مجھے زندہ رہنا ہے۔

ہلکا جامنی سوٹ ، اس کے ساتھ سرمئ رنگ کا سلک سکارف پہنے، ٹانگیں میز کے ساتھ لگائے، وہ قرآن کی تفسیر کا سبق دہرا رہی تھی جو اسنے صبح گاؤں کی بچیوں کو پڑھانا تھا۔ پچھلے چند سالوں، یعنی 2015 سے آج تک  عصر کے وقت قرآن پڑھنا، پھر وہیں لان میں بیٹھے بیٹھے کسی ایک آیت پر تدبر کرتے ہوئے سورج کو ڈھلتا ہوا دیکھنا، اریشے کا معمول بن گیا تھا ۔ یہ دسمبر کا پہلا ہفتہ تھا،  لان میں لگی بیلوں کے پتے خشک اور زرد ہو گئے تھے۔ان کے پہاڑی علاقے میں سردی اتر چکی تھی۔ وہ یہاں شوہر کی وفات  اور عباد کی شہادت کے بعد پشاور چھوڑ کے آئ تھی ۔ قرآن پڑھتے پڑھتے وہ اس آیت پر پہنچی کہ شہید زندہ ہوتے ہیں اور انھیں اللہ کی طرف سے رزق دیا جاتا ہے۔ پڑھتے ہوئے اس کی آنکھیں نم ہونے لگیں ۔ یہ آیت اسکو یوں لگتی تھی جیسے کسی نے اسکے بخار زدہ جسم پر ٹھنڈی پٹی رکھ دی ہو۔  “بیشک! میرا لاڈلا، طیب عباد بھی اللہ کے ہاں زندہ ہی ہے. وہ بھی تو شہید ہوا تھا۔بلکہ شکر ہے وہ امر ہوگیا ہے میرے عباد کو تو موت سے ڈر لگتا تھا وہ ہمیشہ کے لیے زندہ  رہنا چاہتا تھا”  اریشے نے دور سفیدوں کے جھنڈ کے پیچھے غروب ہوتے سورج کو دیکھتے ہوئے زیر لب  خود سےکہا تھا۔  ہر سال دسمبر کے خاموش خنکی بھرے موسم  میں شہید بیٹے کی یاد اذیت میں بدلنے لگتی تھی اور یوں 16 دسمبر تک وہ ایک عجیب سی اینگزائٹی کا شکار ہوتی۔مگر یہی قرآن اس کے لیے مرہم کا کام کرتا کیونکہ قرآن میں اللہ نے دلوں کی شفاء رکھی ہے۔ آج اسنے وہی آیت پڑھی تھی بلکہ اللہ نے اسے پڑھائ تھی جس کی یاد دہانی ضروری تھی جس نے اسکا غم ہلکا کیا تھا۔ جس نے اسے عباد کی قبر پر گھنٹوں رونے سے منع کر دیا تھا۔اس آیت کے زریعے اسے صبر دے دیا گیا تھا۔ ورنہ وہ پہلے کی طرح عباد کی قبر پہ جا کر کمبل ڈالتی اور حواس باختہ یہ کہتی کہ “میرے عباد کو سردی لگ رہی ہوگی، اسے کیوں مٹی کے ڈھیروں تلے اکیلے سلایا گیا ہے میرا عباد تو میرے بغیر کہیں نہیں جاتا تھا پھر وہ  قبرستان کے اس ویرانے میں اکیلے کیسے آگیا ہے ۔” اس حادثے کو آج سات برس ہو چکے تھے مگر جیسے ہی دسمبر دہلیز پہ قدم رکھتا، تو وہی پرانا 2014 کا دسمبر اس کی آنکھوں کے سامنے ایک دفعہ ضرور آتا کیونکہ ملکی عدالت میں اس حادثے کا کیس ابھی تک چل رہا تھا۔اور اس سال کی یادیں اس کے تحت الشعور میں ہمیشہ کے لیے محفوظ تھیں۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
