تربیت کا طعنہ دینا چھوڑ دیں

یہ  ہمارا پرانا گھر تھا۔ جس کے پچھواڑے ایک کھلی سی جگہ تھی۔ وہاں دیوار کے پاس امرود کا پیڑ تھا۔ ہم اکثر دوپہر کو کھانے کے بعد وہاں ہلکی پلکی گپ شپ کے لیے بیٹھ جاتے تھے۔ میں نے خواب میں بلکل وہی جگہ دیکھی کہ میں اور میری بہن وہاں بیٹھی باتیں کر رہی تھیں۔ کہ میں نے دیکھا سامنے سے نبی پاک صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم آرہے ہیں اور ان کے ہاتھ میں ایک موٹی سی کتاب ہے۔ قریب آکر انھوں نے سلام کیا اور جواب کے بعد ہم نے ان سے کتاب کے بارے میں پوچھا تو بتایا یہ انجیل ہے جو حضرت عیسی علیہ السلام پر نازل ہوئ تھی۔ یہ کہہ کر آپ صلی اللہ علیہ و سلم ہمارے لاؤنج کے دروازے سے اندر داخل ہو کر مصلی بچھایا اور نماز پڑھنے لگے۔ میں اور میری بہن بھی ان کے پیچھے مقتدی کی طرح نماز پڑھنے کے لیے کھڑی ہو گئیں۔ اتنے میں مجھے کن اکھیوں سے نظر آیا کے اسی سمت سے حضرت عیسی ع آرہے ہیں اور ان کے پہنچنے پر ہم دونوں بہنیں نماز ہی میں کھسک کر پیچھے ہوئیں اور حضور پاک ص کے بائیں طرف ان کے پیچھے حضرت عیسی نماز کی نیت باندھ کے کھڑے ہوئے۔ پیارے نبی صلی کی اقتداء میں جب ہم تینوں سجدے میں جانے لگے تو میں نے دیکھا نیچھے بلکل سجدے کی جگہ دو تصویریں تھی ایک حضرت محمد ص کی اور ایک حضرت عیسی ع کی ۔ یہ میری ذندگی کے خوبصورت خوابوں میں سے ایک خواب تھا۔ میری بیٹی زرنب بنت متلہ تب 11 سال کی تھی۔ ایک دن وہ سکول سے واپس لوٹی تو ابا کے پاس ان کی لائبریری میں چلی گئ۔ اور کہنے لگی ابا میری انگلش کی میم نے My Fav Dream پر مضمون لکھنے کو بولا ہے ۔ کیا میں اپنی مما کا خواب لکھ سکتی ہوں؟ مگر بابا مجھے انگریزی اتنی اچھی نہیں آتی کیا آپ میری مدد کرینگے؟؟زرنب نے اپنے بابا سے پوچھا۔ اس کے ابا بولے، “ہاں بیٹا لیکن آپ پہلے خود ٹرائ کرو۔۔ میں آپ کی غلطیاں نکال لونگا۔آپ مجھے سنا دینا میں اصلاح کر لونگا۔” میں نے زرنب کے ابا یعنی اپنے شوہر کو ہمیشہ ایسے پایا ہے کہ وہ جب بھی بچے کو کچھ سکھانا چاہتے ہیں تو ان کو کر کے نہیں دیتے بلکہ ان کی حوصلہ افزائ کر کے انھیں خود وہ کام کرنے کو کہتے ہیں۔ اسی طرح جب کوئ اچھا عمل ان سے کرانا چاہتے ہیں تو ان کو کرنے کا حکم نہیں دیتے بلکہ رات کو سٹوری ٹائم میں اس کام کی فضیلت بتاتے ہیں اور بچوں کے دل میں وہ عمل کرنے کی جستجو پیدا ہو جاتی۔ انھوں نے اپنی بچیوں سے پردہ بھی اسی انداز سے شروع کروایا تھا۔ خیر زرنب میرے پاس دوبارہ یہ خواب سننے کے لیے آئ تاکہ وہ یہ خواب مضمون کے طور پر لکھ سکے مگر میں نے اپنے خواب کی بجائے اپنے سسر کا خواب سنایا جس کی انگریزی زرنب کے لیے قدرے آسان تھی۔ میرے سسر یعنی زرنب کے دادا (جو میرے چاچو بھی ہیں اور آج کل ان کا تعلق سلسلہ نقشبندیہ اویسیہ سے ہے) کہ جب زرنب کے ابا محمد متلہ پانچ، چھ سال کے تھے تب ان کو خواب میں پیارے نبی صلی اللہ علیہ و سلم کی زیارت نصیب ہوئ اور دیکھا  آپ صلی اللہ علیہ وسلم  صحابہ رض کے ایک مجمع سے کچھ بات کر رہے ہیں یا کوئ خطبہ دے رہے ہیں۔ کہتے ہیں کہ وہ آپ صلی اللہ علیہ و سلم کے قریب گیے اور ان سے درخواست کی کہ ان کے بیٹے محمد متلہ کے لیے دعا کریں۔ آپ صلی اللہ علیہ و سلم نے محمد متلہ کے شانوں پر ہاتھ رکھ کے فرمایا تھا کہ یہ اچھا آدمی بنے گا۔ ” زرنب نے مضمون لکھ لیا تھا اور اپنے ابا کی بجائے مجھ سے ہی اصلاح کروا لی تھی کیونکہ انھیں اس خواب کا علم نہ تھا اور اگر وہ دیکھ لیتے تو زرنب کو ضرور منع کرتے۔ اگلے دن سکول سے واپسی پر زرنب نے بتایا کہ اس کی میڈم نے اسکا مضمون پوری کلاس کو ڈکٹیٹ کر کے لکھوایا ہے ۔ زرنب بہت خوش تھی اور یہ اس کی پہلی باقاعدہ تحریر تھی۔ اس سے پہلے وہ صرف ڈائری لکھا کرتی تھی مگر کسی کو دیکھاتی نہیں تھی کچھ دنوں کے بعد ہی وہ صفحے پھاڑ کر منہ میں چبا کر گرا دیا کرتی تھی۔  خیر زرنب کی بات تو یہاں ختم ہوتی ہے مگر میں ان دو خوابوں کا ذکر کر کے کچھ اور کہنا چاہ رہی تھی۔ وہ یہ کہ میں نے زرنب کے ابا کو انتہائ بہترین انسان پایا ہے۔ وہ نہ صرف ایک بہترین شوہر ہیں بلکہ ایک بہترین بھائ، فرمانبردار بیٹا اور ایک مخلص دوست بھی ہیں۔ وہ نہایت صلح رحمی والے شخص ہیں یہاں تک کہ اپنی جان کے دشمنوں سے بھی بہت اچھا سلوک کرتے ہیں۔ مجھے یاد ہے ایک دفعہ وہ ایک ایسے ہی شخص کی تیمارداری کے لیے گئے آج کے دور میں ایسے شخص کی کوئ شکل بھی نہیں دیکھتا ۔۔واپس آئے تو میں نے ان سے بات نہیں کی کیونکہ مجھے اس شخص سے نفرت تھی۔ زرا سستانے کے بعد بولے، “دیکھو ام زرنب ! مانا کہ میں آپ سے محبت کرتا ہوں لیکن اگر اس معاملے میں آپ کی بات مان کر میں وہاں نہ جاتا تو یہ قطع رحمی ہو جاتی جس کا مطلب تھا کہ اللہ اور رسول سے زیادہ میں نے آپ کی بات کا مان رکھا ” ما شاءاللہ میں ان کی تعریف اس لیے نہیں کر رہی کہ وہ میرے شوہر ہیں بلکہ ان کی عادتیں ہی ایسی ہے جو کہ یہاں بیان کرنا ممکن نہیں۔ اور یہاں ان کی تعریف بھی مقصود نہیں ہے بلکہ شاید وہ زرنب کے دادا کے خواب کی تعبیر ہے۔ میں نے یہ اتنی لمبی تحریر صرف اس لیے لکھی کہ میں نے اکثر لوگوں کو دیکھا ہے جو بچوں کو یا بڑوں کی کسی بری عادت کو دیکھ کر کہتے ہیں کہ ان کے ماں باپ بھی ایسے ہی ہونگے۔ اس لیے ان کی تربیت اچھی نہیں ہوئ۔ خدارا زرا سوچیے۔ ایسا بلکل بھی نہیں ہے اگرچہ تربیت کا بہت بڑا کردار ہے مگر یہ ضروری نہیں ہے کہ ایسا ہو۔ کسی کو اچھے اخلاق دینا اللہ کی طرف سے نعمت ہے اور برے اخلاق بھی ایک امتحان ہوتا ہے۔ میرے پاس ایسی کئ مثالیں موجود ہیں لیکن میں نے یہاں اپنی سب سے نزدیک والی مثال ضروری سمجھی۔ میرے بچے بلکل بھی زرنب کے ابا پر نہیں گئے۔ اسی طرح محمد متلہ کے بہن بھائ میں بھی کوئ ان جیسا نہیں حالانکہ سب کی تربیت ایک ہی باپ نے کی ہے بلکہ ہم بہن بھائیوں کو بھی اسی چچا نے بڑا کیا ہے مگر ہم میں سے بھی کوئ محمد متلہ جیسا نہیں ہے جسے ہر چھوٹے بڑے کام میں جتنا ہو سکے سنت کا خیال ہو۔ چاہے وہ کوئ دینی کام ہو یا دنیاوی۔ تحریر لمبی ہو جائے گی اس لیے میں اسے ایک درخواست پر ختم کرنا چاہتی ہوں کہ خدارا! کسی بھی شخص کو اس کے والدین کے عمل اور تربیت کا طعنہ مت دیں۔ اول اس لیے کہ آپ کا خدشہ یا الزام غلط بھی ہو سکتا ہے، دوسرا اس لیے کہ کہیں اللہ آپ کو خود نافرمان اولاد سے نہ آزما لے کیونکہ اولاد بھی تو ایک فتنہ ایک آزمائش ہوتی ہے، اور تیسرا یہ کہ ہر وہ شخص جو ابھی زندہ ہے اس کے مستقبل کی آپ کو کوئ خبر نہیں کہ اس کی کایا کب پلٹے اور وہ گناہگار اور فاسق انسان سے ولی بن جائے کیونکہ ہمارے سامنے ایسی بے تحاشا مثالیں موجود ہیں اور ہو سکتا ہے کہ اس طعنے پر آپ سے نادانستہ غرور ہو جائے اور مستقبل میں آپ ہی اپنا ایمان و اخلاق گنوا بیٹھیں۔۔
والسلام ۔۔۔ آپکی آنے رملیہ
9:59 pm 17 Dec 2021

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out /  Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out /  Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out /  Change )

Connecting to %s