جیو کہ زندگی خوبصورت ہے۔۔


میں نے زندگی کے کئ روپ دیکھے ۔کبھی بہار کے خوش رنگ پھولوں سے ڈھکی ہوئ۔تو کہیں خزاں کے سوکھے پتوں کی مانند بکھری ہوئ۔کہیں آبشاروں کی طرح ایک ردھم میں بہتی ہوئ۔۔تو کہیں خالی وسیع صحرا جیسی تپتی ہوئ۔کہیں ذوالفقار بن کر علی رضی اللہ کی شجاعت دیکھاتی ہوئ۔تو کہیں تپتی ہوئ ریت پر لیٹ کر بھی احد احد کا نعرہ لگاتی ہوئ۔کبھی اسے کربلا کی زمین پر تلواروں کی جھنکار میں سجدہ ریز ہوتے دیکھا تو کبھی گانے بجانے اور موسیقی کی محفلوں میں شراب پیتے ہوئے۔۔کہیں میں نے اسے دکھوں اور غموں سے چور ہو کر بھی صبر و شکر کا لبادہ اوڑھتے دیکھا ۔تو کہیں ہر آسائش کی موجودگی میں بھی تاریکیوں میں الجھی اور ناشکری کرتے ہوئے۔کہیں بڑے بڑے آزمائشوں میں  بھی خالق کو یاد کرتے ہوئے۔تو کہیں باغ و بہار اور دولت کے باوجود بھی مایوسی کے بھنور میں پھنستے ہوئے۔۔کبھی میں نے بیماری کی حالت میں آخری سانس لینے والے۔۔محاذ جنگ میں اپنوں سے بہت دور شہید ہونے والے۔اپنے وطن سے باہر کچھ کمانے کی خاطر مسافر کیطرح  زندگی گزارنے والوں کی آنکھوں میں زندگی کو امید کی صورت دیکھا تو کہیں سنگ مرمر کی محفلوں میں بھی اسے برباد اور ضائع ہوتے دیکھا۔۔غرض یہ کے میں نے ذندگی کو کئ طرح  اور مختلف طرز سے گزرتے دیکھا۔مگر میرا دل تب دہل گیا جب میں نے سنا اور دیکھا کہ زندگی خود اپنے ہی ہاتھوں خود کو موت کے حوالے کر رہی ہو۔
میں نے تب سوچاکہ گو موت ایک اٹل حقیقت ہے مگر یوں گلے میں پھندا ڈال کر۔۔اونچی عمارت سے چھلانگ لگا کر۔۔یا گولی چلا کر خود کو یوں موت کے کنوئیں میں پھینک دینا اور اپنے پسماندگان کو ازیت کا ترکہ دینا کہاں کی عقلمندی اور کہاں کا انصاف ہے؟
کیا مالک و خالق حقیقی نے اس لئے  اتنے مان سے۔فرشتوں کے سامنے فخر کر کے تجھے پیدا کیا تھا۔  کہ تو یوں بیزاری اور نا قدری سے اپنے گردن سے زندگی کو اتار پھنکے؟؟؟ کیا تمھاری زندگی صرف تمھارا حق تھی۔۔کیا اسے بنانے اور تجھے صحیح سلامت دینے والے کا اس پر کوئ حق نہ تھا۔کیا یہی زندگی جینے کا مقصد تھا۔۔کیا یہی درس دیا تھا تجھے اصلا ف و قرآن نے؟؟۔۔کیا تجھے اشرف المخلوقات کا درجہ اسی لئے عطا ہوا تھا؟۔۔کیا یہ زندگی اتنی ہی بے مول رب ذوالجلال نے بنائ تھی تیرے لیے کہ تو جب چاہے اسے پھینک دے؟؟؟
لیکن پھر خیال آیا کہ ہو سکتا ہے اس میں خود زندگی کا یعنی ابن آدم کا کوئ قصور نہ ہو۔بلکہ اسے دکھوں اور پریشانیوں نے،گھریلوں پیچیدگیوں نے، کسی محبت کے کھو جانے نے یا پھر معاشرے اور آس پاس کے لوگوں نے اسے تکلیف اور صدمہ پہنچا کر اس نہج پر لا کھڑا کر دیا ہو کہ خود زندگی کو اپنے آپ سے موت زیادہ حسین دیکھائ دی ہو۔یا موت اسے اپنے سب مسئلوں کا واحد حل سوجھا ہو۔ابھی میں کئ حیلے سوچ ہی رہی تھی کہ مجھے قرآن میں سے خدا کی آواز سنائ دی جس نے مجھے اپنی طرف نہ صرف متوجہ کیا بلکہ میرے ذہن میں فلم کی طرح چلتی ، میرے نفس کے پیش کردہ سب بے معنی حجتوں کا رد بھی کیا۔
اللہ جی کہہ رہے تھے کہ “چلو مان لیا  ابن آدم یا بنت حوا ! کہ تیرے دکھ بہت بڑے تھے۔تجھے تکلیف پہنچی تھی لیکن کیا میں نے سورہ بقرہ کے آخری حصے میں تجھ سے یہ نہیں فرمایا تھا کہ میں کسی بھی نفس کو اس کی برداشت سے بڑھ کر تکلیف نہیں دیتا۔۔۔مانا تم پر تنگی آئ۔مشکلات آئے لیکن کیا سورہ الانشراح میں تجھے میں نے خوشخبری نہیں   دی تھی کہ ہر تنگی کے ساتھ آسانیاں ہیں”