اریشے وزیرستان کے علاقے، سام سے تعلق رکھتی تھی۔اور اسکا نام اسکے بابا نے ایران سے واپسی پر اریشے رکھا تھا یہ فارسی نام تھا۔ گاؤں کی روایات کے مطابق اس کی شادی 18 برس کی عمر ہی میں ہوگئ تھی ۔ جس کزن سے اس کی شادی ہوئ وہ ایڈوکیٹ تھے اور اسے تعلیم سے خاصا لگاؤ تھا۔ اس لیے وہ اریشے کو بھی پشاور لے آیا تھا ویسے وزیرستان میں لڑکیوں کو پڑھانے کا رواج نہیں تھا مگر وہ اس معاملے میں خوشقسمت تھی۔ وہ پہلے بھی پشاور میں ہاسٹل رہ کے پڑھتی رہی تھی۔ اس کے شوہر منیر نے عباد کی پیدائش کے چند سال بعد اریشے کا بی ایس سی میں داخلہ کرایا اور پھر ایم ایس بھی اس نے شادی کے بعد ہی کی۔ اس کے شوہر، ایڈوکیٹ منیر خان اکثر اسے کہا کرتے تھے، “اریشے تم پڑھ لینا، جاب بیشک نہ کرنا مگر کبھی میں تم سے پہلے  دنیا سےچلا گیا تو کم از کم تم کچھ کمانے کے قابل ہو گی۔” اگرچہ تب کسی کے وہم و گمان میں بھی نہ تھا کہ ایسا واقعی ہوگا مگر جب 2013 میں منیر خان کی اچانک دل کا دورہ پڑنے سے موت ہوئ تو  اب اریشے کو یہ بات اکثر یاد آتی تھی۔ویسے اریشے نے منیر خان کی زندگی میں ہی سکول میں پڑھانا شروع کیا تھا کیونکہ اللہ نے اسے صرف ایک بیٹا دیا تھا اس کے علاوہ اریشے کی کوئ اولاد نہ تھی۔ سسر، ساس وزیرستان ہی میں کھیتوں کے کام میں مصروف رہتے  اس لیے اریشے نے وقت بتانے کے لیے ٹیچنگ شروع کی تھی۔ اس نے بیٹے کا نام بہت سوچ کے طیب عباد رکھا تھا، کہ اسے ناموں کے شخصیت پر اثر ہونے کا یقین تھا۔ ہر ماں کی طرح اس کا بھی خواب تھا کہ اس کا لاڈلا بیٹا ایک بہترین انسان بنے ۔ عباد کو ایک دو سکول بدلوانے کے بعد اب اسے آرمی پبلک سکول میں ڈال دیا تھا۔ جس کی وجہ عباد کے کچھ رجحانات تھے۔ اکلوتا ہونے کی وجہ سے اس کا زیادہ وقت ماں باپ کے ساتھ ہی گزرتا تھا اس لیے عباد بھی منیر خان کی طرح تعلیم میں دلچسپی رکھتا تھا۔ وہ کافی خاموش طبع واقع ہوا تھا، اور اس کے ساتھ ساتھ وہ بہت حساس بھی تھا۔ اکثر چھوٹی سی بات پر گھنٹوں سوچتا رہتا پھر اریشے سے اس بات کی وضاحت کے لیے بات کرتا یا ابا جان جب گھر آتے تو اس سے سوالات کرنے لگتا ۔  انھی دنوں، یعنی آٹھویں کلاس کے دنوں کی بات ہے کہ ایک دن اس نے جمعے کے خطبے میں مولوی صاحب سے موت کے برحق ہونے اور عذاب قبر کے بارے میں سنا تو وہ بہت خوفزدہ ہو گیا تھا۔ گھر آکر اریشے سے پوچھنے لگا، “مما! آج مولوی صاحب نے عذاب قبر کے بارے میں بتایا ہے۔ مجھے تو موت سے ڈر لگنے لگا ہے۔۔مما کیا  کوئ ایسا طریقہ نہیں ہے کہ بندہ ہمیشہ کے لیے زندہ رہ جائے۔ اوہ ہاں! مجھے وہ سٹوری یاد ہے جو آپ نے سکندر اعظم اور خضر علیہ السلام کے بارے میں سنائ تھی جب خضر علیہ السلام سکندر اعظم کو آب حیات سے واپس تشنہ لے کر آئے تھے ورنہ اسے پی کر وہ ہمیشہ زندہ رہتا۔ تو مما! کیا میں بڑا ہو کر آب حیات نہیں ڈھونڈ سکتا؟” عباد پریشانی میں اپنی مما سے پوچھے جا رہا تھا اور اریشے اس کی باتیں سن کر مسکرا رہی تھی۔ اسے دل  ہی دل میں خوشی ہو رہی تھی کہ عباد بڑا ہوتا جا رہا تھا اور اس کے سنائے ہوئے واقعات اسے کتنی اچھی طرح یاد تھے۔
