فریب سے حقیقت تک کا سفر۔۔۔

“حورش!
جلدی کرو نا لیٹ ہو رہیے ہیں ہم”۔ عصر جو اس کا چھوٹا بھائ تھا اس نے حورش کو آواز دی۔ “یار تھوڑا صبر کر لو میں میک اپ تو مکمل کر لوں یا تمھاری طرح صرف منہ دھو کر چلی جاؤں کاہل کہیں کے؟” حورش نے ہمیشہ کی طرح بے پروائ سے جواب دیا۔ وہ اپنے ہونٹوں پر گلوس اور خوبصورت لانبی پلکوں پر مسکارے ک آخری ٹچ دے رہی تھی۔ اب اسنے اپنی پلکیں جھپکائ اور بیگ اٹھا کر باہر آگئ۔
وہ گاڑی میں اپنی گردن اونچی کئے ، بہترین برانڈیڈ پرفیوم اور  بالوں میں سن گلاسز لگا  کر بیٹھی۔ “ویسے آپی! اگر آپ ایک دن میک اپ کے بغیر چلی جائیں تو کونسا آپکو کوئ واپس بھیجے گا؟” میک اپ کر کے تو انسان اپنی اصلیت چھپا دیتا ہےایسے جیسے خود کے ساتھ ایک مقابلہ کر رہا ہو۔اور ویسے بھی اچھی شکل سے زیادہ تو اچھے اخلاق ضروری ہوتے ہیں تاکہ انسان اپنی روح کی خوبصورتی سے پسند کیا جائے ناں کہ ایسی خود کی طرف لوگوں کو متوجہ کرنے والی مصنوعی خوبصورتی سے”۔عصر اس کو چھیڑنے والے موڈ میں بڑی پتے کی بات کہہ رہا تھا۔
اللہ نے حورش کو قبائلی شمالی علاقہ جات کی لڑکیوں جیسا حسن دیا تھا۔ وہ نہ صرف خوبصورت تھی بلکہ بہت پرکشش اور زہین بھی تھی۔ مگر اس سب سے بڑھ کر وہ بہت مغرور تھی۔ بھائ کے چڑانے پر وہ ہمیشہ بولتی تھی کہ ابھی تو اسے بہت کچھ کرنا ہے زندگی میں۔۔اس نے بہت آگے جانا ہے۔۔ابھی تو ساری جوانی پڑی ہے۔ وہ اکثر رشتے بھی اس وجہ سے ٹکرا دیتی تھی کہ اسے اپنے دنیاوی خوابوں کی، تعمیل کرنی تھی۔۔کیونکہ وہ تو جیسے پریوں کی دنیا میں رہا کرتی تھی۔ اسے لگتا تھا وہ ہمیشہ  لوگوں کی محبتوں اور چاہتوں کا مرکز رہے گی ۔موت کا تو اس نے کبھی سوچا بھی نہ تھا۔۔
…..۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
“حورش بیٹا! یہ کونسی بار ہے گھٹلیاں پھیرنے کی؟؟ کیا ایک ختم مکمل ہو چکا ہے؟” حورش کی پھوپھو اس سے پوچھ رہی تھی۔ مگر حورش ایسی بیٹھی تھی گویا اسے کوئ آواز سنائ ہی نہ دی ہو۔ عصر نے اسے تسلی دینے کے لیے کئ بار اس کے کاندھوں پر ہاتھ رکھا مگر وہ فر فر بولنے والی حورش کو آج جیسے سانپ سونگھ گیا تھا۔ کئ لوگوں نے اسے پکارا ، اسے دلاسہ دینے کی کوشش کی تھی لیکن وہ تو آج خاموشی کا مجسمہ بن گئ تھی۔۔وہ کسی کی بات کا جواب دیے بغیر بس گھٹلیاں پھیرتی جا رہی تھی اور روتی جا رہی تھی۔ وہ حورش جس کے حسن اور شخصیت کی کشش ساری یونیورسٹی میں مشہور تھی، آج ویران چہرہ اور اداسی سے دھنسی ہوئ آنکھیں لئے بیٹھی تھی۔ وہ جو بولتی تھی تو لفظ لفظ سے کانفیڈنس جھلکتا تھا آج اپنے ہوش و حواس میں نہ تھی۔ کبھی خالہ جان کی میت تو کبھی اپنے خالی ہاتھوں کو دیکھتی ۔ وہ ہاتھ جسے دعاؤں میں اٹھنے کا طریقہ بھی معلوم نہ تھا کہ ان ہاتھوں کو ہمیشہ بن مانگے نوازا گیا تھا۔۔
