عظیم مصور کا عظیم شاہکار (صنف نازک)

صنف نازک کے ادوار زندگی

یہ عام کہانیوں جیسی کہانی نہیں ہے بلکہ یہ ایک مختلف داستان ہے ۔۔ ایک عظیم مصور کے ایسے شاہکار کی داستان جو ساٹ پینسٹھ سال پر محیط ہے۔ مصور کا کمال دیکھئے کہ با وجود یہ کہ یہ رنگین تصویر اسکی باقی بنائ ہوئ بنی نوع انسانوں کی تصویروں جیسی دکھتی تھی مگر پھر بھی یہ ان سے  حد درجے مختلف تھی اور ہے۔
آئیے ہم بزبان قلم آپکو اس خوبصورت شاہکار کے خدوخال بیان کرتے ہیں۔20جولائ 1956 کی شام ، جب چاند پوری آب و تاب سے چمکا، جب گرمی کے اس موسم میں سمندروں کی لہروں میں چاند کے قوت کشش سے ارتعاش پیدا ہوا۔ اور اس چاندنی رات میں جب چاند کی تابناک کرنوں نے زمین کے گال چھوئے تو مصور،_دو جہاں کو یہ لمحے اپنے فن کے مظاہرے کے لئے بڑے موزوں لگے تھے ۔ پس اس نے اکیسویں صدی کے کینوس پر اس تصویر کی تخلیق شروع کی۔۔
مصور زوالجلال نے پہلے درد کے کالے بادل بنائے مگر یہ بادل امید کا اشارہ بھی دے رہے تھے ۔ ایک بات یہاں یاد رکھنے کی ہے کہ کوئ بھی فنکار ، خاص طور پر شاعر اور مصور ہمیشہ اپنے فن کا مظاہرہ کچھ اس انداز سے کرتے ہیں کہ اسے خود انکی طرح کوئ اور نہیں سمجھ سکتا بلکہ ہر شخص اس سے اپنا ہی مطلب اخذ کرتا ہے۔۔اسی طرح اس مصور کی تخلیق میں یہ بادل بھی پر اسرار تھے۔ بادلوں کے دوسرے پار کچھ عرصہ کے بعد مصور نے ایک مسکراتی ماں اور اس کی گود میں کھیلتی معصوم سی بچی کی تصویر بنائ۔۔
اس نے ماں کی تصویر میں رحم, شفقت، ممتا اور غیر مشروط لازوال محبت کے رنگ بھر دیئے۔۔
اب بچی کی تصویر میں رنگ بھرنے کی باری تھی۔۔ مصور اسے پینٹ کرتے ہوئے جیسے فرط محبت سے مسکرا رہا تھا۔ کیونکہ وہ جانتا تھا کہ یہ تصویر اس کی رحمت کا عکس ہے ۔  سب سے پہلے اس نے ماں باپ کی محبت کی پانیوں میں گھولے ہوئے بچپنے کے  معصوم شرارتوں کی رنگوں سے اس بچی کی فراک میں رنگ بھرے ۔۔پھر اس کے بعد کئ برس تک مصور نے وہ پینٹنگ وہیں وقت کی دھوپ تلے رکھ دی ۔کہ جب وہ رنگ ماند پڑنے لگینگے پھر وہ اس میں مزید رنگ آرائ کرے گا۔
مگر یہ کیا، پینٹنگ دیکھتے ہی معاشرہ نامی گاؤں کے لوگوں نے وہاں سے گزرتے ہوئے ناگواری سے منہ بنایا، کچھ نے کہا کہ ہونہہ! کیا یہی لڑکیوں کی تصویر سوجھی تھی اس مصور کو۔ کیا وہ لڑکا نہیں بنا سکتا تھا جو والدین کے ٹاٹ باٹ اور ان کی طاقت بننے کی ترجمانی کرتا۔ ان احمق لوگوں کی خام خیالی تھی کہ بچی کی نسوانی تصویر کسی عورت کی کمزوری کی ترجمانی کرتی ہے۔ ان کو تو یہ ایک بہت معمولی پینٹنگ لگتی تھی مگر انھیں کیا معلوم تھا کہ مصور۔ دو عالم کے ہاں ایسی پینٹگز کتنی قیمتی ہوا کرتی ہے کہ کوئ بھی مصور اپنے ہی کام میں فرق نہیں کرتا اسے اپنی ہر تخلیق سے محبت ہوتی ہے ۔ اب پانچ، چھ سال بعد مصور نے وہاں اسی کے سامنے اسی بچی کی تصویر کا نیا رخ بنایا ۔ اس تصویر میں وہی بچی بالوں میں شوخی کے پھول سجائے، ہونٹوں پر مسکان کی لالی لگائے، اور مستی، بے نیازی، محبتوں کے موتی جڑے ایک لمبا فراک پہنے  زندگی کے ایک خوبصورت نو عمری کے باغ میں خوابوں کی رنگ برنگی تتلیاں پکڑ رہی تھیں۔
