تب بھی مجھے ذہن میں یہی آیا کہ یہ اللہ نے اس کی قسمت میں لکھے تھے کیونکہ وہاں تین دن بوفے کا انتظام صرف مہمانوں کے لیے تھا یا پھر جنھوں نے ٹکٹ لیے تھے۔ میں وہاں سے واپس آیا تو شہر یار کو خوب تنگ کیا کہ یہ کیا گندہ لاہور ہے تمھارا، فقط رکشے، اور رش ہی دیکھا میں نے، ہر جگہ بس گرد ہی تھی۔ یہ تو ڈی آئ خان سے بھی گیا گزرا ہے وغیرہ وغیرہ۔ چونکہ لاہور میں یونیورسٹی آف انجنئیرنگ جانے والا راستہ لاہور کے مضافات میں سے گزرتا ہے وہ اصل لاہور سے نہیں گزرتا اور میں نے تو بس وہی دیکھا تھا۔ لیکن خیر میں نے شہر یار کو اچھی خاصی سنائ لیکن اس نے پھر بھی اپنے مخصوص انداز میں اپنے لاہور کو ڈیفینڈ کیا۔ اور پھر وہی سی ایس پی بننے والی بات کر کے ہم دونوں ہنسے تھے۔ ویسے ڈیفینڈ کرنا بنتا تھا کیونکہ  اپنے شہر سے ہر شخص کو محبت ہوتی ہے۔ یہاں روداد ختم ہوئ سفر _ لاہور کی۔ زندگی پھر سے اپنے ڈگر پر چلنے لگی تھی۔ میرے لیے، لاہور سے پہلے والا واقعہ، پھر میرا نیشنل یونیورسٹی (NUST)میں داخلہ، شہر یار کا رومیٹ بننا، لاہور کی کانفرنس میں شرکت، پھر اپنے سارے ٹکٹ اس شخص کو دینا، غرض یہ سب ناممکنات تھیں جن کی وجوہات درج کرنے کا یہاں وقت نہیں ہے مگر ان سب نے بس اسی ایک سطر کا مفہوم مجھ پر واضح کیا تھا کہ جب اللہ دیتے ہیں تو یقین سے بڑھ کر گماں سے آگے دیتے ہیں۔ میرا دعاؤں پر یقین مزید پختہ ہو گیا تھا۔
اب واپس آتے ہیں، اپنی کہانی کی طرف، آئ ایٹ کے بس سٹاپ کی طرف جہاں میں اور شہر یار آخری دفعہ گلے ملے تھے۔ جی ہاں یہ آخری دن تھا، ہمارے امتحانات ہو چکے تھے میں ڈی آئ خان واپس آرہا تھا، دل بوجھل بوجھل تھا، امید اور اداسی کے ملے جلے تاثرات تھے، میرے جانے کے بعد شہر یار کی دو دن بعد فلائٹ تھی۔ ہمارے درمیان بھی یاد رکھنے کے کچھ عہد و پیمان ہوئے تھے جو عموما دوستوں میں ہوا کرتے ہیں۔ آخری الوداع کرتے وقت میرے ذہن میں اس وقت اسلم انصاری کے غزل کے یہ شعر گردش کر رہے تھے،
“ہم نے روکا بھی نہیں اور وہ ٹھہرا بھی نہیں
حادثہ کیا تھا جسے دل نے بھلایا بھی نہیں
جانے والوں کو کہاں روک سکا ہے کوئ۔۔
تم چلے ہو تو کوئ روکنے والا بھی نہیں۔۔
میں اپنے گھر آگیا تھا اور شہر یار جرمنی چلا گیا تھا۔ اسے جانے کا دکھ نہیں تھا مگر سب سے چھوٹا اور لاڈلا بیٹا ہوتے ہوئے امی کو پاکستان میں چھوڑنا تکلیف دہ تھا۔ جانے کے بعد ہماری فون پہ بات ہوتی تھی بلکل ایسے جیسے کمرے کا روٹین ہوتا تھا یعنی لمبے عرصے تک خاموشی لیکن جب بات ہوتی تھی تو دل ہلکے ہو جاتے، مسکراہٹیں سچی ہوتیں اور قہقہے دل کے بوجھ اتار دیتے تھے۔ وہ جب بھی کال کرتا وہی بات کرتا تھا ، اللہ کرے تم سی ایس پی بنو پھر میں تمھیں لاہور میں ملوں گا ۔ میں دل میں انشاء اللہ کہتا کیونکہ اب مجھے لگتا تھا ملنے کی کوئ صورت نہیں ہوگی۔ اور پتہ نہیں ہم کبھی ملیں گے بھی یا نہیں۔ اس کی ایک وجہ یہ بھی تھی کہ پی ایچ ڈی کے دوسرے سال ان کے اماں کی ڈیتھ ہو گئ تھی تب وہ صرف ایک ہفتے کے لیے پاکستان آئے تھے اور اس کے بعد جیسے پاکستان میں اس کی ساری دلچسپی ختم ہو گئ تھی۔ ایک ماں ہی تو تھی جس کی ہستی کے احساس سے اسے لاہور اور پاکستان سے محبت تھی ورنہ اس کے لیے پاکستان میں کچھ خاص نہ تھا۔ اسی لیے مجھے ان سے ملنے کی کوئ خاص امید نہ تھی لیکن میں پھر بھی انشاء اللہ کہہ دیتا تھا کہ اللہ کے دینے کا یقین تو ابھی بھی ویسا ہی تھا۔ اللہ کے خزانوں میں اگر مگر نہیں چلتا وہ جسے، جس وقت اور جیسے چاہے نواز دیتے ہیں۔ اللہ کے لیے ممکن و ناممکن کا فرق معنی نہیں رکھتا ۔ یہ محدودیت ہم انسانوں کے دماغ میں ہے اللہ کے شان کی اور دینے کے انداز کی کوئ حد نہیں۔ یہ بند دروازوں کا تصور میرے اور آپ کے دل میں ہے، اللہ تو جب، جہاں اور جہاں سے چاہے دروازہ کھول دیتے ہیں، وہاں سے بھی جہاں سے تمھیں یقین و گماں بھی نہ گزرا ہو۔ اور میرے ساتھ بھی یہی ہوا۔ 2021 میں شہر یار نے مجھ سے ایک دن اچانک پوچھا کہ کیا میں فارغ ہوں؟ میں نے کہا ، میں تو آپ کی دعا کی تکمیل کے لیے کوشش کر رہا ہوں یعنی سی ایس پی بننے کی تیاری ۔ اس پر وہ ہنس کے بولا تھا ، اچھا جاری رکھو مگر سنو جب تم امتحان دے دو تو کہیں اور خود کو مصروف نہ کرنا تم نے میرے ساتھ کام کرنا ہے پھر۔ میں نے بھی حامی بھر لی کیونکہ مجھے معلوم تھا اس کے ساتھ کام کرنے سے میں بہت کچھ سیکھوں گا۔ واللہ میرا ارادہ بغیر کسی معاوضے کے کام کرنے کا تھا کیونکہ میرے لیے شہر یار کے ساتھ کام کرنا معنی رکھتا تھا نہ کہ کوئ معاوضہ۔ اور میرا خیال تھا یہ کام ان کی پی ایچ ڈی کے متعلق  کوئ ریسرچ کا ہی  ہوگا۔ پھر میں تقریبا ایک سال پڑھائ میں مصروف رہا ، اس سے کبھی کبھی بات ہو جاتی تھی ، دعاؤں کا تبادلہ ہوتا تھا اور بس۔ پھر دھیرے دھیرے یہ سال بھی گزرا ، ہم ایک دوسرے کی اکثر یاد آتی تھی اور ہم ہر بار بات کرنے پر کہتے تھے کہ ہمیں ایک دوسرے سے ملنے کا انتظار ہے مگر کب ملیں گے اس کا کوئ گمان نہ تھا۔ میں نے مئ 2022 میں امتحانات دئیے ۔فارغ ہوا تو شہریار سے بات کی اس نے مجھے ایک دفعہ پھر کہا کہ ہم نے مل کے کام کرنا ہے ۔۔میں نے بھی بتایا کہ میں اب تیار ہوں ۔ میرا ذہن اب بھی وہی تھا کہ وہی ان کی پی ایچ ڈی کا کام ہوگا مگرررررر۔۔۔۔۔۔۔۔۔