عباد کے گالوں کو پیار سے چھومتے ہوئے اریشے بولی، ” بیٹا ہم سب کو مرنا ہے اور پھر مر کر زندہ ہونا ہے۔۔ہم آب_ حیات نہیں ڈھونڈ سکتے، قدرت کا قانون ہی یہی ہے کہ ہم ایک دفعہ موت کا ذائقہ چکھ لیں اور پھر دوبارہ زندہ کیے جائیں اور دنیا میں کئے ہوئے اعمال کا حساب دیں کہ یہ زندگی امانت اور امتحان ہے۔ ورنہ سارے لوگ آب_حیات ڈھونڈنے لگ جائیں۔اسی لیے تو ہمیں پیارے نبی صلی اللہ علیہ و سلم نے اچھے عمل کرنے کا حکم دیا ہے ۔”  لیکن مما پھر تو زندگی بڑی مشکل ہے کہ ہمیں کیا پتہ ہمیں معاف کیا جائے گا یا نہیں۔۔ اماں میں تو اب نہیں مرنا چاہتا، میں بڑا ہو کر ریسرچ کروں گا کہ موت کو کیسے ٹالا جا سکتا ہے۔ آپ دیکھنامیں نہیں مروں گا میں نے زندہ رہنا ہے ہمیشہ کے لیے۔ مجھے مٹی کے نیچھے دبنے سے خوف آتا ہے ۔اور وہ جو انکل طاہر کی ڈیتھ ہوئ تھی نا؟ وہ بھی واپس نہیں آئے، بابا بھی تو واپس نہیں آئے نا  مما کتنے اکیلے ہوتے ہونگے نا؟؟؟ وہ ابھی بھی خوفزدہ تھا اور اپنی بات پر قائم تھا۔ اچھا بیٹا! ابھی آپ اپنا ہوم ورک مکمل کرو پھر ہم مل کر آب حیات ڈھونڈیں گے ڈھیر ساری ریسرچ کریں گے تاکہ تم ہمیشہ زندہ رہ جاؤ۔اس نے بیٹے کے کاندھے پہ تپکی دے کر اسے کام میں لگا دیا اور خود کچھن چلی گئ۔
بیٹے کا خوف اور پریشانی دیکھ کر اریشے کچن میں بھی اس کی بات پر سوچتی رہی  تھی کیونکہ وہ اپنے بیٹے کو ایسی الجھن  میں نہیں چھوڑ سکتی تھی۔ وہ جانتی تھی بچے کا ذہن سلیٹ کی مانند ہوتا ہے اسے جو سکھایا جائے گا وہ سیکھ جائے گا اور جب تک اسے تسلی بخش جواب نہیں ملے گا وہ یوں ہی الجھا رہے گا اس لیے وہ عباد سے بڑے خیال سے گفتگو کیا کرتی تھی اور اسکی حساس طبیعت کی  وجہ سے وہ اسے باقی ماؤں کی طرح جھوٹی کتابی کہانیاں سنانے سے  بھی گریز کرتی تھی۔ اس کے علاوہ ایک سال پہلے منیر خان کی موت نے بھی عباد پر نہایت اثر کیا تھا تبھی اسے قبر کی بات سن کر بابا یاد آئے تھے۔ سو  وہ عباد کے سامنے کمزور نہیں بن سکتی تھی، وہ اب اس کا باپ بھی تھی اور ماں بھی۔ یہی مظبوطی تو اسنے اپنے شوہر سے ورثے میں پائ تھی۔ اور تفسیر نے اسے مزید بہادر اور نڈر بنا دیا تھا۔عباد کی اس پریشانی کو سوچتے ہوئے اچانک اس کے ذہن میں قرآن کی آیت جو اسنے بڑے تفصیل سے تفسیر کلاس میں پڑھی تھی آگئ کہ “شہیدوں کو مردہ مت کہو کہ وہ مردہ نہیں زندہ ہے” اور اسے لگا اب وہ عباد کے سوال کا جواب دے سکتی تھی۔ اور یوں وقت ملنے پر اسنے عباد کو شہادت کا کانسیپٹ سمجھایا تھا کہ کس طرح شہید ہمیشہ زندہ رہتے ہیں وہ مرتے نہیں ہیں بلکہ اس دنیا سے دوسری دنیا منتقل ہو جاتے ہیں اور انھیں اللہ کے پاس سے رزق بھی دیا جاتا ہے۔اریشے جانتی تھی عباد کو واقعات جلدی  یاد ہوتے ہیں تو انھوں نے اسے حضرت حنساء کی چار بیٹوں سمیت جنگ میں شرکت و شہادت اور حضرت رافع اور حضرت ابن جندب رض عنہما کا جہاد سے محبت و شوق کا واقعہ بھی سنایا تھا،کہ وہ چھوٹی عمر میں ہی حضور ص سے جہاد کی اجازت مانگنے آئے تھے۔  بس اس دن سے عباد نے اپنے من میں یہ بات بٹھا لی تھی کہ اسے شہید ہونا ہے اور اسنے ہمیشہ کے لیے امر ہو جانا ہے۔ تب کے بعد اس  کے دل میں آرمی جانے کا بھی شوق پیدا ہوا تھا کیونکہ اس کے معصوم ذہن میں شہید ہونے کے لیے یہی ایک راستہ ہی تھا۔ وہ اکثر مما سے اپنی چھوٹی چھوٹی باتیں شیئر کرتا تو کہتا، میں اپنے ملک کا جھنڈا سر نگوں ہونے نہیں دونگا،  کتنا اچھا لگے گا نا جب آپکو شہید کی مما پکارا جائے گا؟۔اسنے اپنی ڈائری کے سر ورق پر بھی لکھا تھا کہ I will live forever mom۔۔اور عباد کے منہ سے یہ سنتے ہی اریشے اپنے آنسو دل کے اندر ہی اتار دیتی تھی۔ وہ جانتی تھی کہ عباد کے اندر یہ شوق اسی نے پروان چڑھایا تھا مگر اکلوتے بیٹے کو خود سے دور کرنا اسے مرتا دیکھنے کا دکھ بھی ایک ماں سے بڑھ کر کوئ نہیں جانتا کیونکہ اولاد کو بڑا کرنا، انھیں پالنا صرف ایک ماں جانتی ہے اور اب تو عباد ہی اس کا کل اثاثہ تھا پس وہ فی الحال ایسا نہیں سوچ سکتی تھی۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
سبز رنگ کی وجہ سے عباد کواپنا سردیوں کا یونیفارم بیحد عزیز تھا کیونکہ وہ پاکستانی جھنڈے سے مشابہ تھا اور پرچم کی حرمت ماں نے بہت اچھی سمجھائ تھی چنانچہ  اسے سردیاں شروع ہونے کا انتظار ہوتا تھا کہ کب سردیاں آئیں اور وہ سبز سویٹر اور کوٹ پہنے۔ 15 دسمبر کو یعنی، 16 دسمبر کی رات کو وہ اپنا یونیفارم پہنے کمرے میں ہی پریڈ کی ریہرسل کر رہا تھا، پھر فائرنگ کرنے کی نقالی کرتا ، بیڈ سے الماری تک بھاگ کے جاتا، فرسٹ ایڈ کٹ نکالتا، اور تکیوں کو زخمی ساتھی سمجھ کر ان کی مرہم پٹی کرتا۔ کمرے کو اس نے میدان جنگ بنا رکھا تھا کہ اریشے اندر داخل ہوئ تو عباد نے مڑ کر ، ماتھے پہ ہاتھ رکھ کر اپنی ماں کو باوردی فوجی کی طرح سلیوٹ مارا۔ اور اریشے جو اسے ڈانٹنے آئ تھی اسکی اس حرکت پہ ہنس پڑی ۔ “یہ کیا اودھم مچایا ہے عباد! کبھی فائرنگ کی آوازیں نکالتے ہو کبھی نعرۂ تکبیر، اور یہ کمرے کا کیا حشر کیا ہے؟؟” اریشے نے خفگی کا اظہار کرتے ہوئے پوچھا۔ “اوہ مما! میں صرف پریکٹس کر رہا تھا، کل بریگیڈیر سعید خان، میجر  ڈاکٹر سہیل، کیپٹن اسفند، اور باقی کچھ آرمی والے ہمارے سکول آئیں گے اور ہمیں فرسٹ ایڈ سکھائیں گے۔