وہ خط جو میرے نام تھا

یہ 14 فروری کا دن تھا، میں آج خوب اچھے سے تیار ہوا ، اپنا فیورٹ پرفیوم لگا کر اپنے بال سیٹ کرنے لگا تھا کہ مجھے آذان کی آواز سنائ دی۔ میں نے آذان سنی مگر نظر انداز کر دیا۔ ویسے میں نماز تو پڑھتا تھا مگر بس جمعہ جمعہ یا پھر جب اللہ سے کوئ خاص چیز مانگنی ہوتی تو میں نماز پڑھ لیتا۔ سو آج میرا دل نہیں تھا نماز پڑھنے کا، نہیں پڑھی اور مجھے اس سے کوئ خاص فرق نہیں پڑتا تھا اور نہ ہی کبھی یہ سوچنے کی توفیق ہوئ کہ میں نماز چھوڑ کر گناہ کبیرہ کر رہا ہوں۔ میں اکلوتا بیٹا تھا اور تھا بھی کافی امیر خاندان سے پس اس لیے مجھ پہ کوئ خاص روک ٹوک نہیں تھی۔ ابا نے کالج کے دنوں میں ہی مجھے اپنی گاڑی لے کے دی تھی سو دوستوں کے بھی مزے تھے بلکہ وہ تھے ہی مجھ سے فائدہ اٹھانے والے دوست لیکن میں کچھ زیادہ پرواہ نہیں کرتا تھا ان باتوں کی۔  ہم ایف سیکس میں رہتے تھے سو میں تیار ہو کر سیدھا جناح سپر کے سامنے فلاور مارکیٹ گیا۔ آج ویلنٹائن ڈے تھا جس کی تاریخ جانے بغیر ہم سب پیار کا دن کہتے ہیں اور ہر جگہ سرخ و سفید غباروں سے، سجی ہوتی ہے۔ چاکلیٹ، بئیرز اور پھولوں اور کیک والوں کا بزنس اس دن خوب چلتا ہے۔ میں بھی ان لیبرل لوگوں میں سے تھا جو اس طرح کی چیزوں پر اچھا خاصا خرچ کر لیتے ہیں۔انھی کی طرح میں بھی وہاں سرخ گلابوں کا بکے لینے گیا تھا۔ میں بہت پرفیکشنسٹ تھا اس لیے میں وہ لڑکا تو تھا نہیں کہ جس کا ہر لڑکی پر ہی دل اجائے بلکہ میری ایگو کے ساتھ ساتھ میں کلاس کا ٹاپر بھی تھا اور اللہ نے حسن بھی دیا تھا اس لیے بھی میں زیادہ کسی کو لفٹ نہیں کراتا تھا۔ اسلام آباد کی لڑکیاں خود مجھ سے بنانے کی کوشش کرتیں مگر میں بہت فارمل تھا۔ اس لیے نہیں کہ میں بہت کوئ نیک یا اچھا لڑکا تھا بلکہ مجھے اپنے سٹینڈرد کی لڑکی چاہیے تھی۔ میں چاہتا تھا کوئ ایسا ہو جو مجھ سے میری دولت کی بجائے میری پرسنالٹی اور عادات سے محبت کرے جو اگر میرے پاس کچھ بھی نہ ہو تب بھی نبھانے والی ہو اور اسلام آباد میں ایسی لڑکی ملنا مشکل تھی( میں تضحیک نہیں کر رہا بس میرا یہ ماننا تھا) ۔ وہ سب ہائ فائ تو تھیں لیکن مادیت پرست۔ میں اچھی طرح جانتا تھا کہ میں جس لڑکی سے کہوں گا وہ مجھ سے ریلیشن بنانے کے لیے راضی ہوگی لیکن میں فلرٹ نہیں  کرنا چاہتا تھا کیونکہ مجھے اگلے سال جرمنی جانا ہے سو میں چاہتا تھا کسی سے نکاح کر لوں. ابا کی خواہش تھی کہ میں نکاح کر کے جرمنی جاؤں اور میں خود کسی کو پسند کروں کہ میں ارینج شادی پر یقین نہیں کرتا تھا۔ خیر چھوڑیں میں یہ بتا رہا تھا کہ میں پھول مارکیٹ کس لیے گیا تھا ۔۔جی ہاں میں بھی پھول لینے گیا تھا جس کا اوپر ذکر کر چکا ہوں۔ لیکن کس کے لیے؟؟ آپ بھی سوچ رہے ہونگے کہ ابھی تک تو اپنی تعریفیں جھاڑی اور اب پھول خرید لیے؟؟؟ ہاں جی ایسا ہی ہے ۔ میں نے زویا ناصر کے لیے پھول خریدے تھے ۔ میں آج محبت کا مفہوم پانے کی کوشش کر رہا تھا ۔وہ محبت جس کو جاننے کی جستجو نے مجھے اپنے اصل سے بھی شاید کافی دور کر دیا تھا اور میں بس نام کا مسلمان رہ گیا تھا۔ویسے زویا میری جونئیر تھی اور کلاس کی ٹاپر بھی۔
زویا کی مجھ سے اچھی سلام دعا بھی تھی۔ وہ اکثر فنانشل انالیسز (financial analysis)  کے سوال میرے سے ہی کرتی تھی۔ میری فائنانس میں سب سے اچھی گریپ تھی اور شاید اسی بات نے مجھے یونیورسٹی میں بھی اچھا خاصا مشہور کیا تھا۔ مجھے زویا میں کافی انٹرسٹ تھا اور اس کی وجہ یہ تھی کہ وہ بہت رزرو طبیعت والی تھی۔ وہ ہر کسی کے ساتھ ہنسنے والی اور بات کرنے والی نہیں تھی۔ اس کا ڈریسنگ سینس بہت اچھا تھا. مجھے معلوم نہیں تھا وہ میری پرپوزل پر کیسے ری ایکٹ کریگی مگر باقی ہماری اچھی دوستی تھی۔ اور میں نے اس کو کبھی بولا نہیں تھا کہ وہ مجھے اچھی لگتی ہے کیونکہ میں ابھی اس کو جج کرنا چاہ رہا تھا کہ کہیں اسے کوئ پسند یا کمیٹڈ نہ ہو۔ خیر اس نے آج تک ایسا کچھ نہیں کہا تھا اور ہم نے کبھی ایسی بے باک گفتگو نہیں کی تھی کیونکہ میں بھی اس کی اتنی ہی عزت کرتا جتنی وہ میری کرتی تھی اور میں بھی اس کا اعتبار نہیں توڑنا چاہتا تھا کیونکہ وہ باقی لڑکوں کی بجائے میرے پاس ہی آتی تھی۔ اوہووووو یہ میں پھر کس طرف آگیا ہوں ۔۔اچھا بابا سوری اصل بات کی طرف آتے ہیں میں نے پھول لیے پھر کیا ہوا چلیں اب بتاتا ہوں۔۔۔معذرت بات دوسری طرف چلی گئ تھی۔ میں نے پھول لیے تو گاڑی میں لا کر رکھ دیے پھر میں صفا گولڈ گیا میں نے  وہاں سے اچھی چاکلیٹ کا ایک پیکٹ اور چیسٹیٹی پرفیوم لیا۔ اب یہ سب لے کر میں نے جہاں گاڑی پارک کی تھی وہیں بس گاڑی میں گانے سننے لگا۔۔ میں نے زویا سے کہا تھا کہ آج شام کو میری طرف سے ڈنر ہے لیکن وہ یہ نہیں جانتی تھی کہ میں اسے پروپوز کرنے والا ہوں۔ ویسے میں بہت کانفیڈنٹ تھا لیکن آج تھوڑا اس بات سے میں گھبرا رہا تھا کہ ایسا نہ ہو اس کے انکار سے میری ایگو ہرٹ ہو جائے یا پھر اسکا اعتبار ٹوٹ جائے اور یہ دونوں میں نہیں چاہتا تھا کیونکہ میری یہی سوچ تھی کہ چھپ کر چاہنے اور غلط طریقے سے اپروچ کرنے کی بجائے ڈائریکٹ بتا دینا چاہیے پھر اگر ہاں ہو تو بھی ٹھیک اور نہ ہو تو بھی ٹھیک۔ لیکن پھر بھی مجھے آج تھوڑی سی نروسنس ہو رہی تھی مجھے سمجھ نہیں آرہی تھی کہ زویا کو آج کے دن بتانا مناسب ہے کہ نہیں۔ پھر خیال آیا کہ شاید وہ خود یہی امید کر رہی ہو کیونکہ اس سے پہلے بھی ہم نے اکٹھے دوستوں کے ساتھ ڈنر تو کیا تھا پر یوں ویلنٹائن ڈے پر نہیں کیا تھا۔ ابھی 8 بج چکے تھے اور اسلام آباد میں رہتے ہوئے بھی زویا کو 10 سے زیادہ لیٹ کسی صورت میں باہر جانے کی اجازت نہ تھی۔ یعنی ابھی دو گھنٹے باقی تھے ہم نے ڈنر بھی کرنا تھا اور پھر زویا کو ڈراپ بھی کرنا تھا۔ جانے کیا وجہ تھی کہ میرا موڈ سونگ ہونے لگا اور میں نے زویا کو پروپوز کرنے کا پلان کینسل کر دیا. خیر وہ آئ اور ہم نے بلکل نارمل ڈنر کیا وہی ہلکی پلکی سٹڈیز کی باتیں اور پھر میں نے اسے ڈراپ کر دیا۔ میں گھر واپس آگیا ۔ امی لوگ اپنے کمرے میں تھے میں بس یوں ہی خود دروازہ کھولا اور گاڑی سے پھول وغیرہ اٹھا کر کمرے میں لے آیا۔مجھے موڈ سوینگز کا مسئلہ تو تھا ہی لیکن آج کچھ زیادہ ہی دل بوجھل ہونے لگا تھا۔۔
جیسے کچھ مسنگ ہو۔۔ جیسے زندگی میں کوئ کمی ہو ۔ لیکن کیا کمی ہے؟ گاڑی ہے، اچھی یونیورسٹی ہے ، اچھا گھر ہے۔پاکٹ منی بھی مل جاتی ہے۔ گھر میں کوئ روک ٹوک بھی نہی  پھر کیا ہے ؟ سٹڈیز میں بھی بہت اچھا ہوں، چاہنے والے بھی ہیں تو پھر کیا ہے جو مسنگ ہے؟ میں دل میں شاید خود سے ہی پوچھ رہا تھا۔ “محبت! جسے دنیا محبت کہتی ہے وہ مسنگ ہے” میں بڑبڑایا۔ لیکن وہ محبت تو مجھے سیٹسفائ نہیں کر سکتی تھی میں تو نہ کسی کو قید کر سکتا تھا جو فقط میرے اشاروں پہ چلے اور نہ میں ایسا تھا کہ جو ایک دفعہ میرا ہو اسے کھو دوں۔ میں اپنی ہر چیز کو بہت خاص سمجھتا تھا، لیکن میں سوچتا تھا کہ اگر میں ریلیشن بنا کر اسے یہ نہ سمجھا پایا تو پھر کیا ہوگا؟؟ مجھے ہونے سے پہلے  کھونے کا ڈر تھا۔ تو پھر یہ کیسی محبت ہوئ؟؟ محبت تو ولایت ہوتی ہے۔ یہ تو قوت عطا کرتی ہے۔ تو پھر اس میں کھونے کا ڈر کیسا؟ یہ کیسا مفہوم_ محںت ہوا پھر؟؟ میں بس ذہن میں خود سے ہی محو گفتگو تھا۔
میں نے چیزیں بیڈ پر پھینک دیں اور موبائیل وغیرہ سب سائیڈ ٹیبل پر رکھ دئیے ۔ چینج کر کے خود بھی بیڈ پر ڈھے سا گیا مگر دل کی بیچینی بڑھتی جارہی تھی۔  ایک خلا تھا جو آج مزید وسیع ہوا جا رہا تھا۔ آج میں محبت کے جذبے کی تکمیل چاہتا تھا لیکن سوچا تو مجھے محبت کا مفہوم ہی معلوم نہ تھا ۔میرے جیسے ذہن والے بندے کے لیے فقط پھول دینا، پروپوز کرنا، تارے تھوڑ لانے جیسے بے معنی دعوے کرنا یا پھر ایجاب و قبول کر کے کسی پسند کی لڑکی سے شادی کر لینا ہر گز محبت کی تشریح نہیں ہو سکتی تھی۔
