سجدۂ نامکمل : 6 ستمبر یوم دفاع کے نام

آج 6ستمبر 2020 (یعنی یوم دفاع)  کو جب گھر کے قریبی مسجد سے اذان گونجی تب میں تخیل کے وسیع میدان میں کھڑا تھا۔ میں نے فرط جذبات سے ارد گرد دیکھا۔ تو میرے  چاروں طرف خوبصورت بلند و بالا پہاڑ تھے، برف سے ڈھکی ہوئ شمالی پہاڑوں کی چوٹیاں تھیں ، کشمیر ، چترال، رزمک جیسی جنت نظیر وادیاں، فضاؤں میں ترنم بکھیرتی آبشاریں تھیں اور مغرور موج در موج بہتے دریا تھے ۔  مجھے جہاں ایک طرف اس ملک کی بے پناہ خوبصورتی نے اپنی طرف متوجہ کیا وہاں دوسری طرف خاکی وردی والے جو ایک موج بے کراں کی طرح تھے، بحری فوج والے جو دریاوؤں کے سینے چیر کے نکلتے تھے اور آسمانوں کی بلندیوں کو چھونے والے عظیم پاکستانی محافظوں نے مجھے آج یوم دفاع کے دن سجدۂ شکر پر مجبور کیا۔  میں نے شکرانے کی نیت  باندھی، گھٹنے ٹیک کر ابھی میں زمین پر سجدے میں جبیں رکھنے ہی والا تھا کہ میں نے دیکھا زمیں سجدے کے قا بل نہ رہی تھی۔ جہاں میں کھڑا تھا، یہ جگہ وسط ایشیا میں ”7,96,096 مربع کلو میٹر کے رقبے پر پھیلی ہوئ تھی ۔ مگر ساری زمین آلودہ تھی ۔۔کہیں قبائلی علاقوں میں ظلم و جبر کا خون تھا۔ کہیں انصاف نہ ملنے پر روتی ہوئ ماؤں کے آنسو اور آہوں کے داغ تھے ۔ کہیں غربت سے زہر کھانے والے باپ کی مایوسی، کہیں رشوت، کرپشن، اقربا پروری، بد دیانتی کے کریہہ المنظر دھبے تھے ۔۔کہیں سیاست تو کہیں مذہب کے کارڈ پر ، کہیں رفاہی و سماجی ہمدردی کے پردے میں مجبور و کمزور عوام کی امیدوں کا خون تھا۔ عرض مجھے جگہ نہیں مل رہی تھی کہاں سجدۂ شکر کروں؟  یہ وہ پاک سر زمین تو نہیں تھی جس کا چھپہ چھپہ شہیدوں کے لہو سے سینچھا گیا تھا۔ جس کی فضاء  بزرگوں اور اسلاف کی قربانیوں اور خلوص سے معطر تھی ۔ جہاں کہیں کیپٹن شیرخان، میجر طفیل، ایم ایم عالم کی بہادری ، علمائے دین کے جذبات کی خوشبو تھی تو کہیں اقبال کے خواب کی تعبیر تھی۔  نہیں نہیں یہ وہ جگہ تو نہیں لگ رہی تھی۔ یہ تو سجدے کے قا بل نہ رہی تھی۔۔
لیکن پھر میں نے سب نظر انداز کر کے یہ سوچ کر کہ یہ ملک میرے اوپر شہیدوں کا قرض ہے میں نے دوبارہ سجدے میں سر رکھنےاور اسے مکمل کرنے کی کوشش کی مگر اب کے بار کشمیر کی دلدوز چیخوں نے میرا دامن کھینچ کر مجھے سجدہ مکمل نہیں کرنے دیا۔ میں نے مڑ کر کشمیر کی طرف دیکھا تو ایک آہ و فغاں تھی ۔ کشمیر رو رہا تھا ۔۔ چیخ رہا تھا۔ میرے سجدے پر اعتراض کر رہا تھا۔۔میں نے دل تھام کر اس کی طرف کان لگایا تو وہ مجھ سے گلہ کر رہا تھا ۔ کہہ رہا تھا ، ” تم کیسے آزادی کا شکر کرتے ہو؟ کیا تم میرے بغیر مکمل ہو؟؟ کیا اس ملک کا جسم شہہ رگ کے بغیر بھی جی سکتا ہے؟  کیا تم وعدہ بھلا بیٹھے ہو؟ کیا تم بھول گئے ہو یہ پہاڑ ، یہ دریا، یہ آبشاریں ، یہ وادیاں سب تم پر قرض ہیں شہیدوں کا؟ کیا ان کا قرض میری آزادی کے بغیر اتر جائے گا؟ کیا تم اپنا نظریہ 1965 کی ایک جنگ جیت کر بھول گئے ہو ؟ کیا تم اس جنگ کے شہداء اور جانثاروں کی یگانگی اور اتفاق بھول گئے جنھوں نے بیک زباں ہو کر تکبیر کا نعرہ لگایا تھا۔۔ کیا تم پھر بھی اپنی آزادی اور یوم۔دفاع کے شکرانے پڑو گے جبکہ میں لٹ رہا ہوں، میرے وجود کا ایک ایک عضو زخمی ہے ۔کبھی بہنوں کی عصمت دری، کبھی جوان بہنوں کی بیوگی، کبھی چھوٹے بچوں اور ماؤں کے سامنے جوانوں کی شہادتیں۔۔۔اے پاکستانی میں اور کیا فریاد کروں تجھ سے؟ میں تمھیں کونسا زخم دیکھاؤں ؟؟؟ میں دیر تک کشمیر کا گلہ سنتا رہا۔ وہ آہیں بھر رہا تھا، اور میں بھی سر جھکائے رو رہا تھا ۔ اس نے مجھے ہنوز میرا دامن پکڑ رکھا تھا اور میں لاکھ کوشششوں کے با وجود بھی شکرانے کا سجدہ مکمل نہ کر سکا۔۔ کہ پہلے زمیں کی آلودگی نے روکا اور پھر کشمیر کی چیخوں نے سکون اور ہمت چھین لی۔ میں دیر تک تخیل کے اس میدان میں کھڑا آنسو پونچھتا رہا ، مجھے اپنے سجدۂ نامکمل کا ملال تھا ۔ مگر جن سوالوں کی طرف کشمیر نے میرے دل و دماغ کا رخ موڑا تھا انھیں سوچ کر واقعی احساس ہوا کہ میرے سجدے کا نا مکمل ہونا بنتا ہی تھا ۔۔ ابھی میرے دیس کی آزادی اور میری سر زمیں کی پاکیزگی کو  برقرار رکھنے کا عہد بھی تو  نا مکمل تھا۔ میرے سجدے کی طرح ابھی وطن کی دفاع کا جشن بھی نامکمل تھا۔
آمنہ شکیل (آنے رملیہ)
9:14 am 6:sep:2020

3 thoughts on “سجدۂ نامکمل : 6 ستمبر یوم دفاع کے نام

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out /  Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out /  Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out /  Change )

Connecting to %s