کیا ہم آزاد ہیں؟؟؟

نیچھے تقسیم ہند کے دنوں کی تصویر ہے اور اوپر پاکستانی قوم 14 اگست مناتے ہوئے۔۔

آج چودہ اگست 2021 کو پاکستان کی 74 ویں سالگرہ کرونا وباء کے باوجود بہت جوش و خروش سے منائ گئ۔  یہ دن ہر سال بہت خوشی اور ولولے کے ساتھ، گھروں پر سبز جھنڈے لہرا کر، سڑکوں،  گلی کوچوں کو جھنڈیوں سے سجا کر، کچھ محب وطن سبز و سفید لباس پہن کر، اور ٹی وی ، ریڈیو وغیرہ پر ملی نغمے نشر کر کے منایا جاتا ہے۔ جشن آزادی کے نام پر بڑی بڑی تقریبات ہوتی ہیں اور اس دن کا آغاز اکیس توپوں کی سلامی کے ساتھ کیا جاتا ہے۔ یہ دن اگرچہ ہمیں اس دن کی یاد دلاتا ہے جب ہزاروں بلکہ لاکھوں کی تعداد میں لٹے پٹے مہا جرین کے قافلے پاکستان ، ایک آزاد ریاست کی سرزمین پر پہنچے۔ وہ لوگ اپنے گھر، کھیت کھلیان، اپنی بستیاں اور کاروبار سب کچھ چھوڑ کر پاکستان آئے۔ کیونکہ وہ اپنی آنکھوں میں ایک ایسی سرزمین کا خواب لیے ہوئے تھے جہاں انھیں عزت و سکون کے ساتھ اپنے مذہب اسلام پر عمل پیرا ہونے کی اجازت ہوگی۔ جہاں انکی ماؤں ، بہنوں اور بیٹیوں کی عفت و عزت سلامت رہے گی۔ جہاں نسلی ، صوبائ، مذ ہبی تعصب اور رنگت کی بنیاد پر نفرتوں کی بجائے ایک دین، ایک ملت اور ایک وطن میں خوشی خوشی رہنے کی اجازت ہوگی۔ جہاں لوگ، بنگالی، پنجابی، پشتون ، سندھی، بلوچی، کی بجائے مسلمان اور پاکستانی کہلائینگے ۔ وہ لٹے پٹے مہاجر قافلے کہ آج جس کی تصویریں دیکھ کر بھی دل دہل جاتا ہے، اپنے سینوں میں شہیدوں کی قربانیوں کا ثمر پا لینے کی آرزو لے کر آئے تھے۔ معلوم نہیں اس وقت کیا کیفیت ہوگی جب لوگوں نے آل انڈیا ریڈیو  لاہور سے پاکستان بن جانے کا اعلان سنا ہوگا۔ ان کی اس سرزمین تک پینچنے اور اس کی پاک مٹی کو آنکھوں سے لگانے کے لیے بیتابی کا کیا سماں ہوگا۔؟  وہ لوگ تو ہجرت کر کے آگئے۔۔ اقبال کے خواب کی تعبیر مکمل ہوگئ۔ پاکستان ( پاک لوگوں کی زمین) تو بن گیا۔ آزادی مل گئ۔ اور تب سے آج تک اس آذادی کا دن منایا جانے لگا مگر آج میرے ذہن میں بلکہ شاید کئ ایسے لوگوں کے ذہن میں جنھوں نے پاکستان کی تاریخ پڑھی ہے، یہ سوال اٹھتا ہے کہ کیا ہم واقعی آزاد ہیں؟؟؟ کیا یہ ملک اور اس کے باشندے حقیقت میں آزادی کے معنی و مطلب پر پورا اترتے ہیں یا یہ آزادی صرف لفظی یعنی کہنے کی حد تک آزادی ہے؟؟
      آزادی کا لغوی مطلب ہے خودمختاری اور حریت۔ یعنی قول، فعل اور سوچ کی خود مختاری ۔اگر ہم اس معنی کے تناظر میں جائزہ لیں تو مجھے ایسا محسوس ہوتا ہے کہ ہم آزاد نہیں ہیں ۔ کیونکہ ہمارا لباس اور ہمارے رہن سہن کے طریقے اس دین کے مطابق نہیں ہیں جس کے نام پر یہ ملک بنا۔ ہم ذہنی طور پر اب بھی غلام ہیں اور ہم اب بھی وہی روش اپنائے ہوئے ہیں جو انگریز ہمارے لیے چھوڑ کے گئے تھے ۔ ہم اب بھی اسلام پر چلنے والوں کو قدامت پسند اور مغرب کی پیروی کرنے والوں کو روشن خیال اور ترقی یافتہ تصور کرتے ہیں ۔ ہم بھول چکے ہیں کہ ہمارا راستہ اور رہنمائ کے لیے مغربی قومیں نہیں بلکہ قرآن بھیجا گیا تھا۔ خیر یہ سب چھوڑیں آئیں اس بات کا ملاحظہ کریں کہ کیا ہم جسما نی لحاظ سے آزاد ہیں؟ کیا واقعی ہمارا ملک اس خواب کی تعبیر ہے جو لٹے پٹے، خوں میں لت پت مہاجریں اپنی آنکھوں میں بچا کر لائے تھے؟؟؟ مجھے افسوس سے اس کا جواب بھی نفی میں کرنا پڑ رہا ہے۔ اور اگر کسی کو مجھ سے اعتراض ہے تو وہ زرا اخبارات اور رپورٹس اٹھا کر دیکھیں کہ اس ملک میں عورت جیسی صنف نازک کی عزتیں کتنی محفوظ ہیں؟ کہ یہاں تعصب کتنا ہے؟ یہاں کرپشن، جھوٹ، دھوکہ اور رشوت کے بازار کتنے گرم ہیں؟ تو پتہ چلے گا ہم کتنے آزاد ہیں۔ مگر اس سب میں کسی اور کا نہیں ہمارا قصور ہے ۔اور جب بھی میں کسی کو ملک کے حالات پر تنقید کرتے دیکھتی ہوں یا میں خود ایسی کوئ تحریر لکھتی ہوں تو مجھے بے ساختہ یہ شعر یاد آتا ہے، جو بحیثیت قوم ہماری اپنی نااہلی کی وجہ سے ہم پر پورا اترتا ہے ،
ع    دے رہا ہے اپنی آزادی کو مجبوری کا نام
     ظالم اپنے شعلۂ سوزاں کو خود کہتا ہے دود۔