میں نے سونے کی کوشش کی پر آج نیند نے بھی نہیں آنا تھا نہیں آئ۔ لیکن آج اس دن کے برسوں بعد  جب میں اپنی کہانی لکھ رہا ہوں تو اس ساری بیچینی، نیند کا اڑ جانا دل کا بوجھل ہو جانا وغیرہ کی سمجھ آگئ ہے۔ مجھے اب لگتا  ہے کہ ہر انسان کی ہدایت کے لیے کوئ خاص دن، کوئ خاص شخص، کوئ خاص واقعہ یا حادثہ یا پھر کوئ خاص قرآن کی سورۃ یا آیت مقرر ہوتی ہے جو اس کی آنکھیں کھول دیتی ہے۔ جس کے بعد انسان کا ظاہر و باطن دونوں بدل جاتے ہیں ۔یہ وہ لوگ ہوتے ہیں جو چن لیے جاتے ہیں۔ جو بہت خوشنصیب ہوتے ہیں جنھیں اللہ باقی عام لوگوں جیسا نہیں دیکھنا چاہتا۔ جنھیں اللہ اپنا رنگ دینا چاہتے ہیں۔ جنھیں اس جھوٹی دنیا کی سرخ رنگوں سے نکال کر صبغۃ اللہ یعنی اللہ کا رنگ چڑھا دیا جاتا ہے  پس میرے لیے شاید یہی دن مقرر تھا جسے دنیا ویلنٹائن جیسے غلیظ تہوار کے نام سے جانتی ہے مگر اس وقت میں بھی اس ویلنٹائن نامی چیز کو کچھ ذیادہ برا نہیں سمجھتا تھا۔ خیر اس دن مجھے نیند تو نہ آئ لیکن دل کے نہاں خانے اور تحت الشعور میں جو سوالات شاید ایک عرصے سے پڑے تھے وہ اب ابھر ابھر کر میرے دل و دماغ پر جیسے ہتھوڑے برسا رہے تھے۔ ہر گزرتے لمحے کے ساتھ ان کے جاننے کی جستجو بڑھتی جا رہی تھی۔ کچھ عجیب عجیب وسوسے بھی آ رہے تھے زویا کے بارے میں۔ پھر سوچا زویا کو کال کر لوں شاید دھیان بھٹک جائے حالنکہ میں  نے کبھی اسے اتنی لیٹ کال نہیں کی۔ میں نے کال نہیں کی کیونکہ میری انا اور عزت نفس یہ گوارا نہیں کرتی تھی۔
پھر میں نے موبائیل میں واٹس ایپ کھولا اور یوں ہی اوپر نیچھے چیٹ دیکھنے لگا۔ میری نظر ایک چیٹ پر پڑی یا شاید یہ اللہ نے طے کر دیا تھا کہ میں ایسے لمحوں میں ہی اس چیٹ کی طرف نظر کرونگا۔کہ اللہ سورۂ التکویر میں فرماتے ہیں ، ” تم چاہ بھی نہیں سکتے جب تک اللہ نہ چاہے”. جب اس کی چاہ کے بغیر کوئ پتہ تک نہیں ہل سکتا تو میں کیونکر چیٹ دیکھ سکتا تھا بھلا؟ یہ چیٹ میں نے کئ دن سے نہیں کھولا تھا، لوح محفوظ میں یہی لکھا گیا تھا کہ میں اسے آج ہی کھولونگا۔ یہ ضرارہ کی چیٹ یعنی میسجز تھے۔  ضرارہ میری ایک چھوٹی کزن ہے جو تب یونیورسٹی کے تیسرے سیمسٹر میں تھی ان کے بھائ نہیں ہیں اور مجھے وہ بھائ کہتی ہی نہیں سمجھتی بھی ہے۔ بچپن سے میرا بھی اس کے ساتھ سگے بھائ جیسا تعلق ہے۔ ویسے میں ان کا رضاعی بھائ بھی ہوں۔ ان کا میسج آیا تھا کہ بھائ آپ نے میری میم کی آڈیوز سن لی ہیں کہ نہیں؟ “وہ کسی آن لائن پلیٹ فارم پر ایک میم سے پڑھتی تھیں بلکہ ابھی تک پڑھتی ہیں جن کا نام میڈم تانیہ ہیں اور خود کو اللہ کی نائب کہتی ہیں”۔۔ضرارہ مجھے ہر وقت کہتی تھیں کہ رومان بھائ آپ کبھی میری میم کے لیکچرز سنیں آپ کبھی قرآن سے جڑ کے تو دیکھیں آپ کی لائف بڑے مزے کی ہو جائے گی۔ میں اس کی باتیں “ہاں سنوں گا کبھی” کہہ کر ٹال دیتا تھا۔اور وہ اکثر کچھ خاص موقعوں پر ضرور مجھے اپنے سیشنز کی ریکارڈنگز بھیجتی تھیں مگر سچ بتاؤں تو میں نے کبھی نہیں سنا ان کو۔ بلکہ میں تنگ ہوتا تھا ایسے کسی کو سننے سے۔ اور پھر اسلامی باتیں سننا تو میرے لیے کچھ خاص دلچسپ نہیں تھا۔نعوذباللہ۔
