نومبر سے ملاقات۔۔

آج میں پورے سال بعد نومبر سے ملی۔ میری عادت ہے میں ہر سال ایک دفعہ نومبر سے ملتی ہوں اور ہم دونوں ایک دوسرے کو دسمبر سے پہلے ہی گزرے سال کی کار گزاری سنا کر دل کا بوجھ اتار دیتے ہیں۔ اس دفعہ وہ مجھے وقت کے ایک خاموش بینچ پر اکتوبر کے  چند خشک اور سوکھے ہوئے پتے لگے درخت کے نیچے ملا ۔ نومبر بینچ پر سر جھکائے نیچھے گرے ہوئے کچھ زرد ، خشک اور  بوسیدہ پتوں میں اپنے پیر رکھے ہوئے انگو ٹھے سے الٹ پلٹ رہا تھا۔ میں نے قریب جا کہ سلام کیا تو مجھے گرم جوشی سے ملنے کی بجائے بینچ پر وہ میرے لیے تھوڑی سی جگہ بناتا ہوا زرا سا کھسکا۔ وہ کندھوں پر ایک گہرے رنگ کی سردیوں کی چادر لیے ہوئے تھا۔ آج نومبر بھی مجھے میری طرح اداس اور تذ بذ ب کا شکار لگ رہا تھا ۔ یوں لگ رہا تھا اس دفعہ اس کا مجھے اپنے پورے سال کی روداد سنانے کا من نہیں کر رہا ہے۔ میں نے چائے کی پیشکش کی تو نومبر بولا کہ آنے! تمھیں یاد ہے نا میں اور تم کتنے شوق سے ہر سال اس مہینے ایک ناول پڑھتے اور چائے کا لطف اٹھایا کرتے تھے۔ کتنا مزا آتا تھا جب راتیں لمبی ہوا کرتی تھیں اور دن جلدی ڈھل جایا کرتے تھے  جب دھوپ میں سختی کی بجائے ایک پر سکون تمازت ہوتی تھی ۔اور جب ہم خزاں کے موسم کی دلجوئ کرتے تھے۔۔ میں نے کہا جی سب یاد ہے لیکن کیا آج تم گزرے سال کی روداد سنانا نہیں چاہو گے؟؟؟ اس سوال پر نومبر کی آنکھوں میں نمی اترنے لگی۔ لب سوکھنے لگے ۔۔ اس کے ہاتھوں اور پیروں کی انگلیاں ٹھنڈی ہونے لگی تھی۔کہ سردیاں اب دن بہ دن بڑھ رہی تھی۔ 
” کجا ہستی جان پدر؟؟” وہ زیر لب بڑ بڑایا۔ اور پھر گہری لمبی سانس لینے لگا ۔ مجھے معلوم نہیں تھا اس نے یہ جملہ کیوں بولا مگر انداز سے یوں لگ رہا تھا جیسے کسی واقعے کو ذہہن میں دہرا رہا ہو۔ “نومبر ! میرے پاس بہت تھوڑا وقت ہے میں دسمبر کے پہلے دن کو ہی لوٹ جاؤنگی اس لیے آپ مجھ سے بات کر لیں کہ پھر نجانے کب ملاقات ہوگی،  پتہ نہیں ہوگی بھی یا نہیں”۔ میں نے اپنی جیکٹ کی جیبوں میں ہاتھ ڈالتے ہوئے اسے کہنی ماری۔ اب نومبر بولنا شروع ہوگیا ۔وہ دور افق پر دھیرے دھیرے غروب ہوتے، پہاڑوں کی آڑ میں چھپتے ہوئے سورج کی طوف دیکھتے ہوئے بول رہا تھا۔۔ایسے جیسے ڈوبتے سورج کے ساتھ اس کی قوت برداشت، حوصلہ اور آواز بھی ڈوب رہی ہو۔ “آنے! پچھلے سال تمھارے جانے کے بعد سے لیکر آج تک جیسے سانحے اور مصیبتیں تسبیح کے ٹوٹتے دھاگے کے بعد گرتے ہوئے دانوں کی طرح میری جولی میں گر رہے ہوں۔۔ سنو میرا سال کیسا گزرا۔۔ پہلے کشمیر کی لاک ڈاؤن اور وہاں ہونے والی عصمت دری اور ظلم نے رولایا۔ پھر اس کے بعد کئ مہینوں تک عالمگیر کرونا نامی وباء سے جسمانی اور ذہنی تباہی نے ہلا کے رکھ دیا۔۔فلسطین، شام ، عراق، لبنان وغیرہ میں آج تک جاری خون کی ہولی نے میری نیندیں اڑا دیں ۔۔ پھر ابھی میرا غم ہلکا ہی نہ ہوا تھا کہ رسول اقدس صلی اللہ علیہ وسلم کی ناموس پر فرانس نے حملہ کیا اور ہم ںے بس لوگ سر جھکائے کھڑے رہے۔ اور آنسو خشک نہ ہوئے تھے کہ پشاور میں ایک مدرسے پر حملے نے سفید پھولوں کے ادھورے ارمانوں کو مٹی تلے دفناتے ہوئے انھیں اپنے ہی خون میں نہلا دیا۔۔ان کے قرآن اور تفسیر اور حدیث کے دروس ادھورے رہ گئے اور مائیں سینے پیٹتی رہ گئیں۔۔ آنے! میں تو اس ٹرامہ سے گزر ہی رہا تھا کہ کابل کی یونیورسٹی میں ہونے والے دھماکے نے میرے ہوش و حواس معطل کر دئیے ۔ وہ بکھری ہوئی ، بے پردہ ہوتی ہوئ لاشیں دیکھنے کی مجھے سکت ہی نہ تھی ۔ میں کھلی آنکھوں جیسے کسی ڈراونے خواب کا شکار تھا اور پھر ان شہداہ میں سے ایک لڑکی کے موبائیل پر آئے ہوئے میسج نے جیسے میرے پیروں تلے سے زمین کھینچ ڈالی۔۔ وہ شہید ہو چکی تھی اور اڑتالیس دفعہ اس کو کال کرنے کے باوجود نہ اٹھانے پر اس کے والد نے اسے میسج کیا تھا ، ” جان پدر کجا ہستی؟” ہائے ہائے۔۔ نومبر کے رونے کی آواز بلند ہوتی جارہی تھی اور یوں لگ رہا تھا جیسے ہمارے آس پاس ہر جگہ سے وہ آواز پلٹ کے آرہی ہو۔۔نومبر کے ساتھ ساتھ جیسے ہر چیز یہی ایک بے بس باپ کا آخری جملہ دہرا رہی تھی۔۔۔۔”جان پدر کجا ہستی۔۔ جان پدر کجا ہستی”  
آنے! یہ تو صرف مختصر لفظوں کی کہانی تھی سوچو! یہ سب جب اور جس پر گزر رہا ہوگا تو کیسی قیامت ہوتی ہوگی۔۔ جی ہاں آنے! میں بھی تمھاری طرح اس تذبذب میں ہوں کہ میں گزرے لمحوں اور سال کا ماتم کروں یا دسمبر کی برف باری کا مقابلہ کرتے ہوئے اپنے سارے دکھ دسمبر کے حوالے کر دوں اور انھیں دور پہاڑوں پر جم جانے کے لیے رکھ دوں؟۔۔اور نئے سال سے امن، خوشی اور سکون کی امید رکھوں؟؟ ” نومبر ٹوٹتے ہوئے لہجے میں بول رہا تھا ۔۔ ہم دونوں کی چائے ٹھنڈی ہو چکی تھی۔۔ دونوں میں سے کوئ بھی اپنے آنسو نہیں پونچ رہا تھا کہ کبھی کبھی آنسو ہی دل کا غبار نکالنے کا واحد راستہ ہوتے ہیں ۔۔ اکتوبر کے درخت میں پرندوں کی وجہ سے پتوں  کے ہلنے کی آوازیں آرہی تھی۔۔ رات کے اندھیرے گہرے ہو چکے تھے. میں اور نومبر ہاتھوں کو دعا میں اٹھائے دیر تک خاموشی سے نئے سال اور دسمبر کو جی لینے کے حوصلے کی دعا کرتے رہے ۔ نومبر کے چلے جانے میں بس تھوڑا وقت باقی تھا اس لیے ہم آخری پل خاموش گزار رہے تھے کہ مجھے معلوم تھا جب مجھ پر غنودگی طاری ہونے لگے گی تو نومبر اپنی چادر میرے اوپر ڈال کر مجھے چپکے سے الوداع کرتے ہوئے ہاتھ ملائے بغیر رخصت ہو جائے گا۔۔۔ کہ یہی اس کی عادت تھی۔۔
بقلم آنے رملیہ۔45
1:30-2:30 am
5 nov 2020

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out /  Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out /  Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out /  Change )

Connecting to %s