—————–+++++++++++———————-
“خالہ جان تو بہت دیانت دار ڈاکٹر تھیں، جانے کتنے لوگوں کی زندگیاں بچائیں انھوں نے۔ جبکہ حدیث مبارک میں تو صرف ایک جان بچانے کی اہمیت گویا پوری انسانیت کی جان بچانے جتنی بیان ہوئ ہے۔ خالہ جان نے تو ساری زندگی دوسروں کی خدمت میں، عاجزانہ رویہ اختیار کرتے ہوئے گزاری۔ انھوں نے تو زندگی میں اتنی دعائیں لی تھیں تو۔ پھر موت پر تو جانے کتنے لوگ آج سوگوار ہونگے اور دعائیں دیں گے۔۔وہ تو شاید اللہ کو زیادہ پیاری تھیں کہ بوڑھے نانا جان سے بھی پہلے اتنی جوانی میں اللہ سے جا ملی۔ مگر کیا میں نے بھی کبھی کسی سے ایسا سلوک کیا ہے کہ میرے مرنے پر کوئ مجھے اچھے لفظوں میں یاد کرے؟؟ کیا میں نے بھی کبھی موت کو یاد کر کے عجز اختیار کیا ہے؟؟ کیا میں نے بھی اللہ کے سامنے اپنی اس چوبیس سالہ زندگی میں اللہ سے اپنے گناہوں کی معافی مانگی ہے؟؟ کیا مجھے موت نہیں آنی؟ اگر موت برحق ہے تو پھر کیا میں نے کوئ تیاری کی ہے؟ میرے تصور میں جو اپنی شادی پر پھولوں کی سیج تھی کیا وہ پھول میری قبر کے پھول نہیں بن سکتے؟ وقت کا کیا بھروسہ اور موت کا کس سے سمجھوتہ ہوا ہے کہ کون پہلے مرے گا کون بعد میں؟ کیا میں نے کبھی سوچا کہ یہ جو دنیاوی حسن و جمال ہے یہ سب ایک دن ہمیشہ کے لیے خاک میں مل جائے گا؟ کیا میں نے اپنی خوبصورت آواز کو کلام پاک پڑھنے میں بھی استعمال کیا؟ کیا مجھے معلوم بھی ہے کہ میری زندگی کا اصل مقصد کیا ہے؟ گھٹلیوں پر کلمہ طیبہ کا ورد کرتے ہوئے جیسے وہ ایک ایک سوال اپنی انگلیوں سے مسل کر گرا رہی تھی۔ وہ سراپا سوال بنی تھی خود کے لیے۔۔  خالہ کی میت سے زیادہ  وہ اپنی گزری ہوئ زندگی پر ندامت اور اللہ سے خالی ہاتھ ملنے کے خوف سے آنسو بہا رہی تھی۔ وہ پچھتاوے کی قیامت خیز گھڑیوں سے گزر رہی تھی۔ اتنا سب کچھ پاس ہونے کے باوجود بھی اسے آج پتہ چلا تھا کہ در حقیقت وہ تہی داماں تھی ۔اسنے اپنی جوانی کے پندرہ سال جانے کن سرابوں کے پیچھے گزارے تھے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔+++++++++++++++۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