اب کیا تھا اس گاؤں میں واویلا مچ گیا تھا۔ ہر طرف اعتراض ہی اعتراض تھا۔ کسی کو نسوانی پینٹنگ پر، کسی کو شوخ رنگوں پر، کسی کو تتلیوں پر ، کسی کو اس شاہکار کے سبق پر ۔عرض جتنے منہ اتنی باتیں تھیں۔اس گاؤں کے ہر مرد کو اگرچہ اس شوخی جھلکنے والی تصویر پر تو اعتراض تھا مگر ساتھ ہی وہ آنکھوں میں اپنا جنسی میلا پن لیے اسے دیکھتا تھا۔ ہر مرد اس تصویر  میں اپنی خواہش کی انگڑائ محسوس کرتا تھا مگر وہ ساتھ والوں پر کبھی یہ ظاہر نہ ہونے دیتا اور ایسا تقریبا ہر نکتہ چیں کر رہا تھا۔
مگر مصور دو جہاں..! وہ خاموش تھا ۔ وہ جانتا تھا اس شاہکار کی قیمت کیا ہے ۔ کیونکہ سونے کی قیمت تو سنارہی جانتا ہے وہ تو پھر مصور دو جہاں تھا۔
اب وقت کافی گزر چکا تھا اور اس پینٹنگ بورڈ پر مصور نے جو جگہ چھوڑی تھی وہاں اس تصویری کہانی کا نیا موضوع پینٹ ہونا تھا ۔اب کی تصویر میں بچی سن بلوغت سے گزر چکی ہے وہ ایک جاذب نظر جوان لڑکی دیکھائ دے رہی ہے۔ بالوں کی گھنگھریالی لٹیں اس کی ٹھوڑی کو چھو رہیں تھیں۔ اور وہ ایک ہاتھ میں قلم اور کاعذ تھامے دوسرے کو ہوا میں لہرا رہی تھی معلوم ہو رہا تھا وہ کسی سٹیج پر کھڑی تقریر کر رہی تھی، ایسے جیسے وہ معاشرہ نامی گاؤں کے لوگوں کوسبق دے رہی ہو کہ بیٹی بوجھ نہیں ہوتی، بیٹی کسی کی غلام نہیں ہوتی، بیٹی صرف مردوں کے استعمال کی شے نہیں ہے بلکہ اگر اسے پڑھاؤ لکھاؤ تو یہ شاہین سے اونچا اڑ سکتی ہے، یہ ستاروں پر کمند ڈال سکتی ہے، یہ گھر کو جنت بنا سکتی ہے، یہ ذہد و عبادت میں رابعہ بصریہ، حیا میں فاطمہ رض، علم میں عائشہ رض، پاکیزگی میں اماں خدیجہ رض اور بہادری میں زینب رض، خولہ بنت ازور رض اور حضرت صفیہ رض بن سکتی ہے ۔ مگر اس بات کو سمجھنے والے کم اور اعتراض کرنے والے زیادہ تھے اور یہ مصور_ عظیم کی اس پینٹنگ میں اس انداز سے پینٹ کیا گیا تھا کہ اس لڑکی کے سامنے صرف کچھ لوگوں کا مجمع تھا اور جہاں وہ لڑکی اور وہ مجمع تھا اس کے ارد گرد روایات، رسومات، قبائلی غیرت اور اعتراضات کی آہنی سلاخوں اور تاروں کے جال کو پینٹ کیا گیا تھا جس کے دوسری طرف کھوٹی سوچ کے لوگ کھڑے ہاتھوں میں گندی نگاہوں، گالیوں، تہمت، جنسی خواہش، ظلم، آوارگی، ناخواندگی، نالائقی کے پتھر اٹھائے اس لڑکی پر پھینک رہے تھے۔ اب پینٹنگ کا تقریبا ستر فیصد مکمل ہو چکا تھا اور رنگ وقت کی دھوپ میں پڑے پڑے ماند پڑنے لگے تھے۔ اب راہگیروں کے جملے بھی کم ہونے لگے تھے اور اس کی طرف اٹھنے والی نگاہیں بھی کم ہو گئ تھیں۔ مگر اب مصور اس شاہکار کا آخری حصہ پینٹ کرنا چاہتا تھا۔ جوانی ڈھلنے کے بعد کا حصہ۔ مردوں کے لیے بے لذت ہو جانے کا حصہ۔ بڑھتی ہوئ عمر کا حصہ۔ جھریوں سے بھرے چہرے اور گھر بار، بال بچے، سسر ساس اور رشتہ داریاں اور زمہ داریاں نبھاتے نبھاتے کمر جھک جانے کا حصہ۔ خود سب کچھ دوسروں پر وار کر، اپنا سارا سکون، پیار، اور پھر زندگی اپنے بچوں، گھر والوں اور شوہر پر نچھاور کر کے خود ہر رنگ ہر شوخی سے عاری ہونے کا حصہ۔ جی ہاں! اب مصور سبحانہ و تعالی وہ حصہ پینٹ کرنا چاہتا تھا جب ایک معاشرے نامی گاؤں کے لوگوں کی نظر میں ایک تابعدار عورت  وہ ہوتی ہے جسے ساری عمر تابعداری کرنے کے بعد موت کے قریب ہو جانے کے وقت کچھ لوگ شاباش کا تمغہ پہناتے ہیں مگر اب اسے رنگینیوں اور شاباشی کا شوق نہیں رہتا ۔ بس اتنا ہوتا ہے اسکے بالوں کی چاندی دیکھ کر اکثر آوازیں خاموش ہو جاتی ہیں اور ان کی خدمت ہونے لگتی ہے اور کچھ بد نصیبوں کو اتنا بھی نصیب نہیں ہوتا۔ اب تصویر کے اس رخ میں رنگ بھرنے کی باری آ چکی تھی، صرف ہلکے، پھیکے، سرمئ رنگ۔ مصور کا شاہکار مکمل ہو گیا تھا، مگر پتہ ہے کیا؟؟ اب جب لوگ شاہکار دیکھنے آتے تھے تو سب آدھے پینٹنگ کی تعریف کرتے تھے اور آخری حصہ کسی شاذ و نادر کو ہی پسند آتا۔ مگر یہی حقیقت ہے۔ زندگی کی حقیقت۔ شاہکار کو اب مصور نے مٹی میں دفنا دیا تھا بغیر کوئ نشانی کے۔ اب ساٹ، پینسٹھ سال بعد نہ شاہکار تھا، نہ لوگوں کا ہجوم ، نہ انکی چبھتی نظریں اور نہ ہی انکے اعتراض۔ عظیم فنکار اور مصور دو جہاں کے اس خوبصورت شاہکار کی کہانی مکمل ہو چکی تھی مگر اس کو دیکھنے والوں میں سے صرف چند ہی اس پینٹنگ کو سمجھ پائے ہونگے، کہ شاعری اور شاہکار کو خود فنکار سے زیادہ کوئ نہیں سمجھ سکتا۔
میں نے جب اس پینٹنگ کی تصویر دنیا کے عجائب گھر میں دیکھی تو بے ساختہ اقبال کی یہ نظم گنگنانےلگی جو میرے خیال میں قارئین کے لیے اس فن و تصویر کا خاکہ پیش کرتی ہے

وجود زن سے ہے تصویر کائنات میں رنگ

اسی کے ساز سے ہے زندگی کا سوز دروں

شرف میں بڑھ کے ثریا سے مشت خاک اس کی

کہ ہر شرف ہے اسی درج کا در مکنوں

مکالمات فلاطوں نہ لکھ سکی لیکن

اسی کے شعلے سے ٹوٹا شرار افلاطوں

بقلم آنے رملیہ از پائیڈ۔

August2020-August2021

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out /  Change )

Google photo

You are commenting using your Google account. Log Out /  Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out /  Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out /  Change )

Connecting to %s