وہ سفر _ مسلسل۔۔

میں نے اس کی آنکھوں کا گیارہ سال پر محیط سفر دیکھا ہے۔ جی ہاں اس کی آنکھیں یوں ہی تو اتنی خوبصورت اور شفاف نہیں ہیں۔ ان کے آنسوؤں کے دریا کا رخ موڑتے موڑتے اسے گیارہ سال لگے تھے۔ اور ان گیارہ سالوں میں ان دریاؤں کی طغیانی بھی میں نے دیکھی ہے۔ آج جو اس کے چشم سمندر جیسی  پر اسرارخاموشی اور گہرائ اور سکون رکھتے ہیں یہ اسی سفر کی مرہون منت ہے۔ یہ جو تم لوگ اسے دیکھ کر سمجھتے ہو کہ وہ ہمت کا چٹان بنی ہے، اس کے پیچھے میں نے وہ دکھوں کے ریگزار دیکھے ہیں۔ آج جو تم اس کی باتوں میں دل کی سیرابی کا سامان اور سکون پاتے ہو اس کے پیچھے وہ رحم کے بارش کی تمنائیں میں نے دیکھی ہیں۔
جی ہاں سب ایک دم نہیں ہوا۔ گیارہ سال لگے ہیں۔ اور یہ گیارہ سال صرف کہنا ہی آسان ہے گزارنا نہیں۔ میں اور وہ دونوں رومیٹ تھے۔ وہ دن میں بہت ہنسا کرتی تھی بلکہ دوسروں کو بھی ہنساتی تھی۔ مجھے بھی شروع میں لگتا تھا وہ بہت خوش ہے۔ اس کو کوئ غم ہی نہیں ہے۔ کبھی کبھی وہ شاعری سناتی تو میں اسے چھیڑ کے کہتی کہ یار لگتا ہے کوئ دکھ ملا ہے لیکن وہ مسکرا کے، یہ کہہ کے ٹال دیتی کہ میں تو عشق حقیقی کی شاعری پڑھتی ہوں۔ پھر اس سے آگے میرے پاس جواب ہی نہ ہوتا تھا۔ مگر ایک دن تہجد کے وقت میری آنکھ کھلی تو وہ موبائیل کی لائٹ آن کئے جانماز پر بیٹھی تھی۔ میں نے بھی اس پر یہ ظاہر نہیں کیا کہ میں جاگ رہی ہوں لیکن مجھے آج اس کا یہ راز پتہ چل گیا تھا کہ وہ اتنا چھپ کر تہجد پڑھتی تھی۔ کمرے میں اندھیرے کی وجہ سے وہ موبائیل کی لائٹ آن کر کے اسے الٹا بیڈ پر رکھ دیتی تھی تاکہ صرف جائے نماز پر روشنی ہو اور میری آنکھ نہ کھلے لائٹ کی وجہ سے۔ وہ جانتی تھی میں روشنی سے جلدی جاگ جاتی ہوں۔اب میں روز ایسا کرنے لگی ۔یہ ہاسٹل کے پہلے دن تھے۔ واللہ میں نے اس کی ہچکیاں سنی ہیں۔ یہ کوئ ایک دن کی بات نہیں ہے یہ سالوں کی بات ہے۔ وہ روز ایسا کرتی تھی، اس کی تڑپ ، اس کے آنسو مجھے یاد ہے ۔ اس کا سر سجدے میں پڑا رہتا کہ مجھے گمان ہونے لگتا وہ سجدے میں سو گئ ہے۔ اس کا انداز عجیب ہوتا تھا کبھی۔ وہ سر سے دو پٹہ گرا کرا اپنا دامن کسی بھکاری کی طرح پکڑے رکھتی اور روتی رہتی۔ میں نے اسکی بہتی آنکھیں دیکھی ہیں۔ اس کے آنسو کے لیے دریا کا لفظ بہترین استعارہ ہے۔ وہ مرغ بسمل کی طرح تڑپتی تھی۔ بے خودی میں کبھی اس کی آواز سرگوشیوں میں بدل جاتی تھی مجھے یاد ہے جب وہ کبھی انگلش میں دعا کرنے لگتی کبھی اردو میں کبھی عربی اور وہ جس شدت سے پلیز کا لفظ کہہ رہی ہوتی تھی تو مجھے ڈر لگنے لگتا ایسا لگتا جیسے اللہ اس کے پاس کھڑے ہوں اور وہ دامن پکڑ کر اصرار کر رہی ہو چھوٹے بچوں کی طرح۔ اسے مجازی محبت ہوگئ تھی جس کے بارے میں مجھے اس نے بعد میں بتا بھی دیا تھا مگر اس نے اپنی تہجد کا آج تک نہیں بتایا (اور یہ سفر اس نامحرم سے محرم عشق کی طرف تھا)۔ بلکہ آج بھی اسے بڑا غرور ہے اپنی دعا اور اس کا یقین تو میں بھی جانتی تھی۔ “یا رب یہ محبت تو نے میرے دل میں ڈالی تھی اب اسے نکال باہر کریں یا مجھے نہیں اچھا لگتا آپ کے سامنے نامحرم کی حرمت مانگوں مگر اسے محرم بنا دے۔ مجھے افسوس ہے میں نے کیوں چاہا اسے لیکن یہ میرے بس میں نہ تھا۔ اب ندامت ہے اور اس کا ازالہ کرنے کے لیے اس کا ساتھ مانگ رہی ہوں تاکہ وہ کہیں کسی اور کی زندگی اجیرن نہ کردے۔ یا رب اس میں خیر و عافیت رکھ کے دے دیں ۔۔اے آسمان بنانے والے کیا میں بہت بڑی چیز مانگ رہی ہوں؟ نکال دیں اسے میرے دل سے اگر وہ مقدر میں نہیں ہے۔ میں نے دس سال اس کی دل سے نکالنے کی یہ دعا سنی ہے۔ دیکھو آسان نہیں ہوتا دل سے نکالنا۔ بھلا دینا ہر کسی کے بس کی بات نہیں ہوتی اور پھر اس جیسی لڑکی جس کے لیے میں کہوں گی، “وہ نمازوں کی پابند لڑکی، اس کی آنکھوں نے چن لیا کافر” ۔۔ ایسے شخص کے لیے جو باتیں یاد رہنے کے لیے مشہور ہو۔ انسان بھول جاتا ہے یا پھر روتے روتے تھک جاتا ہے مگر وہ ہر روز روئ تھی۔ مسلسل۔ اور دعا بھی کیا مانگتی تھی سبحان اللہ ۔۔اس کی غیرت کے صدقے جاؤں۔۔دل سے نکال دینے کی دعا۔وہ جان چکی تھی کہ اس کا اصل محرم خدا ہے اور اسے اس کو پانے کی آرزو تھی۔ مجھے معلوم تھا وہ رابعہ بصریہ سے کتنی انسپائر تھی۔ مگر ان آنسو کے باوجود جب ہم صبح اٹھتے تھے تو وہ اتنی فریش ہوتی جیسے کچھ ہوا ہی نہ ہو۔ کبھی کبھی آنکھیں سوجھی ہوتی تو کہتی یار یہ زیادہ سونے سے شاید ہو جاتا ہے اور ہنس دیتی تھی۔ وہ سارا دن مسکراتی تھی۔ اور اس کی مسکراہٹ کا انداز اتنا خوبصورت تھا کہ ہاسٹل کے اکثر لوگوں کی اس سے بس اس بات پر دوستی ہو گئ تھی کہ یار وہ ہر وقت خوش رہتی ہے بندے کا دل خوش ہوتا ہے اس سے بات کر کے ۔ یقین کریں وہ اپنے ہاسٹل میں سب کی کاؤنسلر تھی۔ اس کی شخصیت میں اللہ نے ایک ایسی جاذبیت رکھی تھی کہ بندے کا خود دل کرتا تھا اپنا دل اس کے سامنے کھول کے رکھ دے اور اکثر لڑکیاں فقط اس لیے اس کے پاس آتی تھیں حالنکہ وہ خود کبھی کسی سے اپنی پرسنل بات نہ کرتی تھی۔ وہ بہترین موٹیویشنل سپیکر تھی اکثر لڑکیاں تو بس اس سے بات کر کے ہی اتنی موٹیویٹ ہو جاتی تھی کہ نا پوچھو۔ مجھے یاد ہے جب لڑکیاں اس کو اپنی ساری باتیں شئیر کرتی ہوتی تھیں اور وہ ایک ایک کو سمجھاتی اور حوصلہ دیا کرتی تھی۔ کچھ کو میں نے سنا تھا یہ کہتے ہوئے، “یار کاش ہم بھی “مہک عمر” جیسے ہوتیں۔ ہر وقت اتنا خوش رہتی ہے۔ لڑکیوں کو اس کی خوشی پر رشک آتا تھا۔ وہ ہر وقت توکل علی اللہ، دعا اور اللہ کی محبت کی بات کرتی تھی۔ سب سے کہتی دیکھو آج بھی معجزے ہو جاتے ہیں لیکن یقین مظبوط ہو۔ خوبصورت ہونے کےساتھ ساتھ اللہ نے اسے بہت ساری خصوصیات سے نوازا تھا۔ وہ قرآن پڑھتی تھی تو دروازہ بند کر کے تیز خوبصورت آواز میں پڑھتی۔ مگر گرمیوں میں صبح صبح فجر کے وقت دروازہ کھلا ہوتا تو آواز ہاسٹل میں ایکو کرتی تھی۔ ایک دن چکوال کی ایک لڑکی اس کے پاس آ کر کہنے لگی، مہک وہ صبح تلاوت آپ کرتی ہیں کیا؟ جب اس نے ہاں میں جواب دیا تو لڑکی کہنے لگی آچھا میں آپ سے سننے آؤنگی آپ نے مجھے بھی سنانا ہے ۔ کچھ لڑکیاں اسے کہتی تھیں یار آپ کی ماشاء اللہ ہر دعا قبول ہوتی ہے اس لیے آپ کا یقین بھی زیادہ ہماری تو دعائیں قبول ہی نہیں ہوتی اور ہم تو آپ جیسے اسلامی نہیں ہیں نا تو وہ دھیرے سے مسکرا دیتی۔ اس مسکراہٹ کے پیچھے کی کہانیاں میرے علاوہ کوئ نہیں جانتا تھا۔ اس کی مقبول دعاؤں کے ساتھ جو لا مقبول دعائیں جڑی تھیں لوگ اس سے بے خبر تھے کیونکہ وہ ان کا ذکر ہی نہ کرتی۔ میں اس کی پندرہ سال سے دوست تھی، کالج، یونیورسٹی اور اب جاب تک۔ اس کے یقین اور ان خوشیوں کے پیچھے جو راتوں کے آنسو، سجدے اور تڑپ تھی وہ تو کوئ نہ جانتا تھا۔ اور جب لوگ اس سے کہتے تھے کہ کاش ہم آپ کی طرح بن جائیں تو وہ کہتی ارے نہیں اللہ آپ کو مجھ سے بہتر بنائے۔ میں نے سنا تھا جب وہ دعا کرتی تھی “اے اللہ کسی کو ہدایت دینے کے لیے میرے جیسے راستے سے نہ گزارنا، بس انھیں اس کے بغیر ہی ہدایت دینا۔ اے رب انسانی عشق کی بیماری سے سب کو محفوظ فرما۔” غرض یہ کہ وہ دن کے اجالے میں ایک مختلف انسان تھی اور راتوں میں مختلف۔ اس لیے نہیں کہ وہ منافق تھی بلکہ وہ اپنا درد چھپانا جانتی تھی۔ اس نے جو سفر اپنے رب کی طرف شروع کیا تھا اس سفر میں وہ مسلسل کوشش میں تھی۔ صبح فجر پڑھ کے وہ حفظ کرتی تھی۔ گھنٹوں کسی سے بات کرنے کی عادت کو ایسے اس نے بدلنے کی کوشش کی تھی۔ لوگ کہتے ہیں بدلنا آسان ہے۔ خوش رہنا آسان ہے۔ انسانوں کو دل سے نکال کر اللہ کا ہو جانا آسان ہے ۔ اسلامی لوگوں کو ایسی کوئ پریشانی نہیں ہوتی مگر یہ سب غلط ہے۔ اکثر بظاہر اسلامی نظر آنے والے لوگ اپنے اندر کئ کئ جنگ لڑ رہے ہوتے ہیں۔۔اور یہ میں نے مہک عمر سے سیکھا تھا۔ میں نے اس کی خون سے رنگ ڈائیریز پڑھ لی تھیں (جو کہ نہیں پڑھنی چاہیے تھی اور بعد میں اس نے جلا بھی دی تھیں) ۔ ان ڈائیریز میں اس نے جو لکھا تھا واللہ میں کہہ نہیں سکتی اور اتنا مجھے معلوم ہے کہ وہ ڈائیری میں سب کچھ سچ لکھتی تھی وہی تو اس کی دوست تھی ۔ ڈائیری کے اوارق آنسو گرنے سے کھر درے سے ہوگئے تھے جیسے پانی سے ہو جاتے ہیں۔ اور کچھ پر خون کے دھبے جو اس نے پاگل پن کیا تھا۔  میں نے پڑھا تھا وہ کب بدلی تھی، اس نے دنیا والوں کو کب اور کیسے چھوڑا تھا اور پھر اس محبت کو بھلانے میں اس نے کتنے سال لگائے، وہ راتوں کی بےچینی سے سمندر کی سی اس پر سکونی اور بے نیازی تک کیسے آئ تھی یہ اس کے روزنامچے والی ڈائیری میں درج تھا۔ تاریخ ، وقت اور موسم کے ساتھ۔ اور پھر اس مسلسل جنگ کو گیارہ سال لڑنے کے بعد اسے عشق حقیقی کی منزل مل گئ تھی۔ اس کے مضطرب لہروں میں ایسا ٹھہراؤ آگیا تھا کہ لوگ رشک کرتے تھے اس کی زندگی پر۔ اس نے اس سال کی ڈائیری پر لکھا تھا، “یقینا محبت کو محبت ہی کاٹ سکتی ہے۔ نمرہ احمد نے ابن القیم کی بات سچ لکھی تھی۔ اور جب مجاز کی کاٹ حقیقت اور حق سے ہوتی ہے تو معجزے ہونا لازم ہے۔” پھر ایسی بے نیازی کہ گویا سارا جہاں اس کا غلام ہو ۔ ایمان کی ایسی حلاوت کہ جب قرآن پڑھے تو جھوم اٹھے ۔ مگر کیا یہ سب آسان تھا؟ کیا یہ بس فقظ خدادا تھا؟ کیا وہ ایسے اچھے ماحول میں پرورش پائ ہے اس لیے؟ جی نہیں۔ اس کے پیچھے گیارہ سال کا سفر_ مسلسل تھا۔ اس کے پیچھے رتجگے اور آنسو تھے۔ اس کے پیچھے ہدایت مانگنے کی وہ تڑپ و لگن تھی جو اسے سونے نہیں دیتی تھی۔ جو اس کا تکیہ بھگو کے رکھتی تھی۔ اس کے پیچھے وہ احساس ندامت تھا جو اس کی ہچکیاں باندھ دیتا تھا۔ اور اللہ نے بھی تو کہا ہے کہ ہدایت اللہ زبردستی نہیں ٹھونستا۔ ہدایت اور دین تو مانگنے پڑتےہیں ۔ خود کو بدلنے کے لیے کوشش کرنی پڑتی کیونکہ اللہ جی اس کی حالت کبھی نہیں بدلتے جو خود اپنی حالت بدلنے کو تیار نہ ہو۔ کل بھی میں اس سے افطار پر ملنے گئ تھی پھر افطار کے بعد اس کی ایک کلائنٹ آئ وہ اس کی کاؤنسلنگ کرنے لگی تو وہ لڑکی آگے سے بولی ، میم میرے دل کو سکون نہیں ملتا آپ تو ماشاء اللہ نیک ہیں آپ کےلیے تو آسان ہے یہ سب۔ اور یہ سن کر مجھے وہی ہاسٹل کے دن یاد آئے تھے ۔ میں سوچ رہی تھی کاش میں اسے بتا دوں کہ اس کے اپنے آنسو کے دریاؤں کا رخ موڑنے والے سفر میں میں نے بھی اس سے بہت کچھ سیکھا ہے۔ یا پھر لوگوں کو بتا دوں کہ ہماری مہک عمر ایک دن میں ایسی نہیں بنی، کندن بننے کے لیے تپنا پڑتا ہے اور مہک عمر اس کی بہترین مثال ہے میرے لیے۔ مگر میں یہ بتا نہیں سکتی کیونکہ میں نے اس کے لیے کوئ اور وقت سوچا ہے۔

“عنبر طلال کی ڈائیری  ، میرے ہاسٹل کی دوست سے اقتباس”

آنے رملیہ۔۔
14April2022

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out /  Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out /  Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out /  Change )

Connecting to %s