مگر اس دن میرا دل اتنا بیچین تھا کہ نا چاہتے ہوئے بھی میں نے آڈیوز پلے کردیں۔اس دن مجھے پہلی بار احساس ہوا کہ کچھ اتفاق  دراصل اتفاق نہیں ہوتے بلکہ اللہ نے اس لمحے آپ کو دوسرے راستے پر موڑنا ہوتا ہے۔ وہ ایک چھوٹا اتفاق، حادثہ، جملہ ، یا لفظ آپ کی زندگی کو یا تو موت سے نواز دیتا ہے یا پھر ایک نئ زندگی بخشتا ہے اور یہی میرے ساتھ ہوا۔ آج دہائیوں بعد سوچتا ہوں کہ تب مجھے چن لیا گیا تھا، آنکھوں سے آج آنسو گرتے نہیں تھمتے کہ میں اللہ کا شکر کیسے ادا کروں۔ کبھی خیال آتا ہے کہ شاید یہ میری دعا قبول ہوئ ہے جب میں کبھی کبھی جمعہ کی نماز پڑھتا تو اللہ جی سے کہتا تھا کہ اے اللہ میں گناہگار ہوں باغی نہیں ہوں میں اپنے گناہ کا اعتراف کرتا ہوں مجھے موت سے پہلے ہدایت دے دیں۔ مجھے آقا نامدار صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کا سامنا کرنے سے شرم آتی ہے۔ دوسروں کے ساتھ دھوکہ نہیں کرتا پس مجھے ہدایت دے۔
میں نے کبھی کسی عورت کا اسلامی لیکچر نہیں سنا تھا سوائے اس کے کہ میں استاذہ فرحت ہاشمی صاحبہ کو جانتا تھا کہ وہ اسلامی لیکچرز دیتی ہیں اور ان کا انداز بھی بڑا مشفق تھا۔ سو اس دن میں میم تانیہ کو پہلی دفعہ سن رہا تھا انھوں نے اس دن جو پوسٹر ڈیزائن کیا تھا کمال تھا اور میرے پاس آج تک پڑا ہے۔قارئین کے لیے کہانی کے آخر میں لگا دوں گا۔ میں ان کو سنتا گیا تو ان کا انداز بیاں بہت مختلف تھا وہ قرآن کی ہر آیت روزمرہ کی زندگی سے جوڑتی جا رہی تھی۔ مجھے ضرارہ نے بتایا تھا ان کے ہر سیشن کا اپنا ایک تھیم ہوتا تھا، سو ویلنٹائین ڈے کے سیشن کا تھیم انھوں نے کچھ ایسا رکھا تھا “سچی محبت، کیوں کہ یہ تو دل کا معاملہ ہے:  محبت کا خط: قرآن و حدیث کی نظر میں”۔ 
آڈیوز یعنی ریکارڈ شدہ کلاس میں استاذہ تانیہ نے پہلے ویلنٹائن کی مختصر تاریخ اور اس کا اسلامی تہذیب کے ساتھ موازنہ بتایا۔ سنتے ہوئے میرا سر شرم سے جھکا جا رہا تھا کہ ہم اسلام جیسی خوبصورت اور جدت پسند دین کے ہوتے ہوئے اور ہر وقت غیرت کی رٹ لگائے کس قدر بیغرتی اور ذلت والی تہذیب کو رنگین محبت کا کور چڑھا کر فقط قبول ہی نہیں بلکہ مزید ا شاعت بھی کیے جارہے ہیں۔
چونکہ آپی تانیہ ان کو اس سیشن سے پہلے سورۃ القیامہ کی تفسیر پڑھا چکی تھی سو وہ اس موضوع کو اس کے ساتھ ریلیٹ کرنے لگی کہ کیسے ہم “لیفجر امامہ” یعنی آگے آگے یا برملا گناہ میں ڈوبے جا رہے ہیں، اور پھر اس کو ایسے کھلم کھلا کرتے ہیں جیسے وہ گناہ ہی نہ ہو ۔ اگر کوئ ہمیں آخرت سے ڈراتا ہے تو بے دھڑک پوچھتے ہیں، اچھا قیامت کب آئے گی؟؟ جب کہ قیامت کا علم تو صرف اللہ کے پاس ہے۔ لیکن ہاں اس دن حالات یہ ہونگے کہ کچھ چہرے بڑے روشن ہونگے اور وہ اپنے رب کی طرف دیکھ رہے ہونگے۔ اور کچھ چہرے بد رونق ہونگے، وہ گمان کریں گے کہ اب ان کے ساتھ کمر توڑ معاملہ ہوگا ۔نعوذ باللہ۔مگر ہم بھول جاتے ہیں کہ انفرادی قیامت تو کسی بھی لمحے آسکتی ہے جس کا ذکر اسی سورۃ میں آگے تھا، یعنی انسان کے ذہن کو اللہ کتنا بہتر جانتے ہیں کہ ادھر سوال ابھرا ادھر جواب آیا۔۔سبحان اللہ اس آیت پر میں رک گیا۔ بیڈ پر بیٹھے مجھے بڑے ڈریسنگ میرر میں اپنا آپ نظر آرہا تھا۔ میرے کاٹن کے کپڑے، پرفیوم کی خوشبو اور میرے خوبصورت کٹے اور جیل سے سیٹ شدہ بال، یہ سب تو شام سے ایسے تھا یعنی میں زویا سے ملنے خود کو تو بڑا سیٹ کر کے گیا تھا۔ مگرر۔۔۔۔میری زبان رکنے لگی ۔ دل تیزی سے دھڑکا۔۔میں اپنی آنکھوں میں دیکھ کر خود سے پوچھنا چاہ رہا تھا کہ ، رومان! رومان! کیا تم اس دن روشن چہرے والے لوگوں میں شامل ہو گے یا پھر؟؟ آگے ایک بہت بڑا سوالیہ نشان تھا۔ اندھیرا ہی اندھیرا۔ میری آنکھوں میں سرخی اتر رہی تھی، غم، ندامت، اور پچھتاوے کی سرخی۔  جیسے جیسے تانیہ آپی تفسیر ریلیٹ کرتی جارہی تھی اور کہتی جاتی کہ یہاں اپنا نام لگاو میں وہاں نام لگاتا جاتا، خود سے سوال کرتا جاتا مگر وہ میں تو نہیں تھا۔ وہ تو اللہ کی آیات تھیں ۔وہ تو اللہ مجھ سے مخاطب تھا۔ میں نے یہ آیات دوبارہ پڑھیں، ” کہ اس روز کچھ چہرے روشن کچھ بدرونق ہونگے اور روشن چہرے والے اللہ کا دیدار کریں گے۔ ” میں بار بار دہراتا رہا، میں اپنے آپ کو میدان حشر میں دیکھ رہا تھا ، میرے لیے ایک لمحے کے لیے بھی سوچنا مشکل تھا کہ اگر وہاں میرا چہرا بدرونق ہو، پورے عالم کے سامنے، میرے پروردگار کے سامنے، پیارے آقا کے سامنے، وہ جو آج سے چودہ سو سال قبل میرے لیے، جی ہاں مجھ گناہ گار رومان کے لیے روتے تھے، تو کیا ہوگا؟؟ دنیا میں تو میں زرا کسی کے سامنے بغیر سٹائل کے نہیں گیا مگر وہاں؟؟؟؟ وہاں سب کے سامنے بے رونق؟ سب کے سامنے میرے گناہ۔۔؟؟ کک کیا حالت ہوگی؟؟ میرے الفاظ دم توڑتے جا رہے تھے۔  میں آڈیوز کو آگے آگے سنتا گیا، میرا دل ہی نہیں کر رہا تھا وہ تفسیر ختم ہو، جب استاذہ قیامت کا منظر بتا رہی تھی وہی جو سورۂ القیامہ میں اللہ نے مجھ سے اور تم سے بیان کیا ہے، کہ سورج بے نور ہو جائے گا، چاند کی روشنی سلب کر لی جائے گی، چاند و سورج کو ملا دیا جائے گا، میں اپنے تصور میں گویا یہ سب دیکھ رہا تھا۔ کہ اچانک سے بجلی گرجنا شروع ہوئ آسمان پر بجلی چمکنے لگی تھی، میرے کمرے کی کھڑکیاں بولنے لگیں تھیں۔ باہر یہ منظر اور تصور میں قیامت کا منظر ، سب کچھ بے نور، کالا اندھیرا، بے بسی، بد رونق چہرے، گرمی کی شدت، میں روتے ہوئے ہچکیاں لینے لگا تھا ۔”اے اللہ آج موت نہ دینا ، بس آج موت نہ دینا، میں سنبھل جاؤں گا، پلیز مجھے ہدایت دے دیں بس آخری موقعہ دیں میرے اللہ پلیز”۔ میں زندگی میں کبھی اتنا خوفزدہ نہیں ہوا جتنا اس رات ہوا تھا، مجھے لگا کہ اگر میں اس دن مر گیا تو کیا ہوگا۔ اس دن پہلی بار قیامت کا یقین ہوا تھا، تب میرے ذہن میں کتنے سالوں بعد اسلامیات کے استاد کے یہ جملے گونج رہے تھے کہ عقیدۂ آخرت انسان کو انسان بنا سکتی ہے اگر یقین کامل ہو۔ جی ہاں اس دن سمجھ آیا تھا کیوں سارے اعمال توحید و رسالت کے بعد عقیدۂ آخرت سے بدل سکتے ہیں۔ یوں لگ رہا تھا کسی نے میری آنکھوں سے پردہ ہٹایا ہو اور میں جتنا آگے جا رہا تھا یعنی میں استاذہ کی آڈیوز سنتا جا رہا تھا وہ اگے آگے ہر ایت کو ویلنٹائن ڈے کے ساتھ اور ہماری زندگی کے ساتھ کنیکٹ کرتی جا رہی تھیں میرے سامنے کچھ پرت در پرت کھل رہا تھا جی وہی تو راز_حق تھا جو عیاں ہو کر بھی مجھ سے نہاں تھا ۔میں وہ سب یہاں نہیں لکھ سکتا، کہ قرآن کی یہ مختصر سورۃ کتنی وسیع ہے یا میرے اس وقت کیا جذبات تھے وہ سب لکھنے سے میں قاصر ہوں ورنہ جانے کتنے دن لگ جائیں صرف اسے لکھنے میں۔میں آج بھی سوچتا ہوں کہ انسان کی ہدایت کے لیے تو سورۂ القیامۃ جیسی ایک سورت ہی کافی ہے چہ جائیکہ پورا قرآن۔یہ پورا قرآن تو واقعی بہت بھاری ہے مگر انسان سچ میں احمق ہے، جسے اٹھانے کی پہاڑوں نے زمہ داری نہیں اٹھائ، جس کا وزن پہاڑوں سے نہ اٹھایا جا سکا اس کو انسان نے اٹھانے کی زمہ داری لے لی۔ خیر اب آپی اس سورۃ کو اس دن کے تھیم کے مطابق سمجھانے لگی تھی، کہ جب اللہ جی ساری چیزیں بتا کر بڑے پیار سے شکوہ کرتے ہیں، “فلا صدق ولا صلی” ولکن کذب و تولی، ثم ذھب الی اھله یتمطی ” اولی لک فاولی ۔
پھر اس نے نہ تصدیق کی، نہ نماز پڑھی، بلکہ اس نے جھٹلایا اور منہ پھیر دیا، اور پھر اپنوں کے پاس اکڑ کر چل دیا. وائے (افسوس) ہے تجھ پر اور پھر افسوس۔۔
یا رب یہ کیا ہو رہا ہے؟  جی میں نے ہی تو آج نماز چھوڑی تھی، میں ہی تو آذان کو نظر انداز کر کے گیا تھا، میں ہی اللہ جی کو چھوڑ کر زویا سے ملنے گیا تھا، محبتوں کی تعبیر ڈھونڈنے لیکن۔