تو ان کے سامنے ہم نے ٹیبلیو کرنا ہے۔ آپ کو بتایا تھا نا میں ٹیبلیو میں میجر بنوں گا، زخمی ساتھیوں کی مدد کرونگا ، نعرۂ تکبیر کہہ کر فائرنگ  بھی کریں گے ہم دشمن پر اور مما میں ٹیبلیو میں شہید ہو جاؤنگا، پھر میری لاش سبز پرچم میں لپٹی جائے گی اور مجھے پروٹوکول کے ساتھ دفنایا جائے گا،  مما میں نے جھوٹ موٹ مرنے کی بھی پریکٹس کی ہے۔ اور وہ ہماری کلاس کی خولہ عاقب ہے نا؟ وہ میری مما بنیں گی ٹیبلیو میں اور، وہ جو شہیر ہے وہ چیف آف آرمی سٹاف بنیں گے اور پھر جب میں شہید ہو جاؤنگا نا مما تو میرا یونیفارم وغیرہ خولہ کو دیا جائے گا۔ ویسے مما! جو لوگ سچ میں شہید ہو جائیں وہ تو مرتے نہیں ہیں نا آپ نے بتایا تھا؟” عباد اتنا ایکسائٹڈ تھا کہ ایک ہی سانس میں سارا ٹیبلیو مما کے سامنے دہرا دیا حالانکہ وہ پہلے کئ بار بتا چکا تھا اور ساتھ وہی ہمیشہ والا سوال بھی دہرایا۔ وہ اب نویں کلاس میں ہو چکا تھا۔ دوستوں کی وجہ سے کافی سوشل بھی ہو گیا تھا ہر فنکشن میں حصہ لیتا تھا اور پھر آرمی کا ٹیبلیو کرنا تو اسکا جنون تھا کیونکہ اس کے تحت الشعور میں یہ بات نقش تھی کہ اسے شہید ہو کر ہمیشہ کے لیے امر ہونا ہے۔ اور یہ ٹیبلیو کا منظر تصور کر کے اریشے کی ممتا تڑپ اٹھی تھی آخر کو وہ ماں تھی اکلوتے اور فرمانبردار بیٹے کی ماں۔ اس نے عباد کو گلے سے لگایا اور رندھی ہوئ آواز میں کہا ، ” ہاں میرا بیٹا میجر عباد ضرور بنے گا، لیکن اتنا جلدی نہیں شہید ہونا میرے بیٹے نے۔” ” اونہوں مما! آپ تو ایموشنل ہو گئ ہیں ، ابھی کہاں، ابھی تو میں نے کیپٹن بننا ہے ، پھر ترقی کرتے کرتے میجر بنوں گا، آپ کو پاسنگ آوٹ والے دن سلیوٹ کرونگا ابھی تو بہت کچھ کرنا ہے مما۔” عباد شرارتا بولا تھا۔ اچھا چلو اب وقت پر سو جانا صبح جلدی جانا ہے تمھیں۔ یہ کہہ کر اریشے اپنے کمرے میں آگئ تھی اور اپنے وظائف و اوراد پڑھتے پڑھتے جانے کب اس کی آنکھ لگ گئ تھی۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
16 دسمبر 2014 کی صبح جب ٹیبلیو میں کچھ وقت باقی تھا، سٹیج بلکل تیار تھا، تمام بچے اور اساتذہ مہمانوں کا انتظار کرتے ہوئے بڑے پرجوش تھے۔ عباد بھی انھی میں سے ایک تھا ۔ کہ اچانک ہال میں آرمی کے یونیفارم میں ایک گروہ داخل ہوا، بچے اور سٹاف نے سمجھا کہ مہمان آگئے ہیں سو انھوں نے تالیاں بجانا شروع کیں مگر یہ کیا ان کے آتے ہی فائرنگ شروع ہوئ لاشوں پر لاشیں گرتی گئیں ،کوئی منہ کے بل گرا، کوئی کرسی سے ٹکرا کے چھکرا گیا، کوئ گولی لگتے ہی سینے پر ہاتھ رکھے دم توڑ گیا، کچھ بچے خوف سے گرے، چیخیں شروع ہوئیں۔ سکول میں جیسے جیسے شور تیز ہوتا گیا بدحواسی پھیلتی گئ، پرنسپل یا شاید کسی ٹیچر نے پولیس ہیلپ لائن پر معلومات دی، کچھ بچوں نے گھر اطلاع کی مگر ٹوٹے پھوٹے لفظوں میں۔ درندے نما دہشتگرد کلاسوں میں گھسنے لگے جو نظر آیا گولی ماری، کچھ بچے  جو خوف سے گر کر اپنی سانسیں بند کیے ہوئے تھے انھیں مردہ سمجھ کر دہشت گرد آگے دوسری کلاس کی طرف چلے جاتے۔ بچوں کے عینک، جوتے، کاپیاں اور کتابیں زمین پر بکھری ہوئ خون میں لت پت ہو رہی تھی، کچھ بچوں نے بھاگنے کی کوشش کی تو انھیں بھی گولی مار دی گئ۔ سٹاف روم کے اساتذہ کا لنچ یوں ہی رہ گیا تھا کوئ شہید ہو چکی تھی تو کوئ زخمی تڑپ رہی تھی۔ پرنسپل کو مزاحمت کرنے پر آگ لگا دی گئ تھی۔ کچھ نے صرف اتنا کیا تھا کہ اپنے چھوٹے بہن بھائ کو دیوار کی دوسری طرف پھینک دیا تھا ان کے چھوٹے ذہن میں یہی تجویز آئ ہوگی۔  پولیس اور آرمی کے پہنچنے سے پہلے وہاں قیامت بپا ہو چکی تھی، سفید شرٹس، سبز جرسیاں پہنے نو عمر بچے سب خون میں ایسے رنگے تھے گویا سفید گلاب کے پھولوں کو سرخ رنگ میں ڈبو کے بکھیر دیا گیا ہو۔ دل دہلانے والا منظر تھا۔ آرمی نے پہنچتے ہی آپریشن شروع کیا تھا مگر تب شہر میں خبر پھیل چکی تھی، ایمبولینس بار بار چھوٹے چھوٹے زخمیوں کو ہسپتال منتقل کر رہے تھے جن میں سے اکثر نے راستے میں دم توڑ دیا تھا۔ ڈاکٹر بھی رو رہے تھے۔شہر کی سڑکوں پر ٹریفک جام ہوگیا تھا راستے بند ہو گئے تھے، پورے شہر میں ایک آہ و فغاں تھی۔ سو سے بھی زائد بچے شہید ہو چکے تھے، ان کے ماں باپ تڑپ رہے تھے، رو رہے تھے، چیخ رہے تھے اپنے بچوں کو شناخت کرنے کی کوشش کر رہے تھے،قیامت کا سا عالم تھا۔ شام تک آپریشن ختم ہو چکا تھا ۔اور اب جنازوں پر جنازے پڑھے جا رہے تھے، چمن اجڑ چکا تھا، پھول وقت سے پہلے کاٹ لیے گئے تھے۔ ہر آنکھ اشک بار تھی۔ ہر دل میں درد کی ٹھیسیں اٹھ رہی تھیں۔ ایسا لگ رہا تھا پورے پشاور سے ایک آہ اوپر کو اٹھ رہی ہے۔ ان گلابوں میں ایک گلاب عباد بھی تھا۔ عباد نے صبح مما سے ملتے ہوئے مذاق میں کہا تھا کہ وہ آج میجر بنے گا اس لیے اس کے لیے کوئ فیورٹ ڈش بنائے۔ اریشے نے اس کی پسند کے کابلی چاؤل بنائے تھے۔ جب 3 بجے تک وہ نہ آیا تو اریشے کو تشویش ہوئ اس نے عباد کے کزن کو کال کی، جو پشاور میڈیکل کامپلیکس میں ڈاکٹر تھے۔ ان کو پتہ تھا عباد شہید ہو چکا ہے وہ خبر ملتے ہی ہسپتال سے سیدھا عباد کے سکول گئے تھے تاکہ لاش مل سکے۔ مگر وہاں اتنا ہجوم تھا کہ اسے ابھی تک لاش نہیں ملی تھی۔ اسنے اریشے کی کال اٹینڈ کرتے ہوئے بس اتنا کہا تھا کہ وہ انکو پک کر چکے ہیں لیکن آج وہ دیر سے آئیں گے انھیں ہاسپٹل میں تھوڑا کام ہے۔ یہ سن کر اریشے تو زرا مطمئن ہو گئ تھی مگر عباد کے کزن آنسو پونچھتے ہوئے ابھی تک عباد کو ڈھونڈ رہے تھے۔ شام 6 بجے کے قریب جب ہال والی لاشوں میں وہ عباد کو ڈھونڈ رہے تھے تو وہ ایک ایک بچے کا کارڈ چیک کر رہے تھے کیونکہ شکلوں سے شناخت ممکن نہ تھی۔جب  اسے عباد کی نعش ملی تو پہلے وہ پہچان ہی نہ سکے  مگر خون کے چھینٹوں سے رنگے کارڈ پر عباد کا نام نظر آرہا تھا اور جب اسنے کارڈ کو پلٹا کے دیکھا تو اسے یقین ہو گیا کہ یہ طیب عباد ہی ہے کیونکہ اس پر عباد نے پین سے میجر عباد اور اپنا فیورٹ جملہ لکھا تھا جو وہ ہر جگہ لکھا کرتا تھا، کہ “I will live for ever”.
اسے ایک گولی دل اور دوسری چہرے پہ لگی تھی۔ اس کے کزن (ڈاکٹر برہان) میں اریشے کو بتانے کی ہمت نہیں تھی کیونکہ خود اس کے لیے عباد اس کے چھوٹے بھائ کی طرح تھا۔ وہ میڈیکل کامپلیکس میں جاب شروع کرنے کے بعد سے اریشے ہی کے پاس رہتے تھے جبکہ اس کا اپنا خاندان ڈی آئ خان میں رہتا تھا۔ اس کے ہاتھ کانپ رہے تھے، سمجھ نہیں آرہی تھی چچی کو اس کے لاڈلے کی موت کی خبر کیسے دے۔ ادھر اریشے کو حادثے کی خبر ٹی وی پر ہیڈ لائنز سن کر   مل چکی تھی وہ مرغ بسمل کی طرح تڑپ رہی تھی ، اسے معلوم نہیں تھا اسکا لاڈلا زندہ ہے یا مر چکا ہے وہ بار بار فون کر رہی تھی برہان کو اور جب برہان نے مشکل سے فون ریسیو کیا تو وہ صرف اتنا ہی کہہ پائے، ” اریشے آپی! حوصلہ رکھیے اللہ نے آپ سے اپنی امانت واپس لے لی ہے۔ عباد شہید ہو چکے ہیں۔”  یہ سن کر اریشے نے آہستہ سے دیوار کو تھاما اور وہیں سر تھام کے بیٹھ گئیں اسکے کانوں نے جب یہ خبر سنی تو دل پر کیا بیتی یہ اس ماں سے بہتر کوئ نہیں جانتا۔ برہان نے اپنے بھائ کو کال کر کے باقی خاندان والوں کو بھی اطلاع کر دی تھی انھوں نے اسی وقت تایا کے مشورے کے مطابق وزیرستان کے لیے نکلنا تھا، ایمبولینس اڈے کے پاس روک کر برہان نے اریشے کو  گھر سے پک کیا تھا، جو بلکل ساکن تھی، صدمہ اتنا گہرا تھا کہ، اسکے الفاظ غائب ہو چکے تھےاور آنکھوں سے آنسو ایک تواتر میں بہہ رہے تھے۔ انا للہ کا ورد کرتے ہوئے بار بار کہہ رہی تھی، ” عباد امر ہو گیا ہے ۔ عباد نے تو مرنا نہیں تھا۔” ایمبولینس میں چڑھتے ہی اس  نے عباد کے چہرے سے چادر ہٹائ تو ایک بے ساختہ سی چیخ اریشے کے منہ سے نکلی اور پھر بلکل خاموش، ایسے جیسے وہ ہواس کھو بیٹھی ہو، سیٹ پر منجمد بیٹھ گئ۔برہان بار بار اسے تسلیاں دے رہے تھے مگر اسے تو سنائ ہی نہیں دے رہا تھا کچھ۔ “عباد! میرے بیٹے آپنے اپنا شوق اتنا جلدی پورا کر لیا؟ تم نے زندہ رہنا تھا نا تم زندہ ہو۔” وہ سارا راستہ دعا کے ساتھ یہ الفاظ حواس باختہ دہراتی رہی۔ وہ راستہ، وہ سفر اسنے کیسے کاٹا ہوگا یہ وہی جا نتی ہے۔  ادھر شہر پشاور کئ دنوں تک غم میں ڈوبا تھا، لوگوں نے اخبار پڑھنا چھوڑ دیا تھا، اریشے 2015 سے ہی پشاور ہمیشہ کے لیے چھوڑ گئ تھی، اسے قرآن نے صبر سکھایا تھا مگر جب عباد کو دفنایا گیا تو وہ کئ دن تک کمبل ساتھ لیجا کر کہا کرتی تھی میرے بیٹے کو درندوں نے اس سردی میں کیسے شہید کیا؟ کوئ کمبل اوڑھا دے میرے بیٹے کو ۔ اسے مرنا نہیں تھا وہ ادھر اکیلے کیسے آگیا ہے۔ یہ اس لیے نہیں کہ وہ قرآن پر عمل نہیں کرتی تھی مگر یہ حادثہ اتنا اچانک اور اتنا شدید تھا کہ وہ سوچوں میں گم ایسی باتیں کرنا شروع ہو جاتی تھی۔۔ پشاور جو پھولوں کا شہر مشہور تھا اب اریشے جیسی سب ماؤں کو پھولوں کا مقتل نظر آتا تھا، عباد جیسے کئ بچے ہمیشہ کے لیے امر ہو گئے تھے ۔ ملک کا پرچم تین دن تک سر نگوں تھا اور ان بچوں اور اساتذہ کے لہو کا قطرہ قطرہ اس ملک پر نچھاور ہو گیا تھا۔
آج کئ سال گزرنے کے باوجود جب دسمبر آتا ہے تو اریشے کو عباد کی یادیں ستاتی ہیں آخر کو وہ ایک ماں ہے مگر پھر وہ اپنا سکون قرآن اور نماز سے حاصل کرتی ہے وہ جب بھی گاؤں کے بچیوں کو قرآن کی تفسیر پڑھاتی ہے یا جب روٹین کی دہرائ میں قرآن کی اس آیت پر پہنچتی ہے کہ شہید زندہ ہوتے ہیں تو وہ زیر لب عباد کو ضرور یاد کر کے کہتی ہے کہ بیشک اللہ کا وعدہ سچا ہے عباد شہید ہے وہ زندہ ہے اور یہ آیت اریشے کو  جینے کی قوت عطا کرتی ہے۔ اس کے ذہن میں آج بھی جب عباد کی آب حیات کی ریسرچ والی بات آتی ہے تو وہ مسکرا کر تصور ہی تصور میں عباد کو گلے لگا کر کہتی ہے، “عباد آپ نے شہادت کا جام پی کر آب حیات پی لیا ہے ۔تمہاری خواہش پوری ہوگئ ہے تم ہمیشہ کے لیے امر ہو چکے ہو۔انشاء اللہ جلد ملاقات ہوگی۔ پچھلے ہفتے یعنی 2 دسمبر 2021 کو جب وہ سرمئ سلک سکارف پہنے سبق دہرا رہی تھی تو اتفاقا وہ وہی سورۃ اور وہی آیت پڑھ رہی تھی جو اسے ان دنوں پڑھنی چاہیے تھی اور غروب ہوتے سورج کو دیکھتے ہوئے اسنے وہی الفاظ دہرائے تھے۔مگر اب وہ پرسکون تھی، اسے اللہ نے صبر دے دیا تھا اور اسے اللہ کے ہر وعدے پر یقین تھا۔ چلے جانے والوں سے ملنے کا یقین۔ عباد کو حضرت حسین رض کی ٹولی کے ساتھ اٹھائے جانے کا یقین۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔
آنے رملیہ
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
12:27 am
4 Dec 2021

3 thoughts on “مجھے زندہ رہنا ہے۔

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out /  Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out /  Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out /  Change )

Connecting to %s