مگر وہ تو مجھے اپنے ساتھ برطانیہ کی بہترین مانچیسٹر یونیورسٹی کے پراجیکٹ میں کام کا کہہ رہے تھے۔ جی آپ نے صحییح سنا، وہ یونیورسٹی جس کے خواب ہمارے جیسے غریب ملک کے لوگ ہی نہیں بلکہ یورپ کے لوگ بھی دیکھتے ہیں۔ یقین کریں میرا ارادہ اب بھی بلا معاوضہ شہریار کے ساتھ کام کرنے کا تھا لیکن جب پہلی آنلائن میٹنگ میں اس نے مجھے گائیڈ لائنز دیتے ہوئے بتایا کہ ارسلان محسود، تم اس میں بطور ریسرچ اسسٹنٹ کام کرو گے اور تمھاری کم سے کم سیلری اتنی ہوگی تو ایک بار پھر میرے منہ سے وہی جملہ نکلا کہ جب اللہ نوازتے ہیں تو وہ اس زریعے سے عطا کرتا ہے جہاں سے آپ نے کبھی خیال تک نہ کیا ہو کیونکہ میرے لیے وہ سیلری میری سوچ سے بہت ذیادہ تھی۔ پر یہ سب چھوڑیں! جس ایک بات کے لیے میں نے پوری کہانی آپ کو سنائ ہے وہ یہ تھی کہ اس پراجیکٹ کو پاکستان میں کرنا تھا جس کے لیے شہر یار کا آنا لازمی تھا۔لیکن پتہ ہے یہ پراجیکٹ کہاں کرنا تھا؟ لاہور میں۔۔جی ہاں لاہور میں۔ اور مجھے لاہور جا کر شہر یار سے ملنے اور کام کرنے کی بھی اجازت مل گئ تھی۔ ہم دونوں پراجیکٹ سے زیادہ ایک دوسرے سے ملاقات کرنے کے لیے ایکسائٹڈ تھے۔ ہم نے وقت اور دن مقرر کیا اور میں پچھلے مہینے یعنی 4 جون 2022 کو لاہور کے نیازی اڈے پر بس سے اترا ۔ شہریار  پہلے ہی سے وہاں مجھے پک کرنے کے لیے موجود تھا۔ میں جب اتر کر اس کے گلے لگا تو میری آنکھیں نم تھیں مجھے یقین نہیں آرہا تھا کہ تین سال پہلے جب ہم نے آئ ایٹ کے بس سٹینڈ پر ایک دوسرے کو رخصت کیا تھا تب مجھے لگا تھا وہ آخری ملاقات تھی اور اس کے بعد شاید کوئ دس پندرہ سال بعد ملاقات ہو ۔لیکن نہیں، جو ہم سوچتے ہیں اللہ اس سے بہت آگے کی منصوبہ بندی کر چکے ہوتے ہیں۔ ہم نے تو سوچا تھا سی ایس پی بن کر ٹریننگ کے لیے جانے یا لاہور میں جاب ملنے کے علاوہ کوئ راستہ نہیں ہوگا۔ مگر جن چیزوں کو لے کر ہم پریشان ہو رہے ہوتے ہیں وہ ہمیں اپنے وقت  اور جگہ پر ملنی ہوتی ہیں ۔ اللہ تعالی کی ذات ناممکنات سے مبراء ہے۔آپ نے بس اللہ پر یقین رکھنا ہے، اندھا یقین کیونکہ وہ ایک کن سے سب عطا کر سکتا ہے، یقیں سے بڑھ کر گماں سے آگے عطا کرتا ہے۔
نوٹ: پڑھ کر اپنا فیڈ بیک ضرور دیجئے گا۔۔#ہو سکتا ہے آپ کو لگے کہ ہم اتنی سادگی سے کیسے ملے، تو عرض ہے کہ اس وقت کی کیفیات میں لکھ نہیں پایا۔۔
از قلم : آنے رملیہ۔۔

24july2022

4 thoughts on “یقیں سے بڑھ کر گماں سے آگے۔۔

  1. Well written but the last part is not well explained like how someone meet after such long wait.. or you have not experienced yet.. btw keep it up

    Like

  2. .. Can’t say anything.. Like this one made my believe more stronger on the almighty Allah.. He is the one and only who can makes the miracles happen ❤️❤️ tysm for this masterpiece.. Keep it up 👆🏻

    Like

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out /  Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out /  Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out /  Change )

Connecting to %s