یا ربی کیا آپ واقعی مجھ سے ہی بول رہے ہیں؟ میرا کلیجہ منہ کو آرہا تھا، میری رونے کی آواز چیخنے میں بدل گئ تھی میں بیڈ سے اتر کر زمین پر بے اختیار ہو کے آ بیٹھا تھا۔ استاذہ تانیہ اس دل کے ساتھ، وفا کے مفہوم کے ساتھ، محبت کے اس عظیم انداز کے ساتھ، لاڈ اٹھانے والے رب کے اس سوہنے انداز _ شکوہ کے ساتھ بتا رہی تھیں کہ اللہ جی نے تو تمھیں پیدا کر کے تمھارا دل بنایا تھا، پھر تمھیں ہدایت اور گمراہی دونوں راستوں کے انجام سمجھائے تھے ، اور دیکھو رومان! آج تم نے جو کیا اور تمھارے دل میں جو سوال تھے اللہ اسی کو لے کر تم سے مخاطب ہے ۔ وہ اب بھی تمھارا انتظار کر کے اتنی محبت سے شکوہ کر رہے ہیں کہ رومان تم نے پھر بھی نماز چھوڑ دی ؟ کتنا افسوس ہے تم پر۔ کاش میں یہاں وہ ساری تفسیر لکھ سکتا، وہ تو کئ مہینوں کی تفسیر تھی لیکن میں تو مسلسل جانے کتنے گھنٹے سنتا رہا تھا ۔میری نیندیں اڑ گئ تھیں۔ استاذہ جب کہہ رہی تھیں کہ اپنا نام لکھ کے خود سے پوچھو! بلکہ سوچو اللہ تم سے ہی پوچھ رہا ہے کہ اے رومان! میں نے تیرا دل بنایا، تمھیں ایک حقیر پانی کے قطرے سے تخلیق کیا اتنی خوبصورت شکل کے ساتھ اور پھر تمھیں اپنا خط بھیجا، وہ خط جو ایک سو چودہ عنوانات پر مشتمل تھا، ایسا خط جو زندہ تھا جس میں تمھاری ہر حالت کے مطابق تیرے دل کے ہر احساس کے مطابق میں نے تجھے مخاطب کیا تھا، مگر تم نے اس خط کو کھولا تک نہیں۔ کیا کوئ ایسے کرتا ہے اپنے محبوب کے خط کے ساتھ؟؟ کیا میرا بنایا ہوا دل تم نے غیر کی محبت سے بھر دیا اور میری جگہ تم نے اسے دے دی؟ کیا میں نے نہیں تمھارے دل میں خوبصورت احساسات پیدا کیے تھے؟ کیا محبتوں کا تمھیں یہی مفہوم سمجھ آیا کہ دوسروں کی پیار سے دی ہوئ چیز ، وہ جو انھوں نے بڑے چاؤ بڑے مان سے بنائ ہو وہ تم کسی اور کو دے آو؟ تمھیں وہ دل میں نے سونپا تھا جی تمھارے رب نے۔ اور رب کونسا؟ تیرا خالق، تیرا مالک، تیرا مدبر۔ بھلا یہ تین صفات کسی بھی انسان میں ہو سکتی ہیں کیا؟؟ جی رومان میں یہ تو نہیں کہہ رہا تم دنیا چھوڑ دو کہ وہ تو میں نے تیری ہی خدمت کے لیے بنائ تھی مگر یہ کیا کہ تم اپنے اصل کو ہی بھول بیٹھے ہو۔ تم اپنی تہذیب بھول کر ویلنٹائن اور پتہ نہیں کہاں کہاں محبت ڈھونڈ رہے ہو۔ کیا تم بھول گئے ہو کہ کالی کملی والے خوض کوثر پر تیرا انتظار کریں گے، وہ مجھے سے ہر لاالاہ الاللہ کہنے والے کی سفارش کریں گے، وہ جو قیامت میں بھی امتی امتی پکار رہے ہونگے کیا تمھیں اس سے ذیادہ محبت چاہیے ہے؟؟
باہر ہوا کے جھکڑ مزید تیز ہونے لگے تھے، مجھے یوں لگ رہا تھا گھر کی چھت گر جائے گی، اور میرے اندر خوف و ندامت کے طوفان برپا تھے ۔ اندر باہر ایک ہولناک سماں تھا۔ باہر بارش برس رہی تھی اور اندر میں آنسو میں بھیگ رہا تھا۔ فجر کا وقت قریب تھا اور میں تھا کہ سورۃ القیامۃ کی تفسیر بند ہی نہیں کر پا رہا تھا۔ میں پھر کہتا ہوں کاش میں وہ سب لکھ سکتا جو میرے ساتھ ہوا۔ جیسے اس رات قرآن میرے دل پہ اترا تھا۔ جیسے اس رات مجھے سمجھ آئ تھی کہ قرآن پڑھا نہیں جاتا صرف، اس کا دل پر نزول ہوتا ہے جب تک نزول نہ ہو قرآن بس ایک آسمانی کتاب ہی لگتی ہے۔ اس رات مجھے پہلی دفعہ سر خرم کے بولے ہوئ علامہ اقبال کے اس شعر کی تشریح سمجھ آئ تھی،
تیرے ضمیر پر جب تک نہ ہو نزول کتاب
گرہ کشا ہے نہ رازی نہ صاحب کشاف۔۔۔
لیکن میرے نصیب میں اس سب کے لیے وہی رات ، وہی وقت مقرر تھا۔ اس سے پہلے میں پڑھتا بھی تو وہ مجھے نہ سمجھ آتے۔ میرا اب یہ ایمان ہے کہ اللہ آپ کو جو چیز جس وقت جس طرح سنوانا چاہتے ہیں آپ ویسے ہی سنتے ہیں تبھی تو یہ دعا مانگنی سکھائ گئ ہے کہ،
“الھم ارنا الحق حقا وارزقنا اتباعه و ارنا الباطل باطلا وارزقنا اجتنابه۔”
اے اللہ ہمیں حق کو حق دیکھا اور اس کی پیروی کی توفیق دے اور باطل کو باطل دیکھا اور اس سے اجتناب کی توفیق بخش۔
اسی لیے تو سائیکالوجی میں پرسیپشن  ایک بہت بڑا مضمون ہے، جس کا خلاصہ یہ ہے کہ انسان چیز کو جو دیکھ یا سمجھ رہا ہوتا ہے ضروری نہیں  وہ وہی ہو۔ اسی طرح اس رات اللہ نے میری کایا پلٹنی تھی سو میں اسے دوسرے اور گہرے انداز سے سمجھ رہا تھا۔