“چلو! تم دنیا والوں سے نا امید ہو گئے تھے مگر کیا میں نے تمھیں نصیحت نہیں کی تھی کہ دیکھ میرے بندے لا تقنطو من رحمتہ اللہ۔اگر تمھاری کوئ نہیں سن رھا تھا تو تمہیں کتنی بار میں نے سمجھایا کہ دیکھ میرے بندے تیرا رب سننے والا سمیع بھی ھے۔۔۔وہ دیکھنے والا بصیر بھی ہے۔وہ بے مانگے اور  بغیر مستحق ہوئے دینے والا الوھاب بھی ہے۔کیا میں نے نبی مصطفی صل اللہ علیہ وسلم کے زریعے تجھے پیغام نہیں بھیجا تھا کہ میرے بندوں سے کہو کہ میں ان کے بہت قریب ہوں اور میں پکارنے والوں کو جواب دیتا ہوں۔مگر تو بتا ! کتنی دفع تم نے مجھے پکارا جو میں نے تم سے کبھی منہ موڑا ہو؟۔چلوہو سکتا ہے کہ تمہیں لوگوں نے دکھ دیئے ھوں۔ رسوا کیا ہو ۔مگر کیا تم میرے بندے نوح ع سے ,، میری بندی مریم ع سے،میرے پیارے یوسف ع سے اور میرے محبوب نبی محمد مصطفی ص سے ذیادہ دکھی تھے۔کیا ان سے ذیادہ تمھیں زلیل کرنے کی کوشش کی گئی۔۔۔؟؟؟؟ وہ چھو ڑو سب اگر ان سے ذیادہ بھی ہو تو کیا میں نے نہیں تم سے کہا کہ میں صبر کرنے والوں کے ساتھ ہوں۔کیا میں نے تجھے نہیں بتایا تھا کہ میں پکڑ سکنے والا ہوں۔
وہ سب ایک طرف  مگر۔میں نے تو صاف صاف سورہ ملک میں یہ بھی بتلا دیا تھا کہ یہ زندگی ابدی نہیں ہےاور نہ ہی یہ دکھ سکھ  بلکہ سب ایک دن ختم ہونے والا ہے ۔۔۔ہاں مگر تجھے میں نے موت اور زندگی اس لیے دی تاکہ آزمایا جائے کہ کون اچھے عمل کرتا ہیے اور وہ  العزیز و الغفور بھی ہے۔۔
۔میں نے ایک دوسرے کے کام آنے کو کہا تھا عبادت کے لیے تو فرشتے بسیار تھے۔
اب دیکھ میرے بندے اگر تیرے پاس ان سب کا جواب نہیں تو نہ سہی میں پھر بھی تمھارے لوٹنے کا انتظار کر رہا ہوں مگر تو یہ الزام تو نہ لگا کہ تیرا کوئ نہیں۔یوں زندگی کی نا قدری تو نہ کر کہ پھر خود اپنے آپ کو موت کے حوالے کرتے ہوئے  بولے کہ موت دکھوں کی زندگی سے بہتر ہے۔نہیں میرے بندے تو کسی بے سہارے کا سہارا بن کر ۔کسی نا امید کو میرا پیغام دینے والا بن کر ،کسی کے بوجھ کو ہلکا کر دینے والا ، کسی کے آنسو پو نچنے والا بن کر..میں نے تجھے رب چاہی زندگی کے لیے پیدا کیا تھا نہ کہ من چاہی زندگی گزارنے کے لیے ۔۔۔میری طرف اپنا سفر شروع کر کے دیکھو۔زرا میرے کہنے کے مطابق جی کر تو دیکھو تو پتہ چلے کہ زندگی با مقصد ہو تو بڑی خوبصورت ہے۔
جیو کہ ذندگی خو بصورت ہے۔۔۔کیا خوب کہا کسی شاعر نے،

زندگی زندہ دلی کا ہے نام۔ مردہ دل خاک جیا کرتے ہیں
جینےاور مسکرانے کے لئے تو یہ سوچ بھی کافی ہے کہ اللہ تجھ سے محبت کرتا ہے ۔۔اور تو اس کے محبوب نبی کا امتی ہے۔۔
بقلم آمنہ شکیل ۔۔۔۔از پائیڈ اسلام آباد۔

16 june 2020

After someone’s Suicide

Aanay Ramliya 45

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out /  Change )

Google photo

You are commenting using your Google account. Log Out /  Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out /  Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out /  Change )

Connecting to %s