جنازے کا وقت قریب ہونے لگا تھا ۔ لوگ میت کا آخری دیدار کر رہے تھے۔ اتنے میں نانا جان کو اپنی بیٹی کا آخری دیدار کرنے کے لئے کئ لوگوں کے سہارے لایا گیا۔ والد کی بے بسی دیکھ کر لوگ پھوٹ پھوٹ کر رو رہے تھے۔۔ نانا جان کو دیکھتے ہوئے حورش کے زہن میں ان کی وہ بات گردش کرنے لگی جب انھوں نے اس خالہ سے اس کی شادی پر کہی تھی کہ بیٹیوں کو دو دفعہ رخصت کیا جاتا ہے ۔ایک دفعہ شادی پر کسی پرائے کے حوالے کر کے اور ایک دفعہ موت کے حوالے کر کے ہمیشہ کے لیے رخصت ہوتی ہے۔ جب میت کو تابوت میں رکھنے کے لیے خالو اور ساتھ دونوں بیٹے آئے تو خالو نے دونوں بیٹوں سے کہا کہ اجاؤں اپنی اماں کو آخری دفعہ دیکھ لو ۔بیٹوں نے ںاری باری اشکبار آنکھوں سے اماں کا ماتھا چوما مگر خود خالو کس کرب میں تھے یہ ان سے بہتر کوئ نہیں جان سکتا ۔۔وہ عزم و ہمت کا پہاڑ بنے سب کو تسلیاں دے رہے تھے۔وہ خالو جس نے خالہ جان سے لو میرج کی تھی آج سانسوں کے تھم جانے پر وہ نا محرم بن گئ تھی۔ “کیا یہی زندگی اور محبتوں کی حقیقت ہے ؟؟ حورش پھر خود سے سوال کر رہی تھی ۔ وہ اٹھنا چاہ رہی تھی کہ نانا جان کو گلے لگا کے روئے ،  دل پر سالوں کی جمی ہوئ گرد و غبار کو آنسوؤں میں بہا لے مگر وہ اٹھ نہ سکی۔ وہ اپنی جگہ پر یوں ہی ساکت بیٹھی رہی۔ بےحس و حرکت۔۔ کھوکھلی۔ خالی ہاتھ خالی دامن لیے۔۔ زندگی کی کتاب کا صفحہ صفحہ تصور میں پلٹتے ہوئے۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔++++++++…………..
جنازہ ہو چکا تھا لوگ اپنے اپنے گھروں کو واپس ہو چکے تھے۔ قریبی رشتہ دار رسم قل کے لیے ادھر ہی خالہ کے گھر رہ گئے تھے ۔ حورش بھی اپنے گھر آگئ تھی کہ اب وہ مزید وہاں نہیں رک سکتی تھی۔ اب اپنے کمرے میں جائے نماز پر گھٹنوں میں سر دیئے بیٹھی تھی۔ خالہ کی موت کا اس پر گہرا اثر ہوا تھا۔۔آج نجانے کتنے سالوں بعد اس نے نماز پڑھی تھی۔ نماز تو ایکا دوکا پہلے بھی پڑھتی تھی مگر وہ صرف خانہ پری ہوتی تھی اور وہ ٹوٹی پوٹی نماز بھی اکثر پارٹیز، یونیورسٹی یا تھکاوٹ کی نذر ہو جاتی تھی۔  اب صوفے سے سر کی پشت لگائے وہ سامنے کی دیوار پر ٹکٹکی باندھے ہوئ تھی۔ اسکی آنکھیں پتھرا گئ تھیں۔ اس کے اندر تو جیسے ایک جنگ چھڑ گئی تھی۔ ایک ایک گناہ اسے یاد آرہا تھا۔۔شرمندگی اور ندامت کے لاوے گویا اس کی روح کو جھلسا رہے تھے۔ اسکی آنکھوں سے نجانے کتنی پٹیاں اتر چکی تھیں۔ زندگی کی تلخ حقیقت تو آج ایک قریبی انسان کی موت سے اس پر آشکار ہوئ تھی۔  اس سے پہلے کے 24 سال تو جیسے ایک خواب تھا ۔ زندگی کا آخری انجام موت ہے اس سے تو اس نے آج تک اپنی آنکھیں چرائیں تھیں۔ وہ ہنوز صوفے سے سر ٹکائے بیٹھی تھی اس یوں محسوس ہو رہا تھا جیسے اس پر غنودگی چھائ ہو۔ اس نے تو کبھی سوچا بھی نہ تھا ڈولی پر نچھاور ہونے والے پھول کیسے لمحوں میں میت پر گر نے لگتے ہیں اور خوشبو تک کھو جاتی ہے۔ کیسے  برانڈیڈ پرفیوم کی جگہ کفن پر لگائ جانے والی عطر لے لیتی ہے۔ سانسوں کی ڈور کٹنے پر کیسے محرم نا محرم میں بدل جاتے ہیں اور قہقہے لامتناہی خاموشی کی چادر اوڑھ لیتے ہیں۔۔ اسے کیا خبر تھی بڑی بڑی کوٹھیوں میں رہنے والے بھی آخر کار دو گز زمیں ہی کے محتاج بن جاتے ہیں۔۔۔اس کا ذہن ماؤف ہوتا جا رہا تھا۔۔ اچانک اسے دھیمی دھیمی سی آواز سنائ دینے لگی۔ ۔ کوئ اس کے بہت قریب کھڑا  کہہ رہا تھا، “حورش! دنیا کی جس روشنی کے پیچھے تم آج تک بھاگتی آئ ہو وہ سرابوں کے سوا کچھ نہیں ہے۔ یہ سب ایک خواب و خیال کی طرح ہے ، جو ہر کسی کے لئے مختلف ہوتی ہے۔  مانا کہ یہاں سنگھار کی بڑی مانگ ہے اور تم تو پہلے ہی اتنی حسین ہو میک اپ میں جانے کتنے لوگوں کے دل دھڑکا دیتی ہو مگر پتہ ہے کیا؟؟؟ یہ صرف ایک معین مدت تک ہوگا۔ ہر وہ چیز جو تمھیں بہت بھاتی ہے جس کے پیچھے بھاگ کر تم اپنی اصلیت، زندگی کا مقصد بھلا بیٹھی ہو یہ سب مٹی ہو جائے گا۔ خدا نے تو تمھاری صورت خود بنائ تھی اسے تمھارے میک اپ سے کیا غرض؟ مگر جس چیز کا موقعہ اور اختیار اللہ نے تمھیں دیا ہے وہ تمھاری روح کا سنگھار ہے۔۔تمھاری روح کی زیبائش اللہ کو مطلوب ہے۔ اسے تو تقوی سے کام اور تقوی اختیار کرنے والوں سے محبت ہے ۔یہ دنیا کی اونچ نیچ میں تو تمھارا کوئ کمال نہیں ہے یہ تو سب ایک امتحان اور پہچان کے لئے ہے۔ تم یہ نہ سمجھنا کہ تم اپنا بہت خیال رکھو گی تو تم زیادہ دیر زندہ رہو گی یا تم اپنے ہر خواب کی تکمیل کو پہنچ جاوگی یا صرف بیمار اور بوڑھے پہلے مر جاتے ہیں۔۔یا ابھی تمھارے پاس بہت وقت ہے۔ نہیں حورش نہیں ایسا ہر گز نہیں ہے ۔موت کا زائقہ ہر انسان کوچکھنا ہوگا کون پہلے مرے گا کون بعد میں اس کا پتہ صرف اللہ جانتے ہیں اور یہ بھی صرف انھی کو معلوم ہے کہ کس کے پاس کتنا وقت ہے۔۔کیا تم نے نہیں دیکھا بوڑھے والدین اپنے جوان بچوں کو قبر کے حوالے کر آتے ہیں ، بیمار تڑپتے رہتے ہیں اور صحتمندوں کا جنازہ پڑھ لیا جاتا ہے۔ موت کا کسی سے کوئ سمجھوتہ نہیں ہے ہاں موت خود زندگی کی حفاظت کرتی ہے ۔ اور یہ محبتیں! یہ جن پہ تمھیں بڑا ناز تھا یہ سب ادھوری ہیں۔ کیا تم نے نہیں دیکھا کہ خالہ کے مر جانے کے ساتھ ہی وہ نا محرم بن گئ خالو کے لئے؟ حورش! موت کا زائقہ بہت کڑوا ہے اور چکھنا بھی ضروری ہے ۔ اسے کوئ نہیں ٹال سکتا ہاں اگر تم اللہ سے محبت کر لو تم ذندگی کے ہر شعبے میں ہر پہلو میں اسے پا لو تو موت وصال کی پہلی منزل ہوگی۔ تب قبر بھی جنت کا باغیچہ بنے گی۔ حورش تم دنیا کی چیزیں ضرور اختیار کرو تم لوگوں سے، دنیاوی چیزوں سے ضرور محبت کرو مگر سنو کسی بھی محبت کو خدا کی محبت پر مقدم نہ کرنا کہ اس کے سوا ہر محبت ، ہر رشتے ہر چیز کو زوال ہے ۔  اب تم رو مت کہ تمھاری ماں سے بھی زیادہ محبت کرنے والا تمھارا انتظار کر رہا ہے کہ کب تم اس کی طرف چلو تو وہ دوڑ کر تمھاری طرف آئے اور تمھیں تھام لے۔ اگر اس نے تمھیں غم دیا ہے تو پتہ ہے کیا؟؟؟ اس لئے نہیں کہ وہ تمھیں سزا دینا چاہتا ہے بلکہ وہ تمھیں یوں بھٹکتا ہوا نہیں دیکھنا چاہتا۔۔وہ نہیں چاہتا تمھارے اور اس کے بیچ کسی غیر کی محبت آڑے آئے۔ وہ جان گیا تھا تم ایسے ہی سمجھو گی۔۔ارے تم جانتی نہیں وہ کتنا بے نیاز ہے؟؟ اسے کیا پرواہ تم جو کرو لیکن کیا یہ اس کی محبتوں کی انتہا نہیں کہ اسنے تمھارا انتظار کیا ۔ تمھیں روز پانچ مرتبہ بلاتا رہا لیکن جب تمھیں سمجھ نہ آئی تو انداز بدل کر بلایا۔وہ چاہتا تو تمھیں انھی فریب کے جالوں میں ہمیشہ کے لئے چھوڑ دیتا مگر وہ تو رب ہے نا ۔ میری بات لمبی ہو رہی ہے حورش! مگر یاد رکھنا وہ لوگ بڑے خوش نصیب ہوتے ہیں جو موت کی کھائ میں گرنے سے پہلے سنبھل جاتے ہیں۔جو آخری پکار پر سہی مگر لبیک کہنے کی توفیق پا لیتے ہیں ۔” آواز آہستہ ہوتی گئ اور پھر اچانک کمرے میں سنا ٹا چھا گیا۔ حورش نے ہاتھ بڑھا کر اسے تھامنا چاھا اس لگا یہ سب عصر بول رہا تھا ۔ کیونکہ وہ اکثر اللہ کی باتیں کرتا تھا اور اپنے نام کا مطلب سمجھاتے ہوئے اسے بولتا تھا کہ دیکھو حورش عصر کی قدر کرو۔۔کیونکہ اللہ بھی کہتے ہیں عصر یعنی وقت کی قسم انسان خسارے میں ہے۔ سوائے ان کے جو لوگ نیک عمل  کرتے اور ایمان لے آتے ہیں۔  اس نے آنکھیں کھولی تو ادھر کوئ نہیں تھا وہ خود اس کے اندر کی آواز تھی۔ اس کے جاگے ہوئے ضمیر کی آواز۔۔ وہ بےاختیار سجدے میں گئ اور نجانے کب تک اللہ کے سامنے ندامت اور دوبارہ حقیقت میں ایمان لانے اور زندگی کی حقیقت جان لینے کے آنسو بہاتی رہی۔ سب کچھ بدل چکا تھا، اس کی زندگی نے نیا رخ موڑا تھا ۔ اب وہ شاید واقعی وہ انسان بننے والی تھی جو حورش پکارے جانے کے قابل ہو۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔++++++++++۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
بقلم آنے رملیہ ۔
مورخہ 5-9 اکتوبر 2020
12:44am

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out /  Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out /  Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out /  Change )

Connecting to %s