خیر میری آنکھیں سوجھ چکی تھی ، میں نے اٹھ کر اپنا مصحف اٹھایا جو شاید آخری بار میں نے رمضان میں یعنی اس دن سے تقریبا دس مہینے پہلے اٹھایا تھا اور پھر کبھی کھولنے کی زحمت نہ کی تھی۔ مصحف کو سینے سے لگایا، میرے ہیڈفونز ابھی بھی لگے ہوئے تھے، تانیہ استاذہ کہہ رہی تھیں قرآن اللہ کا خط ہے، اس میں اللہ نے میرے اور اپ کے لیے ایک سو چودہ پیغام بھیجے ہیں ” یہ سن کے میں نے زور سے بھینچا اپنے مصحف کو جیسے کوئ اپنے بہت عزیز پرانے دوست کو سینے سے بھینچتا ہے۔  جب آپی کہہ رہی تھی، ” کلا بل تحبون العاجلہ ” بلکہ اللہ جب یہ کہہ رہے تھے کہ رومان تمھیں تو عاجلہ یعنی جلدی ملنے والی (دنیا ) سے محبت ہے  تو میرے ہاتھ کانپ رہے تھے۔ میں صوفے پر بیٹھا جیسے اللہ کی محبت اور خوف سے لرز رہا تھا۔ اللہ جی جیسے میرا دل و ذہن  پڑھ رہے تھے اور مجھے جواب پر جواب تانیہ میم کی آواز میں دیے جا رہے تھے۔ اس دن مجھے احساس ہو چکا تھا کہ میرے دل میں اتنی بڑی خلا کیوں تھی، وہ خلا نہیں بلکہ روح کی تشنگی تھی جسے آسمانی پانی ہی بجھا سکتی تھی۔

جس محبت اور صفات کو میں انسانوں میں ڈھونڈ رہا تھا وہ تو انسانوں میں تھیں ہی نہیں۔ وہ خط جو میرے خالق میرے مدبر میرے مالک نے میرے نام لکھ کے محمد مصطفی، حبیب کبریا، امام الانبیاء صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کے ہاتھوں بھیجا تھا وہ تو میں نے اپنی چھبیس سالہ زندگی میں کھولا ہی نہ تھا۔ وہ خط جو صرف میرے لیے تھا، جس میں میرے محبوب ، میرے اللہ نے میری زندگی کے ایک ایک لمحے کی گائیڈینس یعنی راہنمائ کی تھی۔ وہ جس میں کبھی اس نے میرے اداسیوں اور مایوسیوں کے جواب میں لکھا تھا، ” لا تقنطوا من رحمۃ اللہ” اور کبھی میرے اکیلے پن میں بچانے کے لیے کہا تھا، ” لا تحزن ان اللہ معنا”۔ کبھی میرا موڈ اچھا کرنے کے لیے خوبصورت جنتوں کے وعدے تھے تو کہیں میرے اوور کانفیڈنس اور غرور کو توڑ کر میری کریکٹر اور پرسنالٹی بلڈنگ کے لیے نصیحت و عتاب کے طور پر جہنم اور قیامت کی ہولناکی کا بیان تھا۔ وہ جو مجھے بچوں کی طرح پاس بلانے کے لیے کہہ رہا تھا، ” ففروا الی اللہ” اور کبھی مجھے پھسلتا ہوا دیکھ کے بڑے مان سے پوچھا تھا، رومان! ” فاین تذھبون؟”. میری کمپلیکسٹی کا علم بھی اسے کتنا خوب تھا کہ مجھے اسنے لکھ کے بھیجا تھا، رومان! ” ما غرک بربک الکریم؟ الذی خلقک فسواک فعدلک۔ فی ایی صورۃ ماشآء رکبک” اور کبھی میرے غصے کو ٹھنڈا کرنے کے لیے کہا تھا، “فاصبر صبرا جمیلا” ۔۔
لیکن میں تو ویلنٹائن کے انتظار میں تھا۔ میں تو سرخ پھولوں چاکلیٹس، بھالو اور دل والے غباروں کے پیچھے پڑا تھا۔ میں نے تو محبت کی اس عظمت اس ولایت کو کبھی محسوس ہی نہ کیا تھا۔ میں تو سی ایف اے کر کے جانے خود کو کیا سمجھ بیٹھا تھا۔ خیر میری دنیا بدل چکی تھی میں نے اس دن دوبارہ کلمہ پڑھا تھا، جی ہاں اس دن دل سے پڑھا تھا پہلے تو بس قسمت میں ہی مسلمان پیدا ہونا لکھا تھا نا۔ ایمان تو میں 15 فروری کی شب  لایا تھا۔ فجر کی اذانیں ہو رہی تھیں اور استاذہ سورۃ القیامۃ کی آخری آیت پڑھ رہی تھی کہ جب اللہ جی انسان کی تخلیق اور اوقات بتا کر پوچھتے ہیں کہ ” الیس ذالک بقدر علی ان یحیی الموتی؟” کیا اللہ اس پر قادر نہیں ہے کہ وہ مردہ کو زندہ کرے؟؟ آپی کے کہنے سے پہلے ہی میں بے اختیار کہہ اٹھا تھا سبحانک فبلی۔۔(تو پاک ہے پس کیوں نہیں)۔۔ کیونکہ میں نے تو اپنی ذات کا مشاہدہ کیا تھا۔ میرے مردہ دل کو بھی تو آج اللہ نے پھر سے زندہ کیا تھا نا۔ میری روح کی مردہ محبت کو آج اسی نے جلا بخشی تھی۔ اٹھ کے میں نے نم آنکھوں سے فجر پڑھی تھی۔ میں مسجد میں کافی دیر تک اپنی بہنا ضرارہ کے لیے دعائیں شکریہ کے طور پہ کرتا رہا تھا کہ اللہ نے اسے میری ہدایت کا زریعہ بنایا تھا۔ میں استاذہ تانیہ کا شکریہ تو شاید کبھی بھی ادا نہ کرسکوں کہ اللہ نے ان کو زریعہ بنا کر مجھے روشنی، محبت، وفا، اور حق کے اصل معنی سے روشناس کرایا تھا۔ وہ خط جو میرے نام تھا ان کے زریعے مجھ تک پہنچ گیا تھا اور میں اصل معنوں میں گویا اس دن ہی پیدا ہوا تھا۔ میں نے جو پھول زویا کے لیے لیے تھے اس کے خوبصورت چند پتوں کو میں نے مصحف میں رکھ دیا تھا ، اور مصحف کے غلاف پر وہی پرفیوم چھڑکا تھا جو زویا کے لیے لیا تھا اور میرے مصحف سے زیادہ خوشبو کا حقدار کون ہو سکتا تھا۔
