میری دوست ملحان ضرار کے نام

بچھڑا وہ اس ادا سے کہ رت ہی بدل گئ
ایک شخص سارے شہر کو ویران کر گیا۔۔
آج پھر چودھویں کی شام تھی یعنی ہمارے ملنے کا دن تھا کیونکہ ہم دونوں نے سکول کے بعد الگ الگ یو نیورسٹیز جانے سے پہلے ایک دوسرے سے وعدہ لیا تھا کہ ہم ہر دو مہینے بعد اسلامی مہینوں کے مطابق چودھویں کی شام کو ملا کرینگے۔ ہم جب بھی ملتے تھے ہماری گفتگو بہت خوبصورت ہوا کرتی تھی بس ہم دونوں کے بارے میں اور اللہ والوں کے بارے میں اور ہمارا یہ وعدہ تھا کہ ہم اپنی اس چھوٹی ملاقات میں کوئ غیبت نہیں کرینگے کوئ حسد کی بات یا کسی کے جھگڑے کی بات نہیں کرینگے۔ ہم دونوں چاہتے تھے کہ جب ہماری ملاقات ہو تو وہ ہمارے نامه اعمال میں احسن کاموں میں لکھی جائے۔ ہر بار ہم ایک دوسرے سے کچھ نیا سیکھتے تھے اور کبھی ہم ایک دوسرے سے کوئ نئ سیکھی ہوئ دعا یا آیت شئیر کرتے تھے۔ ہماری دوستی بہت پیاری تھی، منفرد تعلق تھا، خوبصورت اور پرسکون۔ تو آج بھی ہم اسلام آباد کے اس پارک میں ملنے کے لیے پہنچ چکے تھے بلکہ وہ میرے بعد پہنچی تھی۔ حسب معمول ہم نے جوگنگ ٹریک پر یاد کئے ہوئے سبق کی دہرائ کی اور واک مکمل کیا۔پھر ہم اسی بید مجنوں کے درخت کے نیچھے بینچ پر بیٹھ گئے۔ یہ جگہ ہماری پسند کی تھی اور ہماری طرح یہ بینچ بھی ہمارا ساتھی بن گیا تھا خاموشی سے ہماری باتیں سنا کرتا تھا۔ آج میں نے اس سے باتوں باتوں میں پوچھا کہ ملحان! تمھارا کیا فیوچر پلان ہے بلکہ تمنا کیا ہے؟؟ وہ مسکرائ۔۔بولی “آمنے! آپ کو پتہ تو ہے میں مستقبل کی باتیں نہیں کرتی ہوتی۔ کیونکہ جب میں مستقبل کی بات کرتی ہوں تو پھر میں اصلی والے مستقبل کی باتیں کرنا شروع ہو جاتی ہوں ، جیسے کہ مجھے اللہ کی خوبصورت آواز سننے کا ، اللہ کے دیدار کا، نبی پاک صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے دیدار و ملاقات کا، اہل بیت سے ملنے کا، حضرت عثمان  رض کی حیا دیکھنے کا، حضرت فاطمہ کی چادر کو اپنے دل و آنکھوں سے مس کرنے کے لیے مزید انتظار نہیں ہو رہا تو پھر تم اداس ہو جاتی ہو آمنے۔۔۔اور بولتی ہو موت کی باتیں مت کرو۔۔وہ جیسے شکوہ کر رہی تھی لیکن جانتی تھی میں کیوں اداس ہو جاتی ہوں سن کے۔۔” پھر میں نے کہا ارے نہیں یار اس طرح نہیں کہہ رہی۔ میں تو بس یہ پوچھنا چاہ رہی تھی ضرار بھائ سے شادی کے بعد کے کوئ خواب سجائے ہیں یا نہیں؟؟ میں اس کو چیڑ رہی تھی۔ لیکن اس نے جو خوبصورت جواب دیا تو مجھے ایک دفعہ پھر لاجواب کر دیا۔ کہتی ہے، ” آمنے لوگ پتہ نہیں کیا کیا خواب بنتے ہونگے، انکے نجانے کیا کیا پلان اور کیا کیا خواہشیں ہونگی شادی سے پہلے یا بعد میں لیکن میری بس ایک تمنا ہے۔ اور وہ یہ ہے کہ تہجد کا وقت ہو اور میں گہری نیند سوئ ہوں، تہجد کی آذان گونجے اور میرے منہ پہ پانی کے چھینٹے پڑے، میں جاگوں تو میرا ہمسفر وضو بنائے اور دو جائے نماز بچھائے میرا انتظار کر رہا ہو۔ میں اٹھوں تو ہم دونوں ایک ساتھ تہجد کی نماز پڑھیں، وہ میرا امام ہو اور میں مقتدی، اللہ ہم دونوں کی طرف دیکھ کے مسکرائے ۔ ہم سلام پھیریں تو ہم دونوں میں سے ایک تلاوت کرتا جائے اور ہم اس کے سحر میں ، اللہ کی محبت میں روتے جائیں، اللہ مسکراتا جائے۔ ہم دونوں کی بس ایک دعا ہو، اے اللہ تیری محبت ، اے اللہ تیری محبت، تیرے نبی کے عشق کی تڑپ۔ ہم دونوں کا ایک ہی محبوب ہو ایسا محبوب کہ جس کہ ایک ہونے کے باوجود دلوں میں حسد نہ آئے ۔ ہمارے ہاتھ دعا میں اٹھے ہوں وہ دعا کرتا جائے اور میں آمین  کہتی جاؤں یہاں تک کہ صبح ہو پھر ہم نماز پڑھیں اور ہمارے دن کی شروعات سورۃ الضحی سے ہو۔۔بس مجھے ایک ایسا دن نصیب ہو پھر بیشک میں مر جاؤں۔” واللہ وہ اپنی تمنا بتا رہی تھی اور میرے آنسو لڑھک لڑھک کے گر رہے تھے۔ مجھے اس کی سوچ کی خوبصورتی اور تمنا کی معصومیت پہ رشک آرہا تھا کہ آج بھی ایسے لوگ موجود ہیں جو دنیا کا نہیں سوچتے جو خدا کی محبت کے پیاسے ہیں۔ پھر ہم کب اور کیسے ملاقات ختم کر کے چل دئیے مجھے زیادہ یاد نہیں کیونکہ میرے ذہن میں تو اسے الوداع کرتے وقت بھی بس اس کی معصومیت اور باتوں کی خوبصورتی پہ رشک آرہا تھا۔ اس کی محبت نے مجھے بہت بدلا تھا شاید آج میں جو ہوں اس کی وجہ سے ہوں۔اس نے میرے اندر خدا کی محبت ڈالی تھی کہتی تھی آمنے تم گناہ بھی کرو تو اللہ سے باغی نہ ہو جانا بس معافی کی امید کی ڈور پکڑے رکھنا یہ 2020 کے ربیع الاول کے چودھویں شام کی بات ہے۔ اور آج جب میں صبح اٹھی تو اس کی بہن کا سٹیٹس لگا تھا کہ ملحان دنیا میں نہیں رہی۔۔ جو دل پہ گزری بیاں سے باہر ہے لیکن اس کی موت بھی کیا حسین تھی  کہ جمعہ کی شب تفسیر پڑھتے ہوئے اس کی موت ہوئ تھی ۔۔سبحان اللہ ۔ضرار بھائ ان سے شادی کر کے بہت خوشقست تھے مگر شاید میری طرح وہ بھی بھول گئے ہوں کہ اللہ اپنے پسندیدہ لوگوں کو جلدی بلا لیتا ہے اور پھر ملحان تو بے صبر تھی، اسے تو انتظار کاٹ کھاتی تھی کہ کب اس کی موت ہو اور وہ اللہ سے ملے کیونکہ اس جیسے لوگ موت سے ڈرتے نہیں ہیں بلکہ تیار رہتے ہیں انھیں بس اللہ کے پاس جانے کی جلدی ہوتی ہے۔لیکن ہم انسان کمزور ہیں اتنی خوبصورت موت کے بعد بھی دل کو سنبھالا نہیں دے پاتے۔۔ اللہ انھیں جنت کے اعلی درجات عطا فرمائے آمین ۔
۔ آنے رملیہ
Aanay Ramliya
9feb2022

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out /  Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out /  Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out /  Change )

Connecting to %s