کیونکہ بجائے اپنی آزادی کو اصل روپ دینے کے، بجائے اپنی ملک کو ترقی کی راہ پر گامزن کرنے کے،بجائے اس مٹی کا حق اور شہیدوں کی لہو کا حق اتارنے کے ہم ایک دوسرے کو مورد الزام ٹھہراتے ہیں اور خود کو مجبور ثابت کرتے ہیں جو کہ یقینا غلط قدم ہے۔
آخر میں عرض ہے کہ امید کا دامن نہیں چھوڑنا چاہیے ابھی بھی وقت ہے اور ایک عظیم شخص اور قوم وہی ہے جو اپنی غلطیاں دہرانے کی بجائے اس سے سیکھے اور مستقبل میں اس کی اصلاح کی کوشش کرے ۔ ہم آج بھی اگر مل کر اس قوم و ملک کی خدمت کریں تو ہمارا ملک آج بھی دنیا کے نقشے پر ایک عظیم و ترقی یافتہ ملک کی حیثیت سے ابھر سکتا ہے ۔کیونکہ اس ملک میں صلا حیتوں کی کمی نہیں ہے بس کوشش اور محنت اور اس صلاحیتوں کو پہچاننے اور آگے لانے کی دیر ہے ۔۔

اقبال کا کہنا بجا تھا،
ع      نہیں ہے ناامید اقبال اپنی کشت ویراں سے۔۔
        زرا نم ہو تو یہ مٹی بڑی زرخیز ہے ساقی۔۔۔
        میری دعا ہے کہ یہ ملک تا قیامت سلامت و آباد رہے۔ کہ اے وطن ہم تو مٹ جائینگے لیکن تم کو۔۔۔
        زندہ رہنا ہے قیامت کی سحر ہونے تک۔۔۔
        پاکستان زندہ باد۔۔۔
بقلم آمنہ شکیل۔۔ بروز 14 اگست 2021

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out /  Change )

Google photo

You are commenting using your Google account. Log Out /  Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out /  Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out /  Change )

Connecting to %s