خیر یہاں میں اپنی کہانی روک دیتا ہوں اور یہاں سے آگے آپ اپنی محبت کی کہانی لکھیں گے۔ میں نے آپ کو پتہ بتا دیا ہےکہ جیسے میرے نام خط آیا تھا مگر میں نے اسے دنیا کی رنگینیوں میں مگن ہو کے کھو دیا تھا اور میں نے اسے کھولنے میں شاید دیر کر دی تھی۔ کہیں ایسا تو نہیں کہ آپ نے بھی ابھی تک اپنے نام کا خط وصول نہ کیا ہو، اسے نہ پڑھا ہو اور آپ اسے ڈھونڈتے ہوئے بھٹک رہے ہوں؟ کہیں آپ بھی “کل دیکھوں گا/دیکھوں گی” کے دھوکے میں پڑ کر دیر تو نہیں کر رہے؟ جی ذندگی تو فقط ایک دفعہ ملتی ہے ، یہی تو مہلت ہے پھر موت کے بعد تو کوئ مہلت نہیں ہے وہاں تو حساب ہے، ملن ہے، جزا ہے،ملاقات ہے پھر۔ کہیں آپ نے بھی اپنا اہم میسج بھلا نہ دیا ہو۔ کہیں آپ بھی میری طرح محبت کے معنی و تعبیر کے لامتناہی سرابوں کے پیچھے تو نہیں بھاگ رہے؟
کیا آپ کے اندر بھی میری طرح کی اکڑ، خلا یا پھر تشنگی ہے؟ اگر آپ کا جواب ہاں ہے تو پھر یہیں سے اپنی کہانی لکھیں، جائیے اپنے گھر کے کسی طاق میں ڈھونڈیے وہ خط شاید وہیں پڑا ہو۔ کھول کے پڑھئیے، مجھے یقین ہے آپ کے عزیز از جان خالق و مالک نے آپ کو بھی آپ کے نام ایک سو چودہ میسجز پر مشتمل ایک خط ضرور بھیجا ہے۔
ہوسکتا ہے میری کہانی پڑھنے کے بعد آپ کو تجسس ہو کہ میرا کیا بنا تو میں اس کا بھی جواب دے دیتا ہوں کہ جب میری زندگی بدلی تو لوگوں کے عام تصور اور خیال کے مطابق مجھے ابینڈنڈ نہیں کیا گیا، بلکہ میرے غیور رب نے مجھے مزید نعمتوں سے نوازا تھا۔ جی میں جرمنی چلا گیا تھا، ایک سال بعد میری شادی زویا ہی سے ہوئ تھی مگر یہ پرپوزل یہ رشتہ کسی ویلنٹائن کا محتاج نہ رہا تھا، آج میرے دو بچے ہالہ اور شریم قرآن کو آدھا حفظ کر چکے ہیں میں نے جرمنی میں فنانشل انالسٹ کے طور پر بہت نامور فرم میں جاب کی ہے اور آج کل میں پاکستان آیا ہوا ہوں۔ میں نے اپنی کہانی پاکستان آکر ہی لکھی ہے کہ میرے وطن سے میری ہر یاد جڑی ہے خصوصا وہ رات جب میں ایمان لایا تھا۔اور میں جرمنی میں تبلیغی مرکز میں جرمنی آنے والوں کا ایک طرح سے مہتمم بھی ہوں۔ مجھے اپنے بیوی بچوں سے بہت محبت ہے مگر یہ محبت میرے محبوب کی محبت سے کبھی بڑی نہیں ہو سکتی، مجھے اللہ نے وہ سب دیا جو ایک انسان کی چاہ ہوتی ہے مگر اپنے وقت پر اور میرے بھٹکنے اور سیدھی راہ پر آنے کے بعد، محبت کی تعبیر و مفہوم سمجھنے کے سفر کے بعد۔ کچھ آزمائشوں میں بار بار مجھ پر مہربان ہونے کے بعد۔ اور یہ میں صرف اس لیے بتا رہا ہوں کہ کہیں آپ مایوس نہ ہو جائیں اسلئے کہ  شیطان ایک یہ بھی چال چلتا ہے، وہ آپ کو ڈرا دیتا ہے کہ اگر دین پر آؤگے تو بہت کچھ چوٹ جائے گا، نہیں ایسا کچھ نہیں ہوتا، اس ہجرت میں اگرچہ چیزیں چوٹتی ضرور ہیں مگر وہ بھی فائدے کے لیے، اس ہجرت الی اللہ میں فقط نفع ہی نفع ہے۔۔
والسلام از  رومان سیٹھی۔۔

یہ وہ پوسٹر ہے جو استاذہ تانیہ نے اس دن ڈیزائن کیا تھا۔

بقلم خامہ: آنے رملیہ
1:31 am
16 june 2022

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out /  Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out /  Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out /  Change )

Connecting to %s